ایک بوند لہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(یہ ایک افسانہ ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اس کو افسانہ ہی سمجھا جائے۔ )

اٹھارویں صدی پنجاب میں قیامت بن کرآئی۔ مغل سلطنت رو بہ زوال تھی۔ سکھ اورمرہٹے مغل سلطنت پرچڑھ دوڑے تھے۔ وارث شاہ نے اشارے کنائے میں کہہ دیا تھا کہ وہ عورتیں جو بھری سیج پر چڑھ کربیٹھ گئی ہیں ایک دن حاکم آکران کو پکڑ لیں گے۔ اس نے پنجاب کی تباہی کے بارے میں پیش گوئی کردی تھی، ”ایک دن وہ گھوڑے اس پاک دھرتی پر آکر تباہی مچا دیں گے جن کی خبریں اکثرسنائی دیتی ہیں۔ “ پھرنادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی نے پے در پے حملے کر کے جونک کی طرح پنجاب کے خون کا قطرہ قطرہ چوس لیا۔

اب پنجاب کے سر سبز میدانوں میں بھوک اگ رہی تھی اورآپس کی لڑائیوں میں ہرے بھرے کھیت خون سے سرخ ہوگئے تھے۔ وارث شاہ اس وقت ملکہ ہانس میں بیٹھے پیار ومحبت کی داستان ہیررانجھا لکھ رہے تھے۔ ان کا یہ فسانہ دلپذیر ایک غیر فانی شاہکار اور عالمی سطح کا ادب پارہ تھا۔ وہ دور سیاسی ابتری کے ساتھ ساتھ اخلاقی تنزلی کا بھی تھا۔ کمزور طبقات زیر عتاب تھے۔

ان حالات میں سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہمیشہ عورت ہوتی ہے۔ ہیر کو اپنی پسند کے مطابق شادی کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی۔ کیدو اس کا دور دراز کارشتہ دار تھا۔ عمر میں اس سے اتنا بڑا کہ وہ اسے چاچا کہہ کے پکارتی تھی، لیکن مان متی، روپ گمان بھری ہیرجٹی پر اس کا دل بھی ڈولتا تھا۔

ہیرکی ماں رانجھے کو زبان دے چکی تھی وہ کہہ چکی تھی، ”منگو مال سیال اور ہیر بھی تیری ہی ہے۔ “ رانجھے نے بارہ سال اس کے گھر کام کیا۔ کیدو لنگے شیطان ملعون کے بارے میں مشہورتھا کہ وہ منگنی اور رشتے خراب کر دیتا ہے۔ (بھنگ گھتدا وچ کڑمائیاں دے ) ۔ کیدو نے اپنی شیطانی چالیں چل کرہیرکو کھیڑے کے ساتھ بیاہ دیا۔ قاضی نے بھی ہیر کی ناں کے باوجود نکاح پڑھا دیا۔ اس قصہ میں وارث شاہ نے کیدو، قاضی اور مولوی کو شرع، خاندانی روایات اوررسم و رواج کے نام پر زیادتیوں سے منع کیا۔ لیکن کچھ لوگ معترض ہوئے کہ شاہ صاحب کھلم کھلا صنف مخالف کو عشق کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا خیال اور سوچ الٹ تھی وہ کہتے تھے کہ اصل ہیرو تو کیدو ہے۔

کیدو، جس نے ماں باپ اور خاندان کی عزت بچانے کے لئے ہیر کو زبر دستی بیاہ دیتا ہے۔ جب وہ بادشاہ کے حکم کی وجہ سے مجبور ہو گیاتو پھر بھی غیرت کو داغ نہیں لگنے دیا اور ہیرکو قتل کر دیا۔ وارث شاہ کا دل ملکہ ہانس کے لوگوں بھر گیا اور وہ واپس اپنی جنم بھومی جنڈیالہ آگئے۔

جنڈیالہ میں مسجد کے پاس کھجوروں کے جھنڈ کے نیچے وارث شاہ نے ایک خطہ زمین کو اپنا مسکن بنا لیا۔

مقامی پٹھان پیر وارث شاہ کے پیروکار تھے۔ جنڈیالہ اولیا اللہ کا گھر تھا۔ یہ صدیوں سے اللہ والوں کا ٹھکا نا رہا ہے۔ ہر مذہب اور قوم کے لوگ اس دھرتی پربستے رہے ہیں۔

