جہیز کی حیثیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہیز کی اسلام میں کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ یہ ایک ہندوانہ رسم ہے۔ جب اسلام پھیلا تو اس وقت کئی ہندو مسلمان ہو گئے۔ اب انھوں نے اپنی پرانی رسم کو نیا نام دے دیا ”تجہیز“ جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب ہے سفر کے لئے تیاری اور جو سامان دیا جاتا ہے اس کو ”جاہازن“ کہا جاتا ہے جس سے جہیز کا لفظ نکلا۔

دراصل اسلام میں لڑکی/ بیٹی کو وراثت میں حصہ دیا جاتا ہے۔ اس لیے جہیز کا کوئی ذکر نہیں۔ جبکہ ہندو مذہب میں وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا اس لئے ان کو بھاری جہیز یا تحائف دیے جاتے ہیں۔ لیکن اس رسم کو ہم مسلمانوں نے بھی اپنا لیا کیونکہ ہم غلط بات کو جلدی اپناتے ہیں اور غلط کو غلط نہیں سمجھتے یہی وجہ ہے کہ ہم نے شادی جیسے پیارے اور خوبصورت بندھن کو مشکل بنا دیا ہے۔

اب جہیز کی بھی دو اقسام ہیں۔ ایک تو وہ جو لڑکی کو تحفہ کے طور پر دیا جاتا ہے اور دوسرا وہ جو لڑکے والے مانگ کر لیتے ہیں ایک لسٹ لڑکی کے ماں باپ کو تھما دی جاتی ہے جس کو پورا کرنے کے لئے غریب ماں باپ ادھار اُٹھاتے ہیں جس کو اتارتے اتارتے خود قبر میں اتر جاتے ہیں اب اگر دو یا دو سے زیادہ رحمتیں گھر میں موجود ہوں تو کہاں سے ان کے جہیز کا انتظام ہوگا۔

جہیز ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ بن گیا ہے۔ غریب کی بیٹی گھر بیٹھی رہ جاتی ہے۔ بالوں میں سفیدی اتر آتی ہے۔ لیکن جہیز تیار نہیں ہو پاتا۔ وہ بے چاری اپنے دل کے ارمان لے کر باپ کی دہلیز پر ساری زندگی گزار دیتی ہے۔ جو شخص بہ مشکل دو وقت کی روٹی اپنی اولاد کو دے پاتا ہے اکثر وہ بھی پوری نہیں ہوتی وہ جہیز کی لمبی لسٹ کیسے پوری کر پائے گا۔

پھر آتا ہے وہ طبقہ جو سفید پوش ہے۔ اپنی چادر کا بھرم رکھے ہوئے ہے۔ اپنی بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلواتا ہے ’تربیت کرتا ہے۔ ان کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔ اپنے جگر کے ٹکڑوں کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ پاتا وہ مجبور باپ بس جہیز تیار نہیں کر پاتا۔ اب کچھ ایسے گھرانے دیکھنے میں آئے ہیں جہاں بچیاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد خود نوکری کرتی ہیں تاکہ اپنا جہیز تیار کر سکیں لیکن ایسا کرتے کرتے اکثر ان کی شادی کی عمر نکل جاتی ہے۔

پھر آتے ہیں وہ امیر لوگ جو اپنی بیٹیوں کو جہیز کے نام پر گھر ’گھر کا سارا سامان‘ فرنیچر ’گاڑی‘ اور پتہ نہیں کیا کیا دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہنی مون کا ٹکٹ تک دیتے ہیں۔ ایسے لوگ مایوں ’مہندی‘ ڈھولکی جییسی فضول رسموں پر کروڑوں روپے ضائع کر دیتے ہیں اور ایک لمحے کے لئے یہ نہیں سوچتے کہ جو دولت وہ بے بہا خرچ کر رہے ہیں اس میں دس غریب بیٹیوں کی شادی ہو سکتی ہے۔

جہیز اب ایک ایسی برائی بن چکی ہے ہمارے معاشرے میں کہ اگر کوئی بیٹی ایک چیز بھی کم لے کر جاتی ہے تو سسرال میں اس کو طعنے ملتے ہیں نوبت مار کٹائی اور طلاق تک آجاتی ہے۔ اکثر مٹی کا تیل ڈال کر جلا دینے کی خبر سننے کو ملتی ہے۔ سارے خاندان کو کپڑے دینا ’گھر کا سامان دینا حتیٰ کہ دولہے کو بھی جوتی کپڑا دینا‘ کیا یہ سب ہمارے اسلام میں جائیز ہے؟ کیا اسلام نے اصراف کی اجازت دی ہے؟ کیا اسلام نے نکاح کو اس قدر مشکل بنانے کی اجازت دی ہے؟

اگر نہیں تو ہم اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق کیوں نہیں گزارتے۔ ہم اپنے نبیﷺ کی سادگی کی سنت پر عمل کیوں نہیں کرتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے اپنی لختِ جگر ’اپنی لاڈلی بیٹی کو کیسے رخصت کیا تھا۔ پھر ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بربادی کی طرف گامزن ہیں۔

اگر ہم جہیز کو ختم کر دیں ’نکاح کو آسان کر دیں تو ہمارے بہت سارے مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔ ہمارا اولین فرض یہ ہونا چاہیے کہ بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ وہ اگلی نسل کو سنوار سکیں۔

بہترین حل یہ ہے کہ نکاح کی رسم کو آسان کیا جائے ’سادگی اپنائی جائے‘ بے جا رسموں کے بوجھ کو ختم کیا جائے۔ اور یہ سب ہم نے خود کرنا ہے انفرادی طور پر۔ لوگ کیا سوچیں گے یہ نہیں سوچنا۔ دیکھا دیکھی باقی لوگ بھی تقلید کریں گے۔ ایک پہلا قدم اَٹھانا مشکل ہوتا ہے پھر لوگ ساتھ ملتے جاتے ہیں اور قافلہ بنتا جاتا ہے بالکل اسی طرح تبدیلی لانا مشکل ہوتا ہے لیکن ثابت قدمی سے ہم اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔

ہم وہ قوم ہیں جو ایک دفعہ کچھ ٹھان لے ’تو کر گزرتی ہے۔ تو ہم خود کو بھی بدل کر دیکھ لیں اپنی سوچ پر کام کر کے دیکھ لیں کیا پتہ ہمیں سکون حاصل ہو جائے اور ہماری آخرت سنور جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •