سندھی افسانچے

تخلیق: ڈاکٹر احسان دانش ترجمہ: شاہد حنائی (کویت) شہر یہ کون سا شہر ہے جس کے ہر چوک پرامن کے لیروں لیر جھنڈے پھڑپھڑا رہے ہیں۔ ہر گلی مقتل گاہ معلوم ہو رہی ہے۔ ہر چہرہ ڈرا سہما ہے۔ یہ کون سا شہر ہے؟ مَیں نے ایک ایسے شخص سے پوچھا جو کہ مجھے اس…

Read more

سندھی کہانی قطار

تخلیق : زاہد منگی ترجمہ: شاہد حنائی طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی عورتیں بینک کے مرکزی دروازے کے پاس دھیرے دھیرے جمع ہونا شروع ہو نے لگی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بینک کے باہر عورتوں کی خاصی بھیڑ اکٹھی ہو چکی تھی، جیسے کوئی میلا ہو۔ دفعتاً بینک کے اندر سے ایک ملازم برآمد ہوا،…

Read more

بزرگ کے تین دن – سندھی کہانی

تخلیق : زیب سندھی ترجمہ : شاہد حنائی پہلا دن:۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی درگاہ میں مرقد پرچادر چڑھا کر حاکمِ وقت نے فوٹو گرافروں کی طرف دیکھتے ہوئے دُعاکے لیے ہاتھ اُٹھائے تو اس گھڑی وہ نورانی چہرے والا بزرگ بھی وہیں موجود تھا۔ بزرگ شخص نے لمحہ بھر کے لیے حاکمِ وقت کی…

Read more

کُہر میں محصورباورچی خانہ سندھی کہانی

تخلیق: ڈاکٹر رسول میمن ترجمہ۔ : شاہد حنائی (کویت) اُن دنوں وہاں اتنی کُہر ہوا کرتی تھی کہ جیسے دھرتی پر دُھند کے سوا کسی شے کا وجود ہی نہ ہو۔ کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ آنکھوں کے چوطرف کُہرسے شکلیں بنتی اور مٹتی رہتیں۔ اس کُہرمیں گھرے گھر میں چھے افراد رہتے تھے۔…

Read more

چاند کہاں ہے؟

سندھی تخلیق : اکبر لغاری ۔۔۔ ترجمہ: شاہد حنائی (کویت) آج چودھویں کی رات ہے اور آسمان پر چاند نہیں ہے۔ مطلع بالکل صاف ہے۔ آسمان پر بادل بھی نہیں ہیں، لیکن چاند کی صورت ندارد۔ ہم دونوں چاند کی کھوج میں نکل پڑتے ہیں۔ ہمیں ایک شخص ملتا ہے، ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ…

Read more

بے رُوپ چہرے کی کہانی

سندھی کہانی تخلیق : طارق عالم ابڑو ترجمہ : شاہد حنائی (کویت) رات کو کائنات کے گھونسلے میں اُترے دُوسرا پہر گزرنے کو تھا۔ میری پلکیں آنکھوں کے گرد خاردارتاروں کی طرح تن گئی ہیں اور اَن جانے ڈر میں گھری نیند میری پلکوں کی سرحد سے کوسوں دُور کھڑے ہو کر مجھے حیرت سے…

Read more

سندھی کہانی:مُجاور

تخلیق : حسن منصور ترجمہ: شاہد حنائی (کویت) اسے شہر کی روشنیاں اچھی لگتی تھیں۔ وہ یہاں بہت خوش تھی جب اس کے خیرخواہوں نے خبردار کیا کہ شہر پر خطر ہو چکا ہے اور اس کی زندگی کے لیے خطرات بڑھ چکے ہیں۔ تو وہ ششدر رہ گئی اسے گمان تک نہ تھا کہ…

Read more

سندھی کہانی: مداری

ایمپریس مارکیٹ میں پنجرے میں بند کل مَیں نے دیکھے ایسے کبوتر جن کی آنکھیں سرخ تھیں وہ دن کچھ اچھے نہ تھے۔ شہر کے بازار اکثر بند رہتے تھے۔ دیہاڑی پر مزدُوری کرنے والوں نے شاید ہی کبھی ایسا برا وقت دیکھا ہو۔ بیراج روڈ پرآنسو گیس کے گولوں کے خول اور پتھر یوں…

Read more