کمائی کا طریقہ تو ڈھنگ کا ہونا چاہیے
دنیا میں پیسہ کمانے کے بے شمار طریقے ہیں۔ مختلف پیشوں سے منسلک اہلکار مختلف طریقوں سے دام اور نام کماتے ہیں۔ کچھ باعزت طریقے ہیں اور کچھ شرف آدمیت اور اخلاقیات سے گرے ہوئے انداز ہیں۔ حلال کی کمائی کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ اہلکار یا ملازم مکمل دیانتداری اور تندہی سے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرے جس کے صلے میں اسے طے شدہ معاوضہ یا اجرت ملتی ہے۔ جائز طریقے سے کمائی گئی رقم کو حلال کی اور ناجائز طریقوں سے ہتھیائی جانے والی دولت کو حرام کی کمائی کہا جاتا ہے۔
طوائف کا پیشہ قدیم ترین پیشہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پست، گھٹیا اور اخلاق سے گرا ہوا سمجھا جاتا ہے اور طوائف کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ خیر مغرب میں تو اب طوائف کے لیے بھی سیکس ورکر کی قابل قدر اصطلاح استعمال ہونے لگی ہے۔ طوائف کا ذکر یوں چلا تھا کہ اپنے حقیر پیشے کے باوجود اس کے بھی کچھ اصول، ضوابط اور کاروباری اخلاقیات ہوتی ہیں۔ پیسہ ہر ایک طرح اس کی بھی بنیادی ضرورت ہوتا ہے مگر اس کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ڈنڈی نہیں مارتی۔
اسی طرح اغوا برائے تاوان والے غنڈے بھی اپنی سفاکیت اور بے رحمانہ خصلت کے باوجود کچھ انسانی، معاشرتی اور کاروباری اخلاقیات رکھتے ہیں۔ ڈاکو، رہزن، چور اچکے، اٹھائی گیر، داداگیر اور جیب کتروں میں بھی اسفل پیشوں کے باوجود اتنی اخلاقیات بہرحال موجود ہوتی ہیں کہ وہ جانتے بوجھتے جاں بلب اور موت سے لڑتے مریض کے ساتھ اس قدر کم ظرفی اور کمینگی والا سلوک نہیں کرتے۔ جو کچھ موجودہ حکومت کسی کے اشارے پر نواز شریف کی بیماری کے ساتھ کر رہی ہے، پوری اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
چہ جائیکہ یہ سب کچھ ریاست مدینہ قائم کرنے والوں کے د عویداروں کے عہد کم ظرف میں ہورہا ہو۔ کلبھوشن کو ریلیف دینے کے لیے تو آرمی ایکٹ میں ترامیم کی جاسکتی ہیں مگر نواز شریف کو مکمل آئینی اور قانونی طریقے سے انتہائی تشویشناک حالت میں بھی علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں۔ پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
یادش بخیر یہ حقیقت ہے کہ ریاست مدینہ میں نہ کوئی سیاسی قیدی تھا اور نہ انصاف کے نام پر اس طرح بے بس مریضوں سے انتقام لیا جاتا تھا۔ اس حکومت اور اصل حکمرانوں کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ نواز شریف کی طبیعت کی سنگینی بھی سب مانتے ہیں۔ ان کا علاج ملک میں ممکن نہیں یہ بھی مانتے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلوں کے آگے بھی سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود نواز شریف کو باہر بھجوانے میں ایسے ایسے عذر تراش رہے ہیں کہ سر پیٹنے کو دل کرتا ہے۔
بلیک میلنگ اور اغوا برائے تاوان کا غالباً یہ سب سے گھٹیا ہتھکنڈے ہیں۔ کاش انہیں کوئی بتا دے کہ دنیا میں کمائی کے دو بڑے طریقے ہیں۔ ایک یہ اگر آپ میں ہمّت ہے تو آپ گن پوائنٹ پر چھین لیں۔ کمزور، ناتواں اور محتاج و معذور ہیں تو ہر روز چوراہے اور چوک بدل بدل کر چادر بچھا کر بیٹھ جائیں۔ آتے جاتے راہ گیر کچھ نہ کچھ ڈالتے جائیں گے۔ یہ دونوں طریقے معروف اور جانے پہچانے ہیں۔ اس حکومت نے بیمار نواز شریف سے پیسہ اینٹھنے کا جو تیسرا طریقہ اختیار کیا ہے تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پیسہ ضرور کمائیں مگر کوئی ڈھنگ کا طریقہ تو اپنائیں۔


