اسلام آباد آزادی مارچ: دلیل اور طاقت کی جنگ


پشاور موڑ میں اسلام آباد آزادی مارچ کے شرکاء کے پڑاؤ کو آج ہفتہ مکمل ہوگیا ہے۔ دو دن تیز بارش ہوئی اور اب موسم ٹھنڈ ا ہوگیا ہے۔ سخت جاں انساں بھی موسم کی شدت کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں آج بھی جائیں تو ساتھیوں کے چہروں پررونق اور شگفتگی دکھتی ہے۔ خیموں کی اس بستی میں زندگی کے سارے ہی آثار نظر آتے ہیں۔ کچھ خیموں میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف ہیں تو کچھ کھانے کی تیاری میں۔ دن میں بزرگ اور بوڑھے تلاوت اور اذکار میں جبکہ جوان اور نوجوان صفائی، بنیادیضروریات سے فارغ ہوکر کھیل کود میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کارکن اب میڈیا کے تیز وتند لائٹوں کے سامنے صحافیوں کے چھبتے اور گول مول سوالوں کا تسلی سے جواب دیتے ہیں۔ سوال کرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہوتیہیں یہ آزاد خیال خواتین یہاں اپنے کو محفوظ سمجھتی ہیں۔ ان کی طرف نظریں نہیں اٹھتی۔ یہاں دھکم پیل نہیں ہے۔ اکثریت جوانوں کی ہے پر سب میں تحمل ہے بردباری ہے۔ انصار الاسلام کے سالار بھی ہیں جو وردیاں پہنے ہوئے ہیں ہاتھ میں چھوٹی سی چھڑیاور چہرے پر تھکاوٹ کے آثار ہیں پر مجال کہ اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی میں کچھ بھی سستی برتیں۔ چائے کے ڈھابے، موسم کے لحاظسے ارزاں اشیائے خورد ونوش کے ٹھیلے اور بہت کچھ ہے۔

شرکاء کی اکثریت پہلی بار اپنے دارالحکومت آئی ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا خوبصورت شہر ہے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی سے آباد یہ شہرآنے والوں کو حیراں کرتا ہے اس کے بلند و بالا پہاڑ آنے والوں کو اچھے لگتے ہیں یہاں کا سبزہ ہو یا صفائی دور دراز سے آنے والوں کو ضرور اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد کا وزٹ بھی کر رہے ہیں۔ شاہ فیصل مسجد، پاکستانمونومنٹ، لیک ویو پارک اور مختلف پارکس میں جاتے ہیں جھولے بھی جھولتے ہیں اور مختلف کرتب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کی مارکیٹیں، ہوٹل، شپنگ مال اور مختلف کاروباری مراکز آباد رہتے ہیں۔ تاجروں کی کمائی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

مغرب کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماء اسٹیج پر آتے ہیں پانچ چھ بڑی بڑی سکرینوں کے سامنے مجمع اکٹھا ہوتا ہے۔ یہاں کے رہائشی بھی اس وقت پہنچ جاتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد اپنے وقت کے منجھے اور تجربہ کار سیاستدانوں کی ہے جو اپنی تقاریرکرتے ہیں۔ میاں افتخار حسین ہیں جو درد دل سے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ عثمان کاکڑ ایوان بالا کے نمائندے اور حالات سے شکوہ کناں ہیں۔ احسن اقبال ہو یا نئیر بخاری، فرحت اللہ بابر ہو یا خواجہ آصف سبھی بات کرتے ہیں اور سیاست کے طالب علمانکے لب و لہجوں کو سمجھتے ہیں زیر لب مسکراتے بھی ہیں۔

محمود خاں اچکزئی پہلے دن سے ہماری قیادت کے شانہ بشانہ ہیں۔ ان کے کارکن اور ان کی جماعت کے جھنڈے کافی تعداد میں پنڈال میں نظر آتے ہیں ان کو بہت شکایتیں ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے لڑنا نہیں لیکناپنے مطالبوں سے دستبردار بھی نہیں ہونا۔ پاکستان کی سابقہ تاریخ بتاتے ہیں اور ان غلطیوں سے دور رہنے کا کہتے ہیں جن سے کبھییہ ملک دو لخت ہوا۔ وہ پاکستان کے سبھی قوموں کو ایک اکائی سمجھتے ہیں اور آئیں پاکستان کو ان سب قوموں میں اتفاق کی بنیاد۔ اسی لئے آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔

آزادی مارچ کے شرکاء کی نظریں مولانا صاحب کی طرف ہوتی ہیں یہ سب لوگ مولانا صاحب کو سیاسی رہبر مانتے ہیں عقیدت البتہایک مذہبی پیشوا کی سی کرتے ہیں۔ مولانا صاحب پر پہلے صرف مذہبی کارکن کا اعتماد تھا اور اب سیاسی کارکن بھی امید سحر سمجھتے ہیں۔ مذہبی قوت کو جمہوری نظام سے وابستہ کرنے میں مولانا صاحب کا بڑا حصہ رہا ہے وہ طویل عرصہ اپنے طبقے کو اس پر آمادہکرتے رہے کہ آئین کے دیے گئے حدود کے اندر رہ کر جد وجہد کرنی ہے۔

لیکن اب یہ آئین بھی ہائی جیک ہوچکا، جمہوری نظام سراب بن چکا وہ دو انتہاؤں کے بیچ آگیا۔ اب کی بار مگر وہ اس بھنور سے نکلنا چاہتے ہیں وہ اپنے آئین اپنی جمہوریت کو آزاد کرناچاہتے ہیں وہ یہی باتیں اپنی قوم کو سمجھا رہے ہیں۔ مولانا صاحب مذہبی طبقے کی سیاست کو بھی محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور جمہوریطبقے کی سیاست کو بھی۔ یہ جنگ پہلے نا نظر آنے والے لوگ لڑتے تھے۔ مولانا صاحب ان کو میدان میں لا چکے ہیں۔ وہ سب کینظروں میں آگئے ہیں۔ اب ان سے مقابلہ ہے۔ مولانا صاحب کے پاس دلیل ہے منطق ہے موقف میں وزن ہے دوسری طرفطاقت ہے منصب ہے اختیارات ہیں۔ دراصل یہ لڑائی دلیل اور طاقت کے مابین ہے۔ دلیل اور طاقت کی اس جنگ کے دونوں فریق مورچہ زن ہیں۔ اور ہمیں یقین ہے اپنے اللہ پر کہ یہ جنگ دلیل والے ہی جیتیں گے ان شاء اللہ۔

Facebook Comments HS