اہل کشمیر کو مستقل غلام رکھنا ممکن نہیں
کہی سال گزر گٰے ظالم ظلم کر کر کے تھک گے لیکن مظلوم ظلم سہ سہ کر نہیں تھکے۔ ناجانے کتنے شہیدوں کا خون قربان کرنے کے بعد آزادی کا سورج طلوع ہوگا وہ وقت دور نیں کہ پاکستانی فوج زمین بنجر ہونے پر ساری طاغوتی طاقتوں کے احکامات کو خاطر میں نا لاتے ہوے اپنے تن من دن کی بازی لگا دے گیٓ وہ وقت دور نہیں کہ حکمران وقت جہاد کو فرص قرار دیں گئے۔ وہ وقت دور نہیں کہ جب دہلی میں سبز پرچم لہراٰے گا۔ لیکن حکمران وقت کو کون بتاے کہ پیارے حبییب حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ امت کی مثال ایک جسم کی مانند ہے کہ جب جسم کے ایک حصے میں درد ہوتاہے۔
توپورا جسم جیسا وہ درد محسوس کرتا حے۔ ویسے ہی امت کسی دوسرے کا درد محسوس کرتی ہے۔ مگر افسوس آج امت سو گیٰ ہے۔ آج امت کو معاشی ترقی اور انوسٹمنت کی فکر ہے۔ آج امت کو دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں پر کیے جانے والے ظلم نظر نہیں آہ رہے آج بات اپنے اپنے ملکوں اور انفرادیت تک آہ گٰی ہے۔ آج عرب کے شہزادے عہش و عشرت کے نشے میں دت ہو گے ہیں۔ وہ اللہ کو راضی کرنے کے بجائے یہود و نصارا کو راضی کرنے میں لگے ہیں۔
جب کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے یہود و نصارا تمھارے کبھی بھی خیر خواہ نیں ہو سکتے یہاں کت کے تم دین اسلام کو چھور کر یہود ہو جاؤ یا نصارا—ناجانے آج سب کچھ پتہ ہونے کے بوجود سب کشمیر کے مسلمانوں ہونے والے ظلم کو کیوں نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ دنیا میں اگر کہیں کوہئی کتابھی مر جائے اقوام عالم ظلم ظلم کا ڈنڈورہ پیتنا شروع کر دیتے ہیں۔ آج ان کو بھی کشمیر پر ہونے والا ظلم نظر نہیں آہ رہا۔ وہ جو بات بات پے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیتے ہیں لیکن مسلمانوں پر ہوتا ظلم ان کؤ نظر نیں آتا
آج کشمیر ی قوم کا تشخص اور اس کی انفرادیت پامال ہو چکی ہے۔ امن عالم کے دعوے دار ایک طرف افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، دوسر ی طرف خطے میں افغانستان سے زیادہ خطرناک ماحول پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے، بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا یہ قدم، فلسطین میں اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں سے بھی کہیں زیادہ سنگین ترین ہے۔ پوری دنیا میں یہودی ایک کروڑ سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس سے آدھے ہی اسرائیل میں رہتے ہیں۔
وہ اگر چاہیں تو بھی عرب ممالک یا پورے فلسطین کاآبادیاتی تناسب بگاڑنہیں سکتے۔ ان کے برعکس کشمیر میں تو مقامی مسلمانوں کا مقابلہ ایک ارب 10 کروڑ بھارتی غیرمسلموں کی آبادی کے ساتھ ہے، جو چند ماہ میں ہی خطے کا آبادیاتی تناسب بگاڑ کر کشمیری عوام کو اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنا دیں گے۔ ”۔ جب بھارت، برطانوی سامراجی تسلط سے آزادی مانگ رہا تھا، تو ایک بار برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے کانگریسی لیڈروں کو مخاطب کرکے کہا:“ تم کو آزادی اس لیے چاہیے کہ دبے کچلے طبقوں اور مظلوموں پر حکومت کرکے ان کو دبادو ”
۔ بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے خاتمے کے ساتھ بظاہر کاغذوں میں ریاست جموں و کشمیر تحلیل ہو گئی ہے، مگر قانونِ قدرت تحلیل نہیں ہوسکتا۔ تاریخ کا پہیہ ساکت نہیں رہتا، یہ گھومتا ہے اور اس قوم کے لیے خاصا بے رحم ثابت ہوت۔ ہاد رکھو کے ظلم آخر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ عرب کے شہزادو یاد رکھو کے وہ وقت دور نہیں کہ تمھاری باری بھی آہ جانی ہے اور اے دنیا کے فرعونو وقت صدا ایک جیسا نہیں رہتا وہ میرا رب جس دن چاہے گا تو ابابیلوں کو حکم دے کر تم کو تہس نہس کر دے گا کیوں کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس نے سرف کن کہنا ہے فیکون پس وہ ہو جانا ہے۔


