کرتار پور،عقیدت کا سفر
پاکستان کے مسائل اتنے ہمہ گیر ہیں۔ کہ اگر آپ کو لکھنے کا مرض لاحق ہو تو کتنی ہی دیر تو یہ فیصلہ کرنے میں گزر جاتی ہے کہ کس موضوع کو چھوڑدیا جائے اور کس کو منتخب کیا جائے۔
جب کافی وقت پاکستان سے باہر گزار کر آئیں تو ہمارے جیسے کئی حساس پاکستانی یاسیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے ملک کا حال دیکھ کر خواہ مخواہ ہی اداسی طاری رہتی ہے کئی دن تک۔ درحقیقت یہ دکھ ہوتا ہے دوسرے ممالک کی ترقی، صفائی ستھرائی، نظم وضبط دیکھ کر کہ آخر ہمارے ملک میں یہ سب کیوں ممکن نہیں ہو پاتا۔ یہاں درد مند دل رکھنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ قدرتی وسائل بھی دستیاب ہیں۔ عوام میں کام کرنے کا جذبہ بھی موجود ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے ہی جیسے ترقی پذیر اور کم و بیش ایسے ہی وسائل رکھنے والے ممالک سے بھی پیچھے ہیں۔
آخر کیوں؟ ذہن الجھتا ہی چلا جاتاہے اور ہر بار ہرسوال کا ایک ہی جواب ملتا ہے۔
مخلص قیادت کا بحران صرف یہی ایک وجہ ہے پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی۔ یہاں جو بھی منتخب ہوتا ہے اس کے مخالفین اس کی فتح اور اپنی شکست کو قبول نہیں کرتے اور اس کا انتقام پاکستان کے عوام سے لینا شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی احتجاج، کبھی افراتفری، کبھی دھرنوں کی صورت میں ہر شخص بے قرار ہے کہ نہ کام کریں گے نہ کرنے دیں گے۔ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں ”دوٹکے کی سوچ“ یہی سب سے بڑی سچائی ہے پاکستانی سیاست کی۔
اپنے مفاد کے لیے ملک کی ترقی اور استحکام کو داؤ پر لگانا وہ ظلم ہے جو وقتاً فوقتاً اس مظلوم قوم پر ڈھایا جاتاہے اور نہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
مگر گھٹن زدہ ماحول میں کچھ ایسی خبریں بھی مل ہی جاتی ہیں جن سے دل خوش ہوتاہے۔ انسان کی فطرت ہی ایسی بنائی گئی ہے وہ تاریکی سے روشنی کا سفر طے کر ہی لیتا ہے۔ پھر چاہے راہ میں کتنی مشکلات آئیں۔ آپ جانتے ہیں انسان سب سے زیادہ پرسکون کن اسباب سے ہوتا ہے۔
علم نفسیات کی رو سے انسانی جبلت کی مختلف جہتوں کی تسکین کا اسباب بننے والے عوامل میں ہمدردی اور عقیدت سب سے بڑا سبب ہیں۔
انسان کو دکھ یا مشکلات کے مرحلے میں کوئی اچھا سامع مل جائے۔ تو اس کی پریشانی آدھی رہ جاتی ہے۔ اظہار کر دینے کا عمل پوری شخصیت میں مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی بنا پر لوگ ہر صورت اپنی بات دوسروں تک پہنچانا پسند کرتے ہیں۔ چاہے تحریر کی صورت ہو یا تقریر یا کسی بھی اور شعبہ ہائے زندگی میں موثر انداز میں اپنا موقف پیش کرنے والے لوگ ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ مطمئن رہتے ہیں۔ جو اپنا موقف اپنی رائے کا اظہار بر سر عام نہیں کر سکتے۔
اور اس اطمینان کا دوسرا بڑا سبب عقیدت کا بے خوف و خطر اظہار ہے۔ عقیدت کی براہ راست وابستگی عقیدہ سے ہے۔ دنیا میں مختلف مزاہب کی پیروی کرنے والوں پر یہ تجربہ کر کے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے۔ کہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ اگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے کسی قسم کی مشکلات درپیش نہ آئیں اور مکمل اور بھرپور تعاون فراہم کیا جائے تو انسانی مزاج میں ناقابل یقین تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
ریاست پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر اور خصوصاً اس سال جو اہم فیصلے کیے اس سے پاکستان کا تشخص دنیا میں بہت بہتر اجاگر ہواہے۔
جب چاروں طرف سے مایوس کن خبریں مل رہی ہوں۔ اور ایسے میں روشنی کی ہلکی سی لکیر نظر آ جائے تو یقین جانیے یہ بہت بڑی پیش رفت ہوتی ہے قوموں کا مورال بڑھانے کے لیے۔
اس فیصلے کو دنیا میں موجود سکھ برادری کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاھب کے لوگ بھی مثبت زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان پر مذہبی شدت پسندی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اور کچھ ماضی کے اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے اور کچھ دشمنان وطن کے منفی پروپیگنڈہ نے مملکت پاکستان کا امیج خراب کر کے رکھ دیا تھا۔
خصوصاً بھارت کا رویہ جو کشمیر میں مسلسل بھارتی فوج کے مظالم کے باعث انتہائی پر غرور ہوگیا تھا۔ اب ان کے میڈیا کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا
کہ کرتار پور راہداری کے منصوبے اور گرونانک کے جنم دن پر پاکستان کی طرف سے دی جانے رعایت پرہندوستان کی ہندوتوا سوچ کیسے غصے سے بلبلا اٹھی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ہندوستان اور اس سے باہر کی سکھ کمیونٹی کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کس تجربہ ہمیں ذاتی طور پر دوران سفر ہوا۔ جب ایک سکھ فیملی نے پاکستان کے اس اقدام کو نہ صرف سراہا بلکہ اپنے دوسرے دوستوں کے خیالات سے ہمیں آگاہ کیا۔
ان کے چہروں کی چمکتی ہوئی خوشی دیکھ کر احساس ہوا اگر درست پالیسیوں پر عمل کیا جائے تو دنیا میں پاکستان کا مقام بلند ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان میں موجود کچھ عناصر اس شاندار پیشرفت کو بھی بغض کی کی تہوں میں لپیٹ کر پروپیگنڈہ کرنے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔
اور کچھ ارسطو اس اقدام کو کشمیر سے جوڑ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اپنی ذاتی مخالفت میں اس حد تک چلے جانا ذہنی پستی کے علاوہ اور کیا ہو سکتاہے۔
مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے خوش دلی سے اقدامات کرنا نہ صرف ملک کا امیج بہتر کرتا ہے۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہے اس امر کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پذیرائی کی جائے اور ان اقدامات کو سراہا جائے۔ اسی میں پاکستان کی عزت اور بقاء ہے۔