جنڈیالہ رچنا دوآب کا زرخیز علاقہ ہے۔ اس علاقہ میں اناج اور کپاس وافر مقدار میں پیدا ہوتی اور اس کے جنگلات میں ہرن چوکڑیاں بھرتے تھے۔ جنگلات میں سانپ اور دوسرے حشرات الارض بھی موجود تھے۔ لوگ کاشتکار بھی تھے اور شکاری بھی۔ برسات میں بہت بارش ہوتی اور نشیبی زمینیں پانی سے بھر جاتی تھیں۔ ان دنوں میں سانپ کے کاٹنے سے بہت سے لوگ مر جاتے تھے۔ لوگ سانپوں سے ڈرتے تھے۔

۔ جنڈیالہ میں مسجد کے ساتھ ایک کنواں تھا اور اس کے دوسری طرف ایک بہت بڑا ناگ مندر۔ اس کے پانچ گنبد تھے۔ درمیانی گنبد کے نیچے ایک پانی کاتالاب تھا جس کے درمیان ناگ دیوتا کا استھان جما ہوا تھا۔ علاقے کے ناگر راجپوت ناگ دیوتا کے ماننے والے تھے۔

مشہور تھا کہ جو ناگ دیوتا کے حضوربھینٹ نہیں چڑھاتا اس کو سانپ ڈس لیتے ہیں۔ لیکن مندر کا بڑا پجاری کہتا تھا، ”ہمارے سانپوں کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں اورنہ وہ بھینٹ کی وجہ سے ڈ ستے ہیں وہ تو فصلوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو نقصان پہنچانے والے چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کو کھاتے ہیں۔ جب کوئی ان پر حملہ کرتا ہے پھر وہ اپنی جان بچانے کے لئے صرف ڈراتے ہیں۔ د یکھو بہت سے مارگزیدہ افرادبچ جاتے ہیں کیونکہ ہمارے اکثر ناگ کاٹنے کے باوجو اپنا زہر انسان کے جسم میں منتقل نہیں کرتے۔ “

وہ یہ بھی کہتا تھا، ”ناگ دیوتا تو اتنا انسان دوست ہے کہ جو دلہن ناگ مندر سے گزر کر جاتی ہے سدا سہاگن رہتی ہے اورکم از کم چار بیٹوں کو جنم دیتی ہے۔ “

جنڈیالہ سے باہر شراب وانہ مزارپر نئی فصل کا جشن تھا۔ دوردریا کے اس پار، شاہی محلہ سے آئے بازی گر اور فنکار اپنے فن کے جوہر دکھا رہے تھے۔ ایک نگر نرتکی مزارپر خراج عقیدت پیش کررہی تھی۔ نگر واسی بھی جمع تھے اور بدیسی بھی۔ مقامی پٹھان قبیلہ کے لوگ موجود تھے اورکچھ کم تعداد میں ناگر بھی۔ رقص جاری تھا اور ڈھول، نگاڑے بج رہے تھے۔ چاروں طرف مسرت کا ماحول تھا۔ ہر طرف خوشی تھی، رنگ تھا، زندگی اچھل کود رہی تھی۔ ناچ گانے کی محفل میں دولت لٹائی جا رہی تھی۔ قبیلوں میں ایک غیرا علانیہ مقابلہ بازی جارہی تھی۔ ایک طرف ایک اکیلا لمبا سا آدمی کھڑا نرتکی پر دولت لٹاتا جا رہا تھا۔

اس زمین پر جو کھنڈت تھی اس میں ایساآدمی کبھی نظر نہیں آیا تھا۔ وہ دھان پان، چھریرے بدن کا مالک شخص، کالے رنگ کے دھاری دار لباس میں ملبوس، اس کے سر کے چھوٹے چھوٹے بال، دوسرے تماشائیوں سے بالکل مختلف، سر کے ساتھ چپکے ہوے تھے۔ رنگ برنگے قیمتی پتھروں کی ایک لمبی مالا اس کے گلے میں لٹک رہی تھی۔ مہین، نرم و نازک سی انگلیوں میں بھی رنگین پتھروں سے جڑی ہوئی انگوٹھیاں موجودتھیں۔ اس کی آنکھیں مسلسل رقص کر رہی تھیں۔

لوگ حیران ہو کر اس کو دیکھ رہے تھے۔ تمام فنکاروں کی توجہ بھی اس کی طرف مبذول ہو گئی تھی اور نرتکی تو اس پر قربان ہوئے جا رہی تھی۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کون ہے جو محفل لوٹ کر لے گیا تھا۔ علاقے کے رئیس اور بڑے بڑے جاگیردار غصے سے لال پیلے ہورہے تھے۔ وہ غصہ سے لبریز اور پُر قہر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ مزار کامتولی یہ سب دیکھ کر ڈر رہا تھا۔ وہ ایک دم چلایا، ”بند کرو یہ سب۔ کون ہے یہ گستاخ، جس کو آداب محفل کی نگہ داری نہیں؟ “

محفل میں یک دم خاموشی چھا گئی۔ کچھ نوجوان آگے بڑھے اور اس آدمی کو پکڑ کرلے آئے۔

”کون ہو تم؟ کہاں سے آئے ہو؟ “ متولی نے پوچھا۔

وہ خاموش کھڑا رہا۔

ساتھ ہی ایک جوگی بیٹھا غور سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ چلایا، ”یہ انسان نہیں ناگ ہے، اِچھا دھاری ناگ۔ دیکھو! اس کی موٹی موٹی آنکھیں دیکھو۔ یہ آنکھ نہیں جھپک رہا اور اس کی سفید آنکھیں بتا رہی ہیں کہ ان میں خون بھی موجود نہیں ہے۔ “

سب لوگ ڈر کے مارے اس سے دور بھاگ گئے۔

جوگی بولا، ”تم یہاں کیوں آئے ہو؟ “

وہ شخص کہنے لگا، ”میں اس علاقے میں صدیوں سے تمہارے درمیان ہی رہ رہا ہوں۔ میں بھی تمہاری طرح اس علاقے کا ہی باسی ہوں۔ میں تم میں سے ہر کسی کو جانتا ہوں۔ وہ ادھرجو خان صاحب بیٹھے ہیں ان کے پردادا اورنگ زیب کے امیر تھے۔ شہنشاہ ہند نے انہیں جو ہیرا دیا تھا وہ ڈاکو لوٹ کر لے جا رہے تھے۔ میں اور میرے ساتھیوں نے انہیں ڈس لیا وہ تمام مر گئے۔ وہ ہیرا ہمارے پا س محفوظ ہے۔ ادھر ناگر صاحب کھڑے ہیں۔ ان کے دادا نے ناگ مندر کو پوری جاگیر بھینٹ کر دی تھی۔ میں تمہیں دیکھتا ہوں تو میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی ناگ جاتی کو چھوڑ کر تم میں شامل ہو جاؤں۔ میں بہت طاقتور ہوں۔ ناگ دیوتا میرے ساتھ ہیں۔ مندر کے نیچے ایک خفیہ تہہ خانہ میں اتنا بڑا خزانہ ہے کہ اس علاقے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔

میرے ساتھی تمہارے دشمنوں کو اس علاقے سے مار بھگائیں گے۔ مجھے خود میں شامل کر لو۔ ”

خزانے کے بارے میں سن کر تمام لوگ حیران ہو گئے۔

ایک بولا، ”تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ “

”ایک قطرہ خون کا۔ ایک بوند لہو۔ “ اس نے جواب دیا۔ ”اگر تم ایک بوند اپنے لہو کی میری آنکھ میں ٹپکا دو تو میں بھی مکمل انسان بن سکتا ہوں، بالکل تمہاری طرح کا۔ اس کے بدلے تم جتنی چاہے دولت لے لو۔ “

سب خاموش ہو گئے۔

بڑے خان صاحب ایک دم غصے میں آگئے۔ ”تم چاہتے ہو کہ ہم اپنا خون بیچ دیں۔ تمہیں اپنے خاندان میں شامل کر کے پٹھانوں نام پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ دھبہ لگا دیں کہ ان کا خون خالص نہیں ہے۔ لوگ کہیں گے پٹھانوں میں سانپ بھی پائے جاتے ہیں۔ “

ناگ نے ناگر راجپوتوں کو مخاطب ہوکر کہا، ”تم تو میری اپاسنا کرتے ہو۔ تم ہی میری مدد کر دو۔ “

”ہم ناگ دیوتا کے ماننے والے ہیں۔ دیوتا اپنے استھان پر ہی اچھے لگتے ہیں۔ جاؤ واپس، بھاگ جاؤ۔ ہمیں انسان نہیں دیوتا ہی چاہیے۔ “ ناگروں نے بھی انکار کردیا۔

جوگی سب سن رہا تھا۔ اس کے دل میں اس ناگ کو پکڑنے کا خیال گونج رہا تھا۔ اس نے پٹاری سے اپنی بین نکالی اور بجانا شروع کر دی۔ ایک دم بہت سے ناگ دیوار پھلانگ کر مزار کی حدود کے اندر آگئے اور انہوں نے لوگوں کو ڈسنا شروع کر دیا۔ مزار میں بھگڈر مچ گئی۔ لوگوں نے جوگی کو بھی اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا۔ سانپوں نے اس شخص کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہ فرار ہو گیا۔

بہت سے لوگ زخمی ہو چکے تھے۔ شہر میں شورش شروع ہوگئی۔ لوگوں کا کہنا تھا، ”یہ ملیچھ ناپاک کیڑا ہمارے پاک دربار پر کیوں آیا ہے؟ اس کے ساتھیوں نے ہمارے بہت سے لوگوں کو کیوں ڈسا ہے؟ “

وہ کہتے جارہے تھے، ”اس جاتی کو انسانوں کی فلاح کے لئے ختم کرنا ضروری ہے۔ “ لوگ ناگ مندر پر چڑھ دوڑے۔

اس کے دو گنبد گرا دیے گئے۔

وارث شاہ کو جب یہ پتا چلا و وہ بھاگ کر مندر آگئے اور لوگوں کوسمجھانا شروع کردیا۔ لیکن اب لوگوں کو خزانے کا پتا چل گیا تھا اور وہ اس بہانے مندر کو گرا کراس میں موجود دولت لوٹنا چاہتے تھے۔ وارث شاہ نے کہا۔ ”میں مندر کے اند ر جا رہا ہوں اگر تم اس کو گراؤ گے تو میں بھی اس کے نیچے ہی دفن ہو جاؤں گا۔ “ یہ کہہ کر وہ مندر کے اند رچلے گئے۔ وہ شخص بہت سے پجاریوں اور سانپوں کے درمیان ایک بہت بڑے پتھر کے نیچے دبا پڑا تھا۔

اُس کے محافظ سانپ وارث شاہ کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ شاہ جی نے دوسرے پجاریوں کے ساتھ مل کراُس کو پتھر کے نیچے سے نکالا۔ وہ شدید زخمی تھا۔

وارث شاہ نے اسے اپنی گود میں سمیٹ لیا۔ آخری سانسیں لیتے ہوئے وہ کہنے لگا،

”شاہ جی۔ دیکھیں یہ کیسے لوگ ہیں جو سانپ کو انسان بننے سے روکتے ہیں لیکن ا نسان جو سانپ بنے پھرتے ہیں وہ اس دھرتی پر پھنکارتے پھر رہے ہیں۔ ایسے کئی شیش ناگ انسانوں کی اپنی آستینوں میں پل رہے ہیں۔ وہ انہیں ڈس لیتے ہیں لیکن پھر بھی یہ لوگ ان کو دودھ پلاتے رہتے ہیں۔

یہ میری آنکھوں کی لالی کے لئے ایک قطرہ خون نہیں دے سکتے اگر چہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرا کا خون بہا بہا کر زمین کو سرخ کر دیتے ہیں۔ دیکھیں، ہم ہر دلہن اور اس کے سہاگ کے رکھوالے ہیں اور شاہ صاحب آپ بھی اپنی ہیر کو کیدو شیطان اور ان لوگوں کی جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھنے سے نہیں بچا سکے تھے۔ یہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم زہریلے ہولیکن انہوں نے اپنی بیٹی ہیر کو خود اپنے ہاتھوں سے زہر پلا دیا۔

ہم سانپوں کی اولاد ہیں لیکن ہمارے کوبرا سانپ نے عظیم بدھا کی جان بچائی تھی۔

ہماری نسل نے ہی جین منی پرشواناتھ کی حفاظت کی تھی

لیکن یہ لوگ جو آدم زاوں کے اخالاف ہیں، یہ آدم زادوں کو قتل کررہے ہیں۔ ”

وارث شاہ کہنے لگے ”تمہیں میرے پاس آنا چاہیے تھا تمہیں صرف ایک بوند لہو کی ضرورت تھی۔ مجھے بتاتے میں اپنی رگوں میں دوڑنے والے خون کا قطرہ قطرہ تم پر نچھاور کر دیتا۔ “

”ہاں شاہ جی مجھے پتا تھا۔ آپ عظیم انسان ہیں۔ آپ سے بڑا گیانی، درویش، سخی اس دھرتی پر پیدا نہیں ہوا۔ لیکن میں اپنے آپ کو اس اہل نہیں سمجھتا تھا۔ “

ساتھ ہی وہ وارث شاہ کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔

وارث شاہ کہنے لگے۔ ”اب ہر سال ناگ پنجمی تہوار کے بعد میرا عروس 9 ساون کو ہوگا۔ “

راتیں آن الٰہ نوں یاد کردا وارث شاہ دے نال اُدمیت ہے نی

ظلمت شب کی مجازی بے اختیاری کو وارث شاہ نور الٰہ کی حقیقی خودمختاری سے مزین کرتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •