سوشل میڈیا پر سیاسی شدت پسندی کی لہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ نوٹ کر رہے ہیں کہ سال ڈیڑھ سال پہلے سوشل میڈیا پر جو اچھے بھلے سمجھدار افراد معتدل ہوا کرتے تھے وہ سیاسی شدت پسندی کی لہر میں بہہ چکے ہیں؟ ایک لطف انگیز ماحول پر اب ہر طرف نفرت اور انتہا پسندی چھائی دکھائی دینے لگی ہے۔ پہلے موضوعات میں تنوع ہوا کرتا تھا اور اب بیشتر افراد صرف سیاست پر ایک شدت پسند پوزیشن لینے کے بعد خامہ فرسائی کرتے ہیں؟ کیا ہمیں اپنے اس رویے کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا سیاست کے علاوہ زندگی میں اور کچھ نہیں رکھا ہے؟

ہمارا ووٹ جمہوری حکمران لانے میں ایک چھوٹا سا کردار تو ادا کرتا ہے لیکن خواہ پیپلزپارٹی کی حکومت ہو یا نون لیگ کی یا تحریک انصاف کی، حکومت بنانا یا گرانا محض ہمارے ووٹ کی قوت سے نہیں ہوتا۔ کبھی آپریشن مڈ نائٹ جیکال ہو جاتا ہے، کبھی آئی جے آئی بن جاتی ہے تو کبھی پاناما کا اقامہ ہو جاتا ہے۔ پچاس ساٹھ الیکٹ ایبل اچانک اپنا قبلہ بدل لیتے ہیں اور حکومت اچانک کسی دوسری پارٹی کی بن جاتی ہے۔

اس لئے اس معاملے میں اپنا خون جلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

عوام کو معاشی حوالے سے جتنا نچوڑ دیا گیا ہے اس کے بعد جلد ریلیف نہ دی گئی تو اس حکومت کا زیادہ مدت چلنا ممکن نہیں ہے۔ اگر معیشت جامد ہو تو محض ٹیکس یا بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے ملک چلانا ناممکن ہوتا ہے۔ عوام کے لئے زندہ رہنا مشکل ہو جائے اور ان کا معیار زندگی گرتا رہے تو رد عمل آتا ہی ہے اور ایسے ردعمل کا سامنا کرنا کسی ظاہری یا باطنی ڈکٹیٹر کے لئے بھی آسان نہیں ہوتا۔

اس لئے سکون کریں۔ ہم اس سیاسی سٹیج پر محض تماشائی ہیں جس پر اداکار اپنے ڈائلاگ ادا کر رہے ہیں اور ہدایت کار پس پردہ موجود ہیں۔

سٹیج ڈرامے کے تماشائی آپس میں لڑتے اچھے نہیں لگتے۔ انہیں ڈرامے سے خود بھی لطف اندوز ہونا چاہیے اور باقیوں کو بھی اپنے اپنے پسندیدہ اداکار سے اٹیچ ہو کر لطف اندوز یا غمزدہ ہونے دیں۔ ہمیں کوئی لیڈر شدید ناپسند ہو سکتا ہے مگر اس کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد کے احترام میں ہمیں اس کے بارے میں مہذب رویہ ہی اختیار کرنا چاہیے۔

ہنس کھیل کر وقت گزاریں۔ ہمارے لڑنے بھڑنے جلنے کڑھنے سے نہ نواز شریف نے ملک سے باہر جانا ہے اور نہ وہ مشہور 14 یا 200 ارب ڈالر دینے ہیں اور نہ ہی پاکستان نے نئی ریاست مدینہ بن جانا ہے۔ ہم بے حیثیت لوگ ہیں۔

اپنی پارٹی اور لیڈر پر جگت لگے تو جگت لگانے والے سے مل کر ہنسیں۔ مخالف پارٹی یا لیڈر پر اچھا فقرہ چست کریں تو مزید ہنسیں۔ مخالف لیڈر یا اس کے حامی کی توہین سے گریز کریں۔ ایک مہذب پھبتی ایک گالی سے کہیں زیادہ تاثیر رکھتی ہے اور ماحول بھی مکدر نہیں ہوتا۔
اور یاد رکھیں کہ انسانیت، سیاست پر مقدم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar