خنک مہک ہے کہ سردی کی شال میرے لیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گولی ماریں کچھ دیر کے لیے سیاست کو۔ آگ لگائیں شعلہ بیان مقرروں کو۔ مٹی ڈالیں جلسوں، ریلیوں اور دھرنوں پر۔ بھول جائیں حکومت اور اس کے مخالفین کو۔ ہمیشہ کے لیے نہ سہی، کچھ دیر کے لیے ہی سہی۔

کچھ دیر کے لیے اس گرم خنک موسم کا لطف لیں جو ایک پری زاد کی طرح لاہور اور پورے ملک کو اپنی بانہوں میں بھر رہا ہے۔ کسی نے کہا تھا نا کہ جب تک آپ دوسری چیزوں سے فارغ ہوں گے تب تک اس گرم گرم جلیبی پر ایک سرد گھنٹہ گزر چکا ہوگا۔ سو جتنی دیر ہم حکومت اور مخالفین میں سے کسی کے دفاع میں لگائیں گے، تل لگے سوندھی مہک والے گرم کلچوں کا مزا ہی ختم ہوجائے گا۔ یہ جو سامنے دھری بھاپ اڑاتی تلی ہوئی مچھلی ہے، یہ آپ کے متوجہ ہونے تک بے ذائقہ ہونے لگے گی۔ خوشبودار چائے کا مگ ٹھنڈا پڑگیا توپھر بیکار ہے۔

اس وقت تو بات صرف لاہور کی ہے ورنہ یہ موسم پورے ملک پر اپنے پر پھیلا کر اترتا ہے تو کسی ہزار رنگ پرندے کی طرح فضا میں اس کے رنگ جھمکنے لگتے ہیں۔ اس موسم، اس پرندے کا سال بھر انتظار رہتا ہے۔ سخت گرمیوں کے بعد اور سخت سردیوں کے آغاز سے پہلے یہ وہ گلابی جاڑا ہے جو جسم کیا، روح تک کے مساموں میں جذب ہوکر پھول کھلا دیتا ہے۔ جوش نے کہا تھا:

صد شکر کہ پھر آئے شہابی جاڑے

کلیوں میں بسے ہوئے حبابی جاڑے

ہلکی پھلکی دلائیوں کے قابل

شیریں نورس خنک گلابی جاڑے

ایک ماہ سے گھروں، دفتروں اور گاڑیوں کے ائر کنڈیشنرزکو قرار سا آگیا ہے اور ظاہر ہے کہ بلوں پہ اس کا فرق پڑے گا تو دلوں کو بھی کچھ قرار آئے گا۔ ابھی تووہ حالت ہے کہ پنکھا چلائیں یا نہ چلائیں۔ تھوڑی دیر بعد اپنا فیصلہ غلط لگنے لگتا ہے۔ بہرحال پنکھوں کی رفتار آہستہ ہوچکی ہے اور کوئی دن جاتا ہے کہ یہ آواز بالکل ختم ہوجائے گی۔ یہ آوازیں مدھم ہوتے ہوتے بند ہوتی ہیں تو ایک خاموش سکون سا ماحول میں سرایت کرنے لگتا ہے۔

زندگی مصنوعی موسموں سے دور ہوکر فطرت کے قریب آنے لگتی ہے اوریہ ابدی اصول ہے کہ فطرت کے سکون جیسی طمانیت تو انسان نے کبھی بنائی ہی نہیں۔ یہ تو عمومی مشاہدہ بھی ہے اور نفسیات دانوں کا تجزیہ بھی کہ موسم خوشگوار ہو تو لوگوں کے موڈ بھی بہتر ہوجاتے ہیں۔ چڑچڑا پن، جھنجلاہٹ اور بیزاری گرمی کے دنوں کی طرح کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور خوش دلی، خوش مزاجی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرچلنے لگتی ہے۔ اب سنگھاڑے اور شکر قندیاں ٹھیلوں پر نظر آنے لگے ہیں۔

