سپاہی کا وصیت نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے

کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا۔

پیار ی زوجہ محترمہ ”پاگھی“ میں آ ج آپ سے اپنے دل کی بات کہنے جا رہا ہوں مگر وعدہ کرو آپ میری وصیت پڑھ  کے نہ تو پریشان ہوں گی اور نہ ہی دکھی، میرے وطن عزیز کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا ہے کرپشن غداری اور سب سے بڑ ہ کر دہشت گردی کی لعنت نے میرے اس ہزاروں قربانیوں سے حاصل کیے دیس کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے آ ئے روز میرے ملک کے کسی نہ کسی شہر میں کوئی دھماکہ ہو جا تا ہے سکولوں مدرسوں عبادت گاہوں پارکوں سرکاری عمارتوں دفاتر اور عام گزر گاہوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا یا جاتا ہے کتنے ہی بے گنا ہ اور معصوم لوگ نا گہانی اموات کا شکار ہو جاتے ہیں کتنے ہی پھولوں جیسے معصوم بچے گھر سے سکول گئے پارکوں میں کھیلنے گئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے، کتنے ہی لوگ گھروں سے عید اور جمعے کی نمازیں ادا کرنے گئے اور کبھی لوٹ کے گھر نہ آئے کتنے ہی سرکاری ملازم اپنے اہل خانہ کو انتظار کی سوغات دے گئے اور کبھی پلٹ کر نہ آئے بلکہ صرف اخبارات کی سرخیوں اور تراشوں میں ان کی نامکمل تصاویر شائع ہوئیں کتنے ہی ایسے لوگ تھے جن کی شناخت بھی نہ ہو سکی، کتنی ہی اقلیتی عبادت گاہیں جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگئیں۔ کوئی فرقہ کوئی مذہب کوئی جماعت کوئی برادری کوئی قوم ان فساد برپا کرنے والوں کے شر سے محفوظ نہ رہ سکی

جب میں پارکوں اور درسگاہوں میں معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنے دیکھتا ہو ں جب خون سے لت اعضا ئے انسانی پت جھڑ کے موسم میں بکھرے پتوں کی طرح ادھر اُدھر پڑے دیکھتا ہوں تو میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ میری آنکھوں سے پانی کی جگہ خون بہنے لگتا ہے مہینوں وہ مناظر میری آنکھوں سے اوجل نہیں ہوتے زخمیوں کی چیخ و پکار میری سماعتوں سے بجلی کی کڑک کی طرح ٹکراتی رہتی ہے میرا دل کرتا ہے اپنے ہاتھ دونوں کانوں پہ رکھ کر زور زور سے چلاؤں اور دہشت گردوں کو للکار کے کہوں حرام خورو اگر جرات ہے تو سامنے آؤ چھپ کر میری قوم کے معصوم اور نہتے بے گناہ لوگوں پہ کیوں وار کرتے ہو یہ کون سا مذہب ہے جو بے گناہ لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی اجازت دیتا ہے عالمی دنیا غیر مسلم مما لک ان دل دہلا دینے والی کاروایوں خودکش حملوں کا ذمہ دا ر مسلمانوں اور مذہبی جماعتوں کو ٹھہراتے ہیں، میں ان نام نہاد امن کے جھوٹے دعویداروں سوال کرتا ہوں کہ جس مذہب کی تعلیمات میں یہ پڑھایا اور سکھایا جائے کہ راستے میں پڑا غیر ضروری پتھر بھی ہٹانے کا ثواب ملتا ہے تو وہ مذہب انسانی جانوں کے خون کے ساتھ کھلواڑ کیسے کر سکتا ہے خود کش بمبار اور ان تیار کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے میں ا ن دہشت گردوں سے پوچھتا ہو ں کس مذہب کا تم پرچار کر رہے ہو کس خدا کے تم پیروکار ہو پھر میں اپنے آپ کو یہ کہہ کر ناکام تسلی دینے کی کوشش کرتا ہوں کہ ان کا نہ کوئی مذہب ہے نہ دین یہ تو کٹھ پُتلی ہیں جو کچھ مکار لوگوں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں یہ تو ہندو بنیئے کے زر خرید کرائے کے قاتل ہیں۔

پاگھی آپ کو جان کر خوشی ہو گی کہ میں ایک خودار غیرت مند اور بہادر پولیس افسر ہوں میں نے کبھی بھی اپنی خوداری اور غیرت کا سودا نہیں کیا میں ہمیشہ ایک فرض شناس پولیس افسر رہا ہوں۔

اب میر ا فرض مجھے چیخ چیخ کے آوازیں دے رہا ہے کہ میں ظلم سے ٹکر ا جاؤں ملک دشمن عناصر سے آنکھ میں آنکھ ڈال کے بات کرنے کا وقت آ گیا ہے اب ہماری صفوں میں چھپے ان مکاروں کا سامنا کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج یہ دہشت گردی کی لعنت اور دہشت گرد نا جانے اپنے کون سے ناپاک ارادوں اور مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہمارے ملک کے شہروں میں اور اہم مقامات کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں یہ صرف میرے وطن عزیز کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے جس دن سے پاکستان معرض وجود میں آیا اس دن سے آج تک کچھ غیر مسلم قوموں نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جب ان کا بس نہیں چلا جب ان کی کوئی سازش اس اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پہ حاصل کی گئی ریاست کو نقصان پہچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو پھر ان دشمنوں نے ہماری صفوں میں گھسنا شروی کردیا اگر ہم نے دلیرانہ اور بحثیت مجموعی ایک قوم ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقابلہ نہ کیا اگر ہم نے دشمن کی سازشوں کا منہ توڑ جواب نہ دیا تو یہ دہشت گردی کی آگ ہمارے گھروں کو لپیٹ میں لے لے گی ہماری بہن بیٹیوں کی عصمتیں تک غیر محفوظ ہو جائیں گی اور میری غیر ت کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دشمن کے ان ناپاک ارادوں اور حملوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہو جاؤں

مجھے اندازہ ہے کہ آ پ کو اور ہمارے بچوں کو میری اشد ضرورت ہے ہر قدم پہ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے جس طرح میں آ پ کے بغیر با لکل ادھورا ہوں اُسی طرح آ پ کی زندگی بھی میرے بغیر بے رنگ اور بے رونق ہے مگر میری پیاری پاگھی ہم چُنے ہوئے لوگ ہیں یہ مالک بزرگ و بر تر کا احسان عظیم ہے کہ اس نے مجھے ملک و قوم اور انسانیت کے تحفظ کی ذ مہ داری سونپی ہے میں اس ذمہ داری کو بہترین طریقے سے نبھانا چا ہتا ہوں شاید آ پ سمجھ رہی ہوں گی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔

پیا ری پاگھی اگر مجھے اس ذمہ داری کو نبھاتے کچھ ہو جائے اور میرا مقدر اس قدر بلند ہو جائے کہ وہ جام شہادت جو حضر ت خالد بن ولیدؓ نوش فرما نا چاہتے تھے وہ مجھے نصیب ہو جائے تو آ پ پریشان نہ ہونا وہ لوگ وہ سپاہی وہ سپوت بہت قسمت والے ہوتے ہیں جو سرحدوں پہ محازوں پہ جا کر لڑ تے شہید ہو جاتے ہیں، وہ والدین بہت نصیب والے ہوتے ہیں جن کے شیر بیٹے وطن قوم اور مذہب کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، وہ بیویاں بہت عظیم ہوتی ہیں جو شہید وں کی بیوائیں کہلاتی ہیں، وہ بچے ہمیشہ سر اٹھا کے جیتے ہیں جن کے والد اپنی ہر خواہش پہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ مذہب کو وطن کی آن بان شان کو ملک و قوم کو اہمیت دیتے ہیں اور میرے بچوں کو بھی کبھی پریشان نہ ہونے دینا بلکہ میرے بیٹے کو بتا نا کہ شہید کا درجہ کیا ہے اور معاشرے میں شہید کے بچوں کا کیا مقام ہے۔ اس کے بچپن کو محرومیوں کا شکار نہ ہونے دینا اسے ایک بہادر اور نیک انسان بنا نا

میں آ ئے روز سڑکوں چوراہوں پہ بے گناہ لوگوں کی لاشیں بکھری دیکھتا ہوں پاگھی ہمارا دشمن انتہائی مکروہ اور گھٹیا ہے جو کھل کے ہمارے جذبہ ایمانی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا وہ ہمیشہ چھپ کے اور بزدلانہ طریقے سے وار کرتا ہے میں نے اس کی ہر گھٹیا سوچ اور مکارانہ چال کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے میں کسی اندھی گولی کا نشانہ نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی کسی جہنمی خنزیر کے خود کش حملے کا شکار ہونا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں جب کبھی اللہ مجھے موقع دے اور میرا خدا کے دھتکارئے ہوئے ان لوگوں سے سامنا ہو تو میری بندوق کی نالی سے نکلتی گولیوں کی کسی دھاڑتے ہوئے ببر شیر کی چنگھاڑ کے جیسی آواز یں دشمن کے حو صلے پست کردیں اور دشمن کے تمام مذموم عزائم و مقاصد کو میں خاک کر دوں ِ

میں اپنے بوڑھے ما ں باپ کے بوڑھاپے کا سہارا ہوں پر میں اپنے والدین کی خستہ حال دیمک ذدہ ناکارہ لاٹھی نہیں بننا چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں اگر دشمن سے لڑتے میری موت ہو جائے تو فخر سے میرے والدین پھولے نہ سمائیں کہ میں ان کا بیٹا ہوں اور وہ ایک بہادر سپاہی کے والدین ہیں اب مجھے زندگی سے نہیں اپنے فرض سے پیار ہے۔ ہم مسلمان ہیں ہمارا عقیدہ ہے کہ موت کے بعد بھی ایک زندگی ہے اور وہ ہی حقیقی زندگی ہے ہر وہ جاندار جسے زندگی کی نعمت عطا ء کی گئی ہے اسے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور قیامت پہ روز محشر پہ ہمارا قوی یقین ہے پھر موت کے ڈر سے گھبرانہ کیسا موت کا فیصلہ حتمی ہے پھر کیوں نہ میری اگر موت ہو تو مثالی ہو آ پ سے میری بس یہی گزارش ہے میری شہادت پہ ماتم نہ کرنا بلکہ رشتہ داروں عزیزو آقارب سے مبارکیں وصول کرنا خوشی خوشی مسکراتے چہرے سے مجھے الوداع کرنا،

پیاری پاگھی میں چاہتا ہوں جب وطن عزیز کی تاریخ میں شہدا ء کا ذکر آئے تو میرا نام ان شہداء میں لیا جائے جو انتہائی جرات سے لڑتے شہید ہوتے ہیں پاگھی آپ میری بات سمجھ رہی ہیں نا؟ لوگ اپنے بچوں کے لیے وراثت میں مال و دولت جاگیریں جائیدادیں چھوڑ کے جاتے ہیں مگر جو جاگیر جو جائیداد جو بیش قیمتی دولت میں آپ کے لیے چھوڑ کے جانا چاہتا ہوں وہ مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے میں آپ کا ہمارے بچوں کا بلکہ پورے خاندان کا نام ایک شہید کے ساتھ منسوب کر کے جانا چاہتا ہوں ہمارا خاندان ایک شہید کا خاندان کہلائے گا روز قیامت میں آ پ کا ہاتھ پکڑ کے اللہ کے حضور عرض کروں گا کہ اے میرے اللہ یہ میری پاگھی ہے جب میں تیرے راستے پہ قربان ہو گیا تھا تو اس کے چہرے پہ ذرا بھی پریشانی یا اداسی نہیں تھی بلکہ یہ تو خاندان کے دوسر ے لوگوں سے کہہ رہی تھی کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور زندہ لوگوں کا ماتم نہیں کیا جاتا، شہادت کا مرتبہ ہر ذی نفس کا مقدر کہاں۔

ہو سکتا ہے میری شہادت کے بعد آپ کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے مگر میں وعدہ کرتا ہوں اگر کچھ مشکلات آئیں تو وہ عارضی ہوں گی آپ ہمت نہ ہارنا بچوں کی پرورش اچھے طریقے سے کرنا میرے بیٹے کو ایک مذہب پرست وطن پرست قوم پرست اور بزرگوں کا فرمانبردار انسان بنانا اسے ہمیشہ خوداری کا اور اللہ کے حضور عاجزی کا درس دینا اسے ایک ہونہار سپاہی بنانا جس طر ح کے حالات ہیں میرے وطن کو میری قوم کو خودار پولیس افسر ز کی ضرورت ہے اگر میری شہادت ہو جائے تو میری جگہ میرے بیٹے کو بندوق پکڑا کے کھڑا کر دینا ہم کسی بھی صورت انتہائی بزدل مکار دشمن کو ہمارے مذہب کو اور اپنے پیارے دیس وطن عزیز پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے اللہ تمھارا حامی و ناصر ہو۔ اللہ میرے وطن کو ہر مصیبت سے ہر بلا سے محفوظ رکھے آمین تمھارا سپاہی خاوند

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •