پنجابی زبان اور اس سے ہمارا نہ ختم ہونے والا رومانس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم پیدا ہوئے پنجاب میں، تعلیم ہم نے حاصل کی اردو زبان میں، داخلہ لیا ایم اے انگلش میں اور ماں سے بچپن سے لے کر ان کی سوگوار موت تک بات کی صرف اور صرف پنجابی زبان میں یہ تو پھر یہ کیا برمودا مثلث ہے جو صرف ہم پنج پانیوں کے واسیوں کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ کوئی سوجھوان اس بجھارت کا تشفی آمیز جواب نہیں دے سکا بلکہ کسی نے اس سوال کی نوعیت کو سمجھا ہی نہیں۔ کیوں کہ آر بھی بیلا ہے اور پار بھی بیلہ اور بیچ میں ہے پنجابی زبان کی جھگی۔

آخر سوجھوان کو زیادہ سر کھپانے اور سمجھنے یا ٹامک ٹوئیاں مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب آپ خود ہی قاتل اور خود ہی مقتول ہوں تو کیس اپنی عدالت میں ہی لڑنا بنتا ہے اور منصف کے فرائض بھی خود ہی انجام دینے پڑتے ہیں۔

کیا پنجابی اپنی شناخت سے محروم ہو چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک پنجابی بچے کی وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دوسری یا تیسری جماعت کے نصاب میں شامل مشہورِ زمانہ کہانی پیاسا کوا سنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ وڈیو دیکھ ہر پنجابی ایک ایسے کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کی انتہا کا خود اسے اندازہ نہیں ہے۔ وہ بچہ ہکلا ہکلا کر اردو میں یہ کہانی یاد کر کے استاد کو سنا رہا ہے یا ہم تمام پنجابیوں کو سنا رہا ہے کہ پنجابیو کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے۔ جب بچہ کہانی کے اختتام پر پہنچتا ہے کہ کوا کنکریاں لا کر گھڑے میں ڈالتا ہے اور پانی پی کر اڑ جاتا ہے اس وقت تو وہ بچہ ایسی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ نہ جائے رفتن و پائے ماندن کے مصداق آخر میں کہتا کہ ”کوا ٹھکریاں لبھدا اے پانی پیندا اے تے اڈ گیا“۔

یعنی کوا کنکر ڈھونڈتا ہے پانی پیتا ہے اور اڑ جاتا ہے۔ اس سے قبل ایک اور وڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ایک معصوم پنجابی بچہ اردو میں گنتی سنانے کی کوشش میں دوچار اور لاچار نظر آتا ہے۔ وہ اکسٹھ باسٹھ تریسٹھ کی بجائے انتہائی آسانی اور سرعت سے اکاٹھ باٹھ تریٹھ کہہ لیتا ہے مگر اردو گنتی اس کی زبان سے ادا نہیں ہو پاتی۔

اس وقت خود اپنے ملک کے باقی تینوں صوبہ جات میں وہاں کی مادری زبان ذریعہ تعلیم ہے مگر یہاں خاص قسم کی درسگاہوں میں پنجابی بولنا تک ممنوع ہے اور اس حکم کی خلاف ورزی پر سکول سے اخراج کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور جرمانے کی نوید بھی سنائی گئی۔ عجب ستم ظریفی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود یہاں مادری زبان میں تعلیم ممنوع ہے۔ کہا جاتا ہے اگلے سو سالوں میں دو ہزار زبانیں ختم ہو جائیں گی اگرچہ اس کا فوری خدشہ پنجابی زبان کو درپیش نہیں ہے مگر کیا پیش بندی کی بھی اجازت نہیں ہے۔

کیا تیرہ کروڑ لوگوں کی زبان یونہی موت کے گھاٹ اتر جائے گی۔ جس طرح تہذیبیں چھوٹی اور بڑی نہیں ہوتیں بلکہ اپنی ترتیب میں متنوع ہوتی ہیں بعینیہ کوئی زبان چھوٹی بڑی نہیں ہوتی بلکہ متنوع ہوتی ہے۔ تسلیم کہ انگریزی اس وقت دنیا کی حاکم زبان ہے مگر کیا چین کے لوگ اپنی مادری مندری زبان میں تعلیم حاصل نہیں کر رہے اور کیا چالیس کروڑ ہسپانوی زبان بولنے والے اس زبان کو بھول جائیں۔

سچ تو یہ ہے جب 1947 میں ”مُسلے“ اور ”سکھڑے“ بوجوہ نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے، ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگے اور جب کٹی پھٹی لاشیں لاہور سے امرتسر اور امرتسر سے لاہور بھری بوگیوں میں آنے لگیں پنجابیوں نے خود اپنی شناخت کی محرومی کی بنیاد رکھ دی تھی۔ پنجابی جغرافیائی طور پر تقسیم ہوا ہی تھا نظریاتی طور پر علیحدہ ہو گیا۔ مشرقی پنجابی کئی ریاستوں میں تقسیم ہو کر بھی اس کرب اور تکلیف سے دوچار نہیں ہوا جس سے مغربی پنجابی ہوا۔

ہمارا پنجاب پاکستانی کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ صوبہ اپنی نہایت میں قدیم بھی ہے اور عظیم بھی۔ یہ قدیم روایت اور کلچر کا جنم استھان ہے اور ویدوں میں اس پنجابی کے ساڑھے چار سو سے زائد شعرا کا کلام موجود ہے اور ثانیاً پانینی جو سنسکرت زبان کی گرائمر کابانی تھا اسی پنجاب کا رہنے والا تھا مگر آخر کیا وجہ ہے کہ پنجابی خود اپنی زبان کو own کرنے میں متاّمل ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ پنجابیوں کے لیے پنجابی ذریعہِ تعلیم کی بات 1909 میں یعنی ایک صدی اور ایک عشرہ قبل پنجاب یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ جناب چیٹر جی جو بذاتِ خود بنگالی تھے نے کی تھی تو یہاں وہ طوفان اٹھا جو ہمارے باپ داداٶں نے ہی اٹھایا تھا۔ یوں ہمارے باپ دادا اسے اردو کی طرح متنازعہ بنانے میں کامیاب ہو گئے کہ اصل میں یہ عربی رسم الخط کو چھوڑ کر سنسکرت کے الفاظ یا گور مکھی رسم الخط کے لیے بطور سازش کیا جا رہا ہے۔

ہمارا اپنا سابقہ آدھا بھائی بنگلہ دیش کب سے اپنے سکولوں میں بنگالی زبان ہی ذریعہِ تعلیم نافذ کیے ہوئے ہے جو مذہبی زبان یعنی عربی ہے اس کی تعلیم میں بھی وہ ہم سے آگے ہیں یہاں صرف رسم الخط کی وجہ سے ہمارے اجداد نے پنجابی زبان میں تعلیم کی مخالفت کی تھی اسی پر بس نہیں میاں طفیل محمد نے اسے گنواروں کی زبان کہا تھا اور یہاں کی اشرافیہ نے اس نظریے کا سہارا لے کر کہ اردو پنجابی زبان کی ترقی یافتہ شکل ہے اسے اپنی آل اولاد کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔ اب ہماری آل اولاد از خود اس سے دور ہو گئی ہے تو ان کا ماں بولی سے کیا رومانس ہو سکتا ہے۔

ہمارے پرائمری سکولوں کے بچے نصاب میں شامل اسماعیل میرٹھی اور حالی کی نظمیں پڑھ تو لیتے ہیں مگر سمجھ نہیں پاتے۔ ان کی بجائے اگر بلھے شاہ شاہ حسین یا فی زمانہ میں لکھی ہوئی پنجابی زبان میں لکھی ہوئی نظمیں غزلیں اور افسانوی ادب نہ صرف وہ پڑھ سکتے ہیں ایک دو دفعہ پڑھنے سے یاد بھی کر سکتے ہیں، اس کا مطلب بھی سمجھ سکتے ہیں اور اپنی زبان سے محبت کا سبق سیکھ بھی سکتے ہیں اور اپنا جوہر بھی ظاہر کرنے کی صلاحیت میں اضافہ بھی کرنے کے اہل ہیں۔

زبان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ اس زبان کے ادیب ہوتے ہیں مگر آزادی کے بعد اردو زبان کے صفِ اول کے ادیب تقریباً سارے پنجابی الاصل ہیں خواہ یہ فیض ہوں ساحر ہوں وزیر آغا، میرا جی، مجید امجد ہوں، ن م راشد یا منٹو۔ سب اردو کی زلف کے اسیر ہوئے ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے اور پنجابی زبان کے پاس پیش کرنے کے لئے گستاخی معاف استاد دامن جیسے لوگ رہ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •