سارہ رضا خان اور الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے حد خوش گوار موسم تھا جب میں صبح دس بجے ایور نیو اسٹوڈیو ز کے اسٹوڈیو منیجر، فلم ایڈیٹر زیڈ اے زلفی صاحب کے کمرے میں پہنچا۔ میرا زلفی صاحب سے لمبی چوڑی گفتگو کرنے کا پروگرام تھا۔ پھر شام 5 بجے نام ور ہدایت کار داؤد بٹ سے رائٹرز ایسوسی ایشن کے دفتر میں ملاقات طے تھی۔ حسبِ معمول زلفی صاحب نہایت ہی گرم جوشی سے ملے۔ ابھی علیک سلیک ہی ہوئی تھی کہ سجاد طافو کا فون آ گیا کہ دوپہر کو میں الحمرا آرٹس کونسل پہنچ جاؤں، جہاں وہ گٹار کی کلاس لیتے ہیں۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اسی وقت الحمرا جایا جائے جہاں ڈپٹی ڈائریکٹر صبح صادق سے بات چیت کے ساتھ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہاں فنون میں کیا کیا سکھلایا جا رہا ہے۔ اِس پس منظر میں، میں زلفی صاحب سے شام 6 بجے تک کی اجازت لے کر عازم مال روڈ ہوا۔

صبح صادق صاحب سے کئی سال بعد ملاقات ہوئی۔ میں نے یہاں کی کلاسوں کے بارے میں معلومات چاہیں تو انہوں نے ایک صاحب کو میرے ساتھ کر دیا کہ انہیں نیاز حسین لکھویرا صاحب کے دفتر میں لے جاؤ۔
نیاز حسین لَکھویرا، لاہور آرٹس کونسل کے کو اورڈینیٹر / انچارج ہیں۔ یہ خود بھی شاعر اور ادیب ہیں۔ فنکاروں کو تراشنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ اُن کا یہ جوہر فنکاروں کو ملنے والے صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی اور تمغہ امتیاز کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہ بڑی خوشی اور خلوص سے ملے اور بہت معلوماتی گفتگو ہوئی۔اس گفتگو کے خاص حصے قارئین کی نظر:
اُنہوں نے بتایا: ”پاکستان آرٹس کونسل کا وجود 1948 میں آیا۔ اسی جگہ موسیقار فیروز نظامی نے بھی موسیقی کی تعلیم دی۔ انگریزی زبان میں اِن کی لکھی ہوئی کتابیں: ” اے بی سی آف میوزک “ اور ” ہسٹری اینڈ ڈی ویلیپمنٹ آف میوزک اِن پاکستان“ بہت مشہور ہوئیں۔ یہ پنجاب لائبریری میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اِن کے بیٹے شاہد نظامی اپنی والدہ کے ہم راہ بھاٹی گیٹ میں رہتے ہیں۔ 2002 میں باقاعدہ قانونی طور پر پاکستان آرٹس کونسل کو الحمرا پرفارمنگ آرٹس کا نام دیا گیا“۔
” کیا ضیاء دور میں بھی یہاں فنون سکھلائے جاتے رہے تھے؟“۔میں نے بے ساختہ سوال کیا۔
”جی ہاں! یہی نہیں بلکہ اُس دور میں بھی یہاں مہاراج کتھک، رقص کی تعلیم دیتے رہے ہیں“۔

niaz hossain lakhwera

لَکھویرا صاحب پچھلے 35 سال سے پنجاب آرٹس کونسل لاہور میں موسیقی اور تھیٹر سے وابستہ ہیں۔ اُستاد فتح علی خان، اُستاد سلامت علی خان، حسین بخش گلو، اسد امانت علی، حامد علی خان، شوکت علی، نصرت فتح علی، عطا اللہ عیسی خیلوی، ریشماں، پرویز مہدی، منیر حسین، سائیں ظہور، عارف لوہار کو انہوں نے آرٹس کونسل کی جانب سے صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی / ستارہء امتیاز کے لئے نام زد کیا۔ پھر اِن سب خوش نصیبوں کو یہ تمغے بھی ملے۔

نام زدگی کی پالیسی کے بارے میں اُنہوں نے بتایا: ” ہم حکومتِ پنجاب کو صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی یا دیگر اعزازات کے لئے فن و ثقافت کے میدان کے کچھ نام بھیجتے ہیں۔ آرٹس کونسل کے علاوہ پنجاب کی سطح کے تمام سرکاری ثقافتی ادارے جیسے ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی وغیرہ بھی اپنے اپنے طور پر کچھ نام بھیجتے ہیں۔پھر ایک کمیٹی اِن ناموں پر غور کرتی ہے۔ وفاق پنجاب کے ساتھ باقی تین صوبوں کے فنکاروں میں 100 سے 150 خوش نصیبوں کو منتخب کرتا ہے۔ سب سے زیادہ نام صوبہ سندھ سے آتے ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کا محکمہ ثقافت صحیح طور پر کام کرتا ہے۔ 15 سے 20 سال قبل موسیقار وزیر افضل کا نام بھی میں نے ہی بھیجا تھا۔اور وہ اعزاز پانے والے خوش قسمت ثابت بھی ہوئے“۔

باتوں باتوں میں گلوکار مسعود رانا کا ذکر آ گیا۔ نیاز حسین لکھویرا صاحب کہتے ہیں: ”مسعود رانا کے انتقال کے بعد جب حکومتِ پنجاب نے مرحوم کے بیٹے کو کچھ رقم دینا چاہی تو اُس نے لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا: ’’اللہ کا ہم پر بڑا فضل ہے لہٰذا یہ رقم کسی ضرور ت مند فن کار کو دے دی جائے“۔

masood rana

ملک اور فلمی صنعت کے نام ور گیت نگار حبیب جالبؔ کے ذکر پر انہوں نے یہ افسوس ناک بات بتائی: ”جالبؔ صاحب سرکاری اسپتال میں علاج کے لئے داخل تھے تو ایک روز چیف سیکریٹری پنجاب کے دفتر سے ایک صاحب پانچ لاکھ روپے کا چیک جالبؔ صاحب کے لئے لائے۔ میں انہیں لے کر مذکورہ اسپتال پہنچا۔ اُس وقت جالبؔ صاحب سو رہے تھے اور کمرے میں اُن کی بیٹی موجود تھیں۔ انہوں نے ہی وہ چیک وصول کیا۔ چیف سیکریٹری کے دفتر سے آنے والے صاحب نے حبیب جالب ؔ کی بیٹی سے پوچھا کہ اِس سے پہلے بھی دس لاکھ روپے کا ایک چیک بھیجا گیا تھا۔ آپ تک پہنچا؟ اِس پر موصوفہ نے جواب دیا: ’’ہاں ہاں! وہ پیسے وصول ہو گئے تھے۔ ہم نے تو اُن سے نئی کار لے لی“۔

لکھویرا صاحب نے مجھے یہاں کے اساتذہ اور جو فنون وہ سکھاتے ہیں، تفصیل سے بتائے۔یہاں مختصراََ اُن کا احوال بتاتا ہوں:
وائلن: اُستاد کفایت حسین ہیں۔
سارنگی: اُستاد زہیب حسن لیتے ہیں۔
الیکٹرک کی بورڈ: اُستاد فیصل اقبال ہیں۔
ستار: اُستاد سلیم حسین ہیں۔
ہارمونیم: ملک کے نام ور فنکار اُستاد حسین بخش گلو ہیں۔
بانسری: اُستاد نوشاد ہیں۔
رقص: کی کلاس زرّین سلیمان پنّا لیتی ہیں۔ یہ نامور ہدایت کار ایس سلیمان کی بیگم ہیں۔ ایس سلیمان اداکار سید موسیٰ عباس رضا المعروف سنتوش کمار اور سید عشرت عباس المعروف درپن کے چھوٹے بھائی ہیں۔ زرّین نے 50 سے زائد فلموں میں کام کیا جیسے: فلم ”باجی“ (1963)، سُپر ہِٹ فلم ”گل فام“ (1961)، فلم ”حویلی“ (1964) اور بہت سی دوسری۔
اداکاری: ہماری فلمی صنعت کے معروف ہدایت کار حسن عسکری، اداکاری کی کلاسیں لیتے ہیں۔ اِن کی کم و بیش 60 اُردو، پنجابی اور پشتو فلمیں نمایش کے لئے پیش ہوئیں۔ اِن میں 8 سُپر ہِٹ اور 6 ہِٹ فلمیں بھی شامل ہیں۔
ٍٍ گٹار: مزنگ گھرانے کے نامور فن کار، تمغہء امتیاز یافتہ سجاد طافو سکھا تے ہیں۔
گلوکاری: جناب عبد الروؤف صاحب یہاں طلبا کو گانا سکھاتے ہیں۔اِن کے ہونہار شاگردوں نے اپنے ملک اوربیرونِ ملک اپنا اور اپنے اُستاد کا نام روشن کیا۔

وقت کی کمی کے باعث تمام اساتذہ سے ملاقاتیں اور بات چیت نہ ہو سکی۔ آیندہ کبھی…… البتہ گلوکاری کی کلاسیں لینے والے اُستاد، عبدالرؤوف صاحب سے تفصیلی اور دل چسپ ملاقات رہی۔ انہوں نے اپنے موسیقی کے سفر کے بارے میں بتایا:
”میں اسکول کے زمانے سے ہی نعتیں اور ترانے پڑھتا تھا۔ میرے والد صاحب کے ایک جاننے والے مستقیم نام کے ایک نعت خواں تھے۔ والد صاحب مجھے اُن کے پاس لے گئے۔ انہوں نے مجھے سنا اور فلمی دنیا کے نام ور موسیقار بھائیوں کی جوڑی، اقبال اور سلیم صاحبان المعروف سلیم اقبال کے سلیم صاحب کے پاس لے گئے۔ اُس وقت سلیم صاحب کے بڑے بھائی اقبال صاحب انتقال کر چکے تھے۔ یہ 1980 کی دہائی ہو گی جب سلیم صاحب نے مجھے مینارِ پاکستان کے وسیع سبزہ زار پر بٹھا کر میری نعت سنی۔ باقاعدہ مجھے گنڈا باندھا اور مجھے اپنی شاگردی میں لے لیا۔ یوں میں نے اُستادِ محترم سے کلاسیکی گانا، راگ راگنیاں وغیرہ سیکھنا شروع کیا۔ وہ الحمرا میں بھی موسیقی سکھاتے تھے جہاں میں نے اُن سے 3 سال موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ اُس وقت مجھ سمیت 35-40 افراد اُن کے شاگرد تھے۔ پھر وہ امامیہ کالونی، شاہدرہ نقلِ مکانی کر گئے۔ میرا اب اُن کے یہاں جانا مشکل ہو گیا لہٰذا دو ماہ میں ایک دفعہ وہاں جایا کرتا۔ اس دوران موسیقی کی بنیاد پر میرا گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ ہو گیا۔ کالج کے لئے میں نے کئی ایک انعامات حاصل کئیے اور اس طرح ’رول آف آنر‘ کا اعزاز حاصل کیا۔ دورانِ طالبِ علمی، میں نذیر احمد میوزک سوسائٹی کا جنرل سیکٹری رہا۔ یہ 1990 کی دہائی کی بات ہے۔ اُس وقت طارق فرحانی میوزک سوسائٹی کے انچارج تھے۔ یہ اب بھی ہیں“۔

اپنے اُستاد سلیم صاحب کے بارے میں عبد الروؤف صاحب نے بہت انوکھی بات بتائی: ”جب سلیم صاحب امامیہ کالونی منتقل ہو رہے تھے تب میں اور ایک دو افراد سامان یہا ں سے وہاں سامان بردار گاڑی میں لے جانے میں اُن کی مدد کر رہے تھے۔ اُس روز بارش برسات تھی۔ امامیہ کالونی میں اُن کی گلی میں خاصا کیچڑ بھی تھا۔ جب سب سامان منتقل ہو گیا تو میرے اُستاد نے، جو ابھی پرانے گھر میں ہی تھے، مجھ سے کہا کہ یہ میرا کوٹ امامیہ کالونی میں لے جاؤ اور واپس آ کر مجھے بتانا۔ میں وہاں سے چل پڑا لیکن سوچتا جا رہا تھا کہ اس برسات میں ایک کوٹ کی خاطر جانا پڑ رہا ہے۔ کیوں نہ صبح یہ کام کر دوں۔ لیکن دوسرا خیال یہ آیا کہ نہیں! یہ کام ہر حال میں کرنا ہے کیوں کہ یہ اُستاد کا حکم ہے۔ میں نئے گھر میں پہنچا اور اُس کوٹ کو تہہ کر کے رکھنے لگا تب میری اُس کی اندرونی طرف نظر پڑی۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ جا بجا پھٹا ہوا تھا۔ میں بہت بد دل ہوا اور وہاں سے روتا ہوا نکلا۔ باہر آ کرپھر شیطان نے ورغلایا کہ کس چکر میں پڑ گئے ہو؟ چلو گھر جاؤ۔ کل آرام سے انہیں بتا دینا کہ رات کوٹ پہنچا دیا تھا۔ چوں کہ بارش اور کیچڑ بہت تھا لہٰذا اب دِن میں یہ بات بتانے آیا ہوں۔ لیکن اس دفعہ بھی اللہ نے حوصلہ دیا اور میں خود پر جبر کر کے اُسی خراب موسم میں اپنے اُستاد سلیم صاحب کے یہاں پہنچ گیا۔ انہوں نے پہلا سوال یہ ہی کیا کہ کیا کوٹ وہاں چھوڑ آئے؟ میں نے کہا جی ہاں! اور ساتھ ہی اُن کی اور اُن کے کوٹ کی خستہ حالی کو یاد کر کے آواز بھرا گئی۔ ابھی میری بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ اُٹھے اور میرا ماتھا چوم کر گلے لگایا اور کہا: ’میری دانست میں تو تم پہلے ہی تمام ضروری چیزیں سیکھ چکے تھے۔ بَس تمہارا امتحان لینا باقی تھا۔ یہ کوٹ تو میرے کسی بھی کام کا نہیں تھا۔ مجھے تمہارا امتحان لینا مقصود تھا کہ تم اِس خراب موسم میں استاد کی بات پر کتنا عمل کرتے ہو؟ تم اللہ کے فضل سے اس امتحان میں کام یاب ہوئے۔ اس قسم کے امتحان میں اچھے اچھے ناکام ہو جاتے ہیں‘۔ اِس طرح میں سلیم صاحب کی اجازت حاصل کر کے ریڈیو پاکستان لاہور میں کلاسیکل گلوکار کے درجے میں اسٹاف آرٹسٹ مقرر ہو گیا“۔

radio pakistan Lahore

”افسوس ہے کہ جب میرا پہلا آئٹم ریڈیو پاکستان لاہور سے براہِ راست (لائیو) نشر ہوا تب میرے اُستاد اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ سلیم صاحب کامِل اُستاد تھے۔ میں 1995-1996 میں ریڈیو پاکستان لاہور سے کلاسیکی پروگرام کرتا رہا۔ میرا پہلا آئیٹم راگ ’پوریا دھناسری‘ تھا۔ اس پروگرام کے پروڈیوسر اعظم خان تھے۔ خوف کے مارے میرا گلا ہی بند ہو گیا۔ آئیٹم جیسے تیسے کیا سو کیا، البتہ 3 دن بخار رہا“۔

آل پاکستان میوزک کانفرنس اور اُس کے روحِ رواں حیات احمد خان کے ذکر پر عبدالرؤوف صاحب نے کہا: ”وہ بہت ہی منظم شخص تھے۔ میں نے کسی پس منظر میں اُن سے ملنے جانا تھا۔ ملاقات کا وقت دن کے 11:00 بجے طے ہوا۔ حالاں کہ مجھے کسی بھی قسم کا کوئی کام نہیں تھا پھر بھی ’چلے جائیں گے‘، ’پہنچ جائیں گے‘ کے فضول قسم کے اصول کے تحت میں وہاں ایک گھنٹا دیر سے 12:00 بجے پہنچا۔ انہوں نے میری خوب ڈانٹ ڈپٹ کی۔ میرے اس سچ پر کہ میں نے ’دانستہ دیر کی ہے حالاں کہ مجھے کوئی کام نہیں تھا‘ میری جان چھوٹی اور اُنہوں نے پھر مجھ پر اپنی مہربانیوں کے دروازے کھول دیے“۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالرؤوف نے کہا: ”برِ صغیر پاک و ہند کے نام ور گیت نگار میراؔ جی کی برسی پر آل پاکستان میوزک کانفرنس میں میں نے بھی ’راگ جے جے وَنتی‘ سنایا۔ یہ کوئی بیس سال پرانی بات ہو گی۔ حیات صاحب اپنے ساتھ مجھے بھی غیر ممالک لے کر گئے“۔

اپنے لاہور کالج اور کنیرڈ کالج میں موسیقی کی تعلیم دینے کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”کالج والوں نے حیات صاحب سے موسیقی سکھانے کے لئے کسی میوزک ٹیچر کے انتظام کرنے کو کہا۔ انہوں نے میرا نام تجویز کیا اور کہا کہ میوزک میں پڑھے لکھے ٹیچر نہیں ملتے۔ اِس بچے کی قدر کریں۔ یوں میں 3 دن لاہور کالج اور باقی کے 2 دن کنیرڈ کالج میں موسیقی سکھانے لگا“۔

موسیقی کے نصاب سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ”لاہور کالج میں شروع میں موسیقی کا محض ایک کلب تھا۔ بچیاں موسیقی حاصل کرنے میں سنجیدہ نہیں تھیں۔ مو سیقی کا وہاں کوئی نصاب بھی نہیں تھا۔ کنیرڈ کالج میں، میں نے ایف اے درجے کا نصاب پڑھانا شروع کیا۔ یہ بورڈ کے امتحان میں 200 نمبروں کا پرچا ہے اور بی اے کے درجے کا نصاب میں نے بنایا“۔
ایک سوال کے جواب میں عبدالرؤف صاحب نے بتایا: ”میں نے ایم اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے موسیقی بحیثیت اضافی مضمون بھی پاس کیا۔ 2002 سے کنیرڈ کالج میں موسیقی کا ٹیچر ہوں“۔

الحمرا آرٹس کونسل میں اپنے میوزک ٹیچر بننے کا یہ دل چسپ پس منظر بتایا: ”الحمرا میں ایک مرتبہ 4 درجوں کی موسیقی کا ایک مقابلہ ہوا۔ جس میں کلاسیکل، غزل، سیمی کلاسیکل اور لوک موسیقی شامل تھی۔ جیتنے والوں سے پوچھا جاتا تھا کہ انہوں نے میوزک کہاں سے سیکھا۔ اتفاق ہے کہ 2 کو چھوڑ کر باقی تمام جیتنے والے میرے شاگرد تھے۔ اُس وقت یہاں کے ڈپٹی ڈائریکٹر زلفی صاحب اور شبیر احمد ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے مجھے اپنے یہاں میوزک ٹیچر ہونے کی پیش کش کی۔ سو، میں 2002 سے یہاں موسیقی کا اُستاد ہوں“۔

”لڑکیاں بہت زیادہ محنت کرتی ہیں۔ سارہ رضا خان نے کنیرڈ کالج میں مجھ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ مغیرہ احمد نجی ٹی وی چینل کے معروف پروگرام ”خبر ناک“ میں گاتی ہے۔ سائرہ طاہر نجی چینل اور پی ٹی وی پر گاتی ہے، نِرمَل رائے، الیزیبتھ اور دیبا کِرَن بھی کوک اسٹوڈیو میں آتی ہیں۔ ایمان فاطمہ لوک اور صوفی گلوکارہ ہے جو مختلف ٹی وی چینلوں میں گاتی ہے۔ کچھ عرصہ ہوا راحت ملتانیکر، جو معروف گلوکارہ ثریا ملتانیکر کی بیٹی ہے، وہ بھی سیکھنے آ رہی ہے“۔

میں نے اُن سے سوال کیا : ”کیا الحمرا میں پڑھائے جانے والے فنون کے اختتام کا کوئی دورانیہ مقرر ہے؟“۔
اس کے جواب میں اُنہوں نے کہا: ”یہ ’مشغلہ کلاسیں‘ یا ہابی کلاسیں ہیں۔ ایک سال یا چھے ماہ کا کوئی مقرر کردہ نصاب نہیں کہ یہ مکمل کر کے کوئی سرٹیفیکیٹ مل جائے اور ایک نیا بیچ آ جائے۔ یہاں تو ایک تسلسل کے ساتھ طلبا آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ البتہ میں نے انتظامیہ کو ایک نیا منصوبہ دے رکھا ہے جس میں ایک سال کا کورس ہے۔ جس کا باقاعدہ تحریری اور عملی امتحان ہو گا۔ اسٹیج اور مائیکروفون کی تربیت ہو گی۔ اس کے بعد پھر انہیں ایک باقاعدہ سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا“۔

”کیا عنقریب کسی ٹی وی چینل میں کوئی مستقل موسیقی کا پروگرام کرنے کا ارادہ ہے؟“۔میں نے سوال کیا۔
”پی ٹی وی ہوم سے بچوں کا پروگرام ’سارے سر ہمارے“ تیاری کے مرحلے میں ہے“۔ انہوں نے جواب دیا۔
اس پر میں نے بے ساختہ سوال کیا: ”کیا یہ بھی موسیقارسہیل رعنا اور خلیل احمد قسم کے نمونے کی طرز کا ہی ہو گا یا اِس سے کچھ ہَٹ کر؟ “۔
اس پر عبدالروؤف صاحب نے کہا: ”میں نے تو بہت چاہا کہ یہ اِن سے بالکل علیحدہ ہو لیکن مجھے ایسا کرنے نہیں دیا“۔

آج کل کی موسیقی کے معیار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: ”اب سیکھنے والے اپنی جان نہیں مارتے۔ بلکہ اب تو یہ ہے کہ کمپیوٹرائزڈ رِکارڈنگ کروا لو اور آرٹسٹ بن جاؤ۔ میں تو نئی نسل میں کلاسیکی موسیقی روشناس اور عام کروانے کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ صوفی و کلاسیکی موسیقی اور غزل وغیرہ کو سال بھر کے اندر الحمرا میں روشناس کراؤں“۔
اپنی گوناں گوں مصروفیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”میں الحمرا، کنیرڈ کالج کے علاوہ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج، وحدت روڈ لاہور میں بھی ہفتے میں ایک روز موسیقی سکھاتا ہوں۔ اس کے علاوہ ڈیفنس میں بھی موسیقی سکھاتا ہوں“۔
اُن سے اور بھی بات ہوتی لیکن اُنہیں اپنی کلاس لینا تھی اور میں نے بھی ایور نیو اسٹوڈیوز جانا تھا لہٰذا یہ نشست تمام ہوئی۔ میں الحمرا کے موسیقی کے استاد عبد الروؤف صاحب سے ملاقات کر کے اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ واقعی یہ صحیح معنوں میں سنجیدہ موسیقی سیکھنے والوں کے لئے بہت بڑا سرمایا ہیں۔ انہوں نے سارہ رضا کا ذکر کیا تو میں نے ضروری سمجھا کہ اِس سے بھی ملاقات کی جائے۔ سو، اگلے روز شام سارہ سے گھر ملنے کا وقت طے ہوا۔ اس گلوکارہ نے اپنی لگن اور محنت سے پاکستان کا نام بھارت اور دیگر ممالک میں روشن کیا ہے۔ سارہ رضا نے 2005-2006 میں پاکستان ٹیلی وژن کے ”برائٹ اسٹار“ پروگرام میں حصہ لیا اور اعزاز کی حق دار ٹھیرائی گئی۔ پھر بھارتی زی ٹی وی سے مقابلہء موسیقی کے پروگرام ”سا رے گا ما پا“ چیلنج 2008-2009 میں اس بچی نے بین الاقوامی توجہ اور شہرت حاصل کی اور منظرِ عام پر آئی۔ مذکورہ پروگرام میں وہ ”لیول 8 “ تک گئی۔ یہ بھی پاکستان کا اعزاز ہے۔ سَن 2012 میں بھارتی ”کلرز ٹی وی“ کے موسیقی کے مقابلے کے پروگرام ”سُ کیشتَرا“ میں بھی حصہ لیا۔ سارہ رضا خان سے ہونے والی بات چیت پڑھنے والوں کے لئے دل چسپی کا باعث ہوگی:
”ہمارے ملک میں فن کاروں کے آگے بڑھنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ اسلام آباد کا ’پی این سی‘، لاہور کا ’الحمرا‘ یا کراچی کا ’ناپا‘ ہو، یہاں فنون کے طالب کو اُس کی صلاحیت کے مطابق مزید بہتر تو کر دیا جاتا ہے لیکن آگے بڑھنے کے لئے کوئی مواقع میسر نہیں“۔
سارہ کا کہنا بالکل صحیح ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہندوستان کی ریاستوں کے راجے مہاراجے اپنی اپنی ریاست کے ہنر مندوں، فن کاروں، کھلاڑیوں اور پہلوانوں کی مکمل سرپرستی کرتے تھے۔ حکومتی سطح کی سرپرستی کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ ایسے فن کار، کھلاڑی، پہلوان یک سو ہو کر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے۔ انہیں گھر کے آٹے دال اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مطلق فکر نہیں ہوتی یوں وہ اپنے کام میں مہارت حاصل کر کے ریاست یا ملک کا نام روشن کرتے تھے۔ہمارے ملک میں تو فلم کو کبھی صنعت ہی نہیں سمجھا گیا تو فنون کی سرپرستی کیسی……
سارہ نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ”ہاں! کسی حد تک ریڈیو پاکستان میں فن کاروں کی سرپرستی ہوتی رہی۔ اسی کی بدولت گلوکارہ ریشماں نے ملک میں اور بعد میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی“۔

یہ بات بھی اُس نے ٹھیک کہی۔ بڑے بڑے نام ور گائک اور سازندے بھی کسی حد تک ریڈیو پاکستان کی بدولت روز مرہ آٹے دال کے چکر سے آزاد رہ کر بہترین تخلیقات کرتے رہے۔ اب…… اب تو ریڈیو پاکستان کو ایسی نظرِ بد لگی ہے کہ کچھ نہ پوچھیے…… ملٹی نیشنل اور مقامی اسپانسر بھی وہاں پیسا لگا رہے ہیں جہاں اُن کا اپنا مفاد ہے۔ فن کی کہیں بھی کوئی پزیرائی دکھائی نہیں دیتی۔ مجھے سارہ رضا نے ایک تلخ حقیقت بتائی: ”ایک جگہ گلوکارہ ریشماں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے، اُن کے شایانِ شان پروگرام ترتیب دئیے جانے کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔ تان کسی اسپانسر یا انویسٹر پر آ کر ٹوٹی۔ ایک صاحب /انویسٹر سے جب رابطہ کیا گیا تو حضرتِ موصوف نے یہ جملہ ادا کیا: ’ارے وہ ریشماں!! وہ تو لوک گلوکارہ تھی! اُن کے پروگرام پر انوسٹ کروں؟‘ …… اب آپ فن کاروں کی قدر کا اندازہ کر لیجیے! میری رائے میں حکومتی اداروں، جیسے وزارتِ کھیل، وزارتِ ثقافت، آرٹس کونسلیں، لوک ورثے کے ادارے، کلچرل ڈپارٹمنٹ اور ان جیسے دیگر اداروں میں صرف اور صرف میریٹ پر اہل لوگوں کو ہی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ خواہ یہ کلیدی عہدے دار ہوں یا انتظامیہ۔ جیسی ذمہ داری والی کرسی ہو ویسی ہی شخصیت اس پر بٹھائی جائے۔ ٹی وی چینلوں کو بھی پابند کیا جائے کہ جس کا کام ہے اُسی کو دیا جائے۔ ماڈل سے ماڈلنگ ہی کرائی جائے اداکاری نہیں۔ اداکاروں سے اداکاری کرائی جائے مذہبی پروگراموں کی میزبانی نہ کرائی جائے۔ گلوکاروں سے گلوکاری کی توقع رکھی جائے۔ اِن کے لئے چہرے اور خوبصورتی کے پیمانے نہ بنائے جائیں۔ یہ سب فضولیات ہیں۔ گلوکاری میں تو آواز ہی اولین ہے“۔

آج کی گلوکارہ سارہ رضا کا کہنا ہے: ”ہمارے ملک میں فنکار کے لئے احساسِ ستائش نہیں ہے۔ گھر میں بھی بچوں کی جب ستائش کی جاتی ہے تو اُن کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ پاکستان ہمارا گھرہے۔ معاشرے میں جب فن کار کی ستائش ہو تو اُس کا بھی حوصلہ بڑھتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرح فن کاروں کی نہ ستائش ہے نہ معاوضے۔ ٹی وی چینل مالکان، اینکروں کو تو تگڑے معاوضے دیتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں فن کاروں اور ہنرمندوں کو پروموٹ کریں۔ ہر قسم کے فنکار کو بلوائیں اور اُن کی بھی پیسے اور ستایش سے پزیرائی کریں۔ صرف زبانی کہنے سننے سے فنک اروں اور کھلاڑیوں کی ستائش اور پزیرائی نہیں ہوتی۔ اس کے لئے اُن کو خاطر خواہ معاوضے بھی ملنے چاہییں“۔

ایک سوال کے جواب میں کہا: ”میں نا اُمید نہیں ہوں۔ موسیقی اور آرٹ ایک ایسا ہنر ہوتا ہے جو نفرتوں کو دل سے مٹا دیتا ہے“۔
” ٹیچر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ میں شاید اچھی شاگرد ہوں لیکن اچھی اُستاد نہیں“۔
” میرے والد مذہبی تھے لیکن بے لچک نہیں“۔


”میری والدہ مجھے 2006 میں الحمرہ لے گئیں۔ میری قسمت اچھی تھی کہ مجھے اُستاد کی صورت میں اتنے اچھے انسان ملے۔ پوری کوشش کرتے ہیں کہ سارہ مجھ سے بھی اچھا گا جائے۔ میرے استاد عبد الرؤوف صاحب کی کلاس ایک ایسی کلاس ہے جہاں سگریٹ پان کی اجازت نہیں۔ میرے استاد بہت سنجیدہ اور روحانی ہیں۔ کلاس میں کوئی فالتو بات نہیں کر سکتا“۔
”مجھے باقاعدہ سال گرہ کا کیک اور 2 عیدیاں اپنے استاد کی طرف سے اب بھی ملتی ہیں۔ حالاں کہ اب میں وہاں نہیں جاتی“۔
میں نے فلم ”نامعلوم افراد“ (2014) میں موسیقار شانی ارشد کے لئے ’در بدر‘ رِکارڈ کروایا۔ فلم ”دختر“
(2014) میں، ماں کے لئے ٹائٹل سونگ، ساحر علی بگا کی موسیقی میں رِکارڈ کیا۔ فلم ”رانگ نمبر“ (2015) میں وقار علی کی موسیقی میں گیت ’دھیرے دھیرے‘ اور ’ناچے مَن‘ رِکارڈ کروائے۔ فلم ”جوانی پھر نہیں آنی“ (2015) میں شادی کا گیت رِکارڈ کروایا۔

سارہ رضا خان کے والد ہوائی فوج میں تھے۔ وہ ابھی چھوٹی ہی تھی جب وہ فوت ہو گئے۔ اُس کی والدہ کی ہمت اور حوصلہ تھا کہ انہوں نے اسکول میں ٹیچنگ کر کے اپنے بچوں کی تربیت اور تعلیم کی۔ اپنی گھر داری اور اسکول ٹیچنگ میں سے وقت نکال کر سارہ کی موسیقی کی مصروفیات کے لئے وقت نکالنا خاصی ٹیڑھی کھیر تھی۔ میں نے سارہ کو کہا کہ تم خوش قسمت ہو کہ ایسی ماں ملیں۔ اُس نے بھی میری بات کی تائید کی۔
بہرحال مجھے سارہ سے مل کر اس بات کی خوشی ہوئی کہ آج نئی نسل میں کلاسیکی موسیقی اور غزل پر محنت کرنے والے موجود ہیں۔ جو اس کی ترویج اور مقبول کرانے کے لئے بہت دل جمعی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •