بابری مسجد پر بھی کشمیر جیسی بے بس خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابری مسجد کے حوالے سے حسب روایت مسلمانوں کی جانب سے روایتی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ برائی کے خلاف خاموش رہنا ایمان کا کمزور ترین درجہ کہلایا جاسکتاہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حق فقط اہلِ اقتدار کو حاصل ہے، یعنی یہ حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے، افراد کی ذمہ داری نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ حق افراد کے پاس ہو تو معاشرے میں فساد رونما ہوسکتا ہے۔ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ برائی کو روکنا ہر مسلمان کے فرائض میں شامل ہے۔

ان کی دلیل یہ صحیح حدیثِ رسولؐ ہے : ”تم میں سے کوئی منکر کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ کی طاقت سے بدل دے۔ اگر کوئی یہ طاقت اپنے اندر نہ رکھتا ہو تو وہ اپنی زبان سے کام لے۔ اور اگر کوئی اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو وہ اپنے دل میں اسے برا سمجھے۔ اور یہ ضعیف ترین ایمان ہے“۔ (مسلم۔ عن ابی سعید الخدریؓ) ۔ ایسا ہی عوامل سامنے آرہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف یہود، نصاریٰ و ہنود کوئی بھی کارروائی کریں تو یا تو زبانی مذمت کی جائے گی یا پھر زیادہ تر خاموش رہنے کو ترجیح دی جائے گی۔ اس بحث میں پڑے بغیرکہ کون کون عملی، زبانی و خاموشی سے کام لیتا ہے ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں، طاقت ور ممالک ہوں یا کمزور مملکتیں، یا پھر فروعی مفادات ہوں۔

یہ تماشا شب و روز ہمارے آگے ہوتا رہتا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد جس طرح کا رویہ مسلم اکثریتی ممالک نے روا رکھا اس نے یورپی ممالک کو بھی شرمندہ کردیا ہوگا۔ کم ازکم ہم نے یہ ضرور دیکھا ہے کہ احتجاج کے دورن غلطی سے کسی مسجد میں مظاہرین پر رنگ دار پانی پھینکنے کے بعد شرکا ء آتے ہیں، معافی مانگتے ہیں اور مسجد صاف کرکے چلے جاتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مسجد میں فائرنگ ہوتی ہے، سفید فام دہشت گرد قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں، غیر مسلم حکمراں آتے ہیں، نمازیوں کی حفاظت کرتے ہیں اور مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال قائم کرتے ہیں۔

ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مغل بادشاہوں کے دور میں ہندو مرہٹہ شاہی مسجد دہلی کو مندر بنانے کے لئے احمد شاہ ابدالی سے پانی پت پرجنگ لڑتے ہیں، شکست کھاتے ہیں لیکن اپنا خواب پورا نہیں کرپاتے، لیکن ان کا خواب پورا کرنے کے لئے ہندو مہا سبھا و آر ایس ایس شب و روز سرگرم ہیں۔ یہ ایمان کا پہلا درجہ تھا کہ منکر (ظلم) کو بزور طاقت روکا جائے۔ افغان بہادر سپوت احمد شاہ ابدالی نے مسلم مغل حکمرا ں سردار نجیب اللہ کی اپیل پر شاہی مسجد دہلی میں ہندو مرہٹہسدا سوراؤبھاؤ کورام کی مورتی رکھنے سے روکا۔

مغل حکمران شہزادہ علی گوہر کو دوبارہ دہلی حوالے کیا لیکن کمزور حکمراں جب ایمان و قوت کے حامل نہ ہوں تو انگریزوں کی طرح اُن سے مسند اقتدار چھین لیا جاتا ہے۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کمزور مغل حکمرانوں سے سکھوں نے جب لاہور فتح کیا تو موتی مسجد کو موتی مندر میں بدل دیا۔ کمزور مسلمان کچھ نہ کرسکے اوررنجیت سنگھ نے طاقت سے مسلمانوں کی مسجد چھین کر مندر بنادیا۔ رنجیت سنگھ سے مسجد واپس دلائی بھی تو انگریزوں نے۔

آج بھی لاہور میں یہ مسجد سکھوں کی اس تاریخ کی گواہ ہے۔ تاریخ نے پہیہ گھومایا تو تقسیم ہندوستا ن کے بعد سکھوں کے سب سے بڑے مذہبی مقام کو 72 برسوں امن کی راہدری کے نام پر کھول دیا، یقیناً سکھ کمیونٹی اپنی تاریخ میں پاکستانی ریاست کو اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔ تاہم اسی تاریخ میں موتی مسجد کو مندر بنانے کی تاریخ کو کبھی مٹایا نہیں جاسکتا۔

بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کرنے کے بعد مودی سرکار مطمئن ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلم اکثریتی ممالک اس عمل پر بھی نریندر مودی کے گلے میں پھولوں کا ہار پہنائیں گے، انہیں اعلیٰ اعزاز سے سرفراز کریں گے۔ اربوں ڈالر کے معاہدے کیے جائیں گے، لیکن بھارتی انتہا پرستوں کے اقدام پر جس طرح مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر خاموش رہے، اس پر بھی چپ ہی رہیں گے۔ یہ ہماری مسلم تاریخ کا بڑا المیہ ہے کہ ہم نے ہر بار اپنوں سے ہی زک کھائی ہے۔

بابری مسجد کے علاوہ مودی سرکاری کے نشانے پر مزید مساجد بھی ہیں، اس پر مسلم اکثریتی ممالک خاموش ہی رہیں گے کیونکہ ان کے تجارتی مفادات جو 13 سو کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک سے وابستہ ہیں۔ پاکستان کیا کیا کرے گا۔ شمال مغرب میں اپنے ہم مذہب سے لڑے اور سرزمین کا دفاع کرے یا ہندو شدت پسندوں سے مشرق کی سرحدیں بچائے۔ ملک کے اندر سہولت کاروں سے پنجہ آزمائی کرے یا پھر سوئچ آف کرکے پوری قوم کو بے خبر رکھے کہ گھبرائیں مت، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

دشمن اینٹ پر اینٹ مارے جا رہا ہے اور ہم ہر بار کہتے نہیں تھکتے کہ ’اِب کے مار‘ ۔ یقینی طور پر من الحیث القوم ہم میں کمزوریاں زیادہ ہیں، اس کی وجہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں ظلم ہی ظلم ہے، کرپشن، چور بازاری، ایمان فروشی، فرقہ واریت، صوبائیت، لسانیت اور اقربا پروری نے ہماری جڑیں اس قدر کھوکھلی کردی ہیں کہ ان کو جتنا بھی سیراب کیا جائے ان میں پھل لگنے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ہم نے اس نظام کو اس لئے چلنے دیا کیونکہ ایک ایسا نظام چل رہا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں۔

نظام تو چل رہا ہے اب ایسے کچھ بھی نام دیں، لیکن یہ ایک مفلوج زدہ نظام ہے جو ظلم کو بزور طاقت نہیں روک سکتا۔ اس نظام کو دیمک لگ چکی ہے اور ہم اس بات سے دانستہ انجان بنے ہوئے ہیں کہ کھوکھلی بنیادیں مضبوط ہیں۔ قوم کو دھوکے میں مت رکھیئے کیونکہ اب کسی سے کچھ چھپانا مشکل نہیں ہے۔ ساری دنیا ایک مٹھی میں آچکی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ دنیا کے کس کونے میں کیا کیا ہورہا ہے۔ لیکن اس ظلم کو روکنے کی ذمے داری فرد واحد پر نہیں عاید ہوتی۔

یہ بلاشبہ ریاست کی ذمے داری ہے۔ ریاست ہی اپنی رعایا کو طاقت ور بناتی ہے، ریاست ہی اپنی عوام کو کمزور و بزدل بناتی ہے۔ قرآن مجید کی مختصر سورہ، سورۃ العصر میں بیان کیا گیا ہے : ”زمانے کی قسم، انسان درحقیقت خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے“۔ مسلمان امت مسلمہ میں حق و خیر کا محافظ اور نگران ہے۔ مسلم معاشرے میں برائی صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب معاشرہ غفلت کا شکار ہو جائے یا ضعف اور انتشار سے دوچار ہو جائے۔ ایسی صورتحال میں یہ معاشرہ نہ قائم رہ سکتا ہے اور نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی خیال نہیں کرسکتا اور اپنے ان دگرگوں حالات کی بنا پر کسی قانون کے نفاذ سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •