میرے بعد کس کو ستاؤ گے؟

عاصمہ شیرازی - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سٹیج پر جاری کھیل کے سب کردار بند گلی میں ہیں۔ ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور فنکار سب کے سب۔۔۔

ڈرامے کا کوئی انجام سمجھ نہ آ رہا ہو تو کردار بڑھا دیے جاتے ہیں، مکالموں میں طول، کردار لایعنی اور جملے بے ربط ہو جاتے ہیں، ڈرامہ ختم ہو جاتا ہے، ڈائریکٹر داد بھی سمیٹ لیتا ہے، پروڈیوسر کی چاندی بھی ہو جاتی ہے لیکن کردار اپنی جگہ کھو دیتے ہیں۔

آوازیں گلی محلے میں نکلنے والے مقبول چہروں پر ہی کسی جاتی ہیں۔

ملک میں جاری ڈرامے کلائمیکس پر پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ رہے ہیں۔ مولانا بند گلی میں ہیں، آج نہیں تو کل اُن کو واپس جانا ہے لیکن وہ تاحال اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ ہر نہ استعمال ہونے والے کارڈ کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔

کمال مہارت کے ساتھ ہر نئے دن پرانے مکالموں کو ایک نئے انداز سے شروع کرتے ہیں۔ مولانا سر دھڑ کی بازی لگا چکے اور اب ’نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے‘ کا عزم لیے بیٹھے ہیں۔

مولانا کا سیاسی کارڈ تو پھر سیاسی طور پر اُنھیں کوئی یقین دہانی کرا سکتا ہے لیکن مذہبی کارڈ کسی طور اُنھیں چھوٹ نہیں دے گا۔ کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت اگر مذہبی یقین دہانیوں پر اُتر آئی تو اُنھیں اس کا بوجھ بھی اُٹھانا پڑے گا۔ سو یوں مولانا کو بہلانا بھی ناممکن اور بہکانا بھی دشوار۔۔۔

دوسری جانب نواز شریف کو علاج کے لیے ملنے والی بیرون ملک سہولت میں ایک بار پھر تعطل ہے۔ حکومتِ وقت ڈاکٹروں سے بار بار صورت حال معلوم کر رہی ہے اور نواز شریف کا نام باوجود اس یقین دہانی کے کہ انھیں علاج کی غرض سے نہیں روکا جائے گا تاحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے پر مصر ہے۔

اہلِ حکومت اور مقتدر کے درمیان شکوک نے سر اُٹھا لیے ہیں، اُوپر سے شہباز شریف کے صاحبزادے والد کی کمال مہارت کے گُن گا کر مزید شبہات کو ہوا دے رہے ہیں۔

ایسے میں کپتان کیا کرے؟ آخر نواز شریف کے چلے جانے سے ان پر ہی تو انگلیاں اُٹھیں گی۔ این آر او اور چھوٹ نہ دینے کے نعروں پر کھڑی سیاست کا مستقبل کیا ہو گا؟

اچھے خاصے نواز شریف اور آصف زرداری کے جیل میں ہونے سے پی ٹی آئی ووٹر خود کو تسلیاں دیتا دکھائی دیتا ہے کہ آخر بدعنوان تو جیلوں میں پڑے ہیں، بھلے انھیں دلاسہ ہی سہی۔

اُدھر نواز شریف کے باہر چلے جانے سے کپتان طویل تقریریں کس پر کریں گے؟ معیشت کی بہترین صورت حال پر، کشمیر پر خارجہ پالیسی پر یا زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی کی صورت حال پر؟ احتساب کا ادھورا افسانہ کسی طور کرداروں کو آگے بڑھنے نہیں دے گا۔ اب کابینہ کی خصوصی کمیٹی فیصلہ کرے یا وزارت داخلہ، کپتان کی بائیس سالہ سیاست بہر حال داؤ پر ہے۔ نواز شریف کی ملک سے روانگی ’میرے بعد کس کو ستاؤ گے‘ کا طعنہ بن سکتی ہے۔

ن لیگ کے کیمپ میں بھی نواز شریف کی بوجوہ بیماری جانے پر نیم رضامندی تو ہے تاہم مریم کے رک جانے سے دلاسہ ضرور ہے اور اگر مریم نواز بھی باہر چلی گئیں تو ن کی سیاست بھی مخدوش دکھائی دیتی ہے۔

ایسے میں ’ووٹ کوعزت دو‘ کا نعرہ محض انتخابی نعرہ ہی کہلائے گا اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

اس سارے کھیل میں آصف علی زرداری کی بیماری اور صحت کو قطعی نظر انداز کیا جا رہا ہے اور سندھ اور پنجاب کے تاثر کو ابھارنے کی کوششش ہو رہی ہے تاہم پیپلز پارٹی اس معاملے پر بھی تاحال سیاست نہیں کر رہی جو قابل ستائش ہے۔

اس صورتحال میں اگر اہل اقتدار صوبائی بنیادوں پر مرض کی تشخیص کر لیں تو سب کا بھلا ہو گا۔

فی الحال سٹیج کے سب کردار اپنی، اپنی جگہ بند گلی میں کھڑے ہیں۔ کپتان اپنی کہی باتوں کے گھیرے میں۔۔۔ مولانا اپنی ضد، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سیاسی مصلحتوں اور مقتدر حلقے اپنی خواہشوں کی بند گلی میں ہیں۔

جو جتنا بڑا اور طاقت ور ہے اس کا سٹیک بھی اُتنا ہی بڑا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی ایک کردار ہر کسی کو بند گلی سے باہر نکال لے آئے۔۔۔ آگے کون بڑھے گا، راستہ کون نکالے گا کسی کو تو آگے آنا ہی ہو گا اور کسی کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •