میں نے پاکستان میں کیا دیکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے 30 جون کو ملک چھوڑا تھا۔ ارادتاً واپسی کا ٹکٹ لے کے گیا تھا کیونکہ اس دروان اپنی خود نوشت کا دوسرا حصہ مکمل کرکے پبلشر کو ارسال کرنا تھا۔ چونکہ ان کا قصد اس کتاب کو دسمبر کے اواخر تک منصہ شہود پہ لانا تھا، چنانچہ نوک پلک درست کرنے کی خاطر میرا یہاں ہونا سہل تر رہتا۔ وجہ یہ کہ پہلے حصے کو اگرچہ بہت سراہا گیا لیکن اس کی املاء کے فاش سقوم مجھ سمیت سب پڑھنے والوں کو نہ صرف محسوس ہوئے بلکہ انہوں نے الجھن میں بھی ڈالا۔

خیر 26 اکتوبر کو لاہور پہنچا۔ اگلے روز مولانا فضل الرحمان اپنا آزادی مارچ لے کر چل نکلے۔ کل رات ہی دھرنے کو تمام کرکے اس عمل کے دوسرے حصے پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا گیا ہے اور دھرنے میں شامل لوگ کوچ کر گئے ہیں مگر تازہ دم ہو کر کے پھر سے میدان میں آنے کو۔

ملک کے دو بار منتخب مگر اب مجرم گردانے گئے وزیر اعظم کو بیماری کے سبب جزوی ضمانت پر رہا کیا گیا۔ موجودہ وزیر اعظم ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے پر بظاہر رضامند تھے مگر ان کے ساتھی فواد چودھری، فردوس عاشق اعوان اور فروغ نسیم جیسے وزراء ڈٹ گئے کہ ایسے تو جانے نہیں دینا، یہ سبھی وہ شخصیات ہیں جو سابق آمر پرویز مشرف کے ساتھی اور ان کے ملک سے باہر جانے کی اجازت دیے جانے کے حق میں تھے۔ لیکن پرویز مشرف کے ہی ایک ساتھی مگر معتبر سیاستدان چوہدری شجاعت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم ایسے لوگوں کی بات نہ سنیں کہیں ایسا داغ نہ لگ جائے جسے دھویا جانا مشکل ہو۔

مجرم گردانے گئے وزیر اعظم سے سات ارب روپے کا انڈیمنٹی بانڈ طلب کر رہے ہیں یعنی بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی کے مترادف مشہور کیے گئے مبینہ طور پر چرائے گئے 14 ارب ڈالر یعنی 2154000000000 کے بدلے صرف 7000000000۔ لیکن نواز شریف اس بارے میں بانڈ کیوں بھریں جبکہ وہ تو الزام سے انکاری رہے تھے اور انہیں سزا بھی محض جسے منی ٹریل کا نام دیا گیا ہے، نہ دیے جانے پر یا اقامہ پر سنائی گئی تھی۔

دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری بھی تفتیش کی غرض سے زیر حراست ہیں اور خاصے زیادہ بیمار بھی، ان کے لیے پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنائے جانے کی منظوری نہیں دی جا رہی۔

یہ دونوں شخصیات کوئی عام مجرم نہیں جنہوں نے قتل کیا ہو یا ڈاکہ ڈالا ہو، اگر ان پر الزام عائد کیے گئے ہیں تو وہائٹ کالر کرائمز کے۔ یہ دونوں کاروباری لوگ ہیں۔ کاروبار کے جو بھی پینترے استعمال کیے جاتے ہیں وہ انہوں نے بھی لیے ہوں گے۔ ان پر اربوں ڈالر چرائے جانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ جیسے رات ایک دوست نے بتایا کہ آصف زرداری نے زرعی ترقیاتی بینک کا سارا سرمایہ نکال کے دبئی منتقل کیا جسے اپنے ذاتی کاروبار میں لگا دیا۔ اگر ایسا کیا بھی گیا تو کسی قاعدے قانون کی آڑ میں ہی کیا گیا ہوگا۔ اس عمل میں کئی بڑے افسر اور دیگر عمال بھی ملوث ہوں گے۔ سب کو کیوں نہیں پکڑا جاتا۔ ثابت کیوں نہیں کیا جاتا۔

ایک عالمی معیار کا رسالہ ہے فوربز۔ وہ کئی عشروں سے دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت کا شمار درج کرتا ہے۔ ان کئی عشروں کے دوران بیرون ملک مقیم ایک آدھ پاکستان نژاد فرد کے علاوہ پاکستان کا کوئی بھی امیر شخص اس فہرست میں درج نہیں کیا گیا جبکہ یہ فہرست 60 کروڑ ڈالر والے سے شروع ہوتی ہے۔ علی زیدی جیسے لوگ کہیں گے کہ ان کی دولت کوئی قانونی تھوڑا نہ ہے، یہ تو بلیک منی تھی۔ تو بھیا بلیک منی کا آج تک کہیں بھی کوئی بھی حساب لگا پایا کیا۔

لاطینی امریکہ کے کوکین کے سمگلر، اسلحہ کے غیر قانونی سوداگر بے تحاشا امیر ہوں گے۔ ان کی دولت یا تو صندوقوں میں بند پڑی ہوتی ہوگی یا پھر بڑی بڑی کارپوریشنوں میں کسی نہ کسی طریقے سے سرمایہ کاری میں کھپائی گئی ہوگی مگر آپ ایسی دولت کو گن نہیں سکتے، اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ اندازہ تو بھیا اندازہ ہی ہوتا ہے۔

اگر نواز شریف باہر نہ جا سکے اور انہیں خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو پنجاب بھڑک اٹھے گا، اسی طرح اگر زرداری حراست میں چل بسے یا ان کی طبیعت بہت بگڑ گئی تو سندھ کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ فروغ نسیم جیسے قانون دان کی ضد کراچی میں آگ لگا سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن چھپا نہیں رہے، برملا گرتی دیوار کو دھکا دینے کی بات کر رہے ہیں، ویسے دیوار انہوں نے ہلا تو دی ہے۔ صرف ٹماٹر ہی مہنگے نہیں ہیں۔ لوگ علاج نہیں کروا سکتے۔ بچوں کو تعلیم نہیں دلا سکتے۔ 5000000 میں بچے بچی کوڈاکٹر بنوانا سب کے بس میں تھوڑا نہ ہے۔

میں اس بار آ کر کے ملک کے سیاسی اور معاشی دونوں ہی طرح کے حالات کو بدتر دیکھ رہا ہوں۔ ان دونوں عوامل کے سبب سماجی معاملات تو ویسے ہی بگڑے ہوئے ہیں اور مزید بگڑتے چلے جائیں گے۔ اوپر سے کم از کم سرائیکی وسیب میں یکے بعد دیگرے گندم، کپاس، چاول اور مکئی کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اس علاقے میں غربت اور ناآسودگی مییں اضافہ ہوگا۔ لوگ شہروں میں بھیک مانگنے جائیں گے اور پھر سٹریٹ کرائمز بھی بڑھیں گے۔ ایک مولانا فضل الرحمٰن پر بس نہیں باقی دونوں ‌بڑی پارٹیاں بھی پارلیمنٹ میں مخالفت کو شدید کرتے ہوئے، سڑکوں پر نکل آنے کی راہ بھی اپنائیں گی۔ چنانچہ اگر قبل از وقت صاف ستھرے انتخابات کرانے سے اغماض برتا گیا تو ایک بار پھر غیر سیاسی قوتوں کو جیسا کہ ان کا کہنا ہوتا ہے مجبوراً معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے ہوں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •