اسمِ بامسمٰی کشمیری خاتون پروینہ آہن گر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروینہ آہن گر کون ہے؟ اس کو بی بی سی نے گزشتہ ماہ سو متاثر کن خواتین کی فہرست میں بھلا کیوں شامل کیا ہے؟ اس کی جدوجہد کا جائزہ لینے کے لیے آئیے انتیس سال پیچھے چلتے ہیں۔ یہ 1990 کے وہ دن تھے جب بھارتی فوج اور حریت پسندوں کے درمیان تصادم اپنے عروج پر تھا۔ فوجی جس گھر میں چاہتے گھس جاتے اور جسے چاہے اٹھا کر لے جاتے۔ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ ٹھہر نہ پاتی۔ وحشت اور دہشت کی ایسی ہی ایک رات سری نگر میں پروینہ آہن کے گھر پر بھی اتری۔

اس کا بڑا بیٹا جاوید احمد آہن گر اپنی کتابیں سمیٹ کر سوچکا تھا۔ پروینہ آہن گر کے پڑوس میں جاوید احمد بٹ نامی ایک کشمیری حریت پسند کی رہائش بھی تھی۔ 18 اگست کی رات بھارتی فوجیوں نے محلے میں آکر زور زور سے جاوید نام پکارنا شروع کردیا۔ نیند کے غلبے میں پروینہ آہن گر کے بیٹے جاوید نے جب یہ نام سنا تو گھبراہٹ اور خوف میں کچھ سوچے سمجھے بغیر کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی اور سیدھا بھارتی فوج کے نرغے میں جا پھنسا۔

یہ وہ آخری رات تھی جب پروینہ نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔ اگلی صبح وہ بھاگم بھاگ تھانے پہنچی اور بیٹے کی گم شدگی کی رپورٹ درج کروائی، جہاں اسے یقین دلایا گیا کہ اس کا بیٹا مغالطے میں اٹھایا گیا ہے، اس لیے جلد رہا کردیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس حادثے نے پروینہ آہن گر کی زندگی مکمل تبدیل کردی۔ صدمے نے اسے باقی دو بچوں کی ذمہ داری سے بھی غافل کردیا۔ ہر طرف مایوسی کے اندھیرے بادلوں کے سوا کچھ نہ تھا، پھر بھی بیٹے کی تلاش کے لیے اٹھنے والے پروینہ کے قدم رکے نہیں بلکہ اور تیز ہوتے چلے گئے۔ تھانے، جیل، عدالت، جو جو دروازے وہ بجا سکتی تھی، اس نے بجائے، لیکن بیٹے کو دوبارہ نہ دیکھ سکی۔ بیٹے کی گم شدگی کے بعد کے تیرہ سال اس کی تلاش میں ایسی سخت جدوجہد میں گزرے کہ پروینہ کے پیروں میں سوجن رہنے لگی اور دن کا کھانا اس پر حرام ہوگیا۔

اس طویل جدوجہد نے پروینہ آہن گر کو ایسے سیکڑوں والدین سے ملوایا جو اسی کی طرح اپنے گم شدہ بچوں کی راہ تک رہے تھے۔ گم شدگی موت سے زیادہ اذیت ناک چیز ہے، جس پر گزری بس اس درد کو وہی محسوس کر سکتا ہے۔ پروینہ کی طرح ان تمام کشمیری والدین کو بھی نہیں معلوم تھا کہ ان کے بچے کہاں اور کس حال میں ہیں؟ زندہ بھی ہیں یا مر گئے؟ جلد ہی یہ سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔ ان کو ایک ساتھ جوڑنے والا وہ درد تھا جسے سب یکساں طور پر جھیل رہے تھے۔

پروینہ آہن گر نے سری نگر میں واقع اپنے گھر میں باقاعدگی سے میٹنگز منعقد کرنی شروع کردیں۔ کچھ دن بعد سری نگر کی سڑکوں اور بازاروں میں احتجاج بھی شروع کردیا۔ 1994 میں پروینہ نے Association Of Parents Of Disappered Persons کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھی۔ یوں تو گم شدہ کشمیریوں کی کوئی واضح تعداد کسی کی پاس موجود نہیں لیکن پروینہ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد یقیناً ہزاروں میں ہے۔ اس تنظیم کے تحت پروینہ تمام مسنگ پرسنز کے کیسز کو عدالت میں بھی لے کر گئی، لیکن ان پر آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس کے باوجود پروینہ آہن گر نے ہمت ہاری اور نہ وہ پیچھے ہٹی۔ سن 2000 سے پروینہ نے ان کیسز کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا شروع کردیا۔ فلپائن، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، جنیوا اور لندن کے دورے کیے اور اس میں اپنا موقف اور مطالبہ پیش کیا۔ پروینہ کہتی ہیں کہ یہ جدوجہد ہر گز آسان نہیں، لیکن میں اپنی آخری سانس تک بیٹے کی بازیابی کے لیے کوششیں کروں گی۔

کشمیر میں اپنے بچوں کی راہ تکتے تکتے اب تک جانے کتنے والدین قبر تک جا پہنچے ہیں۔ پروینہ آہن گر کا عزم ہے کہ وہ ان والدین کی جدوجہد رائیگاں نہیں جانے دینے دیں گی بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کے بچوں کا مقدمہ بھی خود لڑیں گی۔

اس وقت کشمیر کا مسئلہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر کشمیری اس خوف میں جی رہا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ پروینہ کا کہنا ہے کہ مجھے ہر لمحے اب اس بات کا خوف رہتا ہے کہ جاوید کی طرح اگر میرا دوسرا بیٹا یاسر بھی چلا گیا تو کیا ہوگا؟ پروینہ کے بیٹے جاوید سمیت 1997 سے اب تک کشمیر میں غائب کیے جانے والے افراد کی فائلیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرتے ہوئے غائب کردی گئی ہیں، لیکن پروینہ اب بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

بھارتی انتظامیہ کی طرف سے پروینہ کو بے شمار دھمکیاں دی گئیں، اسے پیسے لے کر پیچھے ہٹنے کی پیشکش کی گئی، غلط الزامات لگائے گئے، اسے اپنے باقی بچوں سے غافل ایک بدترین ماں کہا گیا، اس کے مشن کے خلاف غلط افواہیں پھیلائی گئیں، لیکن پروینہ آہن گر نہ بکی اور نہ جھکی۔ اس نے خود کو اسم ِ بامسمٰی ثابت کر دکھایا۔ ہر دھمکی اور پیشکش کے آگے ڈٹ کر بس ایک ہی سوال کرتی ہے کہ ظالمو! یہ بتاؤ میرا بیٹا کہاں ہے؟

پروینہ آہن گر نہ کوئی مصلح ہے، نہ سیاست داں۔ وہ تکلیف میں ہے اور ہزاروں لوگوں کے ساتھ اپنے دکھ کو بانٹ رہی ہے۔ لیکن اس کا مشن اب صرف اپنے بیٹے جاوید کی رہائی نہیں بلکہ ان ہزاروں کشمیریوں کی رہائی ہے جو بنا جرم کے غائب کردیے گئے ہیں۔ پروینہ آہن گر کا کہنا ہے کہ اگر آج بھارتی حکومت کہے کہ وہ میرا بیٹا مجھے لوٹا رہے ہیں تو میں انکار کردوں گی، کیوں کہ اب مجھے پہلے باقی گم شدہ کشمیری چاہیے اور بعد میں اپنا بیٹا۔

پروینہ کو اگر دنیا کی سو متاثر کن خواتین کی فہرست میں شامل کیا ہے تو بے جا نہیں کیا گیا۔ بے شک وہ عزم، حوصلے اور جدوجہد کا ایک پورا باب ہے لیکن اہم سوال تو یہ ہے کہ کشمیر میں جاری بربریت باقی دنیا کو دکھائی کیوں نہیں دے رہی؟ بھارت کی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری ان کو مسلسل نظرانداز کیوں کر رہی ہے؟ کشمیر کا دکھ کسی کو نظر کیوں نہیں آتا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •