کیا آپ نے کبھی پہلی برف باری دیکھی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسم بدل گیا ہے۔

کینیڈا میں پہلی برف باری ہوئی ہے۔ کل ساری رات آسمان سے روئی کے گولوں کی طرح برف کے گولے گرتے رہے۔ صبح اٹھ کر دیکھا تو مکانوں ’گاڑیوں‘ سڑکوں اور بازاروں پر ایسے برف پڑی تھی جیسے کسی بچے نے اپنی ماں کو میک اپ کرتے دیکھ کر اپنے منہ پر بہت سا پوڈر مل لیا ہو۔

یہ پہلی برف باری ہے جو چند دن کی دھوپ سے پگھل جائے گی۔ پھر دوسری برف باری ہوگی پھر تیسری پھر برف جمتی جائے گی اور آہستہ آہستہ چاروں طرف برف کی پہاڑیاں بن جائیں گی۔

برف کو دیکھ کر مختلف کنیڈینز کا مختلف ردِ عمل ہوتا ہے۔

کنیڈین نوجوان خوش ہوتے ہیں کہ اب وہ پہاڑوں پر جا کر سکیینگSKIING سے لطف اندوز ہوں گے۔

کنیڈین بزرگ گھبراتے ہیں کہ کہیں وہ برف پر پھسل گئے تو ان کی بازو یا ٹانگ یا کولھے کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔

کینیڈا آ کر پتہ چلا کہ برف بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ وہ برف جو گھر کے FRIDGE میں بنتی ہے ICEاور جو آسمانوں سے من و سلوا بن کر گرتی ہے SNOWکہلاتی ہے اور جس طرح پھولوں کی کئی قسمیں ہیں اسی طرح برف کی بھی کئی قسمیں ہیں جن سے اسکیمو بخوبی واقف ہیں۔

جب کینیڈا میں برف گرنے لگتی ہے تو میرے چند مریض پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں جو

SAD۔ SEASONAL AFFECTIVE DISORDER

کہلاتی ہے۔ اس نفسیاتی مسئلے کے شکار مریض بہار ’گرما اور خزاں کے موسم میں خوش رہتے ہیں لیکن جونہی سردیاں آتی ہیں اور ان کے جسم کو طویل عرصے تک دھوپ نہیں ملتی تو وہ ڈیپریشن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ نومبر کا مہینہ تو گزار لیتے ہیں لیکن دسمبر جنوری فروری کے تین مہینے بہت اداس رہتے ہیں۔ اپنی یاسیت کو کم کرنے لے لیے

بعض ادویہ کھاتے ہیں

بعض جنوب میں کسی گرم مقام پر چلے جاتے ہیں

اور بعض نے خاص لیمپ خرید رکھے ہیں جن سے وہ

LIGHT THERAPY کرتے ہیں۔

بہت کم لوگ اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ ہمیں صحتمند اور خوش رکھنے کے لیے سورج کی روشنی بہت ضروری ہے۔

جہاں سورج کی روشنی ہمیں وٹامن ڈی دے کر ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے وہیں وہ ہمارے دماغ کو بھی خوش رکھتی ہے۔

آج سے سینکڑوں سال پہلے جب شمالی امریکہ کے بزرگوں کو اندازہ ہوا کہ ان کی سردیوں کا موسم بہت طویل ہے اور وہ لوگوں کو اداس کر دیتا ہے تو انہوں نے اس طویل تاریکی کو کم کرنے کے لیے ایک تہوار کا سوچا اور وہ تہوار FESTIVAL OF LIGHTS کہلوایا۔ اس تہوار کے دوران سب لوگ اپنے اپنے گھر روشن بناتے تھے۔ گھر کے اندر درخت لگاتے اور سجاتے تھے اور گھر سے باہر کھڑکیاں دروازے اور چھتیں روشنیوں سے پرنور بناتے تھے۔

یہ تہوار ایک سیکولر تہوار تھا جو دسمبر کے آخر میں ہوتا تھا۔

جب عیسائی پادری شمالی امریکہ آئے اور انہوں نے یہاں کے لوگوں کو عیسائی بنانا شروع کیا تو انہوں نے نہ صرف ان کے کلچر اور سوچ کو مذہبی بنایا بلکہ ان کے سیکولر تہوار کو بھی مذہبی تہوار بنا دیا اور اسے کرسمس کا نام دے دیا۔ بہت سے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ عیسائیت کا تعلق ایسٹر EASTER سے ہے کرسمس سے نہیں ہے۔

آہستہ آہستہ کرسمس کو بھی سرمایہ دارانہ نظام نے ایک مذہبی اور روحانی تہوار سے ایک کمرشل تہوار بنا دیا۔

جب میں نے کینیڈا میں پہلی بار آسمانوں سے برف گرتے دیکھی تو اتنا خوش ہوا کہ باہر جا کر گلی میں کھڑا ہو گیا اور اتنی دیر تک کھڑا رہا کہ میرے سر اور داڑھی کے بال سفید ہو گئے۔ اس دن میں نے سوچا کہ پاکستان میں اگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے دھوپ میں بال سفید نہیں کیے یہ زندگی کے وسیع تجرنے کی غمازی کرتے ہیں تو کیا ہم کنیڈا میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے بال برف میں سفید نہیں کیے۔

شمالی امریکہ میں چالیس برس گزارنے سے مجھے بہت سے ایسے تجربے ہوئے جو پاکستان میں ممکن نہ تھے۔ ان تجربات نے میری سوچ ’میرے ادب اور میری شاعری کو بھی متاثر کیا۔

جب ہم مہاجر شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کی تخلیقات کے حوالے سے مہجری ادب کی بات کرتے ہیں تو بعض اس مہجری شاعری میں صرف نوسٹلجیا پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ میرا مہجری ادب کے بارے میں یہ موقف ہے کہ اپنی دھرتی ماں سے دوری کے احساسِ جدائی میں لکھی ہوئی شاعری ہی مہجری ادب کا حصہ نہیں ہے بلکہ اس مہجری شاعری میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے اور اس بہت کچھ کا تعلق ان مشاہدات اور تجربات سے ہے جو ہمیں مغرب میں رہ کر ہوئے۔ یہ تجربات دکھی کرنے والے بھی ہیں اور سکھی کرنے والے۔

کینیڈا میں برف کو دیکھ کر بچے بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس سے کھیلتے ہیں اور سنو مین بناتے ہیں۔ آئیں آپ کو ایک سنو مین کی کہانی اسی کی زبانی سنائیں۔ میری ایک نظم ہے۔

SNOW MAN

شہر کے کھیلتے کودتے ننھے منے سے بچوں نے مل کر مجھے

برف کی اک پہاڑی سے کاٹا

تراشا

مرے ہاتھ پاؤں سجائے

مجھے برف کے چھوٹے چھوٹے سے گولوں سے مضبوط کر کے

بڑے پیار سے

ایک چوراہے پہ لا کر کھڑا کر دیا

مجھ سے کچھ دیر اٹھکیلیاں

دل لگی کا بہانہ بنیں

اور پھر

جانے کیوں

چند بچوں کے ابرو اٹھے

شور و غوغا ہوا

میرے سر میرے پاؤں مرے جسم کے

چند گولے بنے

اور گولوں کو بچوں نے معصوم ہاتھوں سے خود

ایک اک کر کے اڑتی ہوا کے حوالے کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 279 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail