مرد کتنے ٹکے کا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ پہلے نجی ٹرانپسورٹ کمپنی کی ایک بس میں لاہور جا رہا تھا۔ بس میں سواریاں کچھ کم تھیں۔ بس ہوسٹس سواریوں کو کولڈ ڈرنکس پلا رہی تھی۔ میری پچھلی نشت پر بیٹھے ایک آدمی کے پاس گئی تو وہ کہنے لگا “اجی آج تو بہت کھانس رہی ہو گرمی میں سردی تو نہیں لگ رہی کیا” اس نے بے بسی سے منہ بنایا۔ پیچھے دیکھ کر چلتی بنی اور وہ مرد اور اس کا دوست قہقے لگا کر ہنس پڑے ـ

یہ واقعہ ایک ڈرامے “تم میرے پاس ہو” کے ایک ڈائیلاگ “دو ٹکے کی عورت” کو سن کر مجھے یاد آیا۔ جس میں ایک عورت جو پیسے کے لئے اپنے خاوند کو چھوڑ جاتی ہے کو “دو ٹکے” کی عورت پکارا گیا ہے۔ اس ڈائیلاگ کو سننے کے بعد کچھ سوالات نے ذہن میں جنم لیا اور کچھ خیالات دماغ میں گردش کرنے لگے جن سے ہمارا معاشرہ خصوصاً مرد حضرات نظریں چراتے ہیں۔ ممکن اسے مردوں کے لئے کچھ سخت سمجھا جائے لیکن ان حقائق اور کچھ سوالات پر بات کرنا بہرحال ضروری سمجھتا ہوں۔

مثلاً ہمارے جوانوں میں ایسے جوانوں کا تناسب کتنا ہے جو عورت کو دیکھتے ہی ایسے نظریں جھکا لیتے ہیں جیسا وہ دوسروں سے اپنے ناموس کے لئے توقع رکھتے ہیں؟ اور وہ جوان کتنے ہیں جو عورت کو دیکھ کر اگر ذو معنی فقرے نہ کسیں لیکن ذومعنی نظروں سے دیکھ کر نظریں ملانے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا کھلے عام محفلوں میں جوان ایک دوسرے کو یہ قصے سنا کر اپنے ہر فن مولا ہونے کا ثبوت فراہم نہیں کرتے کہ میری “اس” سے بھی بات چل رہی ہے اور کبھی “دوسری” سے بھی بات کرتا ہوں؟ اور ساتھ بیٹھے دوست اس کی قسمت پر اش اش کر اٹھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو فخریہ انداز میں موبائل دکھاتے ہیں کہ یہ وہ پکچرز ہیں جو میں نے اس کو “اس کی قسم” دے کر منگوائی ہیں۔ اور یہ پکچرز دوستوں کو دکھا کر ایسے لطف اندوز ہوا جاتا ہے جیسے چڑیا گھر سے لی گئی تصاویر سے بچے محفوظ ہوتے ہیں۔

کبھی آپ نے “لیڈیز سیکرٹری” کی شرائط اور اس کے لیے “لیڈیز” ہی ہونے کی وجہ پر غور کیا ہے؟ کبھی آپ نے اپنے گھروں میں ایسے سخت طبیعت والوں جو اپنی بیوی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے کو گھر سے باہر غیر عورتوں کی آواز پر پگھلتے نہیں دیکھا؟

کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ جب مرد پبلک ٹرانسپورٹ میں اپنی حرکات کی وجہ سے عورتوں سے مار کھاتے ہوے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا تو اب آیا ہے، ایسے کتنے واقعے ہوتے ہوں گے جو سوشل میڈیا پر نہیں آئے۔ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر دوسرے نہیں تو تسیرے بندے نے ہمارے ملک کی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے ایسے واقعات کا مشاہدہ کیا ہو گا۔ بہت سی عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ایسے مواقع پر اپنی عزت کے ڈر سے چپ ہو جاتی ہیں۔ ایسی حرکت کرنے والے مرد ہی ہوتے ہیں اور کبھی عورت کو ایسی حرکت کرتے ہوئے کبھی آپ نے دیکھا ہے؟

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عورت شادی کے بعد بچوں اور گھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتی ہے جبکہ مردوں کی اکثر یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے آپ کا “شادی شدہ” ہونا چھپائے رکھے تاکہ “نیا رشتہ” بنانے میں دقت نہ ہو۔ اکثر ایسے رشتے بن جاتے ہیں اور لڑکی کو ایسے وقت میں مرد اپنا شادی شدہ ہونا بتاتے ہیں جب اس سے جان چھڑانی ہو۔ یہ بہت عام ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر بیوی کو اپنے شوہر کے ایسے تعلقات کا علم ہوتا ہے لیکن مجبوریوں کی وجہ سے خاموش رہتی ہے۔ لیکن سوچیے اگر شادی کے بعد ایسا ہی عورت کرے تو پتہ چلنے پر مرد کی غیرت کا پارہ کہاں تک جائے گا؟

شادی سے پہلے لڑکی کو کتنی لیباریٹریز کو پاس کرنا پڑتا ہے جیسے جہینز، لڑکے کی پسند، عمر، رنگت، ذات، کردار اور نہ جانے کون کون سے معیاروں پر پورا اترنا لازمی ہوتا ہے۔ ان سب کے بعد سسرال میں اس کی ہر حرکت کو مائیکرو سکوپ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ لڑکے کے لئے اِن شرائط کی ضروت نہیں ہوتی فقط “لڑکا” ہونا کافی ہوتا ہے اور نہ شادی کے بعد لڑکے کے سسرال والے اس کی کسی حرکت پر انگلی اُٹھا سکتے ہیں۔ لڑکی کے سر پر طلاق کی اور میکے دوبارہ بھیجنے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ اس کی چھوٹی سی غلطی بھی سسرالیوں کو یا خاوند کو پسند نہیں آئے یا شوہر کہیں اور دل دے بیٹھے تو لڑکی کو میکے دوبارہ جا کر ایسے مہمان کی صورت میں رہنا پڑتا ہے جس سے گھر والے تنگ ہوں اور اس کے جانے کا انتظار کر رہے ہوں اور مہمان کا بھی کوئی اور ٹھکانہ نہ ہو ـ

لاتعداد لڑکیوں کو ایسے شخص کے ساتھ زندگی گذارنی پڑتی ہے جو کہ انہیں پسند نہیں ہوتا اس شادی سے پہلے اس کے ناپسندیدہ کردار کا علم ہوتا ہے لیکن لڑکی ہونے کے جرم میں اسے زندگی کا سمجھوتا بہر حال کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح اسلام نے جو نکاح کی صورت میں پسند اور ناپسند کا جو اختیار مسلمانوں کو دے رکھا ہے، وہ محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوتا ہے۔

 میں عورت کو فرشتہ نہیں بنا رہا۔ عورتوں کی غلطیوں کی وجہ سے گھرانے تباہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی غلطی کی وجہ سے ان کے گھر والے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے لیکن میرا سوال غیرت کے اس میعار پر ہے جو عورت کی غلطی کی صورت میں جاگ جاتا ہے اور اسے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے نام سے پکارنے لگتا ہے۔ جبکہ مرد جب غلطی کرتا ہے تو وہ بھائی، باپ، بیٹا اور شوہر کیوں نہیں ہوتا؟ کون سا ایسا مذہب ،قانون، اور کلچر ہے جو عورت کی غلطی کو غلطی اور مرد کی غلط کو غلطی نہیں مانتا؟ اگر عورت بے وفائی کرے تو دو ٹکے کی لیکن مرد ایسا کرے تو ایسا کوئی پیمانہ نہیں جو ٹکوں کو شمار کرے کہ ایسا کرنے پر وہ کتنے ٹکے کا ہو گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نصیب خان کی دیگر تحریریں
نصیب خان کی دیگر تحریریں