ایک وزیر خارجہ کا سوال ہے!


\"rabiaبنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو جانے کیا سوجھی، پاکستان کے بگڑتے سفارتی تعلقات میں تیل چھڑکنے لگیں، بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بولیں کہ \”پاکستان سے بہت مایوس ہوچکی ہوں اور اسلام آباد سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ہے۔\”

صرف یہی نہیں پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے اور دو لخت کرنے میں بھارت کی مدد کا اعتراف کیا اور شکریہ بھی۔ کہتی ہیں کہ سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا فیصلہ تھا کیوں کہ جماعت اسلامی رہنماؤں کو سزائیں دینے پر پاکستان نے تنقید کی تھی۔ اس ساری صورت حال میں پاکستان کا موقف بیان کرنے کے لیے وزیر خارجہ کی اشد ضرورت محسوس ہوئی اور گزشتہ وزیر خارجہ بہت یاد آئیں جو کردار وگفتار سے ہر دلعزیز رہی ہیں۔

کئی ملکوں کے سربراہاں اور عالمی فورمز پر ان کے اقدامات کو واشگاف لفظوں میں سراہا بھی گیا ہے۔ خوبصورت چہرہ، پُروقار شخصیت، جاندار آواز اور نت نئے اسٹائل، کسی کو بھی گھائل کرنے کو کافی۔ صرف یہی نہیں،پاکستان کی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون وزیر خارجہ بھی۔ یہ ہیں حنا ربانی کھر۔ جنھوں نے 26 ویں وزیر خارجہ کی حیثیت سے فروری 2011 میں ذمہ داریاں سنبھالیں اور 2013 انتخابات تک اپنے عہدے پر فائز رہیں۔

ملتان کی فیوڈل فیملی سے تعلق رکھنے والی حنا ربانی کھر، پی ایم یل کیو کی نشست سے 2002 میں قومی اسمبلی کی رکن منتخنب ہوئیں۔ 2009 میں پیپلزپارٹی میں شمولیت کے ساتھ وزیر مملکت برائے خزانہ و اقتصادی امور بن گئیں اور اسی سال قومی بجٹ پیش کرنے والی پہلی خاتون بھی بن گئیں۔ شمالی علاقہ جات میں آنے والے سن 2005 کے زلزلے میں حنا ربانی کھر نے ایک بین الاقوامی ریلیف فنڈ کے ساتھ مل کر قابل قدر خدمات سر انجام دیں تھی۔

کابینہ میں ردوبدل کے بعد اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے حنا ربانی کھر کو وزیرخارجہ بنا دیا۔

پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کچھ اپنے ہی آرمڈ فورسز کے مخالف ہوگئے، امریکا مخالف جذبات میں شدت آگئی، لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کیس پر بھی حکومت کو مشکل ماحول کا سامنا تھا۔ اور وزیر خارجہ کی کرسی \”ہاٹ سیٹ\” میں بدل چکی تھی۔ قومی مفاد اور سفارتی تعلقات دونوں شیشے کی طرح نازک دور سے گزر رہے تھے۔ اُدھر 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد بھارت الگ منہ پُھلا کر بیٹھا تھا۔ دونوں طرف سے کھنچتی امن کی رسی جیسے ابھی ٹوٹی۔ حنا ربانی کھر نے عہدہ سنبھالتے ہی بھارت کا دورہ کیا اور بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے امن مذاکرات کئے۔ اس سے قبل کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقات بھارت کی اپوزیشن جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کو ایک نہ بھائی اور لگے واویلا کرنے۔۔ خاص بات یہ کہ حنا ربانی کھر کے دورہ بھارت سے قبل ہی ان کا فیشن اور اسٹائل بھارت بھر میں چھا گیا،اگست میں پاکستان اور بھارت کے مشترکہ ہمسائے چین کے دورے پر گئیں اور چینی ہم منصب ینگ جیچے سے ملاقات کی۔

\"hina-khar\"ابیٹ آباد میں اسامہ بن لادن آپریشن کے بعد نیٹو فورسز نے نومبر 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ کر کے 24 پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا۔ ملک کے اندر تناؤ بڑھنے لگا، عوام، حکمران اور سیاستدان ایک پیچ پر آگئے، پاکستان میں نیٹو اور ایساف کے سپلائی روٹس بند کر دئیے گئے۔ شمسی ائیر فیلڈ سے امریکی عملے کو نکال دیا گیا۔ پاکستان نے افغانستان میں ہونے والی بون کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا اور امریکا سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا۔ افغان اور امریکی حکام کے مطابق دونوں ملکوں کی افواج کے مشترکہ آپریشن میں طالبان کو نشانہ بنایا گیا۔ اور پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے بعد ایسا کیا گیا۔ افغانستان اور امریکا کے ایسے گھناونے الزام اور پاکستانی فوجیوں کو شہید کیے جانے پر سفارتی تعلقات بگڑنے لگے۔ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر آگ بھڑک اٹھی۔ پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منڑ کو بلا کر شدید احتجاج کیا گیا۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ٹیلی فونک رابطے میں سخت الفاظ میں حملے کی مذمت کی۔ حملے کو بین الاقوامی قوانین، انسانی جانوں اور پاکستان کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ نیٹو روٹ بند ہونے سے امریکا کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجتاً دسمبر 2011 میں امریکا نے پاکستان کی مالی امداد روک دی۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح لفظوں میں امریکا کو خبردار کیا۔ مالی امداد روکنے کی صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہارنے میں وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔

جنوری 2012 میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے روس سے دو طرفہ سفارتی تعلقات بڑھانے کا عزم کیا۔

جولائی 2012 میں امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستانی فوجیوں کے جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے بھی سلالہ حملے جیسے واقعات دوبارہ نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیلری کلنٹن نے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے دونوں ملکوں کے درمیان معاملات بہتر بنانے پر اقدامات کو سراہا۔

اگست 2012 میں ایران میں منعقدہ غیر وابستہ ممالک کی تنظیم میں خطاب کر کے خطے کے استحکام کو دوام بخشا۔ نومبر 2012 میں بنگلہ دیشی وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں ملکوں کو مل کر آگے بڑھنے کا مطالبہ کیا۔

2013 میں حنا ربانی کھر نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

انتخابات میں مسلم لیگ نون نے اقتدار سنبھالا، لیکن تاحال ایسا کوئی وزیر خارجہ منتخب کرنے میں ناکام رہے ہیں جو ڈٹ کر بین الاقوامی فورم پر پاکستانی موقف پیش کرسکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ربیعہ کنول مرزا

ربیعہ کنول مرزا نے پنجاب اور پھر کراچی یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ صحافت میں کئی برس گزارے۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شعبہ ہے

rabia-kanwal-mirza has 34 posts and counting.See all posts by rabia-kanwal-mirza

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments