مولانا فضل الرحمن کا مسئلہ کچھ اور ہے
پاکستانی قوم کو اعتدال چھو کرنہیں گزرا ایک ہیجانی انداز میں زندگی بسر کرنیو الی قوم اپنا ہر فیصلہ خواہ وہ سیاست سے متعلق ہویا پھر باہمی معاشرتی تعلقات ہوں جذباتی انداز میں کرتی ہے۔ پتہ نہیں کس بات کی جلدی ہے اس قوم کو اور کیوں ہے؟ عام زندگی میں بغور مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ کسی بھی مسئلہ پر بات سمجھے بغیر بلکہ اکثراوقات تو بات مکمل ہوئے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں اس طرح کے رویے کے ساتھ جب سیاست پر بات کی جاتی ہے تو اس میں استدلال، نظریہ یا معنویت کا فقدان یقینی طورپر پایا جاتا ہے بے معنی بحث سے وقت کا ضیا ع ہوتا ہے اب یہ بحث گلی کوچوں میں قائم چائے کے ہوٹلوں پر ہو یا پر نیوز چینلز کے ٹاک شوز پر ان سے نتیجہ کچھ نہیں نکلتا بلکہ سامعین مزید الجھ جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں جے یو آئی ف کے قائد مولانا فضل الرحمن نے دھرنا دیا ہوا ہے۔ اس کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ بولا جارہا ہے اورمزید بہت کچھ کہنا باقی ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس دھرنے سے حکومت جائے گی یا نہیں کیونکہ سب جانتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ مولانا بہت زیرک سیاستدان ہیں اور کبھی کچی زمین پر پاوں نہیں رکھتے تو اگر مولانا کی فہم وفراست پر یقین کرلیا جائے تو پھر آخرکیا وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے دھرنا دیا ہوا ہے اورروز بروز ان کے لہجے کی تلخی بڑھتی جارہی ہے۔
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آئیے پہلے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جاے تو عزیزان گرامی صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف اقتدار میں ہے اور اب تک اس کی پرفارمنس عوام کو مطمئن نہیں کرسکی۔ کپتان کے وعدوں اور قسموں کی طویل فہرست ہے جس پر عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں مگر یہ وعدے اور قسمیں پوری ہوتی فی الحال نظر نہیں آرہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی بھی سندھ میں اقتدار میں ہے مگر شدید دباؤ میں ہے کہ عوام کو سہولتیں دینی ہیں جس کے لیے مسائل زیادہ اور وسائل کم ہیں بہت ساکام بہت کم وقت میں کرنا ہے تب جا کر شاید حالات بہتر ہوں۔
نواز شریف اور زرداری صاحب بیمار ہیں اور اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں پر وہ بہت دیر تک ویسے بھی فعال سیاسی کردار ادا نہیں کرسکتے۔ بلاول بھٹو زرداری والد اور پھوپھی کی گرفتاری کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں اور ایک اپوزیشن رہنما کے طورپر رنگ جمانے کی کوشش کررہے ہیں اگر اسی طرح کوشش کرتے رہے تو کچھ وقت بعد ان کی سیاست میں مزید نکھا ر آجائے گا۔ مریم نواز شریف عدالت سے ایک کیس میں سزا یافتہ ہیں اس لیے ان کا پارلیمانی سیاست میں کردار ختم ہوچکا ہے شہباز شریف کے صاحبزادے جیل میں ہیں اور شہبازشریف بھی مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں اگر قابل قبول ہیں تو پنجاب ہی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔
اے این پی، جماعت اسلامی اور دیگر چھوٹی جماعتیں اس قابل نہیں کہ وفاق تو کیا کسی صوبے میں اکیلے حکومت تشکیل دے سکیں اس کے لیے ان کو ایک الائنس بنانا پڑے گا جسطرح ماضی میں ایم ایم اے بنائی گئی اور اس الائنس کی قیادت بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گی۔ رہی بات عمران خان کی تو ملک کے معاشی حالات کے تناظر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم کی پوری کوشش ہوگی کہ ملکی معیشت کو بہتر کیا جاسکے اور ایسے میں عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا تو اس وقت ملکی سیاسی منظر نامے پر ایک خلا بن گیا ہے اس خلا کو پُرکرنے کے لیے مولانا فضل الرحمن نے قدم آگے بڑھایا ہے اور اپنے آپ کو بطور قومی رہنما پیش کیا ہے۔
دھرنے کے دوران مذاکرات کے لیے جانے والے چوہدری شجاعت حسین کا یہ بیان کہ مولانا آپ نے میلہ لوٹ لیا ہے بہت معنی خیز ہے۔ ایک مفروضہ ہی سمجھ لیں ہوسکتا ہے کہ یہ غلط ہو پھر بھی اس مفروضے پر بات کی جائے تو یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ طاقت کے مراکز سے ہی عندیہ دیا گیا ہوکہ مولانا کو بطور اپوزیشن پیش کیا جائے اور پھر اس اپوزیشن کو تسلیم بھی کرلیا جائے مطلب یہ ہوا کہ قومی سیاسی جماعتیں ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے حق اپوزیشن بھی چھین لیا جائے۔
اگر اس مفروضے پر بات آگے بڑھائی جاے کہ اگر یہ مرحلہ کامیاب ہوگیا اور مولانا نے خود کو قومی سطح پر اپوزیشن رہنما تسلیم کرالیا تو بہت سے معاملات میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے مقابلہ میں بطور اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمن سے بات کرتے ہوئے زیادہ آسانی رہے گی۔ ان حالات میں سوچئے کہ مولانا کا مسئلہ کیا ہے کیا مولانا عمران خان کا استعفیٰ چاہتے ہیں؟ کیا مولانا کو علم نہیں ہے کہ ایک مذہبی جماعت کے کہنے پر ایٹمی طاقت کے حامل ملک کی حکومت کو تبدیل کرنے سے دنیا میں کیا پیغام جائے گا؟
بالفرض اس دھرنے سے حکومت چلی جاتی ہے تو آپ دنیا کو کیا پیغام دیں گے؟ دنیا کے سولات کا جواب کیسے اور کس طرح دیں گے؟ تو میری عرض یہ ہے کہ ان تمام سوالات کے جواب مولانا ہم سب سے بہتر جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں مجھے تومولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت پر مکمل بھروسا ہے۔ توپھر ایک سوال بہرحال موجود ہے کہ اگر دھرنے سے حکومت نہیں جاتی تو پھر مولانا کو کیا فائدہ ہے تو اس کے لیے فی الحال یہی کہوں گا کہ مولانا فضل الرحمن مستقبل قریب کی سیاست کے لیے اپنا وسیع میدان ترتیب دے رہے ہیں جس میں وہ اپنی مرضی سے کھیلتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں اور ملکی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرسکیں اور اس کے لئے ان کو کچھ یقین دہانیاں چاہیں۔
میرا اندازہ ہے کہ ان کویہ یقین دہانیاں مل بھی جائیں گی۔ میرا ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ اس دھرنے سے منتخب حکومت دباؤ میں ہے اور ہوسکتا ہے کہ کپتان کے غیر لچک دار رویے کو بہتر کرنے کے لئے کچھ انتظامات کیے گئے ہوں اورجب تک مطلوبہ نتائج نہیں ملتے شاید تب تک دھرنا جاری رہے۔ بہرحال یہ سب مفروضے اور اندازے اسوقت تک ہیں جب تک دھرنے کے نتائج سامنے نہیں آتے مگر میرا استدلال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا مسئلہ کچھ اور ہے۔