اکا دکا موٹر سائیکل سوار ہلکے گرم کپڑوں میں دکھائی دینے لگے ہیں۔ سموگ نے آہستہ آہستہ غلاف پھیلانا شروع کردیا ہے جو پہلی بارش کا منتظر ہے۔ پورے ملک میں اس گلابی موسم کا انتظار اور خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ یہ پہننے، اوڑھنے، کھانے پینے، گھومنے پھرنے کا موسم ہے۔ چائے، گلابی کشمیری چائے اور قہوے کا موسم ہے۔ کافی کا موسم ہے۔ شاعری کا موسم ہے۔

تم ہو اور سردی میں خوشبو کافی کی

میں نے شاید باقی عمر اضافی کی

اس موسم میں تو ہوا بھی گلابی شال اوڑھ کر چلتی ہے۔ تازگی سے چھلکتی، شاداب کرتی، دل پر چلتی ہوا جو ایک طرف درختوں کے زرد پتے اڑاتی اور دوسری طرف خزاں کے اس موسم میں دلوں میں پھول کھلاتی ہے۔ بادِ صبا کی خوب صورتیاں اپنی جگہ لیکن ہوائے شام کی شاعروں نے شاید وہ قدردانی نہیں کی جس کی وہ بجا طور پر حقدار تھی۔

خنک مہک ہے کہ سردی کی شال میرے لیے

جو لے کے آئی ہے بادِ شمال میرے لیے

یہ مہینے آتے ہیں تو سویٹر، کوٹ، گرم کپڑے، دلائیاں، رضائیاں اپنے محفوظ خانوں سے باہر نکل کر دھوپ بھرے صحنوں اور آنگنوں یا چھتوں کی راہ لیتے ہیں۔ روئی والے گرم لحافوں کی تیاری شروع ہوتی ہے۔ لحاف کی جگہ اب آہستہ آہستہ کمبل لے رہے ہیں لیکن لحاف کی نرمی گرمی اور آرام کا کوئی کمبل کیا مقابلہ کرسکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں جم کر سردی پڑتی ہے۔ میری امی مرحومہ ان دنوں روئی پینجوانے یعنی دھنکوانے کی تیاری شروع کر دیتی تھیں۔

میں اپنے لڑکپن کے دنوں سے بہت بعد تک دُھنیے سے روئی دُھنکوانے جاتا رہا۔ اس وقت یہ ایک صبر آزما اور جھنجلاہٹ بھری ڈیوٹی ہوتی تھی۔ اب وہ دن یاد آتے ہیں۔ پہلے پرانے لحافوں کی سلائیاں ادھیڑ کر پرانی روئی نکالی جاتی، پھر ساری روئی ایک گٹھڑ بنا کر اکٹھی کی جاتی جسے لے جانا بھی ایک مشکل کام تھا۔ اس کاری گر کے پاس جسے دُھنیا، دھنکیا، نداف یا پنجیارا کچھ بھی کہہ لیجیے۔ روئی دھننا صوفیا کا روزگار رہا ہے۔ حضرت منصور حلّاج سے کون واقف نہیں اور حلّاج دُھنکنے والے کو کہتے ہیں۔ دھنکنے کی آواز سننا بھی ایک یادگار تجربہ تھا۔ وہ واقعہ ہر بار یاد آتا تھا جو والد مرحوم سے کئی بار سنا تھا اور جس کے مطابق ایک خاص آہنگ میں نکلتی یہ آواز کہتی تھی:

کہ دون است دون است دنیائے دوں

(حقیر ہے، حقیر ہے، یہ دنیا حقیر ہے )

سخت، ملگجی، ٹکڑیوں میں اکٹھی ہوچکی روئی کو نرم، سفید اڑتے گالوں میں تبدیل ہوتے دیکھنا بھی کیا عجب تماشا تھا۔ کیا عجب حلّاج نے تصوف کے ابتدائی رموز اسی مٹتی، روپ بدلتی روئی سے سیکھے ہوں۔ لحافوں میں روئی بھرکر نگندے بھرنا اگلا مرحلہ تھا۔ میں ڈورے ڈالنے کے الفاظ سے جان بوجھ کر اجتناب کر رہا ہوں۔ نگندوں کے لیے کئی عورتیں اجرت پر بلائی جاتیں۔ بڑے پرچم کی طرح پھیلے مخملی ریشمی لحاف میں آڑے ترچھے یا سیدھے، ڈوبتے ابھرتے نگندے ڈالنا ایک فن تھا۔

یہی وہ رت ہے جب شمال سے جنوب کی طرف اڑان بھرتے قریب قریب دس لاکھ مہاجر پرندے افغانستان، قازقستان کے راستے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں آتے ہیں۔ یہ گرین روٹ یا انڈس فلائی وے ان کا راستا ہے جہاں میٹھے پانیوں سے بھری منگلا، ہالے جی، کینجھر، حمل کچری، لنگ اور ہادیرو سمیت بہت سی جھیلیں ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ نقرئی کونجیں، براق سارس ”خاکستری تلور، قرمزی گردنوں والی مرغابیاں، جامنی سرخاب، سفید ہنس، سرمئی مگ، لمبی ٹانگوں والی قازیں۔ طرح طرح کے پرندے سروں کے اوپر سے ڈاروں کی شکل میں آڑی ترچھی قوسیں بناتے گزرتے ہیں۔ ان میں ہر ایک کے اندر وہ نظام نصب ہے جو انہیں ایک خاص سمت میں، خاص ترتیب سے اڑنا سکھاتا ہے۔ انسان بھی کیا ہے۔ نہ ان کی طرح مکان بنا سکتا ہے نہ نقل مکانی کرسکتا ہے۔

ہر ایک جانتا تھا گرم پانیوں کا سراغ

سو جو بھی ڈار میں تھا، رہنما پرندہ تھا

لاہور سخت گرم اور سخت سرد علاقوں کے درمیان میں واقع ہے۔ چنانچہ ہرسال یہ دونوں ذائقے چکھتا ہے۔ یہی نہیں، موتیوں بھری برسات اور پھولوں بھری بہار بھی اس کے حصے میں بہت بھرپور طریقے سے آتے ہیں۔ کوئی تو وجہ ہے کہ ملکہئی ہند، نور جہاں نے کسی اور شہر کے لیے یہ نہیں کہا:

لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم

جاں دادہ ایم جنت دیگر خریدہ ایم

(میں نے لاہور کو جان کے عوض خرید لیا ہے اور گویا جنت دیگر خرید لی ہے)

لیکن ہم نے، ہمارے عہد نے، ہماری نسلوں نے جان کے عوض کیا خریدا؟ بہت گھاٹے کا سودا۔ ان سیاست دانوں پر لڑائیاں جن پر نہ ہمارا کوئی اختیار ہے اور نہ ہر بارجن کا دفاع کیا جا سکتا ہے، دیوانگی کو چھوتی پیسے کی دوڑ، جسم اور روح کو بیمار کرتی شہرت کی ہوس، خود غرضی کے گرد گھومتے اصول۔ گھاٹے کا سودا اور کیا ہوتا ہے بھلا۔ کسی سے بھی پوچھ لیجیے۔

گلابی جاڑے سے پوچھ لیجیے۔ آج بھی یہ موسم بھی اسی طرح خوشبودار ہوائیں لے کر آتے ہیں، درخت آج بھی رسیلے میٹھے پھل پیدا کرتے ہیں اور زمین اب بھی رنگ رنگ کے پھول تھالوں میں بھر کر پیش کرتی ہے۔ اپنے آپ سے پوچھ لیجیے کہ آپ نے کتنے عرصے پہلے آخری باران تحفوں کو نظر بھر کے دیکھا تھا۔ دور مت جائیے، آپ کے ارد گرد قریب ہی کہیں رات کی رانی کا پودا ہوگا۔ اس کی ڈالیوں پر کھلے شہابی گچھوں اورہوا کے ساتھ پھیلتی مہک سے پوچھیے کہ آخری بار سانس بھر کر آپ نے کب اسے دل میں اتارا تھا۔ ان سے بہتر جواب آپ کو کس سے ملے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعود عثمانی کی دیگر تحریریں
سعود عثمانی کی دیگر تحریریں