کیا سائنس اور مذہب دوست ہیں یا دشمن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرا اداس نامہ

ڈاکٹر خالد سہیل۔ نادرہ مہر نواز

نادرہ مہر نواز کا خط

محترمی ڈاکٹر خالد سہیل!

آپ کی کتاب

FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM

کا دوسرا موضوع یہ ہی

ہے۔ اس پر بات کرتے میرے پر جلتے ہیں۔ کیونکہ مذہب اور سائنس دونوں پر ہی میری معلومات نا کافی ہیں۔

مذہبی رہنما سائنسی پیش رفتوں کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی نظریات کے منافی ہیں، ان سے ایمان والے بھٹک

جائیں گے۔ وہ ایسا شاید مذہب کے ساتھ اپنے خلوص اور ایمان والوں کو غلط راستوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کرتے ہوں۔ کافی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہیں۔

سائنسدان سائنس کو علوم کے ایک ایسے جہان کے طور پر دیکھتے ہیں جو انسانی منطق، تجربے او ر مشاہدے کے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ سائنس خود ارتقائی عمل سے گزرتا رہتا ہے، اپنے اندر تبدیلیاں لاتا ہے۔ دوسری طرف مذہبی ذہنیت سائنسی دریافتوں کی اس تغیر پذیر فطرت کو ایک کمزوری کے طور پر دیکھتی ہے، اور اپنی دائمی اور غیر تغیر پذیر ’حقیقتوں‘ پر نازاں ہوتی ہے۔ وہ تبدیلی پر پائیداری کو فوقیت دیتی ہے، اور یہ ذہنیت صرف عقائد پر مبنی ہوتی ہے۔ جہاں منطق کام نہیں کرتی وہاں ایمان کو ہی یقین بنا دیا جاتا ہے۔ زیادہ بحث ہو تو کہہ دیا جاتا ہے کہ دوسری دنیا میں ان رازوں سے پردہ اٹھے گا۔

تمام ہی مذاہب میں سائنس اور سائنسدانوں کی مخالفت ہوتی رہی ہے۔ انہیں ’گمراہ‘ سمجھ جاتا تھا اور کفر کے فتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دونوں کا ہی دعوی ہے کہ وہ صداقت پر ہیں۔ ان کا باہم ٹکراؤ بھی ہوتا رہا ہے۔ مذہب کو کامل اور مکمل تسلیم کر لیا گیا۔ اس میں

کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ جبکہ سائنس میں ارتقا اور تغیر کے امکانات ہمیشہ ہوتے ہیں۔ اور اسی بات کو لے کر مذہبی لوگ سائنس کو حرف آخر نہیں مانتے۔ کیونکہ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ سوائے چند بڑے فارمولوں کے نت نئی دریافتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اور پہلی ریسرچ باطل قرار دے دی جاتی ہے۔

سائنس مذہب کے بغیر چل سکتی ہے ارتقائی منازل طے کر سکتی ہے لیکن کیا مذہب سائنس کے بغیر بھی پنپ سکتا ہے؟ اگر ہم مذہب سے سائنس کو الگ کر دیں تو کیا صرف پوجا پاٹ نہیں رہ جائے گی؟ کیا دونوں ساتھ ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چل سکتے ہیں؟ یہ ان میں ہمیشہ کشمکش رہے گی؟

مشہور ماہر طبیعیات اور نوبل انعام یافتہ البرٹ آئن اسٹائن

کے مطابق ”سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا۔ “ کیا یہ بات مان لینی چاہیے کیونکہ ایک سائنسدان

کہہ رہا ہے؟ یا یہ اس کا اپنا ذاتی خیال ہے؟

آپ ایتھیسٹ ہیں آپ صرف سائنس کی حقیقت کو مانتے ہیں لیکن کیا ایک مذہب کا ماننے والا سائنس کا ماننے والا بھی ہو گا؟ یا ہم ہونہی کچھ ادھر کے کچھ ادھر کے رہیں گے؟

۔ ۔ ۔

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

۔ ۔

محترمہ مہر نواز صاحبہ!

مجھے یہ جان کر بہت مسرت ہو رہی ہے کہ آپ میری کتاب کو اتنی گہرائی سے پڑھ رہی ہیں اور اتنے ذہین اور بامعنی سوال پوچھ رہی ہیں۔ آپ کو موجودہ سوال سائنس اور مذہب کے حوالے سے ہے۔

میں نے آج تک جتنے لوگوں سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے میں انہیں چار گروہوں میں بانٹ سکتا ہوں۔

پہلا گروہ روایتی NON۔ BELIEVERS کا ہے جو صرف ان چیزوں کو مانتے ہیں جو منطق یا لیباٹری میں ثابت ہو سکتی ہیں۔

دوسرا گروہ روایتی BELIEVERSکا ہے جو صرف آسمانی کتابوں پر اندھا ایمان رکھتا ہے اور سائنس کو حرام سمجھتا ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ اس گروہ کے بہت سے ممبر سائنس کی تردید کے باوجود سائنسی ایجادات استعمال کرتے نہیں ہچکچاتے یا شرماتے۔ وہ ایک سائنسی ایجاد کار میں بیٹھ کر مسجد آتے ہیں اور دوسری سائنسی ایجاد لاؤڈ سپیکر استعمال کر کے سائنس کی برائیاں کرتے رہتے ہیں۔

تیسرا گروہ غیر روایتی مذہبی لوگوں کا ہے جو آسمانی کتابوں کی لغوی نہیں استعاراتی تشریح کرتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ہر نئی سائنسی تحقیق پہلے سے آسمانی کتابوں میں موجود تھی۔ اس کی ایک مثال ڈارون کا نظریہ ارتقا ہے۔

ڈارون کی تھیوری سے پہلے قرآن کے الفاظ۔ نفس الواحدہ۔ [سب انسان نفس الواحدہ سے پیدا ہوئے ہیں ] کا ترجمہ آدم کیا جاتا تھا۔ ڈارون کی تھیوری کے بعد ابولکلام آزاد نے۔ نفس الواحدہ۔ کا ترجمہ UNICELLULAR ORGANISM۔ AMOEBAکیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن اور ڈارون کی تھیوری میں کوئی تضاد نہیں۔

میں ایسے غیر روایتی مذہبی لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ اگر تمام علوم آسمانی کتابوں میں موجود ہیں تو انہیں پڑھنے والے سائنس کی نئی تھیوری یا نیا قانونِ فطرت دریافت نہیں کرتے اور وہ سائنسدان جو برسوں اور دہائیوں کی سائنسی تحقیق سے نئی سائنسی دریافت کرتے ہیں ان میں سے اکثر نے آسمانی کتابیں نہیں پڑھی ہوتیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آج کے دور میں ہمارے پاس کینسر کا علاج نہیں ہے۔ آپ آسمانی کتابوں مین اس کا علاج دریافت کر کے ہمیں بتائیں تا کہ انسانیت کی خدمت ہو لیکن جب ایک دہریہ سائنسدان برسوں اور دہائیوں کی محنت اور ریاضت سے کینسر کا علاج دریافت کر لے گا۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان تیس سال کی تحقیق کے بعد معلعم کرتا ہے کہ معدے کے کینسر کا علاج زیتون کا تیل ہے تو اس کے تیس ہفتوں کے بعد ایک مولوی یا پادری یا ریبائی یہ ثابت کر دے گا کہ یہ علاج تو آج سے دو ہزار سال پہلے فلاں آسمانی کتاب کی فلاں آیت میں پہلے سے موجود تھا۔

یہ گروہ جدید سائنسی تحقیق سے قدیم آسمانی کتابوں کو سچ ثابت کرتے رہتے ہیں۔

چاتھا گروہ غیر روایتی سائنسدانوں کا ہے۔ جو مذہب کا سائنس اور نفسیات کی نگاہ سے مطالعہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں میں سے ایک آئن سٹائن ہیں۔ جب آئن سٹائن فرماتے ہیں

سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے

مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے

تو اس میں آئن سٹائن نے مذہب اور سائنس کی غیر روایتی تعریف کی ہے۔ آئن سٹائن کا موقف تھا کہ

سائنس کا دائرہِ کار اور اس کے علم کی حدود کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جو موجود ہے۔ SCIENCE DEALS WITH۔ WHAT IS۔ سائنس دانوں کا کام کائنات میں جو چیزیں موجود ہیں ان کے قوانیں ِ فطرت معلوم کرنا ہے۔

اس کے مقابلے میں مذہب کا دائرہ کار ان اصولوں سے ہے جو ہماری زندگی کو بہتر بنائیں۔ مذہب کا تعلق اس سے ہے کہ زندگی میں کیا ہونا چاہیے۔

RELIGION DEALS WITH۔ WHAT SHOULD BE

یہ سائنس اور مذہب کی غیر روایتی تعریف ہے اور ایک اہم فلسفیانہ نقطہ ہے۔

آئن سٹائن کا کہنا تھا کہ سائنسدان جو دریافت یا ایجاد کرتا ہے وہ اس کا مثبت اور منفی دونوں استعمال کر سکتا ہے۔ سائنس ہمیں اخلاقیات نہیں سکھاتی۔ جس طرح مذہب ہمیں سائنس نہیں پڑھاتا۔

سائنسدان ایٹم کی طاقت دریافت کرتا ہے۔ وہ ایکسرے دریافت کرتا ہے۔ وہ اس تحقیق سے انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے اور طب میں مریضوں کی خدمت کر سکتا ہے یا ایٹم بم بنا کر انسانیت کو تباہ و برباد بھی کر سکتا ہے۔

آئن سٹائن کا موقف تھا کہ سائنسدان کو اخلاقیات کی ضرورت ہے تا کہ وہ سائنسی تحقیق کا مثبت استعمال کرے۔ اگر سائنسدان انسان دوست ہوگا تو وہ سائنس کی تحقیق سے انسانیت کی خدمت کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو سائنس لنگڑی رہ جائے گی۔

اسی طرح روایتی مذہبی اخلاقیات کو سائنس کی ضرورت ہے تا کہ مذہبی اخلاقیات کو سائنسی تحقیق سے ثابت کیا جائے کہ وہ اعتقادات درست ہیں یا غلط۔

مثال کے طور پر ہندو مذہب میں گائے کا گوشت کھانا اور اسلام میں سور کا گوشت کھانا حرام ہے۔ آج سے سینکڑوں ہزاروں سال پیشتر سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ ہم بتا سکتے کہ اس گائے یا سور کے گوشت میں مضر جراثیم ہیں یا نہیں۔ اس لیے سبزیاں کھانا گوشت کھانے سے زیادہ محفوظ تھا۔ لیکن اب سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ہم بتا سکتے ہیں کہ کون سا گوشت مضر ہے اور کون سا نہیں۔ اب ساری دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ گائے اور سور کا گوشت پکا کر کھاتے ہیں اور صحتمند رہتے ہیں۔

اسی لیے آئن سٹائن نے کہا مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے۔

آئن ستائن کی طرح غیر روایتی سائنسدانوں میں ولیم جیمز اور ابراہم میسلو جیسے ماہرینِ نفسیات بھی شامل ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں مذہبی لوگوں اور روحانی تجربات کا نفسیاتی تجزیہ کیا اور سائنس اور نفسیات کے علوم میں اضافہ کیا۔

میں بھی آئن ستائن۔ ولیم جیمز۔ ابراہم میسلو۔ کے چوتھے غیر روایتی سائنسدانوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں انسان دوست ہوں اور میرا موقف ہے کہ ہمیں سائنس اور نفسیات اور طب کی تحقیقات سے انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔

محترمہ نادرہ مہر نواز صاحبہ!

یہ موضوع بہت وسیع ہے۔ اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ ہماری خواہش ہے کہ ہمارے یہ دونوں خطوط۔ ہم سب۔ کا کالم بن جائیں اس لیے میں اختصار سے کام لے رہا ہوں۔

قصہ کوتاہ کہ

روایتی مذہب اور روایتی سائنس ایک دوسرے کے دشمن ہیں

غیر روایتی مذہب اور غیر روایتی سائنس ایک دوسرے کے دوست ہیں۔

جانے سے پہلے یہ پوچھتا چلوں کہ آپ نے اپنے دانشمندانہ خطوط کا نام۔ اداس نامے۔ کیوں رکھا ہے؟

آپ کا فلسفیانہ ہم سفر۔

۔ ڈاکٹر خالد سہیل

9 نومبر 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 278 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail