زبان کو بطور زبان سیکھنا ضروری ہے یا اسے محض ذریعہ تعلیم سمجھنا


ایک بنیادی خوبی جو انسان دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے وہ زبان ہے۔ انسان میں جو بولنے اور مختلف زبانوں کو سیکھنے کی جو جبلی صلاحیت ہے وہ دیگر جانداروں میں ناپید ہے۔ انسانی بچہ جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے وہ اسی کی زبان کو خود کار طریقے سے اپنا لیتا ہے اسے کسی خاص تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اردگرد بولی جانے والی زبان کو سیکھے۔ بلکہ وہ مادری زبان بغیر کسی سعی کے نہ صرف سمجھ سکتا ہے بلکہ بول بھی سکتا ہے۔

انسان نہ صرف اپنی مادری زبان بلکہ دیگر کئی زبانیں بھی آسانی سے سیکھ سکتا ہے۔ سیکھنے کی یہ صلاحیت کم عمری میں زیادہ ہوتی ہے عمر بڑھنے کے ساتھ اس میں کمی واقع ہوتی ہے جس کی بنیادی وجوہات میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مادری زبان کے پیٹرن، لہجے، گرائمر اور دیگر خصوصیات کو لاشعوری طور پہ اپنا چکا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کسی بھی زبان کے مقامی بولنے والوں اور اسے سیکھ کے بولنے والوں کا فرق کوئی عام شخص بغیر لسانیات کا علم حاصل کیے جان سکتا ہے۔ جیسے اردو سلیبل ٹائمڈ اور انگریزی سٹریس ٹائمیڈ زبان ہے ان دونوں زبانوں کے بولنے میں لہجے کے فرق کی بنیادی وجہ ہے پھر فقرے کی ساخت مختلف اور علاقائی فرق بھی اس تفاوت کا باعث بنتا ہے۔

مادری زبان یا فرسٹ لینگوئج کے علاوہ تعلیم خواہ وہ رسمی تعلیم ہو یا مذہبی سیکینڈ لینگوئج کوشش سے سیکھنا پڑتی ہے یہ مسئلہ پاکستانی بچوں کے لیے زیادہ اہم ہے۔ یہ بچے گھر میں مادری زبان کے طور پہ کوئی علاقائی زبان بولتے ہیں۔ سکول میں اردو یا انگریزی۔ مذہبی تعلیم کے لیے عربی اس طرح انہیں کم از کم بھی چار زبانوں پہ اگر عبور حاصل نہ بھی ہو تو کچھ نہ کچھ سیکھنا ضرور پڑتی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے آیا کہ اس سماجی حوالے یعنی دوسروں سے انٹرایکشن، تعلیمی ضرورت کے پیش نظر، یا مذہبی تعلیم کے لیے زبان کو بحیثیت ذریعہ اہمیت دی جائے یا اسے بحیثیت زبان سیکھا جائے؟

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایز آ لینگوئج زبان کو پڑھنا اور پڑھانا ایک مختلف شعبہ ہے اور زبان کو میڈیم کے طور پہ پڑھنا پڑھانا ایک الگ بات ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں یہ بہت کنفیوزنگ ہے عام درسگاہوں اور عام لوگوں کے لیے زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پہ پڑھایا جاتا ہے گو کہ انگریزی، اردو اور عربی کو بحیثیت مضمون بھی نصاب میں شامل کیا گیا ہے اور پنجاب میں خاص طور پہ ان تینوں زبانوں کو بحیثیت زبان پڑھانے کے لیے کمپری ہنشن، گرائمر، سنٹیکس، لنگواسٹکس اور کیرایٹیوو رائیٹنگ کے سیکشن شامل کیے گئے ہیں۔

لیکن امتحان میں روایتی رٹہ سسٹم کو مدنظر رکھ کے پیپر پیٹرن سیٹ کیا گیا جس کی وجہ سے تمام حصوں کو نظر انداز کر کے اساتذہ اور طلبا بھی سلیکٹیو سٹڈی پہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اس طرح کوئی بھی زبان بحیثیت زبان نہ پڑھی جاتی ہے نہ پڑھائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طبقے کے گریجوایٹ نہ تو کوئی زبان مکمل اعتماد سے بول سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے طور پہ اس زبان میں کچھ لکھ سکتے ہیں۔ وہ ادارے جو ملک کی کریم کو پڑھاتے ہیں انہیں انگریزی پہ عبور حاصل ہوتا ہے اور اس کے چاروں سکلز یعنی سننا، بولنا، لکھنا اور پڑھنا سب میں طاق ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ پروفیشنل لائف میں بھی اس ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے جس کا شکار عام طبقہ کے نواجوان ہوتے ہیں۔ یعنی ایک بات سمجھ آتی ہے کہ زبان کو بحیثیت زبان پڑھنا اسے محض ذریعہ تعلیم بنانے سے بہتر ہے۔

اب بات ہے مذہبی زبان کی۔ پاکستان میں آپ کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں زیادہ نہ سہی آپ کو ناظرہ کی تعلیم لازمی دی جاتی ہے۔ لیکن عربی کو بحیثیت زبان پڑھنے اور پڑھانے کی وہ کمپلژن نظر آتی ہے نہ ضرورت محسوس ہوتی ہے جو انگریزی اور اردو کا خاصہ ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات دو ہیں پہلی یہ کہ عربی زبان سماجی ضرورت نہیں ہے مطلب اپنے ارگرد لوگوں سے انٹر ایکشن کے لیے ضروری نہیں ہے۔ دوسری بات یہ معاشی ضرورت بھی نہیں ہے کہ پروفیشن کے لیے لازم ہو۔

اب اس کی ضرورت صرف تعیملی بنیاد پہ رہ جاتی ہے تو اسے صرف وہ بچے سیکھتے ہیں جو مذہبی تعلیم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لیکن کیا یہ بات تھوڑی عجیب نہیں کہ وہ بچہ جو رسمی تعلیم حاصل کرتا ہے وہ نہ صرف ضرورت کے تحت دوسے تین زبانیں سیکھ لیتا ہے چاہے ذریعہ تعلیم کے طور پہ سیکھے اور ان میں ماہر نہ ہو۔ اور ساتھ ہی وہ بنیادی ریاضی، جغرافیہ، سائنس، سوشل سائینسز، اخلاقیات، لائف سکلز، اسلامیات بھی سیکھ لیتا ہے دوسری جانب مذہبی تعلیم کے لیے جانے والے بچے کے لیے پہلی شرط حفظ کی ہے حفظ ووکل لائزیشن اور سب ووکلائزیشن کی پریکٹس ہے اس میں بچے کو یاد سب ہوتا ہے لیکن معنی معلوم نہیں ہوتے یہاں پہلی صلاحیت لاشععری طور پہ متاثر ہوتی ہے جو سیکھنے کی ہے پھر دوسرا کچھ سیمی ماڈرن مذہبی اداروں میں بنیادہ انگریزی، ریاضی اور سائینس کو بھی حفظ کے بچوں کے نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے لیکن وہ سلیبس بالکل مختصر ہوتا ہے کہ بچے برائے نام سیکھتے ہیں۔

اب بات آتی ہے عربی کو بطور زبان سیکھنے کی جو بچے گہرائی میں مذہبی تعلیم حاصا کرتے ہیں وہ زبان بھی سیکھتے ہیں لیکن کیا وہ معاشرے میں اتنے فاعل ہوسکتے ہیں جتنا کہ رسمی اداروں سے تعلیم پانے والے بچے۔ ہمیں وہ لوگ اپنے اردگرد اداروں میں نظر تو آتے ہیں لیکن خال خال۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ مذہبی نصاب کو بدلا جائے اور سمجھا جائے کہ اگر مذہب کو سمجھنے کے لیے ایک زبان پڑھنا ضروری ہے تو، اسے مناسب انداز سے پڑھایا جائے؟

مختصر یہ کہ زبان سیکھنا اور سکھانا ایک عام سی انسانی سرگرمی ہے لیکن یہ اتنی ہی پیچیدہ بھی ہے۔ ایک اچھے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے کے لیے ضروری ہے کہ اس پہ سنجیدگی سے کام کیا جائے اور ایک ایفکٹیوو لائحہ عمل بنایا جائے جس سے بہتر نتائج حاصل ہوں۔

Facebook Comments HS