پنجاب کے سرکاری سکولوں میں بچوں پر قیامت ڈھائی جارہی ہے


موسمِ سرما میں پنجاب بھر کے تمام گرلز سرکاری سکولوں کے تدریسی اوقات صبح 8 : 13 بجے تا 2 : 15 بجے اور بوائز سکولوں کے تدریسی اوقات صبح 8 : 30 بجے سے 2 : 30 بجے تک ہیں۔ موسمِ سرما میں ساڑھے سے بڑھا کر کل وقت 6 گھنٹے کر دیا جاتا ہے۔ جب کہ دیگر تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے تدریسی اوقات کم ہوتے ہیں بالخصوص چھوٹی کلاسز کے سٹوڈنٹس کے لئے۔ اور، KG، PG، PREP اور کلاس ون سے فائیو 5 تک کے بچے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔

پھر عموماً پرائیویٹ سکولوں میں زیرِ تعلیم بچے بھی ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو صاحبِ حیثیت یا کم از کم متوسط ہوتے ہیں۔ اور ان کے والدین میں اکثر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جنہیں بچے کی ضروریات کا ادراک بخوبی ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، ضروریات اور مستقبل سے متعلق کافی conscious ہوتے ہیں۔ ان کے بچوں کی کم از کم دو یونی فارمز تو یقیناً ہوتی ہیں۔ بچے اچھی طرح تیار کر کے بھیجیں جاتے ہیں۔ سکول بیگز کو چیک کیا جاتا ہے۔ ایریزر، لیڈ پینسل، شاپنر، نوٹ بکس، بکس وغیرہ مکمل کرکے بھیجا جاتا ہے۔ رات کو ہوم ورک خود کروایا جاتا ہے یا اس کے لئے ٹیوٹر کا انتظام کیا جاتا ہے۔

پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کے ساتھ lunch box ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ اور پھر یہ گھر بھی وقت پر لوٹ آتے ہیں۔ چھوٹے بچے قریباً 11 : 00 بجے سے 12 : 00 بجے کے درمیان واپس گھر آجاتے ہیں۔ لیکن سرکاری سکولوں میں ننھے منے بچوں کو 2 : 15 گرلز اور بوائز سکولوں میں 2 : 30 بجے تک ٹھہرنا پڑتا ہے جو ایک بہت بڑی اذیت سے کم نہیں ہے۔ ان بچوں کے سکول اوقات سے متعلق ہیڈماسٹر، ہیڈ مسٹرس تو کجا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی، ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر (ایجوکیشن) حتیٰ کہ سیکریٹری ایجوکیشن بھی ایک مجاز اتھارٹی نہیں ہے۔ یہ کام محض پنجاب حکومت کی صوابدید اورحم و کرم پر ہے۔

یہ بچے غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اکثر و بیشتر تو انتہائی کسم پرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے والدین غریب کسان، مزدور وغیرہ ہوتے ہیں اور مائیں یا تو سارا دن کھیتوں، بھینسوں کے کام ( چارا لانا، پانی پلانا وغیرہ) میں مصروف رہتی ہیں یا پھر کسی دکان یا مزدوری میں۔ انہیں نہ تو بچے کی تعلیمی سرگرمیوں کا ادراک ہے اور نہ اس کی اہمیت اور ضرورتوں کی سمجھ بوجھ حاصل ہے۔ ان والدین کو ہوم ورک کا کچھ پتہ نہیں ہوتا ناں اس کے کروانے کا کوئی انتظام کیا جاتا ہے۔

سکول بیگ چیک ہی نہیں کیا جاتا اور پوری کلاس سے پوچھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ سوائے ایک دو کہ کسی کے پاس پنسل، ایریزر وغیرہ مکمل نہیں ہیں۔ ریسیس (ادّی چھٹی) کے دوران ایک دو بچوں کے پاس ایک چھوٹے کپڑے میں بندھی ایک سادہ روٹی ہوتی ہے جس کو فولڈ کرکے اندر سالن یا اچار رکھا ہوتا ہے۔ باقی بچے بھوک اور طویل تدریسی دورانیے کی اذیت سے دوچار ہورہے ہوتے ہیں۔ اس بے چینی اور کرب کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ریسیس کی گھنٹی Bell بجنے پر وہ بڑی آس امید لے کر وہ دوڑے دوڑے گیٹ پر آتے ہیں لیکن سکول انتظامیہ کے سخت احکامات کے پیشِ نظر گیٹ کیپر (چوکیدار) انہیں دھتکار دیتا ہے۔

سکول انتظامیہ کو اس کا شدت سے احساس ہوبھی تو ایم ای صاحب کی تلوار اسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ (ایم ای ایک ریٹائرڈ فوجی حوالدار ہے جو سکولوں میں تعلیمی، تدریسی اور انتظامی سرگرمیوں بشمول صفائی اور اینٹی ڈینگی میئرز کی انسپیکشن کرتا ہے۔ 16,17,18 ویں گریڈ کا ٹیچر بھی اس کے لہجے اور مزاج کو خوش دلی سے برداشت کرنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ اس کے خوف سے انتہائی مجبوری کے عالم میں بھی اساتذہ کو ان کی استحقاقیہ رخصت سے محروم کرنے کی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے ) ۔ پھر یہ بچے کبھی کسی اور کبھی کسی ٹیچر کے پاس چھٹی لینے جارہے ہوتے ہیں۔

میری استدعا ہے کہ کم از کم پانچویں کلاس تک کے بچوں کے تدریسی اوقات کو categorically کم کیا جائے اور انہیں بہت تھوڑے وقت کے لئے سکول میں رکھا جائے تاکہ وہ تدریسی عمل میں دلچسپی سے حصہ لے سکیں۔ اس طرح کی گھٹیا پالیسیوں سے انہیں دانستہ طور پر تعلیم کے عمل سے بیزار نہ کیا جائے۔ اربابِ اقتدار اور افسرشاہی سے کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ کیا وہ اپنے بچوں کو ایسے ماحول کے حوالے کرسکتے ہیں۔ تعلیم و تدریس میں جو بے شمار کجیاں ہیں وہ اپنی جگہ مسلم لیکن کم از کم ان پر اس قسم کا ذہنی و نفسیاتی اذیت تو نہ لادو۔ مساوات اور برابری کے نعرے بلند کرنے والے پیشہ ور سیاست دانوں کو اگر ان غریب عوام کے بچوں سے ذرا بھی دلچسپی ہے تو اس پالیسی پر ضرور نظرثانی فرمائیں۔

Facebook Comments HS