مجذوب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی برسوں سے کسی نے میرا نام نہیں لیا۔ میری موجودگی میں لوگ ایسے کہتے ہیں ’یہ مجذوب ہے‘ جیسے یہی میرا نام ہو۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہو کہ میں نے برسوں سے کسی انسان سے بات نہیں کی۔ یہ نہیں کہ بات کر نہیں سکتا۔ بس بات کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ خاموش رہتا ہوں۔ سب کی باتیں سنتا رہتا ہوں لیکن چپ رہتا ہوں۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے میں نے چپ کا روزہ رکھا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ کہنے لگے یہ گونگا ہو گیا ہے۔ میں پھر بھی چپ رہا تو کہنے لگے ’یہ مجذوب ہے‘ ۔

اگر بات کرنے کو جی بھی چاہے تو اپنے آپ سے بات کر لیتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں بڑبڑا رہا ہوں کسی غیبی انسان سے بات کر رہا ہوں۔ لیکن میں خود کلامی میں مصروف ہوتا ہوں۔ اپنے آپ کو چیلنج کر رہا ہوتا ہوں۔ اپنے آپ سے برسرِ پیکار ہوتا ہوں۔

جب سے میں نے لوگوں سے باتیں کرنا چھوڑا ہے مجھے مشاہدہ کرنے کا اور سوچنے کا زیادہ وقت مل گیا ہے۔ مجھے احساس ہوا ہے لوگ اس لیے باتیں کرتے ہیں کیونکہ وہ خاموش نہیں رہنا چاہتے۔ لوگ سوچنا نہیں چاہتے۔ لوگ اپنے آپ سے باتیں نہیں کرنا چاہتے۔ لوگ اپنے آپ سے مشکل سوال نہیں کرنا چاہتے۔

میں کون ہوں؟

کہاں سے آیا ہوں؟

کہاں جا رہا ہوں؟

میری زندگی کا کیا مقصد ہے؟

زندگی کا کوئی مقصد ہے بھی یا نہیں؟

میں لوگوں کی باتیں سنتا رہتا ہوں۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی باتیں فضول ہوتی ہیں۔ بس اوتیاں بوتیاں مار رہے ہوتے ہیں۔ بے پر کی اڑا رہے ہوتے ہیں۔ سنی سنائی باتوں کو سچ سمجھ کر دہرا رہے ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جھوٹ کو بار بار دہرایا جائے تو سچ لگنے لگتا ہے۔ نجانے کتنے لوگوں کا کتنا سچ بار بار دہرایا ہوا جھوٹ ہوتا ہے۔ لوگ اتنا جھوٹ بولتے اور دہراتے ہیں کہ انہیں خود سچ لگنے لگتا ہے۔

نجانے کتنے لوگ جھوٹ بولتے بولتے منافق ہو گئے ہیں۔ انہیں یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اسی لیے چند سال پہلے میں نے فیصلہ کیا، ’’اک چپ تے سو سکھ‘‘۔ اور اس دن سے میں واقعی سکھ میں ہوں۔ میرا خیال ہے اگر دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگ چپ رہیں تو وہ سکھی رہیں۔ انہیں نہ تو کوئی جھوٹ بولنا پڑے اور نہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو اور جھوٹ بولنے پڑیں۔

لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو پوچھتے ہیں۔

’ آپ کا کیا حال ہے‘؟

جواب آتا ہے۔ ’حال اچھا ہے‘۔

میری نگاہ میں یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اکثر لوگوں کا حال اچھا نہیں ہوتا بلکہ خراب ہوتا ہے۔ وہ دکھی ہوتے ہیں۔ پریشان ہوتے ہیں۔ فکرمند ہوتے ہیں۔ بعض تو اینزائٹی اور ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ خود کشی کا سوچ رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کہتے ہیں۔ ’حال اچھا ہے‘ ۔

پھر پتہ چلتا ہے کہ کل جس کا حال اچھا تھا آج اس نے خود کشی کر لی۔ لوگ سوچتے رہتے ہیں آخر یہ کیسے ہوا؟

لوگوں کا ایک دوسرے سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ بلکہ کافی حد تک اٹھ چکا ہے۔ لیکن کوئی کسی سے کچھ نہیں کہتا۔ سب ایک ٖڈرامے کا حصہ ہیں۔ پہلے جو ڈرامہ ایک کامیڈی لگتا تھا اب تریجیڈی بن چکا ہے۔

کبھی کبھار کوئی انسان سچ بھی بول دیتا ہے۔ ایک عورت نے ایک مرد سے کہہ دیا۔ ’میں تم سے محبت کرتی ہوں‘۔ اس نے سب دوستوں کو بتایا یہ عورت کتنی بے حیا ہے۔ بے شرم ہے۔ بے غیرت ہے۔ نجانے کتنے مردوں سے کہہ چکی ہے۔ ’میں تم سے محبت کرتی ہوں‘۔ اس عورت کو پتہ چلا تو اس کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار سچ بولا تھا اور جب اس کے سچ کا مذاق اڑایا گیا تو وہ بہت دکھی ہوئی۔ اس کے بعد اس نے کبھی سچ نہیں بولا۔ اب وہ کھوئی کھوئی سی رہتی ہے۔ چپ رہتی ہے۔ وہ بھی یہ راز جان گئی ہے۔ ’’اک چپ تے سو سکھ‘‘۔

ایک مرد نے اپنا سچ سب کو بتا دیا تو سب نے کہا۔ تم گنہگار ہو۔ جہنم میں جلو گے۔ وہ اتنا احساسِ گناہ کا شکار ہوا کہ اس نے خود کشی کر لی۔ اب فتوے لگانے والے احساسِ ندامت کا شکار ہیں۔ خجالت کا شکار ہیں۔ لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔

جب کسی محفل میں کوئی کسی سے پوچھتا ہے ’آپ کی شادی کیسی جا رہی ہے‘؟ تو شوہر بڑے فخر سے کہتا ہے۔ ’ہم بہت خوش ہیں‘۔ لیکن بیوی جانتی ہے کہ اس کے شوہر کا اپنی سیکرٹری سے افیر چل رہا ہے۔ وہ مسکرا دیتی ہے ایک زہر خند مسکراہٹ۔ سب حاضرینِ محفل جانتے ہیں اس مسکراہٹ میں کتنا زہر بھرا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ شادی ایک ایسا جھوٹ ہے جسے دو انسان مل کر بناتے ہیں۔

ٹی وی پر سیاستدان کا انٹرویو ہو رہا ہے۔

میزبان پوچھتا ہے۔ حکومت کیسے چل رہی ہے؟

مہمان کہتا ہے۔ قوم ترقی کر رہی ہے۔ ہم اصلاحات نافذ کر رہے ہیں۔ ملک میں ایک مثبت تبیدلی آ رہی ہے بلکہ آ چکی ہے۔

میزبان کہتا ہے اگر ایسا ہے تو عوام دکھی کیوں ہیں؟

میزبان کہتا ہے۔ آپ نے فراز کا شعر نہیں سنا؟

؎ رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے

ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں

میزبان پوچھتا ہے آپ کی اگلے الیکشن کے بارے میں کیا پیشین گوئی ہے؟ مہمان کہتا ہے۔ ہم ضرور الیکشن جیتیں گے۔

میزبان مسکرا دیتا ہے اور پروگرام دیکھنے والے قہقہے لگانے شروع کر دیتے ہیں۔

کل شام اقوامَ متحدہ کی میٹنگ ہوئی۔ ساری دنیا کے لیڈر جمع ہوئے۔ پر جوش تقریریں ہوتی رہیں۔ جنگ کا منصوبہ بنانے والے امن کی باتیں کرتے رہے۔ اتنی عمدہ تقریریں ہوئیں کہ ان پر داد و تحسین کے پھول نچھاور کیے گئے۔ جھوٹ نے اتنا شاندار جشن منایا کہ سچ نے خود کشی کر لی۔

کل شام کی تقریریں سن کر مجھے ابن انشا کے دو شعر یاد آ گئے:

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے

ہم چپ رہے ہم ہنس دیے منظور تھا پردہ ترا

کل شام مجھے احساس ہوا کہ ابن انشا بھی اس راز سے واقف تھے کہ ’’اک چپ تے سو سکھ‘‘۔

میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ میں مجذوب ہوں یا مجھے مجذوب سمجھنے والے مجذوب ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 266 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail