پولیو سکینڈل: ذمہ دار کون ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں پولیو کامسئلہ ایک بار پھر خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ پولیو کی بیماری وائرس کے حملے سے پیدا ہوتی ہے۔ تین وائرس جو یہ خطرناک بیماری پیدا کرتے ہیں، انہیں P 1، P 2 اور P 3 کہا جاتا ہے۔ پہلے دنیا میں اس کے نتیجہ میں ہزاروں لاکھوں افراد زندگی بھر کے لئے معذور ہوجاتے تھے۔ لیکن پھر اس کے حفاظتی ٹیکوں نے اس بیماری کو ختم کرنا شروع کیا۔ اور یہ امید پیدا ہوئی کہ چیچک کی طرح یہ بیماری بھی حفاظتی ٹیکوں کی کامیاب مہم کے نتیجہ میں ختم ہوجائے گی۔ کچھ برس پہلے دنیا کے صرف تین ممالک رہ گئے جن میں یہ بیماری موجود تھی یعنی پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا۔ اب صرف پاکستان اور افغانستان باقی رہ گئے ہیں۔

پولیو کے لئے دو قسم کے حفاظتی ٹیکے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو قطروں کی صورت میں پلائے جاتے ہیں۔ ان کو OPVکہا جاتا ہے۔ ان میں پولیو کا وائرس کمزور اور نیم مرگ حالت میں موجود ہوتاہے۔ ان سے جسم میں پولیو کے وائرس سے بچنے کی صلاحیت تو پیدا ہوتی ہے مگر یہ وائرس پولیو کی بیماری نہیں پیدا کر سکتے۔ اس کے باوجود جب کروڑوں بچے یہ قطرے پیتے ہیں تو چند لاکھ میں سے کسی ایک میں یہ قطرے پولیو جیسی علامات پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس خامی کے باوجود یہ قطرے پولیو ختم کرنے کے لئے موثر ترین ہتھیار ثابت ہوئے ہیں۔ پولیو کے لئے استعمال ہونے والا دوسری قسم کا حفاظتی ٹیکہ وہ ہے جس میں پولیو کا وائرس مردہ حالت میں پایا جاتا ہے اسے پلایا نہیں جاتا بلکہ ٹیکے کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ اس حفاظتی ٹیکے کا نام IPVہے۔ جب کسی ملک میں پولیو ختم ہونے کے قریب ہو تو وہاں OPVکی جگہ IPVکا ٹیکہ شروع کرایا جاتا ہے۔

جب کسی کو پولیو کی علامات پیدا ہوں تو اس کے پاخانے کا ٹسٹ کراکے دیکھا جاتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اگر یہ علامات پولیو کے قطروں کے کمزور کیے گئے وائرس کی وجہ سے پیدا ہوئی ہوں تو اس ٹسٹ کا نتیجہ یہ بتاتا کہ یہ علاماتVDPVوائرس کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ یہ وائرس تین قسموں کا ہوتا ہے۔ اور پولیو کی اس قسم کو VAPPکہا جاتا ہے اور عام پولیو کی طرح یہ قسم پھیل بھی سکتی ہے۔ اگر بیمار بچے نے یہ وائرس ماحول سے لیا ہو یہ ٹسٹ بتاتا ہے کہ اس بچے کی بیماری کی وجہ Wild Polio Virusہے۔ اور یہ بھی انہی تین قسموں کا ہے۔ اور فرق یہ ہے کہ یہ زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

ایک کے بعد دوسرے ملک نے پولیو کی لعنت سے نجات حاصل کر لی۔ ایک بار پھر ہم پیچھے رہ گئے۔ 2015 میں صرف پاکستان اور افغانستان میں Wild Polio Virusکے مریض دریافت ہو رہے ہیں۔ 2015 میں پاکستان میں اس کے 54 مریض دریافت ہوئے۔ 2016 میں یہ تعداد 20، اور اس سے اگلے سال یہ تعداد 8 تک گر گئی۔ اب امید ہو چلی تھی کہ ہم نے پولیو کو ختم کر دیا ہے۔ اب صرف p 1 قسم کے وائرس کے مریض پکڑے جا رہے تھے اور باقی دو اقسام ختم ہو چکی تھیں۔

لیکن گذشتہ سال یہ تعداد بڑھ کر 12 ہوگئی اور اس سال ایسی تبدیلی آئی کہ اب تک پاکستان میں ان مریضوں کی تعداد 80 سے اوپر نکل چکی ہے۔ سب سے بد تر حالت خیبر پختون خواہ کی ہے جہاں اس سال کے دوران پولیو کے مریضوں کی تعداد 61 تک پہنچ چکی ہے۔ بنوں میں یہ تعداد 23 ہے اور لکی مروت میں 14 بچے پولیو کا شکار ہوئے۔ پاکستان کے علاوہ اب صرف افغانستان رہ گیا ہے اور اب تک وہاں پولیو کے مریضوں کی تعداد بنوں سے کم ہے۔

جلد بازی میں صرف حکومت کو یا حفاظتی ٹیکے لگانے والے اداروں کو الزام دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ اعتراف کرنا ضروری ہے کہ دیگر گروہوں نے اس افسوسناک صورت ِ حال کو پیدا کرنے میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ کئی گروہ پولیو کے قطروں کے خلاف مہم چلانے میں سرگرم نظر آئے۔ کسی نے یہ خبر اڑائی کہ ان قطروں میں وہ دوائی شامل ہے جس سے بچے نہیں پیدا ہو سکیں گے۔ حالانکہ یہی ایک صنعت پاکستان میں ترقی کر رہی ہے۔ مجھے خود پولیو کے لئے کام کرنے والے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ایک مولوی صاحب نے انہیں کہا کہ ان قطروں میں سور کی چربی شامل ہے۔ جن لوگوں کے بچوں کو پولیو کی علامات ظاہر ہوتی تھیں، ان میں سے کئی نے ٹسٹ کے لئے بچوں کا پاخانہ دینے سے انکار کر دیا۔ اوراس میں پڑھے لکھے لوگ بھی شامل تھے۔

یہ افتاد کیا کم تھی؟ کہ ایک اور سکینڈل سامنے آ گیا۔ 7 نومبر 2019 کو برطانیہ کے روزنامہ گارڈین نے الزام لگایا کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں P 2 قسم کا پولیو وائرس پہلے ختم ہو گیا تھا لیکن اب پھر پھیل رہا ہے۔ اور پاکستان کی حکومت اسے خفیہ رکھ رہی ہے۔ اور دنیا سے پوشیدہ طور پر اس سے بچانے کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم شروع کر رہی ہے۔ یہ بہت بڑا الزام ہے۔ اور اگر یہ صحیح ثابت ہو تو اس سے پاکستان کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

گارڈین کے مطابق یہ وائرس حفاظتی ٹیکوں کے غلط استعمال کی وجہ سے پھیلنا شروع ہوا ہے۔ لیکن یہ خبر نا مکمل حالت میں شائع کی گئی ہے۔ اس میں صحیح طور پر واضح نہیں کیا گیا کہ معین طور پر اس وائرس کی نوعیت کیا ہے۔ جہاں تک حفاظتی ٹیکوں میں شامل VDPV 2 کا تعلق ہے تو یہ وائرس اب بھی دنیا کے دوسرے ممالک کے مریضوں میں موجود پایا گیا ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی مسلم لیگ نون کی سینیٹر عائشہ رضا فاروق صاحبہ کا حکومت کی مذمت میں بیان شائع ہوا۔

اور انہوں نے اگلے روز ایک ٹویٹ میں کہاکہ یہ حفاظتی ٹیکوں والا وائرس ہی تھا لیکن حکومت پر الزام لگایا کہ انہوں نے اس مسئلہ کو دیر سے ظاہر کیا اور اس کے سدِ باب میں دیر کی۔ اب حکومت نے اپنی غزل سنانی شروع کی۔ حکومتی عہدیدار ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب نے بیان دیا کہ یہ حفاظتی ٹیکوں والا وائرس تھا اور حکومت نے اس کے سیمپل امریکہ کی سی ڈی سی لیبارٹری میں بھی بھجوائے تھے اور اس کے سدِ باب کی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس لئے یہ الزام غلط ہے کہ حکومت نے اس خبر کو چھپانے کا جرم کیا ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ پولیو کے خلاف مہم کی نگرانی ایک مضبوط بین الاقوامی ادارہ کر رہا ہے۔ اس ادارے کا نام Polio Global Eradication Initiativeہے۔ اور یہ ہر ہفتہ اپنی رپورٹ جاری کرتا ہے۔ گارڈین کی خبر سے ایک روز قبل ہی اس کی رپورٹ میں واضح ذکر ہے کہ پاکستان میں حفاظتی ٹیکوں والے وائرس VDPV 2 سے متاثرہ مریض سامنے آرہے ہیں اور اب تک سات ایسے مریض سامنے آچکے ہیں اور حکومت ِ پاکستان اس پر قابو پانے کے لئے اس قسم کے وائرس کو روکنے کے لئے بیس لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام شروع کر رہی ہے۔

کم از کم جب گارڈین کی خبر شائع ہوئی تو اس وقت پاکستان کی حکومت نے یہ خبر خفیہ نہیں رکھی ہوئی تھی۔ آخر پاکستان میں کیا صرف سیاستدان بستے ہیں؟ یہاں کوئی سائنسدان یا ڈاکٹر نہیں رہتے جو کہ اس موقع پر سامنے آکر سائنسی وضاحت پیش کرتے اور سائنسی راہنمائی کرتے۔ اس قسم کے واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات ہونی ضروری ہیں۔ اگر حکومتی عہدیداروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے یا غیر قانونی طور پر کچھ پوشیدہ رکھا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر اپوزیشن کے افراد نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ہر موقع سیاسی کھیلوں اور بیان بازیوں کے لئے مناسب نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •