فیصلہ کن جنگ کی امید ابھی باقی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دنوں پہلے ایک خبر اگئی جسے پاکستان کے ایک نامور صحافی عمر چیمہ نے بھی اپنے ٹویٹر پہ شئیر کیا کہ جب میاں نواز شریف کو کہا گیا کہ وہ اپنے علاج کے لئے بیرون ملک چلا جائے تو انہوں نے باہر جانے سے انکار کرتے ہوئے جواب دیا کہ ”عوامی حقوق کے جدوجہد کے لئے سندھ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ سے کتنے تابوت نکلے ہیں۔ اس مقصد کو پانے کے لئے اگر پنجاب سے میرا تابوت نکلے تو مجھے فخر ہوگا“۔ یہ خبر دیکھ کر ہمارے جیسے لوگ جنہوں نے میاں صاحب کے ماضی کے بارے میں تھوڑا بہت جاننے کے باوجود اسے سول سپرمیسی کے لئے لڑنے کی امید لگا رکھی تھی وہ اور بھی مضبوط ہوگئی اور محترمہ نورالہدی شاہ صاحبہ کے والد محترم کی پیش گوئی (جیسے انہوں نے ایک ٹویٹ میں بیان فرمائی تھی) صحیح ثابت ہونے کی امید پیدا ہوگئی کہ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف اخری اور فیصلہ کن لڑائی پنجاب سے لڑی جائے گی۔ لیکن بعد میں شاید میاں صاحب نے سوچ لیا ہو کہ اگر اقتدار جنگ اور تابوت کے بغیر مل سکتی ہے تو خوامخواہ مرنے کی کیا ضرورت ہے۔

ابھی تک تین بار وزارت عظمی کا تاج کون سے سول سپرمیسی کی جنگ لڑنے سے ملی ہے۔ حکومت کا ملنا اور مزے سے چلانے کی کنجی تو اپنے ملک میں یہی ہے کہ جو اختیار اپکو دیا جائے اسی پہ شکر بجالاؤ ورنہ وہ بھی جاسکتی ہے بلکہ جانا یقینی ہے۔ تین مرتبہ وزیراعظم ہونا بھی کافی ہے۔ عمر کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب ریٹائر ہوکر ارام کرنا چاہیے۔ لیکن اپنے اولاد اور باقی خاندان کو کیوں اقتدار کے ایوانوں سے باہر رکھا جائے۔ اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ میاں نواز شریف علاج کے بعد وطن واپس اکر ایک بار پھر میدان میں اتریں گے (اگر شہباز نے ارام سے چھوڑدیا تو ) اور یہ پیشنگوئی درست ثابت کرکے تاریخ میں امر ہوجایئں گے۔ جس کے لئے صحت مند ہونا ضروری ہے۔

جبکہ دوسری طرف مولانا کا آزادی مارچ آج گیارہویں دن میں داخل ہوگیا لیکن ابھی تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔ اپوزیشن وزیراعظم کے استعفی پر بضد یے جبکہ حکومت اور وزیراعظم مستعفی ہونے پہ تیار نہیں اور درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش میں تھی۔ وزیراعظم کے استعفی پر اپوزیشن جماعتوں کا سخت رویہ دیکھ کر عمران خان نے مذاکرات ختم کرنے کا اشارہ بھی دے دیا ہے، جبکہ دونوں طرف سے اسے ایک ٹائم پاس قرار دیے کر مذاکرات کی اہمیت اور سنجیدگی کے بارے میں اب کوئی شبہہ باقی نہیں۔ البتہ دونوں فریقین کا رویہ اس جانب اشارہ کرہی ہے کہ بیک ڈور چینل سے باتیں چل رہی ہے۔

دونوں طرف سے فی الحال کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا۔ پوری قوم کی توجہ اس جانب ہے کہ نتیجہ کیا ہوگا؟

مولانا استعفی لے کر واپس ائیں گے یا خالی ہاتھ لوٹیں گے۔

عام لوگوں کے درمیان یہ تاثر بھی پایاجاتا ہے کہ مولانا جسے زیرک اور سمجھدار سیاستدان کے ساتھ دھوکہ ہوچکا ہے۔ وہ ن لیگ کے سپورٹ کی یقین دہانی پر میدان میں اترچکے تھے، لیکن جو شہباز شریف اپنے بھائی کے استقبال کے لئے ائیرپورٹ نہیں پہنچ سکے تھے اسی سے اگر مولانا نے امید لگارکھی تھی تو یہ ان کی غلطی تھی۔

اگرچہ میاں نواز شریف نے اسے مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن وہ درمیان میں سے نکل گئے اور اب علاج کے لئے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کرچکے ہے۔ اور جب تک وہ علاج پورا کرکے پاکستان واپس ایئں گے تب تک مولانا کا مارچ ختم ہوچکا ہوگا اور پاکستانی سیاست میں کچھ اور ہورہا ہوگا۔ لیکن اس اخری فیصلہ کن لڑائی کی امید ابھی بھی میاں صاحب سے جڑی ہوئی ہے۔ کیونکہ یہ جنگ پنجاب نے لڑنی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •