نوازشریف نے ڈیل کی ہے یا سیاست؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دہشت گردی کی لہر عروج پر تھی ۔ اک سیاسی محفل میں تب کے اہم ترین سیاسی عہدیدار نے کہا تھا ۔ پاکستان کے دو اہم مسلے ہیں ۔ دہشت گردی اور سول ملٹری تعلقات ۔ اس کا ہمارے پاس سب سے اچھا سیاسی جواب نوازشریف ہیں۔

ہم ان کی حمایت کریں گے ۔ اس کی ہر قیمت ادا کریں گے۔ پھر ہم نے پی پی کو پنجاب اور کے پی سے پسپا ہوتے اندرون سندھ تک محدود ہوتے دیکھا ۔ اس کے بعد نوازشریف کا پانامہ بھی ہوتے دیکھا گیا۔

ہم اک عالمی نظام میں رہتے ہیں۔ ہماری ڈیپ سٹیٹ اپنے ریجن میں بہت سے عزائم رکھتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ بہت سے عالمی منصوبوں کی مزاحمت کرتی ہے۔

ہماری سیاسی جماعتیں سوچ کے حساب سے عالمی الائنمنٹ کے زیادہ نزدیک ہیں۔ سیاسی حکومت اپنی انٹرنیشنل حمایت کے بل پر چلتی ہے۔ پاکستان کے اندر ایک مانیٹرنگ ٹول کے طور پر کام کرتی ہے۔

ہم نے پچھلے دس سال میں دو ماڈل دیکھے۔ آصف زرداری کی پی پی حکومت ۔ سر جھکائے مدہم انداز میں بغیر کسی کو چیلنج کیے ، سب کو ساتھ ملائے چلتی رہی۔ بدقسمتی سے اس حکومت نے اتنے سمجھوتے کیے کہ کارکردگی متاثر ہوئی اپنے ہی وزن سے ڈوب  بھی گئی، غیر متعلق ہو کر محدود بھی ہو گئی۔

نوازشریف آتے ہیں، میگا پراجیکٹ شروع کرتے ہیں ۔ ووٹر سرمایہ دار سول بیوروکریسی ، سب کو ساتھ ملا کر اک کے بعد دوسری ٹکر مارنے لگ جاتے ہیں اپنے حریف اداروں کو۔ ڈیپ سٹیٹ کے ڈیزائن متاثر کرتے ہیں۔ کبھی بیٹھے بٹھائے قابو آ جاتے ہیں۔  کبھی چاروں ٹانگوں سے پکڑ کر باہر بھجوائے جاتے ہیں ۔ پھر آتے ہیں کہانی دہرائی جاتی ہے ۔ انجام ہر بار ایک ہی ہوتا ہے۔

پرانی سیاسی قیادت سے تھک کر انہیں تھکا کر آخر کار کپتان کے تبدیلی ماڈل پر ہاتھ رکھا گیا۔ یہ ماڈل کارکردگی کے حوالے سے بوجھ اور مقبولیت کے حوالے سے اب بھی اثاثہ ہے ۔ لیکن عدم کارکردگی کا بوجھ اتنا بڑا ہے کہ اب اٹھائے نہیں اٹھ رہا۔ یہ اک الگ کہانی ہے ۔ واپس چلتے ہیں۔

پاکستانی سیاسی جماعتیں ایک عالمی مانیٹر کا سا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ مقبولیت بھی رکھتی ہیں ۔ ووٹر کو ساتھ رکھنے کے لیے اس کا بھی کچھ دال دلیہ کرتی ہیں۔ ڈیپ سٹیٹ کے ریجنل عزائم پر بھی ایک روک لگاتی ہیں۔

یہ ریجنل عزائم اتنے بھی غلط نہیں ہیں ۔ ہمیں بہت سے حقیقی سیکیورٹی تھریٹ ہیں ۔ ان کا کچھ تدارک تو بنتا ہے۔ کیسے اور کتنا اس پر اختلاف رہتا ہے۔

اب ہوا یہ ہے کہ سیاسی مانیٹر رخصت ہو چکا ۔ اس کی جگہ اپنے  نکے نے لے لی ہے۔ کپتان کی آمد سے اس کو لانے والوں نے اک سکھ کا سانس لیا تھا۔

یہ شاید نہیں سوچا گیا تھا کہ ایسا ہونے سے کسی اور کا سانس ضرور خشک ہو جائے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سول رٹ کمزور ہوئی ہے تو ایف اے ٹی ایف کی صورت اک نئے مانیٹر سے سامنا ہے۔

اسے نہ دبایا جا سکتا ہے نہ بھگایا جا سکتا ہے۔ اس کی بس ماننی ہے ۔ سر جھکا کر اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔

ایف ای ٹی ایف کے مطالبات آئی ایم ایف نے اپنے قرض فراہمی پروگرام سے جوڑ دیے ہیں۔ پاکستان کا نیا سیاسی انتظام اس کو لانے والے ایک نئی مشکل صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ معاشی پریشر بہت زیادہ ہے جسے اب بہت محسوس کیا جا رہا ہے۔

یہ تو ابھی ہماری ایک حقیقت ہے۔ نوازشریف کے دور میں ہم نے تین کام کیے سی پیک شروع کیا ۔ ایسا کرتے وقت امریکی انٹرسٹ کو مسلم لیگی حکومت نے نظر انداز کیا۔ ہم نے نئے پاور پلانٹ لگائے سعودی تیل سے ہم قطری ایل این جی پر شفٹ ہوئے۔ یہ دوسرا جرم تھا۔ گوادر میں اتنا کام نہیں ہوا جتنا شور مچا ۔ اس سے متحدہ عرب امارات میں بے چینی بڑھی۔

امریکہ سعودیہ امارات سے دور جا کر ہم نے چین قطر اور ترکی کو نزدیک کیا، اور روس کو بھی ، اسے قریب لانے کے لیے ایک طویل عمل کا آغاز ہوا ، اس حوالے سے سب سے بولڈ سٹیپ آصف زرداری نے لیا تھا ۔ خیر سے نئے پرانے یہ سب دوست اب پاکستان میں اقتصادی مفادات رکھتے تھے ۔ سب پر ہی اثر پڑ رہا تھا۔ کہتے ہیں متحدہ عرب امارات کے خصوصی تعاون، سعودیہ کی لاتعلقی اور کسی حد تک امریکی خواہش نے نوازشریف کا حقیقی پانامہ کیا۔

عمران خان حکومت میں آئے تو انہوں نے اپنے بیانات اور عملی اقدامات غیر ضروری حرکتوں سے دوست ملکوں کو پہلےتنگ اور پھر اپنا مخالف ہی کر لیا ۔ ہم نے ایک سال میں جلدی جلدی بلاک بھی بدلے کبھی ایک طرف گئے کبھی دوسری طرف۔ اب سب ہی ناراض ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اسلام آباد آئے بیٹھے ہیں ۔ انکے پر امن مارچ نے حکومت کی ساری گیس نکال دی ہے۔ سیاستدانوں کو جب اچھی طرح گھیر کر انہیں دیوار سے لگایا گیا ۔ ان کے لیے کوئی سیاسی راہ کھلی نہ چھوڑی گئی۔ تو ان سیاستدانوں نے پھر سیاست کی ۔ انہوں نے اپنے ایک سیاسی ساتھی کو آگے کر دیا ، جس کے ساتھ سختی سے کوئی معاملہ کرنے کا سوچتے ہول اٹھتے ہیں۔ نرمی نرمی اور بس نرمی کا ہی سوچا جا رہا ہے۔

مولانا اس وقت تک جو حاصل کر چکے ہیں ۔ وہ ان کی جماعت کے لیے اگلے کئی الیکشن میں کام آئے گا۔ مولانا پاکستان کے کسی بھی عہدے کے لیے سامنے آئیں ان کی کوئی مخالفت نہیں ہوگی۔

نواشریف اب علاج کے لیے پاکستان سے باہر جا رہے ہیں۔ نوازشریف بیمار ضرور ہیں ۔ وہ وزیراعظم بننے کے لیے اب بھی پر عزم ہیں۔ وہ مریم نواز کو اپنے ساتھ لے جانا چاہیں گے۔ وہ اپنی بیماری میں بھی سیاسی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔

نوازشریف کے حوالے سے ڈیل کی خبریں آئیں گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے نئے دوست ان کے کام آئے ہیں ۔ تین اہم ملکوں نے بار بار ان کے لیے بات کی ہے۔

ترکی نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ سے بچانے کے لیے ووٹ دیا ہے۔ کارکے کے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کا تنازعہ بھی ایسے طے کرایا ہے کہ اب ہمیں کوئی پیسے نہیں دینے۔ یہ دو سو ارب نہ کہیں آئے نہ گئے ۔ لیکن کام ضرور آ گئے ہیں۔ ترک صدر نے حال ہی میں اپنا دورہ پاکستان منسوخ کیا تو ایک طرح سے حکومت نے سکھ کا سانس لیا ۔ ترک صدر نوازشریف سے ملاقات پر مسلسل اصرار کر رہے تھے ۔

نوازشریف اب جب علاج کے لیے باہر جائیں گے ۔ تو وہاں وہ اپنے معاملات سیدھے کرنے کی کوشش کریں گے ۔ شہباز شریف پنڈی کے جتنے مرضی پھیرے لگاتے رہیں ، سفارتی بیرونی معاملات ہینڈل کرنا ان کے بس کی بات نہیں ۔

نوازشریف نے ڈیل نہیں سیاست کی ہے۔ مشکل حالات میں اپنے لیے راستہ بناتے جا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اپنا مارچ جاری رکھیں اس کو ملک بھر میں پھیلا دیں یا گھر لے جائیں ۔ اقتصادی حالات اس حکومت کو قدموں پر گرا دیں گے، فروری تک یہ نئی مشکلات میں گھر کے بیٹھی ہوگی ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 369 posts and counting.See all posts by wisi