خلیل الرحمان قمر نے “مرے پاس تم ہو” کا اسکرپٹ Indecent Proposal سے سرقہ کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دس ایک سال سے کچھ اوپرکا عرصہ ہواجب لاہور کے اے ٹی وی نیٹ ورک کا نیا چینل اے پلس وجود میں آیا۔ اس نئے چینل کی نئی بھرتی کے ساتھ میں بھی اے پلس کا حصہ بن گیا۔ خوشی تھی اور جوش بھی۔ نت نئے پروگرام سوچے جا رہے تھے، سکرپٹ بن رہے تھے، شاہ نور، باری، شباب میں سیٹ لگ رہے تھے، شوٹنگ ہو رہی تھی، لوگ مصروف تھے کام چل رہا تھا۔ اسی دوران چینل پر ڈراموں کی مقبولیت بڑھنے لگی۔ اور یہ وہ وقت تھا جب خلیل الرحمان قمر کا نام اے پلس کے ساتھ بھی جڑنا شروع ہو چکا تھا۔

خلیل کا تحریر کردہ ایک سکرپٹ اے پلس پہنچا تو چینل کے اس وقت کے ایم ڈی، آر کے نے اس کا عنوان میں مر گئی شوکت علی تجویز کیا۔ اس کے بعد سوپ سیریل لو، لائف اور لاہور، میرا نام یوسف، لال عشق یہ سب اے پلس کو نظام قمری میں لے آئے اوردوسرے نشریاتی اداروں کی طرح اے پلس بھی خلیل الرحمان قمر کے مدار میں گھومنے لگا۔ حتی کہ 2019 میں مرے پاس تم ہو نشر ہوا جس نے مجھے پہلی بار خلیل الرحمان قمر کو بطور تخلیق کار رد کرنے پر مجبور کر دیا۔

میں شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک ادیب کے ہاتھوں ادب کی پامالی اور ادبی سرقہ کیسے اورکیوں سرزد ہوتا ہے۔ تصور کرنا پڑے گا کہ یہ سب خلیل نے کیسے کیا۔ 1993 کی ایک ہالی وڈ فلم ان ڈیسنٹ پروپوزل کو “مرے پاس تم ہو” کی شکل دے کر خلیل کو کیا ملا؟ یاد رہے کہ Jack Engelhard کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم Adrian Lyne  نامی مصنف کے اسی عنوان سے شائع شدہ ناول سے ماخوذ تھی۔ ایک سطر میں فلم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ “ایک ارب پتی نوجوان شادی شدہ جوڑے کو بیوی کے ساتھ ایک رات گزارنے کے عوض دس لاکھ ڈالر کی پیش کش کرتا ہے”۔ گویا خلیل الرحمن قمر نے فلم کا خیال ہی چوری نہیں کیا، کتاب کے مصنف سے کی بھی حق تلفی کی ہے۔ اور پھر طرہ یہ کہ اس سینہ زوری کے بعد خلیل الرحمن قمر کا ایک بے مقصد، بے معنی انٹرویو سامنے آیا جہاں خلیل ایک طرف عورت اور ان کے جذبات سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور پھر خود ہی میں یہ بھی ہوں اور میں وہ بھی ہوں کہتے نظر آتے ہیں۔

کیا بگاڑا ہے آپ کا عورتوں نے؟ کیا بگاڑا ہے آپ کا کسی نے بھی؟ اور اگر بگاڑا بھی ہے تو صاحب الفاظ کے ساحر مسحور کرتے ہیں، مسخر نہیں۔ خلیل جی اندر سے بتایئے! کیا آپ کا دل نہیں دہلا جب ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے کہا ”مجھے افسوس ہے کہ میں اس زمانے میں زندہ ہوں جب خلیل الرحمان قمر جیسے مرد بھی زمین کا بوجھ ہیں۔“

حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ عائزہ خان، ہمایوں سعید، عدنان صدیقی، ندیم بیگ، اور نشریاتی ادارے سمیت کہیں سے بھی اس ادبی سرقے کے بارے میں آواز نہیں اٹھی، بات نہیں ہوئی۔ بلکہ نشریاتی ادارے کے چیف افسر نے تو “مرے پاس تم ہو” کو ایک کامیاب ڈرامہ قرار دیا کیونکہ ان کے نزدیک اس کی وجہ ”اچھی کہانی اور اچھی اداکاری ہے۔ “

اگر ہم دانشورانہ املاک اور اشاعتی حقوق کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو ہالی وڈ کی فلم کی کہانی کو “مرے پاس تم ہو” بنا کر پیش کرنے کے بعد ان سب کے ہاتھوں ایسے حقوق کی پامالی ہوئی ہے اور شاید یہ واقعہ آج کے دور میں مرکزی دھارے سے پلیجرازم (سرقے) کی بڑی مثال بن کر سامنے ابھرا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک صنف (عورت) کو ہدف بنا کر اوٹ پٹانگ بیان بازی، اور متعلقہ فنکاروں اور نشریاتی ادارے کا اس کے بارے میں چپ رہنے کا فیصلہ حساسیت سے عاری جذبات کا عکاس ہو سکتا ہے اور یہ بہت افسوسناک ہے۔

میرے نزدیک خلیل الرحمان قمر کے قلم کومرہم کی علامت ہونا چاہیے نا کہ زخم کی۔ آپ تو کاف کمال کر سکتے ہیں، آپ اپنے کرداروں سے کھیلیں، وہ روگ میں ہوں تو جگ سوگ میں ہو، وہ مہکیں تو جگ بہکے۔ آپ کا کیا کام کہ آپ رب کی بنائی مخلوق میں عیب تراشیں اور دوسرے لوگوں کی محنت کو، ان کی تخلیق کو اپنا بنا کر پیش کریں اور ذکر بھی نہ کریں۔ اگر آپ کو کسی پر غصہ ہے کسی نے آپ کو دکھ دیا ہے تو بھی آپ ان کی خیر مانگیں۔ اگر آپ کو خیر ملی ہے تو مسکرا کرشکر ادا کریں اور خیر آگے بانٹیں۔

خلیل جی یو ٹیوب پر شائع ہونے والی مرے پاس تم ہو کی پچھلی قسط کو اب تک تقریبا سات ملین لوگوں نے دیکھا ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان سات ملین روحوں کے رنگوں میں رنگی رنگداری چاہتے ہیں یا ضمیر کی سنگساری۔ فیصلہ آپ کا ہے خلیل جی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نعیم ربانی کی دیگر تحریریں
نعیم ربانی کی دیگر تحریریں