منتخب وزیر اعظم عمران خان بنام سید علی شاہ گیلانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے مقبول عام سینئر حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام ایک خط لکھا ہے جسے پاکستان میڈیا میں ایک جذباتی خط قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو جاننے والے یہ بات جانتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان ادھار باقی نہیں رکھتے، حساب کتاب چکتا کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ اب وزیر اعظم عمران خان گیلانی صاحب کے خط کا جواب دیتے ہیں یا نہیں لیکن اگر وزیر اعظم عمران خان کے جوابی خط کا تصور کیا جائے تو وہ اس سے کچھ مختلف نہیں ہو سکتا۔

محترم بزرگوارگیلانی صاحب

آپ ایسا نہ کہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ”یہ آخری رابطہ ہو“، انسان میں روحانی کمالات موجود ہوں تو انسان روحانی طور پر بھی رابطے میں رہ سکتا ہے، آپ نے میرے روحانی کمالات کے بارے میں تو ضرور سن رکھا ہو گا۔ آپ نے اقوام متحدہ میں میری تاریخی تقریر کوتعریف کے قابل کہا ہے جبکہ انصاف تو یہ ہے کہ میری اس تقریر پر خراج تحسین ہی نہیں بلکہ خراج عقیدت بھی پیش کیا جانا چاہیے۔

آپ کی اس اطلاع سے اطمینان ہوا کہ کشمیری اپنی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوئے۔ میں نے انڈیا سے کہہ رکھا ہے کہ جب کرفیو ختم ہو گا تب دیکھنا کہ کشمیری عوام کیا کریں گے۔ تاہم آپ نے میری وہ تقاریر اور اعلانات بھی سن رکھے ہوں گے کہ جن میں تاکید کی گئی ہے کہ کشمیری کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے کا بہانہ مل سکے، اوریہ بھی کہا تھا کہ یہاں سے ہتھیار لے کر پار جانے والا کشمیریوں اور پاکستان کا دشمن ہے۔

محتر م گیلانی صاحب، آپ نے میرے نام اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ”پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے“۔ میں تو پاکستان میں پوچھ پوچھ کر تھک گیا ہوں کہ مجھے کشمیر کے بارے میں کیا کرنا چاہیے؟ لیکن کوئی بتاتا ہی نہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں نے جب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا میں جنگ کروں، تو سب نے ہاتھ جوڑ کر فریاد کی تھی کہ خدا کے لئے جنگ کی باتیں نہ کریں، جنگ کی باتیں جانے دیں، امن کی باتیں کریں، امن کے چراغ جلائیں، امن کی ایسی طاقتور آواز بلند کریں کہ انڈیا کی پاکستان کے خلاف ہر قسم کی جارحیت ہماری امن پالیسی سے شکست کھا جانے پر مجبور ہو جائے۔

یہ آپ نے کیا لکھ دیا کہ ”کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی بقا کے لیے یہ اہم موڑ ہے“۔ کشمیریوں کی جدوجہد کی بارے میں، میں نے پہلے ہی انڈیا کو بتا دیا ہے کہ کرفیو ختم ہونے پر دیکھنا کہ کشمیری کیا کرتے ہیں۔ جہاں تک بات پاکستان کی بقا کے حوالے سے ہے تو آپ کا خدشہ مبنی بر حقیقت نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے ہر شعبے کی طرح پاکستان کا دفاع بھی آہنی ہاتھوں میں ہے اور کوئی ان آہنی ہاتھوں سے ان ذمہ داریوں کے اختیارات کو چھین نہیں سکتا۔

آپ پاکستان کی بقا کے بارے میں بے فکر رہیں۔ انڈیا نے اگر جارحیت کی تو ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں۔ دراصل آپ پاکستان میں نہیں ہیں اس لئے آپ کو پاکستان انتظامیہ کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں علم نہیں ہے۔ پاکستان تو ترقی کر رہا ہے، مضبوط ہو رہا ہے۔ یہ پاکستان کے خلاف ”ففتھ جنریشن وار“ شروع کرنے والوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پاکستان کی بقا کو خطرہ ہے۔ آپ اطمینا ن رکھیں کہ فوج حکومت کے پیچھے ہے اور تاریخ میں پہلی بار دونوں ایک پیج پر ہیں۔ آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں۔ میں ترجمان دفتر خارجہ کو ہدایت کروں گا کہ وہ کسی طرح آپ کو مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی کشمیر پالیسی کے بارے میں بریفنگ دے سکے تا کہ ان اہم امور سے متعلق آپ کی معلومات ”اپ ٹو ڈیٹ“ ہو سکیں۔

یہ آپ کی نیک نیتی ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ ”پاکستان کو کل جماعتی پارلیمانی میٹنگ طلب کرنی چاہیے“۔ میری حکومت کے تمام اتحادی میرے اقدامات اور میری پالیسیوں سے خوش ہیں اور مطمئن ہیں۔ اگر آپ کا اشارہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے اپنے دور حکومت میں پاکستان کو بری طرح نقصان پہنچاتے ہوئے کھوکھلا کر دیا۔ ان کی کرپشن سے پاکستان دیوالیہ ہونے کو پہنچ چکا تھا۔ میں کشمیر کے عظیم مقصد کے لئے کل جماعتی پارلیمانی میٹنگ طلب کرنے کو تیار ہوں لیکن مشکل یہ ہے کہ اپوزیشن رہنما اس میٹنگ میں بھی ”این آر او“ مانگنے لگ جائیں گے اور آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ کرپٹ سیاستدانوں کو میں نے ”این آر او“ کسی صورت نہیں دینا ہے۔

گیلانی صاحب، آپ نے لکھا ہے کہ ”حکومتی سطح پر کچھ کارروائی عمل میں لانے کی ضرورت ہے“، آپ اس بارے میں اطمینا ن رکھیں، میں اپنے وعدے کے مطابق کرپٹ سیاستدانوں کو رولاؤں گا بھی اور ان کی چیخیں بھی نکلواتا رہوں گا، اس بارے میں کوئی کمپرومائیز نہیں ہوگا۔

اگر آپ کا اشارہ کشمیر کے بارے میں حکومتی سطح پر کچھ کارروائی عمل میں لانے کی طرف ہے تو آپ نے خود اقوام متحدہ میں میری تقریر کی تعریف کی ہے، کیا میری تقریر میں کوئی کسر باقی رہ گئی ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا نے 5 اگست سے اب تک مسلسل کرفیو لگا رکھا ہے اور آپ کو بھی قید کر رکھا ہے، اس لئے ہو سکتا ہے کہ آپ تک میرا وہ انقلابی اعلان نہ پہنچا ہو کہ جس میں، میں نے خود کو کشمیریوں کا ترجمان اور کشمیریوں کا وکیل قرار دے دیا ہے۔ اب اور کیا چاہیے آپ کو؟

گیلانی صاحب، آپ بھی بار بار ایک ہی بات کرتے ہیں، میں تو اب تک ہر کسی سے پوچھ رہا ہوں کہ حکومت کشمیر کے لئے کیا کرے؟ لیکن کوئی جواب ہی نہیں دیتا ہے۔ میری انقلابی حکومت کے مخالفین بس مخالفت برائے مخالفت میں تکرار کرتے جاتے ہیں کہ حکومت کشمیر پر کچھ کرے لیکن کیا کرے؟ یہ کوئی نہیں بتاتا۔ آپ بھی حکومتی سطح پر کچھ کارروائی عمل میں لانے کی بات کر رہے ہیں لیکن آپ بھی یہ نہیں بتاتے کہ حکومت کیا کرے؟

آپ نے خط میں ایک ایسی بات لکھی ہے جو عالمی قوانین کی رو سے خطرناک ہو سکتی ہے کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں، شملہ سمجھوتے، اعلان لاہورکو ختم کرنے کا اعلان کرے۔ ہم تو ہندوستان سے امن کی بات کرتے ہیں اور امن کے سوا کچھ نہیں چاہتے ہیں۔ ہم نے تو امن کی چاہ میں انڈیا کے ساتھ کرتار پورہ کالیڈور کھولا ہے اور میں نے میڈیا میں ایسی خبریں بھی دیکھی ہیں کہ جس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل بحال ہو سکتے ہیں۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پہ تھپڑ مارے تو دوسرا تھپڑ کھانے کے لئے اپنا دوسرا گال آگے کر دو۔ انڈیا کہے گا جنگ تو ہم کہیں گے امن، انڈیا کرے گا جنگ تو ہم کریں گے امن، صرف امن اور امن کے سوا کچھ نہیں کریں گے۔

آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”ایل او سی“ پر انڈیا کی طرف سے باڑ لگائے جانے کے معاہدے کو بھی از سر نو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ میں وہ معاہدہ ڈھونڈ کر اس کو پڑھوں گا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ معاہدہ جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا، میرا اس معاہدے کے ہونے میں کوئی کردار نہیں تھا، اس لئے یہ بات اسی کو کہیں جس نے ایسا کیا تھا۔ گیلانی صاحب، آپ کویہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ انڈیا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے اور ”ایل او سی“ پر فائرنگ اور گولہ باری بھی کر رہا ہے۔ میں نے ہتھیار لے کر مقبوضہ کشمیر جانے والوں کو کشمیریوں اور پاکستان کا دشمن قرار دے دیا ہے لیکن ابھی انڈیا کو اس پر یقین نہیں آ رہا، جونہی یقین آیا تو باہمی اتفاق سے ”ایل او سی“ پر باڑ کی تعمیر کے معاہدے پر از سر نو دیکھا جا سکے گا۔

گیلانی صاحب، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اقوام متحدہ میں جانا کتنا مشکل ہے، چین کی معاونت سے سلامتی کونسل کا اجلاس تو منعقد ہوا تھا اور میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں زبردست تقریر بھی کر دی تھی۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ میں کشمیر کے لئے کتنا فکر مند ہوں، جمعہ کے دن کالی پٹیاں بھی بازو پہ باندھیں، سرکاری اخراجات پر بہت سے کشمیر مارچ بھی کرائے، میڈیا میں روز بیانات بھی دیتا ہوں، لیکن میری توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے پاکستان میں آزادی مارچ شروع کیا گیا ہے۔

آپ سے درخواست ہے کہ پاکستان کو مدینہ ریاست بنانے کی میری کوششوں کاساتھ دیں۔ انشا اللہ ہم مل کر پاکستان کو کرپٹ سیاستدانوں سے پاک کر کے مدینہ ریاست کا ہدف حاصل کر لیں گے۔

میں آپ کو مشکل کشائی کے لئے چند وظیفے پڑہنے کے لئے بھیجوں گا، یہ میرے آزمودہ وظیفے ہیں، آپ بھی مطلوبہ تعداد میں پڑہیں تو ضرور فائدہ ہو گا۔

آپ کا مخلص

عمران خان

منتخب وزیر اعظم پاکستان

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •