نفرت اور نعرے بازی کی عمران خان برانڈ سیاست کامیاب نہیں ہو سکتی 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان جمہوری طریقے سے منتخب ہوکر برسر اقتدار آئے ہیں۔ گو کہ ان کے سیاسی مخالفین انہیں نامزد ہونے کا طعنہ دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے پاکستانی ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کو متحرک کیا، خاص طور سے مڈل کلاس نوجوانوں کو سیاسی طور سے سرگرم ہونے پر آمادہ کیا اور برس ہا برس کی محنت کے بعد وہ وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے۔

سیاسی سفرمیں کامیابی کی یہ شاندار کہانی البتہ یہیں پر ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس بارے میں شدید اختلاف رائے ہوسکتا ہے کہ عمران خان کس حد تک پرانا نظام تبدیل کرکے ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہورہے ہیں جو عوام کے ساتھ لین دین اور معاملات طے کرنے میں سابقہ پاکستانی طریقہ سے مختلف ہے۔ ان کے حامیوں کو اب بھی عمران خان کے نعرے سہانے اور باتیں دلفریب لگتی ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد اب بھی عمران خان کی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہے۔ عام طور سے جب کوئی لیڈر عوام کو خواب دکھا کر تائید و حمایت حاصل کرتا ہے تو اس سے اتنی ہی زیادہ توقعات بھی وابستہ کی جاتی ہیں۔ جوں جوں یہ خواب ٹوٹنے لگتے ہیں، اسی کے ساتھ اس لیڈر کی باتوں کا سحر بھی ختم ہونے لگتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان ابھی تک اپنے خیر خواہوں اور حامیوں کی نظروں میں ایک شاندار لیڈر ہے۔ اس کی ناکامیوں کو بھی اس کی خوبی قرار دینے کا چلن ان حامیوں کے تکلم اور رویہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کی متعدد وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں لیکن دو اہم ترین وجوہ یہ ہیں کہ عمران خان کو کرکٹ کے کھلاڑی اور پھر کامیاب فلاحی منصوبے شروع کرنے کی وجہ سے ایک ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔ سیاست میں کامیابی سمیٹنے کے لئے انہوں نے اس حیثیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے۔ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد کسی منشور یا سیاسی ایجنڈا کی وجہ سے ان کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان کی حمایت اور ہیرو پرستی کی واحد دلیل یہ ہے کہ جو شخص ایسا شاندار کیپٹن ہوسکتا ہے اور جس شخص نے تن تنہا شوکت خانم جیسا ہسپتال تعمیر کیا ہے، وہ نیا پاکستان تعمیر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ عمران خان کی بدستور مقبولیت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا کور حامی نہ تو غریب طبقے سے تعلق رکھتا اور نہ ہی اسے روٹی روزی کی فکر لاحق ہے۔ وہ خوشحال والدین کے وسائل پر گلچھرے اڑاتا ہے اور فارغ وقت میں سوشل میڈیا پر عمران خان کی توصیف میں جھوٹی سچی کہانیاں پھیلاتا اور ان پر یقین رکھتا ہے۔

عمران خان نے اس مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لئے سیاسی مخالفین کو مورد الزام ٹھہرانے کا آسان ہتھکنڈا اختیار کیا ہے۔ ڈیڑھ سال حکومت میں رہنے کے بعد تحریک انصاف کی ناکامی اور عمران خان کی قائدانہ صلاحیت کا پول کھل چکا ہے لیکن ان کے حامیوں کو اب بھی عمران خان میں ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ یہ جواب دینے پر آمادہ نہیں ہیں کہ وہ کیسے یہ کام کریں گے اور اگست 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے کون سا ایسا اقدام کیا ہے جس کی مثال دے کر یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ واقعی پاکستان کو ایک نئی ڈگر پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس سوال کا جواب دو حوالوں سے دیا جاتا ہے۔ ایک یہ عمران خان ایماندار ہے اور یہ کہ سابقہ سب حکمران بے ایمان اور کرپٹ تھے۔ عمران خان نے ملک کی ساری سیاسی قیادت کے لئے ایسی نفرت کاشت کی ہے کہ ان کے حامیوں کے نزدیک، اصول، قانون، عدالت، اور انصاف بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ عمران خان کی تائید کے لئے یہ دلیل کافی سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر اہم سیاسی لیڈروں کو جیلوں میں بند کردیا ہے۔ حکومت نے شدید علالت کے باوجود جب نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا، تو اسے عمران خان کی سیاسی بزدلی اور اخلاقی شکست خوردگی کہنے کی بجائے، اس کی اصول پرستی اور سب کے لئے مساوی سلوک کی مثال کہا گیا۔ عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں ایک خاص طبقے میں اتنی شدید نفرت پیدا کردی ہے کہ ان حامیوں کے لئے عمران خان کی یہی کامیابی کافی ہے کہ اس کے دور حکومت میں سب سیاسی مخالفین جیلوں میں بند ہیں۔

عمران خان کی دیانت داری کا قصہ تو اس قدر عام ہے کہ ان کے شدید ترین مخالفین بھی اس موضوع پر سوال یا شبہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے جب جہانگیر ترین کو آئین کی شق 62 کے تحت ’صادق و امین‘ کے رتبے سے کم تر قرار دیا تھا تو اسی فیصلہ میں عمران خان کو ایماندار ہونے کا عدالتی سرٹیفکیٹ جاری ہؤا تھا کیوں کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ بنی گالہ کا منی ٹریل دینے میں مدد کرنے پر آمادہ تھیں اور عدالت عظمی کو مستقبل کی امید قرار دیے جانے والے لیڈر کے بارے میں متوازن رویہ اختیار کرنے کی ضرورت تھی۔

 سپریم کورٹ بصورت دیگر اگر عمران خان کی دیانت کو پرکھنے کے لئے بھی کسی شاعرانہ تعلی یا افسانوی کرداروں کا سہارا لیتی تو ان کی دیانت داری کے بہت سے خفیہ پہلو سامنے لائے جاسکتے تھے۔ ان میں سے سب سے اہم پہلو تو یہی ہے کہ عمران خان نے کرکٹ کھیلنے کے علاوہ ساری زندگی کوئی کام نہیں کیا لیکن وہ ہمیشہ شہزادوں کی زندگی گزارتے رہے ہیں۔ اب بھی جبکہ وہ پاکستان میں مدینہ ریاست کا عدل اور مساوات عام کرنے کا علم بلند کئے ہوئے ہیں، تو ان کی رہائش گاہ کسی رئیس کے محل سے کم نہیں ہے۔ اس محل میں رہتے ہوئے انہیں مدینہ ریاست کے بانی حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ کے طور طریقے بتانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ یہ جاننا ضروری سمجھیں گے کہ خلفائے راشدہ کس طرح عوامی زندگی گزارتے تھے اور ان کے ذاتی تصرف کا احتساب کرنے کے لئے  کسی نیب کی ضرورت نہیں ہوتی تھی بلکہ کوئی بھی شہری سوال کرنے اور اس کا جواب پانے کا استحقاق رکھتا تھا۔ عمران خان کو صحافیوں، اپنے چہیتے ساتھیوں یا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی اپنے کردار اور لین دین کے بارے میں سوال کرنے کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا معاملہ کئی برس سے الیکشن کمیشن میں زیر غور ہے۔ پارٹی کے تاخیری حربوں کی وجہ سے اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی لیکن مدینہ ریاست کے داعی کو اس بارے میں کوئی تشویش بھی نہیں ہے۔

جاننا چاہئے کہ عمران خان خود احتسابی سے کیوں اس قدر خوفزدہ ہیں؟ وہ اس بات کا جواب کیوں نہیں دیتے کہ اگر ان کی قیادت میں تحریک انصاف نے فنڈز کا غلط استعمال کیا یا انہیں غیر قانونی طریقے سے منتقل کیا گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ اسی طرح دیانتداری کو قومی نعرہ بنانے والے عمران خان کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ نیب ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کیوں تساہل برتتی ہے جو اس وقت تحریک انصاف کی حمایت کر رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ عمران خان جن ساتھیوں کی مہربانیوں سے شاہانہ زندگی گزارتے رہے ہیں، وہ بدلے میں ان سےکیا مراعات حاصل کرنا چاہیں گے۔ اور کیا یہ رعائتیں اسی اختیار اور انہیں وسائل سے فراہم نہیں ہوں گی جن کی حفاظت کا دعویٰ کرتے ہوئے وہ سابقہ حکمرانوں کو مطعون کرتے رہے ہیں۔

یہ چند سرسری سے سوال ہیں۔ انہیں اٹھانے کی ضرورت بھی یوں محسوس ہوتی ہے کہ اس وقت حکومت کا ایک نکاتی ایجنڈا بدعنوانی کے خلاف ہے۔ آصف زرداری سابقہ ادوار میں محض الزام تراشی کی بنیاد پر ایک دہائی سے زیادہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور اب بھی انہیں شدید علالت کے باجود بدستور قید رکھنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف اسے اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ شریف خاندان کو دہائیوں پرانے مقدمات میں الجھایا گیا ہے۔ وہ ایک مشکوک اور بدکردار جج کی دی ہوئی سزا کی وجہ سے اس وقت ’مجرم‘ قرار دیے جا رہے ہیں اور حکومت انہیں بیرون ملک جانے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرنے کو اپنی سیاسی شعبدہ بازی سمجھ رہی ہے۔

حکومت اور عمران خان اس وقت نواز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک کر اور مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ختم ہونے کو اپنی شاندار سیاسی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حکومت کو استحکام دینے کے دو اعلیٰ مواقع ضائع کردیے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسیسن جہاندیدہ سیاست دان ہیں اور اس وقت عمران خان کے سیاسی حلیف بھی ہیں لیکن ای سی ایل سے نواز شریف کا نام نکالنے اور مولانا فضل الرحمان سے سیاسی معاملات طے نہ کرنے کے بارے میں ان کے بیانات عمران خان کے لئے چشم کشا ہونے چاہئیں۔ لیکن انہیں کسی ایسی بات پر غور کرنے کی فرصت نہیں ہے جوان کی خوشامد اور سب اچھا ہے کا پیغام نہ دیتی ہو۔

وزیر اعظم بڑے فخر سے ایک پیج اور فوج کے ساتھ ہم آہنگی کا ذکر کرتے ہیں۔ فوج کے ترجمان بھی اشاروں کنایوں میں ان دعوؤں کی تائید کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کو کسی حد تک اپنے ووٹروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ لیکن کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ اقتدار میں آنے کے بعد کسی بھی لیڈر کو ڈلیور کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت ملکی معیشت اور سیاست میں موجود خرابیوں کو دور کرنے میں بدستور ناکام ہے۔ اس کمزوری کو دور کرنے کی بجائے سیاسی مصالحت کا ہر موقع یہ کہہ کر ضائع کیا جارہا ہے کہ بدعنوان لیڈروں سے معاملات طے نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم کو جاننا چاہئے کہ اس نعرے کا سحر بھی تب ہی کام کرے گا اگر حکومت ملک کے غریبوں کو کوئی سہولت دے سکے گی اور معاشی معاملات صرف بیانات کی حد تک بہتری کی طرف گامزن نہ ہوں بلکہ زمینی حقائق بھی اس تبدیلی کی گواہی دیں۔

معیشت اگر یوں ہی دگرگوں رہی اور سیاسی ماحول میں نفرت بڑھائی جاتی رہی تو ان کے کٹر حامی اور ایک پیج کی طاقت بھی عمران خان کو زوال سے بچا نہیں سکے گی۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ اقتدار پر قابض ہر عاقبت نااندیش کی طرح عمران خان بھی اسے پڑھنے سے انکار کرسکتے ہیں لیکن اس سے بربادی کا راستہ کامیابی کا سفر نہیں بن سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1347 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali