میلان کنڈیرا سے عدیلہ سلیمان تک: فن کار کا فساد اور اہل کار کی ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی میں آرٹ کی دو سالہ نمائش کے نام پر ایک نئے رنگ کا میلہ شروع ہوا ہے جسے اطالوی زبان کے لفظ Biennale کی مناسبت سے بینالے کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس برس فنکار وغیرہ کہلانے والے شرپسندوں نے پھر سے فریئر ہال میں اپنا تنبو سائبان جمایا تھا۔ اللہ کا فضل ہوا کہ پس پردہ رہ کر قومی مفاد کی رکھوالی پر مستعد اہلکاروں نے اس شرارت کا بروقت پتا چلا لیا۔ 26 اکتوبر کی صبح دو سفید پوش اور نہتے اہلکار جان کی بازی لگا کر شرپسندوں کے اس ٹھکانے پر پہنچے اور نہایت پیشہ ورانہ انداز میں ملک و قوم کے خلاف اس خوفناک سازش کی احسن طریقے سے بیخ کنی کر دی۔ نام نہاد آرٹ کے اس نمونے کی نمائش روک دی گئی بلکہ بعد ازاں نامعلوم افراد نے آرٹ کے اس اشتعال انگیز ڈھونگ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور اس کارروائی پر احتجاج کرنے والوں کی بولتی بند کر دی۔

تفصیلات کے مطابق عدیلہ سلیمان نامی ایک خاتون انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر نامی مدرسے میں مجسمے وغیرہ بنانا سکھاتی ہیں۔ اس خاتون نے آرٹ کی آڑ میں نے ”کراچی کی قتل گاہیں“ کے نام سے مذکورہ نمائش میں 444 علامتی قبریں بنا رکھی تھیں۔ واضح طور پر یہ جنوری 2018 میں مارے جانے والی مبینہ دہشت گرد نقیب اللہ محسود کی طرف اشارہ تھا کیونکہ نقیب اللہ کی موت کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کو سرکاری طور پر مطلع کیا گیا تھا کہ کراچی کے فرض شناس پولیس افسر راؤ انوار احمد نے ملیر کراچی میں 444 شرپسندوں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتارا۔ راؤ انوار کو کئی ہفتے شرپسندوں کے خوف سے روپوش رہنا پڑا۔ اس دوران قوم کو بتایا گیا کہ مذکورہ پولیس افسر دراصل ایک نامی گرامی سیاست دان کا پروردہ کارندہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کے سیاہ کارناموں کے پس پشت ملک کا بدعنوان ترین سیاست دان ہے۔ بالآخر کچھ محب وطن حلقوں کے تعاون سے راؤ انوار عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے جہاں قانون کے عین مطابق ان کی داد رسی کی گئی۔ مقام تشکر ہے کہ مذکورہ بدعنوان سیاست دان اپنے گناہوں کی پاداش میں احتساب کی چکی پیس رہا ہے جب کہ راؤ انوار آزاد وطن کی فضاؤں میں اڑانیں بھر رہے ہیں۔

اس پس منظر میں بالکل واضح ہے کہ عدیلہ سلیمان نامی خاتون استاد نے بدنیتی پر مبنی آرٹ کے مذکورہ نمونے کی مدد سے قوم میں انتشار اور عوام میں اضطراب پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی۔ انصاف پر اثرانداز ہونے والی عدیلہ صاحبہ کی دیدہ دلیری دیکھئے، انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ آرٹ میں سیاسی زاویہ نہ ہو تو وہ آرٹ کہلانے کا مستحق نہیں۔ استغفراللہ! سیاست مفاد پرستی کا کاروبار ہے۔ سیاست دان ہوس اقتدار میں نعرے بازی کرنے والی کرپٹ مخلوق ہیں۔ اچھے شہری سیاست جیسی مذموم سرگرمی سے دور رہتے ہوئے ریاستی اداروں کے تعاون سے ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔

آرٹ کا حقیقی منصب یہی ہے کہ قومی موقف (حالیہ) پر اپنے ہنر کا غلاف چڑھا کر سلامت روی کے رنگ و روغن سے آراستہ کوزہ گری کرے اور گاہے گاہے حکومت وقت کی تعریف میں بیان جاری کرتا رہے۔ الحمدللہ، وطن عزیز میں ایسے ذمہ دار فنکاروں، صحافیوں، زعما اور دیگر مخیر افراد کی کمی نہیں۔ عدیلہ سلیمان نامی خاتون آرٹ کے نام پر جس مادر پدر آزادی کا مطالبہ کرتی ہیں، اس سے سے ملک و قوم کا تاثر خراب ہوتا ہے۔ فن کار کو چاہیے کہ ہر صبح ذرائع ابلاغ بالخصوص محب وطن عناصر سے معلوم کرتا رہے کہ آج کی تقویم میں قومی مفاد، عوام دوستی اور بیرونی دنیا میں ملکی تاثر کی بہتری کا نسخہ کیا ہے۔ فن کار بے خبر لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی عقل کے لنگڑے گھوڑے دوڑانے کی بجائے مستند ذرائع سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

یہ امر مسلمہ ہے کہ ہر قسم کے فنون مثلاً شعر و ادب، موسیقی، مصوری، رقص اور مجسمے وغیرہ تخریب کاری ہی کی مختلف صورتیں ہیں اور فن کار دراصل ایک شرپسند مخلوق ہے جو اشارے کنائے سے مسلمہ اجتماعی اقدار کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے، طے شدہ علمی منہاج میں نت نئی زاویہ نگاری سے فکری انتشار پیدا کرتی ہے۔ طے شدہ قومی نصب العین سے انحراف کرتی ہے، نوجوانوں کا اخلاق بگاڑتی ہے۔ بیرونی قوتوں کے اشارے پر اندرون ملک خلفشار پیدا کرتی ہے۔ کارپردازان ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ایسے شپرہ چشم عناصر کی سرکوبی کریں۔ گمراہ ذرائع ابلاغ کا کڑا احتساب کریں۔ درس گاہوں کو ایسے پراگندہ طبع اساتذہ سے پاک رکھیں۔

کالم نگاری کو قومی مفاد کی ادنیٰ خدمت سمجھنے والے درویش نے یہاں تک خامہ فرسائی کی تھی کہ سہل طلبی کی اونگھ میں ایک شیطان صفت بوڑھا ظاہر ہوا۔ اپنا نام میلان کنڈیرا بتاتا ہے۔ سابق چیکوسلاواکیہ میں پیدا ہونے والا یہ شخص ان دنوں فرانس میں رہتا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے ’خندہ اور فراموشی کی کتاب‘ کے عنوان سے 1979 میں ایک ناول گھسیٹا تھا جس کا ایک کردار فن کا معنی متعین کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’اقتدار کے خلاف ایک شخص کی جدوجہد فراموشی کے خلاف یادداشت کی جدوجہد ہے۔ ‘ درویش کے احتجاج پر میلان کنڈیرا بھڑک کر بولا، تم جانتے ہو، میرے وطن کے شہر لڈائس میں ان 82 بچوں کے مجسمے ایک باغ میں نصب ہیں جنہیں جون 1942 میں نازیوں نے قتل کیا۔ ہنگری میں دریائے ڈینوب کے کنارے ان افراد کی یاد میں ساٹھ دھاتی جوتے نصب ہیں جنہیں 1944 میں یہاں قتل کیا گیا تھا۔ ہیروشیما میں ایٹمی قیامت کا نشانہ بننے والے بچوں کی یادگار ہزار سارس مجسمے کی صورت میں ایستادہ ہے۔ تمہیں کیا خبر کہ مئی 1987 میں میرٹھ کے قصبے ہاشم پورہ میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے 42 مسلمان نوجوانوں کے بارے میں بھارتی پولیس افسر وبھوتی نرائن رائے نے ایک کتاب لکھی ہے۔ آرٹ ظلم، نا انصافی اور جہالت کے نمونوں کو محفوظ رکھتا ہے تاکہ نسل انسانی اس یادداشت کی روشنی میں آئندہ راہوں کا تعین کر سکے۔ آرٹسٹ کا راستہ روکنے والی قوموں کے بلدیہ ٹاو¿ن میں آتش زنی کا امکان کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ فن سے نابلد اہل کار اور مجرموں میں اقتدار کے لقمے کا بندھن باقی رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •