بے رُوپ چہرے کی کہانی

سندھی کہانی تخلیق : طارق عالم ابڑو ترجمہ : شاہد حنائی (کویت) رات کو کائنات کے گھونسلے میں اُترے دُوسرا پہر گزرنے کو تھا۔ میری پلکیں آنکھوں کے گرد خاردارتاروں کی طرح تن گئی ہیں اور اَن جانے ڈر میں گھری نیند میری پلکوں کی سرحد سے کوسوں دُور کھڑے ہو کر مجھے حیرت سے…

Read more

سندھی کہانی:مُجاور

تخلیق : حسن منصور ترجمہ: شاہد حنائی (کویت) اسے شہر کی روشنیاں اچھی لگتی تھیں۔ وہ یہاں بہت خوش تھی جب اس کے خیرخواہوں نے خبردار کیا کہ شہر پر خطر ہو چکا ہے اور اس کی زندگی کے لیے خطرات بڑھ چکے ہیں۔ تو وہ ششدر رہ گئی اسے گمان تک نہ تھا کہ…

Read more

سندھی کہانی: مداری

ایمپریس مارکیٹ میں پنجرے میں بند کل مَیں نے دیکھے ایسے کبوتر جن کی آنکھیں سرخ تھیں وہ دن کچھ اچھے نہ تھے۔ شہر کے بازار اکثر بند رہتے تھے۔ دیہاڑی پر مزدُوری کرنے والوں نے شاید ہی کبھی ایسا برا وقت دیکھا ہو۔ بیراج روڈ پرآنسو گیس کے گولوں کے خول اور پتھر یوں…

Read more