30  سے زائد بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کے انکشافات: ہم جنس پسندی کا اعتراف کر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راولپنڈی میں بچوں سے زیادتی کرنے اور ان کی لائیو ویڈیوز چلانے والے عالمی گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اب بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے لائیو ویڈیو چلانے والے ملزم کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ملزم کا کہنا ہے کہ میرا نام سہیل ایاز ہے۔ مجھے لڑکوں میں دلچسپی ہے اور میں نے کئی لڑکوں کے ساتھ جنسی عمل کیا ہے۔ جن میں حمزہ ،احمد، فراز اور سرمد شامل ہیں۔

میرے ساتھ کام کرنے والا ایک لڑکا پیرودھائی میں ایک ہوٹل پر چلا گیا تھا۔ میں نے انارکلی کے قریب ایک ہوٹل میں اس کے ساتھ جنسی عمل کیا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ مجھے برطانیہ میں بھی سزا ملی تھی۔میں نے وہاں پر بھی سزا کاٹی ہے۔ یو کے میں چائلڈ پورنوگرافی ریکور ہوئی تھی جس کی وجہ سے مجھے چار سال سے زائد کی سزا ملی تھی۔

اس کے بعد اٹلی میں بھی میرا 8 ماہ کا ٹرائل ہوا بعد ازاں مجھے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ میری عمر 46 برس ہے اور میں عوامی ولاز فیز 8 میں رہتا ہوں۔ آخری بار میں نے ایک ہفتہ قبل جواد نامی دوست کے ساتھ جنسی عمل کیا۔

۔جب کہ سی پی او فیصل رانا نے بتایا ملزم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے پر برطانیہ میں سزا کاٹ چکا ہے۔ ملزم سہیل ایاز عرف علی کو برطانوی حکومت نے اسی جُرم میں بے دخل کیا تھا۔ سی پی او فیصل رانا نے بتایا کہ کہ ملزم اٹلی میں بھی بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں ٹرائل بھگت چکا ہے، اٹلی سے بھی ملزم کو بے دخل کیا گیا۔

تھانہ روات کی حدود میں ملزم نے محنت کش بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچے سے زیادتی کی ویڈیو بھی بنائی۔ فیصل رانا نے بتایا کہ ملزم نے پاکستان میں 30 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزم برطانیہ میں بچوں کے تحفظ کے ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔ متاثرہ افراد وفاقی ادارے سے رجوع کرسکتے ہیں، سماجی دباؤ پر متاثرین مدعی نہ بنے تو پولیس مدعی بنے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •