انچولی کی بیٹھکیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انچولی بیٹھکوں والا محلہ ہے۔ ہر سڑک اور ہر دوسری گلی میں بیٹھک جمتی ہے۔ ان میں بیٹھنے والے لوگ روزانہ کی بنیاد پر آتے ہیں۔ سیاست، کھیل، عزاداری، محلے داروں کا حال احوال، یہ ان کے موضوعات ہوتے ہیں۔ ہر بیٹھک میں ایک دو جملے باز اور ایک دو دھر ضرور ہوتے ہیں۔ دھر یعنی تختہ مشق ستم۔ جس کا زیادہ ریکارڈ لگایا جائے۔

مجھے کئی بیٹھکیں یاد ہیں۔ رشید ترابی پارک کے سامنے عالم شاہ جی کے گھر کی بیٹھک۔ عالم شاہ جی کراچی کے مشہور وادی حسین قبرستان کے “روح رواں” ہیں۔ ایک بیٹھک وہیں قریب میں سابق کونسلر ہاشم زیدی کے گھر پر جمتی تھی۔ جب تک نواب بھائی زندہ تھے، ان کی بیٹھک روز لگتی تھی۔ نواب بھائی پولیس میں ملازم تھے۔ سندھ پولیس کی کرکٹ ٹیموں کی تشکیل اور انتظام میں ان کا مرکزی کردار تھا۔ محلے داروں کے علاوہ کرکٹرز اور پولیس والے حاضری دیتے تھے۔

ایک بیٹھک السید گروپ کے لڑکوں کی ہے۔ یہ گروپ جب بنا، تب سب لڑکے ہی تھے۔ اب ماشا اللہ جوان بچوں کے باپ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ السید گروپ بعد میں بنا، السید کے نام سے کرکٹ ٹیم پہلے بنی۔ اس میں داور بھائی تھے جو ٹینس بال کو سوئنگ کرواتے تھے۔ یہ کمال شاید ہی کسی اور بولر میں ہو۔ اقبال امام تھے جو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے اور اب پی سی بی کے کوچز میں شامل ہیں۔ ان کے چچا ذوالفقار امام تھے جنھیں ہم گڈو بھائی اور ان کے دوست فتح گارڈ کہتے تھے۔ ساجد رضا تھے جو انچولی کے سب سے قابل نوجوانوں میں سے تھے اور اب شاہ ولایت اسکول سے منسلک ہوکر تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کررہے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی شاہد بی کام اور زاہد بھی السید سے کھیلتے تھے۔

السید کے ارکان آج بھی بیٹھک جماتے ہیں۔ ان میں کاروان آل عمران کے عمران حیدر عرف منے بھائی، گڈو چلی بھائی، عاصم عباس، شکیل امام، علی حیدر وغیرہ شامل ہیں۔

ایک بیٹھک چار گلیاں دور اور جمتی ہے جس میں صادق رضا، تہذیب، شاہد اور کئی دوسرے نوجوانوں کے علاوہ ہمارا دوست آلے (غالباً آل حیدر) بھی بیٹھتا تھا۔ اس کا چند ہفتے پہلے اچانک انتقال ہوگیا۔

ایک بیٹھک تایا آصف اور ایک ہمارے دوست کامی باس کی بھی ہے لیکن میں جس بیٹھک کو یاد کر کرکے اداس ہورہا ہوں، وہ خالو اظہار کی دکان کے قریب سڑک پر رات دس بجے کے بعد جمتی تھی۔ 1980 کی دہائی کے آخری برسوں کا ذکر ہے۔ کراچی میں ہنگامے، قتل، کرفیو، سب شروع ہوچکا تھا۔ محلے کے بزرگ نو بجے کا خبرنامہ سن کر گھروں سے نکلتے اور بی بی سی کا شب نامہ سڑک پر سن کر رخصت ہوتے۔ میں چند نام یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ رونق حسین۔شاکر صاحب۔ درے حسن۔ مسرت بھائی۔ بھائی اصغر۔ امیر بھائی کے والد اور چچا۔ اظہر بھائی کے والد۔ بھائی وقار کے والد جنھیں سب بڑے ابا کہتے تھے۔ کبھی کبھی ہمارے بابا بھی جاتے اور ہنستے ہوئے آتے۔

بابا کہتے تھے کہ اس محفل میں افواہوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ ایک محترم فرماتے، امریکا نے کراچی کو آزاد کرانے کی تیاری کرلی ہے۔ اس کی فوجیں پہنچنے ہی والی ہیں۔ ایک انکل کہتے، کلاشنکوف پرانی ہوچکی۔ دہشت گردوں نے روس سے کلاکوفیں منگوالی ہیں۔ وہ بنکر کی دیوار پھاڑ کر اندر گھس جاتی ہے۔ تیسرے صاحب انکشاف کرتے، سہراب گوٹھ سے افغانستان تک زیر زمین سرنگ کھودی جاچکی ہے۔ افغان مجاہدین اسی سے آتے جاتے ہیں۔

بابا کہتے تھے، روزانہ ہر شخص نئی پڑیا لے کر آتا ہے۔ اس زمانے میں افواہ کو پڑیا کہا جاتا تھا۔ افسوس کہ وہ رنگارنگ محفل اجڑ گئی۔ ہمارے بابا سمیت آج ان دلچسپ کرداروں میں سے کوئی حیات نہیں۔
کیا خبر وہ سب بزرگ نئی نئی پڑیائیں لے کر جنت کے کسی نکڑ پر بیٹھک جماتے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 184 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi