جمہوری کہکشاں اور بلیک ہول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں جمہوریت ہر دس سال کے بعد بلیک ہول میں گر جاتی ہے۔ پھر نئے سرے سے ایک کہکشاں سجا ئی جاتی ہے۔ نیا نظام شمسی ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس نظام شمسی میں ایسے ستارے ترتیب سے لگائے جاتے ہیں کہ پانچ چار سال میں کئی ستارے تو بقا کی منزل پالیتے ہیں مگر وہ چاند جس کے جھرمٹ میں ستارے ترتیب پائے ہوتے ہیں، اسے گرہن لگ جاتا ہے، کبھی آدھا تو کبھی پورا۔

لیاقت علی خان سے محترمہ فاطمہ جناح اور ذولفقار علی بھٹو سے بے نظیر تک بہت سے چاند، اسی بلیک ہول میں گر چکے۔ نواز شریف وہ واحد سیاستدان ہے جسے کئی بار گرہن لگا مگر وہ ابھی تک اپنی چکا چوند سے کئی آنکھیں خیرہ کیے ہوئے ہے اور مکمل اندھیرے میں ڈوبنے سے انکاری ہے۔

اس ملک کے لوگوں کی آنکھیں ایسے نظام شمسی کی عادی ہو چکیں جہاں دوسری دنیاوں سے، دور پرے کی کہکشاوں سے عارضی طور پر چاند ستارے منگوائے گئیے۔ کئی مہینے اور بعض اوقات کئی کئی سال وہ اس ملک کے افق پر اپنی پراسرا روشنی پھینکتے رہے اور ملک کو اندھیرے کی نذر کرکے، واپس اپنے وطن، اپنی کہکشاں کی طرف لوٹ گئے۔

اس ملک کی جمہورئیت نے ایسے ایسے تماشے دیکھے کہ آمرئیت اور شہنشاہی نظام بھی اس کے آگے شرمانے اور منہ چھپانے لگا۔ یہاں ایک سو ننانوے ممبر اسمبلی رکھنے والے لیڈر کو غدار قرار دے کر جیل ڈال دیا گیا اور ایک سیٹ والے نورالامین کو ملک کا وزیر اعظم بنادیا گیا۔

حیرت و استعجاب سے بھرے اس ملک کے بارے دنیا کے بڑے بڑے مفکر پریشان ہیں کہ اس ملک کا نظام حکومت، نظام شمسی اور سرکاری کہکشاں کون ترتیب دیتا ہے؟ اس کے روز و شب، اس کے دن، مہینوں اور وقت کی رفتار کا تعین کون کرتا ہے۔ اس ملک کا کوئی زمینی خدا موجود ہے اور ہے تو کہاں ہے، جمہوری نظام کے تحت اس کا نام وزیر اعظم ہے یا صدر ہے یا پھر کیا ہے؟ حیرت و استعجاب میں ڈوبے اس پر اسرار نظام کی خوبصورتی دیکھیں، اس کے سب سے بڑے دشمن ملک کے عوامی سربراہ کو یہ ہی نہں پتا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں، امن کا راستہ تلاش کرنا ہو یا جنگ کی دھمکی دینی ہو تو کس کو دے۔ اسی لئے وہ وزیر اعظم پاکستان کا فون سننے سے انکاری ہے۔

ہمارے کاروباری طبقے اس بات سے پریشان ہیں کہ معاشی ترقی کے لئے اگر وہ سرمایہ لگائیں تو کون اس کی ضمانت دے گا۔ یہاں کی سپریم عدالت سرمایہ دار کو طلب کرکے حکومت کے لئے تاوان وصول کرتی ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ کار آرمی چیف سے مل رہے ہیں جس کی مدت ملازمت صرف تین سال ہے۔ جبکہ سرمایہ دار کا لگایا کارخانہ بیس پچیس سال تو چلتا ہے۔ تین سالہ ملازمت والا پچیس سالہ سرمایہ کاری کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے۔

لوگ انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، یہاں منصف اعلیٰ ہسپتالوں اور ہوٹلوں کا نظام درست کرتا نظر آتا ہے۔ ایک عدالت ایک لکھاری کی ضمانت لینے سے ایک دن قانونی انکار کرتی ہے، اگلے چھٹی کے روز وہی عدالت دوبارہ لگتی ہے اور کسی نادیدہ قوت کے اسرار پر ملزم کو جیل سے بلا کر رہائی دی جاتی ہے۔ ایک دن انہی ہاتھوں میں ہتھکڑی اور دوسرے دن پھولوں کے گجرے پہنائے جاتے ہیں۔ عدالتوں میں استادوں کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا جاتا ہے تو کسی ملزم کی موت پر اس کے مردہ ہاتھوں کو زنجیر پہنائی جاتی ہے۔ کسی کو کچھ علم نہیں کہ فریاد کہاں کریں، خیرات کس در سے مانگیں، احتجاج کس دفتر کے باہر کریں اور کس وزیر کو باتدبیر سمجھیں کہ وزیروں کا ٹڈی دل ہے جو ملک پر حملہ آور ہے اور فصل گل ہے کہ رحم بھری نظروں سے کسی ان دیکھے، ان جانے محسن کے انتظار میں کھڑی ہے۔

یہاں کے محافظ اتنے دور اندیش ہیں کہ دشمن کو وطن سے دور پڑوسی ملک کے اندر جا کر نشانہ بناتے ہیں اور اس کی وطن کی طرف پیش قدمی روک دیتے ہیں، بھلے ان کے ہم وطن اپنے ہی گھر میں مہاجر ہو جائیں۔ ہم مہاجرین کی آباد کاری میں ماہر ہیں۔ تقسیم ہند سے یہی کام بڑی مہارت سے کرتے آئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے بہاری کراچی بلا کر آباد کرنے ہوں، سوات کے لوگوں کو ملا ریڈیو سے نجات دلانی ہو یا شمالی جنوبی وزیرستان کے مہاجروں کو ان کے اپنے گھروں کی واپسی کرانی ہو، ہم جان کی پرواہ نہیں کرتے، ۔ ان کی آباد کاری میں وسائل جھونک دیتے ہیں۔ ساٹھ ستر ہزار لوگوں کی قربانی ہمارے لئے معنی نہیں رکھتی، ہم قربانیاں دیتے رہے ہیں اور مزید قربانیوں کے لئے پرعزم ہیں، شاید یہی ہمارا مقدر ہے کہ قربانی ہم دیتے ہیں، فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے۔

آج کی دنیا مادی ترقی کے اس دور سے گزر رہی ہے جہاں انسان چاند اور مریخ پر کمند نہیں ڈال رہا، بلکہ گھر بنانے کی بات کرتا ہے۔ جہاں، انسان تو دور کی بات ہے، ایک بلی اور کتے کی جان بچانا، میڈل لینے سے افضل جانا جاتا ہے۔ دنیا ترقی کے اس مقام پر آچکی ہے، جہاں جھوٹ بولنا قتل سے بڑا گناہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں گاڑی کا ہارن اس لئے نہیں بجایا جاتا کہ اگلی گاڑی والا کہیں ڈسٹرب نہ ہو، جہاں جیل خانے بے آباد ہو چکے ہیں اور جیل خانوں کو یونیورسٹیاں بنایا جا رہا ہے۔

ہمارے ملک میں سابق وزیراعظم کو کئی کئی ماہ بغیر کسی الزام کے سزائے موت پانے والے قیدی کی چکی میں رکھا جاتا ہے۔ تین بار کے وزیراعظم کو علاج کے لئے دربدر درخواستیں کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ موت سے لڑنے والے اور بیرون ملک سے آکر خود کو قانون کے حوالے کرنے والے بیمار کو جان بچانے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جبکہ کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کے لئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جارہی ہے۔

ہمارا نظام شمسی گہنا چکا ہے۔ اس کی روشنی مدھم پڑچکی ہیں۔ راہیں تارہک ہونے لگی ہیں۔ ان تاریک راہوں میں یہ قوم مزید بھٹکنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

ہمیں اپنا جمہوری نظام شمسی نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے سورج کی تمازت کم کرنے اور چاند ستاروں کی لو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس نظام پر گرنے یا گرائے جانے والے شہاب ثاقب کم کرنے میں بچت ہو سکتی ہے۔ اچھی روشنی دینے والے ستاروں کا جھرمٹ بنانا پڑے گا۔ ان ستاروں کا انتخاب منصفانہ اور دیانتدارانہ ہوگا تو روشنی ہوگی۔ ڈر ہے، یہ جعلی کہکشاں کسی بلیک ہول میں نہ گرجائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •