بے رُوپ چہرے کی کہانی


سندھی کہانی

تخلیق : طارق عالم ابڑو

ترجمہ : شاہد حنائی (کویت)

رات کو کائنات کے گھونسلے میں اُترے دُوسرا پہر گزرنے کو تھا۔ میری پلکیں آنکھوں کے گرد خاردارتاروں کی طرح تن گئی ہیں اور اَن جانے ڈر میں گھری نیند میری پلکوں کی سرحد سے کوسوں دُور کھڑے ہو کر مجھے حیرت سے تک رہی تھی۔

دیوار پر ٹنگے گھڑیال نے اپنی دونوں اُنگلیاں تمام نمبروں میں سے اِک عدد ( 1 ) کے لبوں پر رکھ دی ہیں۔

باہر آنگن میں سرسوں کی شاخوں سے ایک ایک کر کے ریشمی پھول جھڑ کر زمین پر بکھر رہے ہیں اور آسمان میں جھلملاتے تاروں کے سارے چراغوں کو وقت کا سیاہ طوفان ایک پھونک سے بجھا کر نابود کر رہا ہے۔ کائنات پر اتھاہ ساگرِبے انت میں نظارہ کرتی من موہنی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

”اب کیا ہو گا؟ “

”؟ “

دماغ۔ خالی گنبد

جس میں سوال کا حیران پنچھی آڑے ترچھے زاویے بنا کر ڈبکی لگاتا ’اب کیا ہو گا؟ ‘ کا منطقی یا غیر منطقی، ہر جواب اتھاہ ساگر کے انت جیسی خاموشی میں اپنے معانی کھو چکا۔

صبح سے رات کے اس پہر تک کوئی سفاک ہاتھ رہ رہ کر میرے کھلے گلاب جیسے دل کو نچوڑ رہا تھا۔

صبح کو ہواؤں میں جس گھڑی میرا مَن تازہ ہوائیں جھول رہا تھا۔ عین اسی پل اچانک اس بے رحم ہاتھ نے میرے دل پر حملہ کیا تھا۔ میری نگاہیں اس ہاتھ کو اچھی طرح دیکھ سکتی تھیں۔

سبز رنگ کے ریشمی دستانے میں چھپے سفاک ہاتھ نے جس کی چوڑی کلائی ایک تھوڑی سی سفید اُجلی جھاگ میں غائب ہو گئی اور بازُو کا باقی حصّہ سنہری بٹن جڑے خاکی کوٹ کی آستین کی طویل راہ داری میں غائب ہوتی جا رہی تھی۔

صبح جب مَیں خوش گوار موڈ میں چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا، اس وقت سبز ریشمی دستانے میں چھپا بظاہر ملائم نظر آتا درحقیقت بہت کھردراہاتھ میرے دل پرحملہ آور ہوا تو چائے کا کپ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر غالیچے پر جا گرا۔

حملہ اچانک اور پھرتی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ شاید اسی لیے مَیں کوئی جوابی کارروائی کرنے کی بجائے کراہ کر رہ گیا تھا۔ میری بیگم، ٹیلی ویژن کی سکرین سے نگاہیں ہٹا کر بے بسی کے ساتھ میری زخمی نگاہوں میں دیکھتی رہ گئی۔

میرے درد سے ناآشنا، سکول یونی فارم میں ملبوس میرے چھوٹے بیٹے گھر کے برآمدے میں پڑے الماری میں لٹکے اپنے بستے کھول کر لنچ باکس سنبھالتے ہوئے معصوم آواز میں کسی جانی پہچانی دُھن میں ترانہ گا رہے تھے۔

بیگم سے میری حالت دیکھی نہ گئی۔ اس نے اُٹھ کر ٹیلی ویژن بند کر دیا تو روشن سکرین تاریک ہو گئی۔

مَیں نے سکرین سے نظریں ہٹا کر سامنے کھڑی بیگم کی طرف دیکھاتو حیران رہ گیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ آیا۔ یقین کرنے کے لیے بیگم کے چہرے پر ٹامک ٹوئیاں مارنے لگا۔ مگر میری آنکھوں کی طرح میری اُنگلیاں بھی بیگم کے چہرے کے اُبھار ڈھونڈنے میں ناکام رہیں۔

دو کندھوں کے درمیان ہموار بیضوی چہرہ، جس میں آنکھیں تھیں نہ ناک، نہ ہی ٹھوڑی کا اُبھار، ماربل سے بنی ہوئی ایک بھاری سرد اور پیپرویٹ جیسی گردن۔

مَیں شک کی تصدیق کی خاطر دیوار پر ٹنگے آئینے کے مقابل جا کھڑا ہوا اور اپنے شانوں کے بیچ وہی وزنی بے رُوپ پیپر ویٹ جیسے بیضوی چہرے کو دیکھ کر کانپ گیا۔ دستانے میں چھپے وحشی ہاتھ میں پتی پتی نچڑتے دل میں ایک اُمید جاگی، میرے بیٹے۔

مَیں مبہم اُمید کے ساتھ چہرے دیکھنے کی خاطر لڑکھڑاتا ہوا ان کی طرف بڑھا۔ یقینا انھیں اپنے چہرے ہوں گے۔ ُہاں ان کے اپنے چہرے ضرور ہوں گے۔ ’

مَیں نے کمرے سے برآمدے میں آکر دیکھا۔ میرا وُجودسر تا پا ریزہ ریزہ ہو گیا۔

میرے بیٹے سکول یونی فارم پہنے، کندھوں پر بستے لٹکائے، دو ننھے سرد اور بے رُوپ چہروں کے ساتھ مل کر وہی ترانہ گا رہے ہیں۔

مَیں گرتا پڑتا صحن میں آ گیا۔ سندھڑی آموں کے گھنے اور گہرے سبز پتوں کے جھرمٹ میں انبیاں۔ دستی بموں کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ذرا پہلے سرسوں کی شاخوں سے ماہِ اپریل کی آخری تاریخوں کے تھکے ریشمی پھول یکے بعد جھڑ کر زمین پر ڈھیری بنا رہے تھے۔

مَیں گھر سے باہر نکل آیا تھا۔ ہر چہرہ بے رُوپ تھا اورسارے راستے ویران۔

اپنے ہی شہر کی اِک چوکی پر رکھوالی کرنے والے نے کہا تھا:

” شناختی کارڈ دکھاؤ۔ “

مَیں جیب میں ہاتھ ڈال کر شناختی کارڈ دکھانے کی بجائے کَہ رہا تھا:

” میرا شناختی کارڈ کھوگیا ہے۔ “

” کہاں گنوا دیا ہے؟ “ توہین آمیزانداز میں پوچھا گیا تھا۔

” صبح نیند سے جاگا تو دیکھا کہ شناختی کارڈ کھو گیا ہے۔ “

” ایف۔ آئی۔ آر کٹوائی ہے؟ “ تجسس بھرے لہجے میں دریافت کیا گیا۔

”نہیں۔ “ مَیں نے سرد مہری کے ساتھ جواب دیا۔

” کیوں؟ “ لہجہ مزید سخت ہو گیا تھا۔

” انھوں نے کہا کہ شاختی کارڈ گھر سے غائب ہوا ہے۔ اس لیے اگر تم شناختی کارڈ کی گم شدگی کی ایف۔ آئی۔ آر درج کرواؤ گے تو ہم تمھارے اہلِ خانہ کی چھترول کریں گے۔ “

” تو تم اپنے گھر والوں کو گرفتار کیوں نہیں کروادیتے؟ نگہ بان نے غصّہ دکھاتے ہوئے پوچھا۔

” کیسے کروادوں! ان سب کے بھی شناختی کارڈ اسی صبح کھوگئے ہیں۔ “

میرا جواب سُن کروہ مجھے مزید شک بھری نظروں سے گھورنے لگا۔

”تلاشی دو! “ رکھوالے نے حکم دیا۔

مَیں نے اس کے سامنے ہو کر گردن جھکاتے ہوئے اپنے ہاتھ اُوپر کر دیے۔ رکھوالے نے میری تسلی بخش جامہ تلاشی لینے کے بعد مجھے دھکا دیتے ہوئے کہا:

” آگے بڑھو۔ “ اور زیرِ لب بڑ بڑایا : ”مُلک میں پاگلوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مُلک کا مُلک ہی پاگل خانہ بن جائے۔ “

مَیں جب لہولہان وجود کے ساتھ گھر لوٹا تو اَنگ اَنگ میں سورج ڈوب رہا تھا۔ صدیوں کا جاگا ہوا سورج، فاختہ کی طرح تھکے قدموں سے کھیر تھر٭کی اوٹ میں غائب ہو گیا۔ سورج کے مقدس چہرے کی طرف دیکھ دیکھ میرا بے رُوپ چہرہ سسک دیا تھا۔

اناللّہ و انّا الیہ راجعون

مَیں نے گھر پہنچ کر ڈائری میں لکھا تھا۔ (آج ہم نے اپنا چہرہ کھودیا۔ )

اس پہر سے اس لمحے تک مجھے محسوس ہوتا رہا کہ جیسے میری پلکیں خاردار تاروں کی طرح آنکھوں کے چوگردتن گئی ہیں۔ میری اکھیوں سے کوسوں دُور کھڑی نیند مجھے حیرانی کے ساتھ رہی ہے۔

صبح سے سوال کا حیران پنچھی ذہن کے کھوکھلے گنبد میں ٹامک ٹوئیاں مار مار کر نڈھال ہو چکا ہے۔ اس کا سوال: ’اب کیا ہو گا۔ ‘ کا ہر جواب کائنات پر چھائی

اتھاہ ساگر جیسی خاموشی میں دَب چکاہے۔

کوئی بھی جواب نہیں ہے سوال کا۔

ضضض

٭کھیرتھر: صوبہ سندھ کے مغربی علاقے میں واقع پہاڑی سلسلہ

Facebook Comments HS