سوال تو اٹھیں گے مولانا صاحب
1997 کی الیکشن تیاریاں عروج پر تھیں۔ جماعت اسلامی الیکشن سے بائیکاٹ کرچکی تھی اور بے نظیر کی پارٹی مختلف وجوہات کی بناء پر کسمپرسی کی حالت میں تھی۔ نواز شریف کے لئے میدان صاف تھا مگر عمران خان کی صورت میں پنجاب میں ایک ابھرتا ہوا خطرہ ضرور موجود تھا اگرچہ اس کی پارٹی ارتقائی عمل سے گزررہی تھی۔ اس الیکشن مہم میں مولانا فضل الرحمٰن اور نواز شریف دونوں عمران خان پر دو ایسے الزامات لگا رہے تھے جس کی وجہ سے ان دونوں کا خیال تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہیں اترتے۔
پہلا الزام سیتاوائیٹ کیس کا تھا جو ان دنوں الیکشن مہم کے دوران پوری دنیا میں ہائی لائیٹ ہوا اور پاکستانی سیاستدانوں نے اس کو خوب اچھالا۔ دوسرا الزام عمران خان کو الیکشن کے لئے یہودی لابی کی فنڈنگ کا تھا جس کے ثبوت اس وقت کسی بھی سیاسی مخالف کے پاس نہیں تھے البتہ ہر سیاسی جلسے میں یہ بات زوروشور سے کہی جاتی کہ عمران خان کے سسر نے الیکشن مہم کے لئے اس کو بے شمار دولت دی ہے۔
اس دور کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہمارا مگر معمہ کچھ اور ہے۔ جب الیکشن ہوئے تو نواز شریف دو تہائی اکثریت سے جیت گئے اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ حب الوطنی کا حقیقی تقاضا یہ تھا کہ فوراً تحقیقات کرائے جاتے کہ عمران خان کو یہ فنڈںگ کہاں سے اور کیوں ہورہی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح رات گئی بات گئی کے مصداق صرف اقتدار کے حصول کے لئے عمران خان کی ذات پر کیچڑ بالکل اسی طرح اچھالا گیا جس طرح نوّے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو پر اچھالا گیا تھا اور جس طرح ماضی قریب میں عمران خان اور اس کے سپورٹرز کی طرف سے نواز شریف پر اچھالا گیا۔
مولانا صاحب اگرچہ الیکشن ہار گئے تھے لیکن عمران خان جو بہ مطابق ان کے یہودیوں کے آلہ کار تھے سے 2002 میں اپنی وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ ضرور لیا۔
اس تمہید کا ہر گز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں عمران خان کا سپورٹر ہوں یا میں اس سے اختلاف نہیں رکھتا۔ میں اختلاف رکھتا ہوں اورعام لوگوں کی طرح میرا بھی خیال ہے کہ اگر یہ حکومت کچھ ڈیلیور نہیں کرسکتی تو اس کا جانا ہی اچھا ہے۔ اختلاف رکھنا جمہوری حق ہے لیکن وہ کیا ہے کہ اس حق کو ہمارے اکابرین نے ہمیشہ غلط استعمال کیا جس کا ہم نے بھرپور خمیازہ بھگتا اور امید واثق ہے آئندہ بھی بھگتیں گے اگر سدھرنے کی کوشش نہیں کی۔
یہ تاریخ واجبی نہیں بلکہ تلخ ہے جس میں ہم صرف المیوں کو دہرا رہے ہیں۔
مولانا صاحب بے شک زیرک سیاستدان ہے لیکن سوال اٹھتے ہیں اور پھر پوچھے جاتے ہیں۔
2017 میں جب نواز حکومت نے توہین رسالت قانون میں ترمیم کی کوشش کی تو وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک تکلیف دہ بات تھی مگر اس پر ہمارے مولانا صاحب سڑکوں کی جانب گامزن نہ ہوئے یہ بہرحال وہ ہی بتاسکتے ہیں کہ جب کھلے عام ایک جینوئن جرم کا ارتکاب کیا جارہا تھا تو کیا اس وقت علمائے کرام اور جمعیت علمائے اسلام کے علم میں نہیں تھا کہ سیاست کو اسلامی اقدار میں پرونے کا اس سے اچھا وقت پھر نہیں ملے گا۔ میں کیسے مان جاؤں کہ جب لال مسجد پر گولیاں برس رہی تھیں تو اس وقت احتجاج قومی مفاد کے خلاف تھا۔
مولانا صاحب بے شک زیرک سیاستدان ہیں بلا شبہ آپ کی خرد غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہے بھلا ہماری کیا مجال لیکن سوال تو اٹھتا ہے جو بہر حال پوچھا بھی جاتا ہے۔ جس انسان کو بائیس سال پہلے آپ نے یہودی ڈیکلئیر کیا اس کے ساتھ واجبی تعلق ہی کیوں استوار رکھا اور اگر ایسے واضح ثبوت ہیں جس سے آپ اس بار الزام ثابت کرسکتے ہیں تو بسم اللہ کیجیئے قوم کی بھی جان چھوٹ جائے گی اور اس تابوت پر آپ خود ہی آخری کیل ٹھونک کر امر بھی ہوجائیں گے۔
مولانا صاحب آپ احتجاج بے شک کیجیئے کہ احتجاج آج کے حکمران نے بھی کیا تھا لیکن جو باتیں مولانا منظور مینگل نے کی کیا اس سے آپ کو نہیں لگتا اس ملک کے عام مسلمانوں جو نماز میں سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص ہی پراکتفا کرتے ہیں کی الجھنیں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ کیا ہی عجیب منظر تھا اللہ معاف کریں میں تو کانپ گیا جب دیکھا کہ ایک عالم دین دوسرے عالم دین کا مذاق اڑا رہا تھا اور سامنے ہزاروں علمائے کرام کے قہقہے بلند ہورہے تھے۔
اگر گالیاں ہی دینی ہیں توضرورت کیا تھی اس مشقت کی۔
مولانا صاحب آپ تحقیق کیجیئے کہ کیوں آپ ہی کے سٹیج سے ایک انسان کو بّدو کہا گیا اور آپ ہی کے دین اسلام کے ایک مبلغ کا بہت مذاق اڑایا گیا۔ کتے کا بچہ استعمال ہوا جو میرے نبی ﷺ کے تعلیمات کے عین خلاف ہے۔
سادہ سی بات ہے طارق جمیل صاحب سے بھی ہزار اختلاف رکھے جاسکتے ہیں کہ وہ کوئی بشر خاص نہیں لیکن بہرحال پہچان تو اس کی بھی دین اسلام ہی ہے۔
آپ نے کیا اپنے ہی پارٹی کے ایک عالم دین سے یہ وضاحت طلب کی ہے کہ اس کی زبان یوں کیوں پھسل گئی جو کہنا پڑا کہ عمران خان نے پیشاب سے وضو کیا ہے۔ آپ پر مذہب کا غلاف موجود ہے آپ آزادی سے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ تاریخ میں ہزار مثالیں موجود ہیں کہ جب داعیان دین کو گالیاں پڑ رہی تھیں تو وہ دعائیں دے رہے تھے۔
جناب عالی! آپ بے شک زیرک سیاستدان ہیں لیکن آزادی مارچ کی آڑ میں اس ملک کے کج فہموں کو اور مت الجھائیے۔ ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں کہ جس آئین کا ہر وقت آپ ذکر کرتے ہیں اسی آئین نے آپ کو احتجاج کا حق دیا ہے لیکن کروڑوں داعیان اسلام آپ سے ہزاراختلاف کے باوجود یہی امید رکھتے ہیں کہ آپ احتجاج کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی زبردست ترجمانی کریں گے کیونکہ آپ کے اس احتجاج پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ آپ بے شک ڈٹ جائیے اور بے شک عمران خان کا استعفیٰ لے کر واپس آئیے لیکن بولنے اور تقریریں جھاڑنے والوں کو احتیاط کا مشورہ ضرور دیجیئے۔ وہ کیا ہے نا اس ملک کا مسئلہ خاص نہیں بلکہ عام آدمی ہے جس پر کسی کا فوکس نہیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس عام آدمی کو ہمیشہ الجھا کر ورغلایا گیا کبھی مذہب کے نام پر، کبھی تبدیلی کے نام پر، کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر، کبھی قوم پرستی کے نام پر اور کبھی کبھی ایویں۔


