سویلین بالادستی کی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سیاسی اور جمہوری قوتیں عمومی طور پر ملک میں سویلین بالادستی کی جنگ لڑنے کی بات شدت سے کرتی ہیں۔ یہ واقعی ایک بنیادی نوعیت کا سیاسی مسئلہ ہے جو قومی سیاست کو درپیش ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانی سیاست اور بالخصوص جمہوریت بدستور اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے۔ عمومی طور پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست اور جمہوریت کا سفر جمہوری قوتوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر عملا آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

جمہوری قوتیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ان سے سیکھ کر وہ کچھ کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو واقعی ہماری جمہوریت کی مضبوطی کے لیے درکار ہے۔ لیکن ہمارا عملی جمہوری سفر بہتری پیدا کرنے کی بجائے مزیدبگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست، جمہوریت اور جمہوری طرز عمل پر مختلف لوگ مختلف حوالوں سے تنقید ی سوالات اٹھاکر موجودہ جمہوری نظام پر تنقید کرتے ہیں۔

ایک بار پھر پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں ”سویلین بالادستی کی جنگ“ کا نعرہ بڑی شدت سے لگایا جارہا ہے اور اس میں آج کی حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں پیش پیش ہیں۔ جب بھی سیاسی میدان میں سویلین بالادستی کی جنگ کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ یہاں سویلین یا جمہوری قوتوں کے مقابلے میں غیر جمہوری یا پس پردہ قوتیں یعنی اسٹیبلیشمنٹ کو سیاسی یا جمہوری نظام پر بالادستی حاصل ہے۔ یہ نکتہ اہمیت رکھتا ہے اور واقعی ہماری اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی عمل میں مداخلت یا بالادستی کڑوا سچ بھی ہے اور اس کو یکسر مستر د نہیں کیا جاسکتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ملک میں سویلین بالادستی کی جنگ علمی، فکری اور حقیقی جمہوری تقاضوں کے مقابلے میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں، بداعتمادی اور تنازعات میں الجھ کر نتیجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل ملک میں سول ملٹری تعلقات میں بہتری پیدا کرنے یا ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھنے کی بجائے ان میں اور زیادہ بدگمانیاں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ”سویلین بالادستی کی جنگ“ یہاں ایک بڑ ے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ ماضی اور حال کی سیاسی تاریخ کو دیکھیں توو ہ جمہوری تناظر میں کافی تلخ ہے۔ مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کا ماضی کا ریکارڈ پس پردہ یا کھل کر اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ جو لوگ اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست سے قریب ہوکر اقتدار کی سیاست سے جڑتے ہیں ان کو اسٹیبلیشمنٹ سے کوئی ناراضگی نہیں ہوتی۔ اسی طرح جو لوگ اسٹیبلیشمنٹ کے دائرہ کار سے باہر ہوتے ہیں وہ زیادہ نالاں ہوکر ملک میں سویلین بالادستی کا نعرہ لگا کر اپنی سیاسی اہمیت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کا مشترکہ تضاد ہے جو کہ عملی طور پر سویلین بالادستی میں بڑی رکاوٹ کو پیدا کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ سیاسی جماعتوں اور قیادت سمیت معاشرے کا مجموعی طرز عمل سویلین بالادستی کے نظام کو تقویت دیتا ہے یا یہ نظام خود بڑی رکاوٹ ہے؟ کیونکہ اگر واقعی اس ملک میں جمہوریت اور جمہوری قوتوں کو سویلین بالادستی کی جنگ لڑنی ہے تو یہ کام آسان نہیں بلکہ اس کے لیے خود کو بھی جمہوری بنانا سمیت جمہوری اور آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے کا سلیقہ سیکھنا ہوگا۔ جب سیاسی جماعتوں یا سیاسی قیادتوں پر تنقید کی جاتی ہے تو اس کا مقصد جمہوری نظام کی نفی نہیں بلکہ اس میں بہتری کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔

کیونکہ ہماری عملا سیاسی توقعات اسٹیبلیشمنٹ کے مقابلے میں سیاسی اور جمہوری قوتوں سے ہی ہوتی ہے اور یہ ہی وہ فریقین ہیں جو اپنے عمل سے ملک کے نظام کو سیاسی اور جمہوری بناسکتے ہیں۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم جمہوری نظام اور اس سے جڑے فریقین پر تنقید کرتے ہیں تو عمومی طور پر ایسے لوگوں کو جمہوریت دشمن اور اسٹیبلیشمنٹ کے آلہ کار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو درست پہلو نہیں۔

پاکستان میں اگر ہم نے واقعی سویلین بالادستی اور اسٹیبلیشمنٹ کے سیاسی کردار کو محدود کرنا یا ختم کرنا ہے تو اس میں خود ایک بڑی ذمہ داری کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اول سیاسی اور جمہوری نظام کی مضبوط کنجی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کو جمہوری اور خود احتسابی پر مبنی نظام کو ڈھالے بغیر کچھ نہیں ہوسکے گا۔ سیاسی جماعتوں میں خاندانی اجارہ داری اور چند افراد کا کنٹرول سیاسی نظام کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کرتا ہے۔

دوئم پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے ہمیں پارلیمانی نظام کو اس کے حقیقی انداز وفکر میں چلانا ہوگا اور سیاسی عمل میں ہونے والے تمام فیصلوں میں پارلیمنٹ کو بالادستی ہونی چاہیے۔ کابینہ اور پارلیمنٹ سے جڑی مختلف کمیٹیوں کو فعال بنا کر ہی ہم جمہوری بالادستی کو فعال کرسکتے ہیں۔ سوئم تمام فریقین کو اپنے اپنے سیاسی اور قانونی یا آئینی دائرہ کار میں رکھنے کے لیے ملک کے مجموعی نظام کو قانون کی بالادستی کے فرئم ورک میں لانا ہوگا۔

افراد یا شخصیات کے مقابلے میں اداروں کو فوقیت دینی ہوگی اور اپنی مرضی یا خواہش کی بنیاد پر قانون یا آئین کی عملدرآمد میں رکاوٹیں پیدا کرنا خرابی کا سبب بنتا ہے۔ چہارم اس ملک میں میڈیا اور اہل دانش یا رائے عامہ بنانے والے افراد یا تھنک ٹینک کو مضبوط اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور یہ عمل اس جمہوری نظام میں ایک کڑی نگرانی کا کردار ادا کرے۔ پنجم انصاف کے نظام میں طبقاتی فرق یا طاقت ورکمزور کے درمیان تفریق کا پہلو کا ختم ہونا، محاز آرائی کی سیاست کا خاتمہ اور قومی مسائل پر ایک بڑے اتفاق پر مبنی سیاسی، سماجی اور قانونی چارٹر کو بنیاد بنانا ہوگا۔

سویلین بالادستی کی جنگ جب سیاسی یا قانونی اداروں کے فرئم ورک سے باہر نکال کر طاقت کے زور پر سڑکوں، ڈنڈوں، انتشار اور حکومتوں کو گرانے بنانے کے طور پر لڑی جائے گی تو یہ عمل سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کرے گا۔ کیونکہ اگر حزب اختلاف کے طور پر ہر آنے والی حکومتوں کو قبول کرنے کی بجائے اسے گرانا چاہیں گے تو یہ عمل مستقبل میں بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گا اور یہ کھیل عملی طور پر ایک بڑے جمہوری تماشا کا سبب بنے گا۔

ماضی میں جو غلطی عمران خان نے کی اس کا بھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا اور نہ ہی جو کچھ آج سیاسی میدان میں سجایا جارہا ہے اس سے کوئی خیر کا پہلو برآمد ہوگا۔ ایسے کھیل میں جو حکومتوں کو گرانے سے جڑا ہوتا ہے اس میں حزب اختلاف کی طاقت کا محور خود اسٹیبلیشمنٹ ہوتی ہے اور اسی سے جاری مرض کی دوا تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہ ہی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سلیکٹڈہی حکومت کو گھر بھیجیں، یعنی اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کو پھر مداخلت کی دعوت دی جارہی ہے۔

ہمیں اس فکری مغالطے کو دور کرنا چاہیے کہ اگر فیصلے ہمارے حق میں ہوں تو سب اچھا ہے اور اگر مخالف ہوں تو ہم خود اپنے عمل سے اداروں کو منتازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عمل ملک میں ادارہ سازی کو کمزور کرتا ہے اور لوگوں میں اداروں کی ساکھ پر سوالات جنم دیتا ہے جو اچھا رجحان نہیں ہے۔ سیاسی قوتوں کو چاہے ان کا تعلق حکمران جماعتوں سے ہو یا حزب اختلاف کی سیاست سے ان کو ایک بڑے سیاسی فرئم ورک پر اتفاق پیدا کرنا ہوگا اور اگر سول بالادستی کی جنگ کو آگے بڑھانا ہے تو یہ داخلی محاز آرائی کی بجائے باہمی اتفاق اور مل کر لڑی جانی چاہیے۔

سیاست دانوں کا باہمی ٹکراؤ یا سیاسی خلا ان قوتوں کو موقع فراہم کرتا ہے جو خود سے سیاسی نظام پر بالادست ہونا چاہتی ہیں۔ ایک مسئلہ معاشرے کو جمہوری مزاج میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ سیاسی نظام کی مضبوطی کا اثر اگر معاشرے پر نہیں ہوگا اور لوگوں کی اپنی سوچ اور فکر میں جمہوری رویے یا طرز عمل طاقت نہیں پکڑے گا تو سیاسی نظام سیاسی تنہائی میں مضبوط نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ یہ عمل کسی جادوئی طریقہ سے نہیں ہوگا لیکن اس کا اثر یا دائرہ کار واضح بھی ہو اور نظر بھی آنا چاہیے۔ یہ عمل سیاسی تربیت سے جڑا ہے اور ا س میں سیاسی جماعتوں، سیاسی قیادتوں اور میڈیا سمیت اہل دانش کا کردار کافی کمزور نظر آتا ہے۔

یہ جو سیاست میں انتہا پسندی، جذباتیت، تعصب، دشمنی، برداشت نہ کرنا، طاقت کا استعمال کے مناظر نظر آرہے ہیں اس نے جمہوری عمل اور سیاست میں خطرناک رجحانات پیدا کردیے ہیں۔ اس کا علاج واقعی جمہوریت، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی اور ایک دوسرے کے لیے باہمی احترام کا پیدا ہونا ہی ہماری ضرورت ہے، اصل توجہ جمہوری قدروں، اقدار، اصولوں، فکرا ور سوچ پر دینی ہوگی جو ہمیں درکار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •