عوام کو کچرا کنڈی پر پھینک دیا گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگربذریعہ قلم موجودہ حکومت کی کارکردگی پراظہار خیال کیا جائے یا پھر محتاط یا بیباک الفاظوں کا استعمال کرتے ہوئے اب تک کی حکومتی کارکردگی پر اُنھیں آئینہ دکھایا جائے تو سوشل میڈیا پر موجود حکومتی بقراطوں کی جانب سے وہ آو بھگت کی جاتی ہے کہ طبیعت ہری اور دماغ روشن ہوجاتا ہے اورتو اور اگر اپوزیشن کی برسہا برس کی کچرا کنڈی کا در کھولا جائے تواپوزیشن کے سقراطوں کی جانب سے دیسی تڑکا لگی گالیوں سے وہ سواگت کی جاتی ہے کہ اپنے خاندان کوناکردہ گناہوں کی رسوائی سے بچانے کے لالے پڑ جاتے ہیں پھر سوچ اُبھرتی ہے کہ ”ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ “

وطن عزیزکی ڈولتی و ڈوبتی معیشت، بدعنوانی سے پیدا ہونے والے گھمبیر مسائل، تباہ وبرباد ہوتے صنعتی ادارے، علاقائی اور عالمی میدا ن میں چیلنجز کا سامنا، پھران کی کوکھ سے جنم لینے والی مافیاز کا براہ راست نشانہ متوسط، غریب و غربت سے نچلی سطح کے طبقات ہی ہوتے ہیں ہمیشہ غریب ہی مارا جاتا ہے حکومتی پالیسیوں کے برے اثرات کے دُکھ اسی طبقے کو جھیلنا ہوتے ہیں۔ کیا حکومتی اقدامات کے بُرے اثرات کا شکار کبھی طاقتور طبقے رہے ہیں؟

مثلاًڈالرکا مہنگا ہونا روپے کی قدر گرنا، سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہونا، اور ان جیسے ان گنت بے رحمانہ اقدامات سے طاقتور طبقہ اشرافیہ کو کیا فرق پڑتا ہے بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ طاقتور طبقے کے لئے اس جیسی صورتحال منافع بخش کاروبار کا پیامبر ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ متوسط، غریب یا غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو بار بار یہ بھی باور کرایا جاتا ہے کہ تم پر سو ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ ہے بھائی تم کو ہی کڑوی گولی کھانی ہے۔ پھر غریب سوال کرتا ہے کہ ”آخرہم جائیں تو جائیں کہاں؟ “

دُکھ اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ تمام تر وسائل کی موجودگی کے باوجود اہلیت کے حامل پاکستانیوں کو مجبور کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں آخر کار اداروں پر سفارشی و نا اہل افراد کا قبضہ ہوگیا، اس کا اندازہ آپ اداروں کی کارکردگی سے لگا سکتے ہیں، نا اہلی کی حالت یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں بجلی کی قیمت کا تعین کرنے کا مجاز ادارہ نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 37 پیسے کا اضافہ کرکے غریبوں پہ 33 ارب روپے کا بوجھ ڈال کر بد ترین نا اہلی کا ثبوت دیا ہے اکثر اداروں کے برزجمہروں کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ جب کچھ نہ کرسکو تو تمام تربوجھ عوام کے کندھوں پہ ڈال دو کیونکہ ادارے کے کرتا دھرتا وں کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے ہوتا ہے جن کی زندگی پر اس بوجھ کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ متوسط و غریب طبقہ ماتھے کو پیٹتے ہوئے پوچھتاہے کہ ”ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ “

اخباری اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی سے ترقیاتی کاموں کے اختیارات واپس لے کر شہری انتظامیہ کے سپرد کرنے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی کا ساڑھے تین ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ ”کے ایم سی“ کے بجائے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے حوالے کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کو گزشتہ مالی سال کی چوتھی اور رواں مالی سال کی سہ ماہی کے فنڈ تا حال ریلیز نہیں کیے گئے، حد تو یہ ہے کہ کچرا اُٹھانے اور صفائی ستھرائی کے مختص 30 کروڑ روپے بھی روک لئے گئے ہیں۔

ظاہر ہے ان تمام عوام دشمن اقدامات کے سندھ حکومت کے پاس جواز بھی ہوں گے ایک طویل عرصہ سے سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے درمیان اختیارات کی جنگ جاری ہے اور صوبائی حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو کئی محاذوں پربے دست و پا بھی کردیا ہے۔ نتیجے میں ٹرانسپورٹ، سڑکیں، فراہمی و نکاسی آب اورتعمیراتی منصوبے روک دیے گئے ہیں، کراچی کو ماڈل شاہراہ بناے کا دعویٰ کرنے والوں نے گئے زمانے کے عروس البلاد کوگندگی اور کچرے کا موہنجودڑو بنا دیا ہے۔ کراچی کے شہری ہر دور میں عفریتوں سے نبرد آزما رہے ہیں اور اب بھی دامن پھیلائے بددعائیں، کوسنے اور دہائیاں دیتے ہوئے پوچھ رہے ہیں کہ ”ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ “

پاکستان اسٹیل مل کے ریٹائرڈ ملازمین 2013 سے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث جس انسانی المیے کا شکارہیں وہ ہمارے آہ وبکا ئی معاشرے میں بدنما داغوں میں ایک گہرا داغ ہے ان ملازمین کی اپنی جمع پونجی پر طبقہ اشرافیہ کے حواریوں نے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے جو ڈکیتی ماری وہ انتہائی شرمناک ہے، ملازمین کا مستقبل تاریک کرنے والے طاقتور طبقے کے سفید کالر غلاموں کے مجرمانہ فعل نے ریٹائرڈ ملازمین کو ایسے مقام پر کھڑا کردیا ہے جہاں سے اگلی منزل موت ہے، چھ سال سے زائد عرصہ گزر جانے سے لے کر اب تک واجبات کی ادائیگی، بیٹیوں کی شادی، بچوں کی اعلیٰ تعلیم جیسی دیگر خواہشات لئے ایک ہزار سے زائد ملازمین کی سسکتی روحیں اگلے جہاں کو جا بسی ہیں اور جو ساڑھے چار ہزار زندہ ہیں وہ تنہائی کی راہوں میں سسکتی زندگی گزاررہے ہیں جن کی تعداد میں یومیہ اضافہ ہورہا ہے۔

معزز سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لئے حکم تو جاری کیا لیکن انتظامیہ پاکستان اسٹیل اورحکومت نے عدالتی حکم کو ہوا میں تحلیل کردیا۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان اسٹیل انتظامیہ پر طاقتور طبقے کی ایک با اثر کمپنی نے ایک کروڑچودہ لاکھ بمع دس فیصد سالانہ شرح سودکی عدم ادائیگی کا مقدمہ دائر کیا تھا جس پرعدلیہ کے احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے ناظر نے خود جاکر اسٹیل مل کے انتظامی دفاتر کو سربہ مہر کیا اور اسٹیل مل کی منقولہ جائداد کو اپنی تحویل میں لیا۔

طبقاتی انصاف کے اس فیصلے نے چھ سال سے واجبات کی ادائیگی کے منتظر پاکستان اسٹیل کے ریٹائرڈ ملازمین میں غم وغصے اور مایوسی کی شدید لہر دوڑائی ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ بے آسرا و بے یارو مددگار متوسط و غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے نحیف و لاغر سابقہ ملازمین کیا یہ پوچھنے کا حق رکھتے بھی ہیں کہ نہیں؟ ”ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •