ہنستی، مسکراتی آزاد اور خود مختار نسلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا کبھی سوچا ہے کہ لفظ دھرتی ماں کیوں استعمال کیا جاتا ہے یا پھر قدیم زمانے میں جب انسان شعور کی ابتدائی منازل طے کر رہا تھا تو دیویاں اس قدر کیوں اہمیت کی حامل تھیں کہ پوجا کی جاتی تھیں۔ چھ سال پہلے میرے قریبی دوست نے کسی این جی او سے رابطہ کر کے علاقے میں سلائی کڑھائی کا سنٹر کھلنے کی کوششیں کیں تاکہ غریب نادار اور بیوہ خواتین گھروں کی دیکھ بھال میں کسی حد تک خود کفیل ہو جائیں۔ مگر یہ اقدام علاقے کے کچھ لوگوں کو جو کہ احیاء کی تحریک سے وابستہ تھے بہت ناگوار گزری۔

بڑی دلیلوں سے قائل کرنے کی کوششیں کی گئیں تو جواب تھا کہ اس علاقے میں بے پردگی اور بے حیائی پھیلے گی۔ بے پردگی اور بے حیائی ہمارے ذہنوں میں تو ہے مگر جس طریقے سے غریب اور بیواؤں کی امداد کی جاتی ہے وہاں ہم اتنی بے حسی کیوں دکھاتے ہیں۔ مگر یہاں سوال اس درد، کرب اور ذہنی اذیت کا ہے جو امداد کے لیے اٹھنے والے ہاتھوں میں موجود وہ روحیں ہی محسوس کر سکتی ہیں۔

ہمارے معاشرہ میں ہیرا منڈی میں کام کرنے والیوں کو عزت اور وقار کے قابل نہیں سمجھا جاتا کیونکہ یہ بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔ اور ان کی معاشی مجبوریاں۔ وہ یہ فحاشی اور بے حیائی پیدائشی اپنے ساتھ لے کر آتیں ہیں کیا؟ ورنہ بچپن میں تو سب لڑکیوں کے خواب تو ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ تو دلیل آتی ہے کہ یہ تو سیکس کے مسائل کی وجہ سے سے ایسا کرتیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مسائل کو ایسے کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے کہ مسائل کی دھند میں انسانیت ہی نظر نہ آئے۔

پہلی ماہواری سے ہزاروں خواب جوڑ کے ایک مثالی عورت کا جو سفر ہمارے معاشرے میں، عورتوں کو ایسے سانچے میں ڈال دیا جاتا ہے کہ ساری عمر گر یلو تشدد، عداوتیں اور نفرت انگیز رویے برداشت کر کے جیت لیتی ہیں۔ مگر کیا کبھی ہم نے ان کی ذہنی سکون پر بات کی؟ فاطمہ جناح سے لے کر ملالہ تک دلیری کی مثالیں تو موجود ہیں مگر کیا ہم نے کبھی اپنے اردگرد روزانہ ظلم کا مقابلہ کرتی ہوئیں خواتین کی دلیری اور بہادری۔

تقریبا آٹھ سال پہلے میرے گاؤں سے سکول جانے والی اکلوتی لڑکی۔ گھر واپس آ کر چھپ چھپ کر روتی۔ ایک طرف حصول تعلیم کا شوق اور دوسری طرف ہمارے معاشرے کی ایک مثالی عورت۔ اور بالآخر سکول چھوڑ گئی۔

آج بھی بعض علاقوں میں عورتوں کی تعلیم سے سخت نفرت کی جاتی ہے اور جہان تعلیم دی جاتی ہے وہاں صرف ایک مقصد پڑھی لکھی ماں، بہن یا بیوی چاہیے مگر تعلیم کا اصل مقصد۔ جہاں اذیتیں اور درد نہ سمجھے جائیں وہاں مقصد۔ آج میرے گاؤں سے روزانہ تین سے چار میل پیدل سفر کر کے سکول جانے والی بچیوں کی ٹولیاں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ان معصوم ذہنوں میں یہ سوال تو ضرور ابھرتا ہوگا کہ ”کیوں آج عورت کی تعلیم، خودمختاری اور آزادی کی تشریح فحاشی، بے حیائی اور بے پردگی سے جوڑا جاتا ہے؟ ہمارے ہاں اترپردیش کی“ گلابی گینگ ”طرح کی مثالیں تو موجود نہیں مگر تعلیم کا شوق۔ پیدل سفر۔ ابھرتے سوالات۔ اور برسوں بعد ہنستی، مسکراتی آزاد اور خود مختار نسلیں ضرور دیکھ رہا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •