آزادی مارچ کی ڈاکٹرائن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو اس وقت اعصابی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ بیش ترسیاسی رہنما جس قسم کے لب و لہجے کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ ذرائع ابلاغ میں وائرل بعض وزرا و رہنماؤں کی تقاریر میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ بیانات اخلاقیات سے عاری، بے جا الزام تراشی اور تہمت سمیت غداری کے سرٹیفیکٹ تقسیم کرنا دو طرفہ عمل ہے۔ سوشل میڈیا میں تو جوطوفان بدتمیزی برپا ہے اس کو پڑھنا اور پھر اس پر کچھ کہہ دینا، آ بیل مجھے مار‘ والی بات ہوتی ہے۔

آزادی مارچ کی ٹائمنگ کے حوالے سے تحفظات سامنے آرہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کی وجہ سے کسی مفروضے پر بات کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ 2014 کو میڈیا جس طرح تحریک انصاف کے دھرنے کی کوریج کررہا تھا، اس پر سنجیدہ طبقوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ اس طرح کی کوریج کا مقصدعوام کی ذہن سازی کرنے کی کوشش ہے جو اچھی روایات قائم نہیں کرے گا۔ میڈیا نے سنجیدہ حلقوں کی نہیں سنی، یا پھر ان پر کوئی دباؤ سمیت کچھ بھی تھا، یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہا جب تک سانحہ اے پی ایس پشاور نہیں ہوگیا، اگر سانحہ رونما نہیں ہوتا تو جس طرح تحریک انصاف کے دھرنا جاری تھا وہ 126 دن کے بجائے 126 برس بھی چل سکتا تھا۔

2019 کو میڈیا نے 2014 کے برعکس پالیسی اپنائی اور براہ راست آزادی مارچ کی کوریج روک دی۔ ٹاک شوزمیں میڈیا نے اپنی پالیسیوں کے مطابق آزادی مارچ کی سرجری کی۔ آج کل ہر دوسرا شخص یو ٹیوب نیوز چینل کھول کر بیٹھا ہوا ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر سوشل میڈیا میں منفی پروپیگنڈا کو وائرل کیا جا رہا ہے۔ دراصل یو ٹیوب نیوزچینل کے نام پر ایک ایسا فتنہ جنم لے چکا ہے جس کے مضر اثرات سے آنے والے دور میں ہر خاص و عام متاثر ہوگا۔ یوٹیوب پر بنے یہ نیوز چینل اپنے ناظرین بڑھانے کے لئے جس قسم کی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تو ان کا واحد مقصد اپنے سبسکرائبرز کی تعداد زیادہ بڑھانے پرمقصود ہوتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت آزادی مارچ سے حکومت کو زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جتنے دعوے کیے تھے۔ وہ اب عوام کے اذہان سے محو ہوچکے ہیں۔ ایران و سعودی عرب کے درمیان ثالثی سے سہولت کاری تک یا پھر افغان مفاہمتی عمل، سب کچھ اس وقت پردے کے پیچھے ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان سہولت کاری کے لئے وزیر اعظم کو دیے گئے ٹاسک کی پیش رفت پر بھی کوئی گفتگو نہیں ہورہی۔

سی پیک کے حوالے سے منجمد پالیسی کی دوبارہ بحالی ہو یا پھر کئی اہم معاملات، حکومت فیس سیونگ حاصل کرچکی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو بعض مقتدو حلقوں کی پشت پناہی بھی قرار دینے کی افوائیں بھی گردش میں ہیں۔ حکومت پر پانچ اگست اور یکم نومبرکو مودی سرکار کی خود سری پر عملی جواب دینے کا دباؤ ختم ہوچکا ہے۔ اسی طرح اس آزادی مارچ سے عالمی طاقتوں کو باور کرایا جارہا ہے کہ مذہبی طبقے کی بڑھتی قوت ان کے لئے مشکلات بڑھاسکتی ہیں اس لئے اگر انہیں مستقبل میں کسی سخت گیر مذہبی جماعت سے ”بچنا“ ہے تو پھر روشن خیال، سیکولر، لبرل حکومت کو سپورٹ کرنا ہوگا۔

اس مفروضے کو یقینی بنانے کے لئے حیرت انگیز طور پر امارات اسلامی افغانستا ن کے پرچم جلسے میں کور کرائے گئے۔ حالاں کہ دنیا جانتی ہے کہ افغان طالبان اس قسم کے کسی جلسے جلوس، دھرنوں و احتجاج پر یقین نہیں رکھتے اور اور کبھی بھی اس قسم کے مظاہرے میں شریک بھی نہیں ہوئے، لیکن منظم انداز میں امارات اسلامیہ افغانستان کے پرچموں کو میڈیا میں وائرل کرایا گیا جس سے یہ پیغام پہنچا کہ امریکا کو افغان طالبان سے جو بد ترین شکست کا سامنا ہے، ان کے ہمدرد پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں بھی ہیں، اس لئے یہ نہ سمجھا جائے کہ افغان طالبان کے نظریے سے متاثر و سہولت کار یا ہمدرد افغانستان سے باہر نہیں ہوں گے۔ منظم انداز میں پھیلائے جانے والے اس منفی پروپیگنڈوں کا مکمل فائدہ بھی حکومت کے کھاتے میں جارہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کو حزب اختلاف کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے آگے کیا ہوا ہے اور بظاہر یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حزب اختلاف جمہوری احتجاج کے حق میں ہیں، سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے حکومت گرانا ان کا ایجنڈا نہیں ہے۔ حزب اختلاف کے کارکنوں کی عدم شرکت اور فوٹو سیشن میں اپوزیشن لیڈروں کی موجودگی بہت کچھ بتا رہی ہے۔ یہ پیغام مقتدر حلقوں تک جا رہا ہے کہ وہ اب بھی درمیانے راستے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کس منصوبے کے تحت آگے بڑھتے جارہے ہیں، یہ ان کے لئے بھی پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ رہبر کمیٹی میں جو بھی طے کرلیا جائے لیکن پنڈال میں شرکا اُس ہی فیصلے پر عمل کریں گے جو مولانا فضل الرحمن کا فرمان ہوگا۔

بادی النظر ایسا لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ حکومت کو مشکلات سے نکالنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب سیاسی پنڈتوں نے ان خدشات کا بھی اظہار کیا ہے کہ عمران خان کامیا ب حکمران ثابت نہیں ہو پا رہے۔ مالیاتی اداروں سمیت عالمی برداری کا عمران خان پر اعتماد بحال نہیں ہوا ہے کیونکہ ان کے نزدیک اقتدار کا اصل منببع کوئی اور ہے۔ عمران خان مہمان اداکار ہیں، جو صرف اسکرپٹ پر عمل کررہے ہیں۔

اصل حکمران سامنے ہونے کے باوجود سامنے اس لئے نہیں آسکتے کیونکہ دنیا آمرانہ نظام کو قبول نہیں کرتی۔ اس لئے سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ پارلیمانی نظام اس قابل نہیں رہا کہ وہ پاکستان کے امیج کو بہتر بنا سکے اس لئے ایسے نظام کو لپٹنے کے لئے مصر ی یا بیورو کریسی نظام سے ملتا جلتا صدارتی سسٹم لایا جاسکتا ہے۔ جس کے لئے فضا ہموار کی جا رہی ہے۔

فی الوقت پاکستانی عوام کو احتجاج و مظاہروں سمیت دھرنوں میں قطعی دلچسپی نہیں۔ اس سے قبل بھی جتنے مظاہرے و دھرنے ہوئے اُن میں عوام نہیں تھے۔ آزادی مارچ میں شرکا کی بڑی تعداد نظریاتی کارکنان کی ہے۔ جو اپنے نظریات کی وجہ سے میدان کارِ زار میں اترے ہیں، اکثریت تو جانتی ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے قائد جو کچھ کہیں گے بس اس پر عمل کرنا ہے۔ ماضی میں جب فوج کو اسلام آباد حوالے کیا گیا تھا تو انہوں نے مظاہرین کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے گریز کی راہ اختیار کی اور قومی املاک کی حفاظت کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھی تھی۔ جس کی وجہ سے کسی بڑے تصادم سے بچنا ممکن ہوسکا۔ اس بار بھی امید کرتے ہیں کہ پاک فوج آئینی اختیارات کے تحت مظاہرین کے خلاف ایسا کوئی رویہ اختیار نہیں کرے گی جس سے معاملات بدترین صورتحال کا شکار ہوجائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •