سلیکٹڈ نہیں، سلیکٹرز کا رستہ روکو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2014 میں جب اسلام آباد پر پی ٹی آئی کی یورش ہوئی، تب میں میرا موقف تھا کہ سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے وزیر اعظم ہاؤس کو خالی نہیں کیا جا سکتا، آج بھی میرا انداز فکر کہتا ہے کہ احتجاجوں، ہڑتالوں کے ذریعے وزیر اعظم کو معزول کرانا جمہوری قرینہ نہیں۔ تاہم تب کے دھرنے اور اب کے مارچ میں ایک فرق ہے۔ 2013 کا الیکشن نواز شریف جنوئنلی جیتا تھا، کہیں کہیں کچھ روایتی انتخابی عذر داریاں ضرور تھیں مگر یہ پہلے سے بھی عیاں تھا اور پولنگ ڈے بھی صریحا نواز شریف کے نام رہا تھا، عمران خان کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بھی باالتحیق الیکشن 13 کو جائز قرار دے چکا ہے۔

اور پھر عمران خان کا مطالبہ بھی صرف 4 حلقوں کے نتائج کو دوبارہ منکشف کرنا تھا، 4 حلقوں میں سے 2 پر دوبارہ الیکشن ہوئے بھی اور دوبارہ مسلم لیگ ن ہی جیتی ایاز صادق سمیت۔ جہاں تک الیکشن 18 کی بات ہے تو یہ بالکل کھلی بات ہے کہ یہ انجینیرڈ الیکشن تھا۔ 2002 کے بعد جو سب سے متنازع اور مضمحل الیکشن ہے وہ 2018 کا الیکشن ہے۔ (کیسے؟ اس پر پہلے ہی بہت کچھ لکھ چکا ہوں )

یہ بھی حقیقت ہے کہ 2018 انتخابات میں تمام تر دھاندلیوں اور خلائی مخلوق کی فنکاریوں کے باوجود عمران خان آج پاکستان کا وزیر اعظم ہے، آئین کے مطابق حلف اٹھایا ہوا وزیر اعظم ہے اور اس کو مولانا فضل الرحمان کی جماعت سمیت تمام پارلیمانی جماعتیں بالفعل تسلیم کر چکی ہیں۔

اب کیا کرنا ہے؟ فرض کریں اپوزیشن کا مارچ (یا دھرنا) عمران خان کو گھر بھجوا دیتا ہے تو کیا ہو گا؟ شاہ محمود، اسد عمر، میاں محمد سومرو یا پرویز خٹک۔ ان چاروں میں سے ایک وزیر اعظم منتخب ہو گا۔ پھر کیا ہو گا؟ حکومت اور جمہوریت مزید ڈانوا ڈول ہوں گی، اسٹیبلیشمنٹ سیاست پر مزید گرفت مضبوط کرے گی اور آیندہ الیکشن بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہو گا، کیونکہ مذکورہ بالا 4 ممکنہ وزیر اعظم امیدواروں میں سے بہرحال عمران خان عوامی تائید یافتہ سیاست دان ہیں۔

آزادی مارچ کے روح رواں مولانا فضل الرحمان کو وہ غلطی نہیں کرنی چاہیے جو 2014 دھرنے کے محرک عمران خان نے کی تھی۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کو وہ بھنڈ نہیں مارنا چاہیے جو 2014 میں وزیر اعظم نواز شریف نے مارا تھا۔ کیا تھی وہ غلطی؟ اگر 2014 میں عمران خان نواز شریف کی ذات کے پیچھے پڑنے کی بجائے سسٹم کو ٹھیک کرنے کا مطالبہ کرتے تو آج ان پر سلیکٹڈ کا داغ نہ لگ چکا ہوتا۔ عمران خان 126 دن دھرنا دیے بیٹھے مگر ایک پائی کا فائدہ اٹھائے بغیر چلتے بنے، کیوں؟ کیونکہ عمران خان کا احتجاج صرف نواز شریف کی ذات کے خلاف تھا۔ اگر عمران خان وزیر اعظم کے استعفے کی بجائے انتخابی نظام کو ٹھیک کرنے کے واسطے دھرنا دیتے تو نہ 2018 کا الیکشن متنازع ہوتے اور نہ عمران خان کے خلاف دھرنا ہوتا۔

اسی طرح نواز شریف الیکشن نتائج کے خلاف دھرنے پر متنبہ ہو جاتے۔ انتخابی عمل کو شفاف، الیکشن کمیشن کو مضبوط کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتے تو بہت ممکن تھا آج بھی ان کی پارٹی اقتدار کے ایوانوں میں ہوتی۔ نواز شریف نے محض ٹائم پاس کے لئے اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک عدد انتخابی اصلاحات کمیٹی تو تشکیل دی مگر نتیجہ ندارد۔ لہذا آج مولانا فضل الرحمان سمیت تمام اپوزیشن کے احتجاج کا نشانہ عمران خان کی ذات نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان کا مطالبہ انتخابی اصلاحات ہونا چاہیے۔ اپوزیشن دھرنے کے ذریعے حکومت کو مضبوط نظام اور غیرجانبدار الیکشن کمیشن کی تشکیل کے لئے قانون سازی پر مجبور کرے۔ اپوزیشن کے 2 بنیادی مطالبے ہونے چاہیے:

نمبر ایک اسٹیبلشمنٹ کا انتخابات میں عمل دخل کا دروازہ مکمل مقفل کیا جائے۔

نمبر دو الیکشن کمیشن کو مکمل با اختیار بنایاجائے اور بھارتی الیکشن کمیشن کی طرز پر اس کی تشکیل نو کی جائے۔

انتخابات اگر انجینیرڈ ہو رہے ہیں تو اس کے محرکین کو پکڑنا چاہیے، انجینیرز کا محاسبہ کرنا چاہیے اور آیندہ الیکشن شفاف کیسے ہوں؟ اس کی فکر کرنی چاہیے ورنہ پہلے 2 بار ( 2013 سے پہلے ) نواز شریف انجینیرز کی مدد سے وزیر اعظم بن چکے ہیں، آج عمران خان خلائی مخلوق کی بیساکھی پکڑے وزیر اعظم ہیں، کل کو کوئی اور نمونہ آجائے گا، یوں دائرے کا یہ سفر جاری و ساری رہے گا۔ لہذا مولانا فضل الرحمان یا کوئی بھی سیاست دان اگر چاہتا ہے کہ آیندہ سلیکٹڈ وزیر اعظم مسلط نہ ہو تو سلیکٹرز کے رستے روکے جائیں۔ سلیکٹرز کا رستہ قانون سازی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے اور ان تمام پارٹیوں کے قانون ساز ارکان قانون ساز ادارے میں بیٹھے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •