ہر روز کسی ایک انسان کی مدد کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 2019 کی گیارہ نومبر ہے۔ نارمن اوکلاہوما میں ‌ شدید سردی پڑرہی ہے۔ درجہء حرارت 17 ڈگری فارن ہائیٹ تک گر گیا ہے۔ 32 ڈگری فارن ہائیٹ‌ پر پانی جم کر برف بن جاتا ہے۔ تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چل رہی ہے اور ہلکی ہلکی برفیلی بارش بھی ہے۔ باہر نکلتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ یخ ہوا ہڈیوں ‌ میں ‌ اتر جائے گی۔ اوکلاہوما کے موسم کے بارے میں ‌ کیا کہا جائے؟ اس علاقے میں عجیب و غریب موسم ہے۔ بارش، سیلاب، بگولے، برف باری، اولے باری، آندھیوں ‌ طوفان سے لے کر زلرلے آنے تک میں ‌ اوکلاہوما کی ریاست مشہور ہے۔ اسی وجہ سے نارمن میں ‌ دنیا کا سب سے بڑا موسمیات کا سینٹر ہے۔

صبح نارمن ہسپتال میں ‌ کلینک کے مریض‌ دیکھنے کے بعد لنچ بریک میں ‌ میں ‌ نے ہسپتال کے فزیشن لاؤنج میں ‌ جاکر سوپ کھانے کا ارادہ کیا۔ حالانکہ وہ پانچ دس منٹ کی واک سے زیادہ دور نہیں ‌ لیکن شدید سردی کی وجہ سے اپنی گاڑی میں ‌ گئی۔ ہسپتال کے پاس گاڑی روکی تو دیکھا ایک نوجوان سفید فام خاتون نرس کے اسکرب میں ‌ سکڑتی ہوئی پیدل آرہی ہیں۔ آپ بہت بہادر ہیں ‌ جو اتنی سردی میں ‌ پیدل آگئیں، میں ‌ نے اس کو کہا۔

اس نے کہا بہادر نہیں ‌ بے وقوف کہیں کیونکہ مجھے اندازہ نہیں ‌ ہوا کہ باہر اتنا ٹھنڈا موسم ہوگیا ہے۔ میں ‌ ایسے ہی لنچ لینے پیدل نکل آئی۔ اچھا آپ یہاں کیفیٹیریا میں ‌ کھائیں ‌ گی یا ساتھ میں ‌ لے جائیں ‌ گی؟ میں ‌ ساتھ میں ‌ لے جاؤں گی۔ میں ‌ بھی ساتھ میں ‌ لے جاتی ہوں، آپ کو واپس آپ کی بلڈنگ کے باہر چھوڑ دوں ‌ گی۔ آپ بلاوجہ تکلیف کریں گی! اس کا چہرہ یخ‌ ہوا سے سرخ ہوگیا تھا۔ نہیں ‌ نہیں کوئی تکلیف کی بات نہیں ہے۔

ہم دونوں ‌ نے لنچ باکس میں ‌ لیا اور میں ‌ نے اس کو وومن سینٹر میں ‌ چھوڑ دیا۔ میں ‌ دوسرے فلور پر الٹراساؤنڈ میں ‌ کام کرتی ہوں، اس نے کہا۔ اور میں ‌ ہارٹ پلازہ کے دوسرے فلور پر اینڈوکرنالوجی میں ‌ کام کرتی ہوں۔ دس از ٹو کائنڈ! وہ شکریہ کرکے وومن سنٹر کے باہر اتر گئی اور میں ‌ واپس ہارٹ پلازہ آگئی۔ باہر گاڑی روک کر لنچ باکس اٹھایا اور آہستہ آہستہ دروازے کی طرف دوڑ لگائی۔ برف گرتے ہی تمام پیدل چلنے والے راستوں ‌ میں ‌ اور سڑکوں پر نمک گرادیا جاتا ہے تاکہ لوگ اور گاڑیاں پھسلنے سے بچ سکیں۔

آج کے دن کے واقعے کے بعد ہم اس بات پر غور کریں ‌ گے کہ انسانوں ‌ کو دوسرے انسانوں ‌ کے ساتھ بے لوث ہمدردی کرنے پر کیا ابھارتا ہے جس کی وجہ سے وہ ذاتی قربانیاں ‌ دیتے ہیں؟ اس موضوع پر کافی ریسرچ بھی ہوچکی ہے۔ دوسروں کی مدد کرنے کے رویے کو نفسیات دان پرو سوشل رویہ کہتے ہیں۔ اس پروسوشل رویے میں ‌ چندہ دینا، تحفے خریدنا، رضاکارانہ طور پر کام کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

جہاں ‌ بھی ایک ہی طرح‌ کا نظریہ رکھنے والے لوگ جمع ہوجائیں اور تمام تفرقات کو جھٹک دیں وہاں ‌ انسانی معاشرے کا جمود شروع ہوجاتا ہے۔ کسی بھی فیلڈ میں ‌ ترقی کے لیے ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کا مل کر کام کرنا لازمی ہے۔ انجینیرنگ اور بزنس ایجوکیشن کے ماڈل میں ‌ یہ بارہا دیکھا گیا ہے کہ ایسے گروہ جن میں ‌ مختلف عمر، نسل اور صنف کے افراد شامل تھے وہ مختلف معمے نہایت سرعت سے حل کرسکتے تھے بجائے ایسے گروہوں ‌ کے جن میں ‌ ایک جیسے افراد موجود ہوں۔

2005 میں پرسنالٹی اور سوشل سائکالوجی بلٹن میں ‌ ایک برطانوی اسٹڈی چھپی تھی جس میں یہ دیکھا گیا کہ لوگ اجنبیوں ‌ کی مدد کرنے کے لیے تب زیادہ تیار ہوئے جب وہ اجنبی کسی خاص گروہ کا حصہ تھے۔ یوکے میں ‌ لینکیسٹر یونیورسٹی میں ‌ دو تجربے کیے گئے جس میں ‌ دو متقابل ٹیموں ‌ مانچسٹر اور لیور پول کے فینز کا مطالعہ کیا گیا۔ ایک تجربے میں ‌ ان مداحوں ‌ سے ایسے فارم بھروائے گئے جن کے سوالات اس طرح پوچھے گئے تھے جن سے وہ خود کو اپنی پسندیدہ ٹیم کے مزید مداح محسوس کریں۔ اس کے بعد ان کو ایسی پریکٹس دکھائی گئی جس میں ‌ کھلاڑی جان بوجھ کر گر جاتے۔ اس تجربے میں ‌ یہ دیکھا گیا کہ ان مداحوں ‌ نے ‌ گرنے والے کھلاڑیوں ‌ کی مدد کرنے کا ارادہ زیادہ تر اس وقت ظاہر کیا جب ان کی پسندیدہ ٹیم کے کھلاڑی کو چوٹ لگی۔

دوسرے تجربے میں ‌ شرکت کرنے والے رضاکاروں سے ایسے فارم بھروائے گئے جن کی توجہ ٹیموں ‌ کے بجائے فٹ بال گیم کے گرد گھومتی تھی۔ ان افراد نے جب کھلاڑیوں ‌ کو گرتے دیکھا تو وہ فوراً ان کی مدد کرنے کو تیار ہوگئے اور اب ان کی توجہ اس بات سے ہٹ چکی تھی کہ کون سا کھلاڑی کس ٹیم سے تعلق رکھتا تھا۔

اس تجربے سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب انسان اپنوں ‌ کا دائرہ وسیع کرلیتے ہیں تو وہ اپنے گروہ سے باہر نکل کر دوسرے گروہوں ‌ کی مدد کرتے ہیں۔ دوسری اسٹڈی کے نتائج خاص طور پر نہایت اہم ہیں کیونکہ اس سے دنیا پر مثبت اثر پڑسکتا ہے۔ ان نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب افراد کو سماجی دائروں ‌ کو بڑھانے کی تعلیم دی جائے تو وہ دیگر انسانوں ‌ کو ٹھکرانے کے بجائے شمولیت دیتے ہیں۔ چاہے ان گروہوں ‌ کے درمیان کڑواہٹ بھی موجود ہو لیکن وہ تفرقات سے بالاتر ہوکر مثبت اقدامات اٹھاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں ‌ انسانی تکثیریت کی تعلیم کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔

ان تجربات سے دلچسپ سوال ابھرتے ہیں۔ ہم کس طرح‌ ان رویوں ‌ کو صرف ایمرجنسی اور حادثات میں ہی نہیں بلکہ عام زندگی میں ‌ کس طرح‌ لاگو کرسکتے ہیں۔ کس طرح‌ ہم ایک سماج کے اندر مختلف گروہوں ‌ میں ‌ شمولیت کو فروغ دے کر معاشرے کو اس طرح مثبت راستے پر روشن مستقبل کی طرف بڑھائیں کہ یہ دائرے بے معنی ہوجائیں؟ یقیناً اس تحقیق سے گروہوں، سماجوں، ریاستوں ‌ بلکہ قوموں کے درمیان ہم آہنگی کا سبق ملتا ہے۔

اس مجموعی فوائد کے علاوہ دوسرے انسانوں ‌ کے کام آنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے کئی ذاتی فائدے بھی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دوسرے انسانوں ‌ کی مدد کرکے انسان خوشی محسوس کرتا ہے۔ اس کو ہیپلرز ہائے بھی کہتے ہیں جو کہ ہمارے جسم میں ‌ اینڈورفنز کے نکلنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جو لوگ دوسرے انسانوں کی مدد کرتے ہیں ان میں ‌ اسٹریس سے نبٹنے کی طاقت بڑھتی ہے۔ دوسروں کے کام آنا ہمارے میڈیکل کے بزنس کے لیے بھی اچھا ہے۔

جو لوگ علاج سے بہتر محسوس کریں ‌ گے وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی ریفر کریں ‌ گے۔ دوسروں ‌ کی مدد کرنے سے ہماری اپنی طبعیت بھی بہتر رہتی ہے۔ اور دوسروں کی مدد کرنے والے لوگ لمبی عمر بھی پاتے ہیں۔ اسی لیے قارئین ہر روز کسی ایک انسان کی مدد کریں۔ سب سے پہلے اپنا خیال رکھنا لازمی ہے۔ اگر ہم خود جسمانی اور جذباتی طور پر مضبوط نہ ہوں ‌ تو اوروں ‌ کے لیے بھی کچھ نہیں ‌ کرسکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •