اِک یو ٹرن اور سہی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی حکومت کے لئے پہلے دھرنا بڑا مسئلہ دکھائی دے رہا تھا لیکن اب میاں نواز شریف کی بیماری اور بیرون ملک رخصتی سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے میاں نواز شریف کی رخصتی کا تقریباً فیصلہ ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد اچانک رکاوٹیں کھڑی ہونا شروع ہوگئیں۔ وفاقی دارالحکومت میں موجود سیاسی حلقوں کا یہ بھی یہ خیال ہے کہ میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی میں سب سے بڑی مشکل سلمان شہباز کی اس ”ٹویٹری“ بڑھک نے پیدا کی ہے جس میں انہوں نے قبل ازوقت نعرہ لگادیا کہ جہاں سے اے سی اتارے جارہے تھے وہاں سے میرا والد اپنے بھائی کو نکال کر لے گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے اب یہ ضرب المثل عام ہوچکی ہے کہ وہ ٹویٹ اور سویٹ کا استعمال کرتے ہوئے حالات کا جائزہ نہیں لیتے بس جلدی میں دونوں کا استعمال کرتے ہیں اوردونوں ہی پھر ان کے لئے مسائل پیدا کردیتی ہیں۔

بہرحال اگر میاں نواز شریف گزشتہ اتوار کو بیرون ملک چلے جاتے تو اس وقت تک حکومت پر اٹھنے والی آوازیں اور انگلیاں بھی واپس اپنی جگہ پر آچکی ہوتیں لیکن وفاقی حکومت اب اس مسئلے پر ایسے ڈٹی ہوئی ہے جیسے پہلے اس ملک میں یا اس دور حکومت میں کوئی بے اصولی ہوئی ہی نہیں ہے۔ جب سیاستدان اور حکمران نعرہ لگاتے ہیں کہ قانون سب کے لئے تو یہ ایک مثالی صورتحال معلوم ہوتی ہے لیکن آج تک ایسا ہوا نہیں اس لئے جہاں ہزاروں اور لاکھوں بے اصولیاں اور ہوچکیں ایک بے اصولی اور سہی کے اصول کے تحت میاں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت غیر مشروط ملنی چاہیے۔

جب معاملہ عدالت میں تھا تو عدالت حکومت سے استفسار کررہی تھی کہ اگر میاں نواز شریف کی زندگی کو کچھ ہوا تو پھر کون ذمہ دارہوگا؟ اب ”بار علاج“ میاں نواز شریف پر اسی طرح آن پڑا ہے جس طرح پانامہ کیس میں عدالت نے ”بار ثبوت“ ان پر عائد کردیا تھا لہذا حکومت کو چاہیے کہ میاں نواز شریف کو ان کی مرضی کے مطابق علاج کروانے کی سہولت فراہم کرے اور اگر میاں نواز شریف بیرون ملک جا کر واپس نہ آئے تو اس سے بڑی نیکی حکومت کے ساتھ اور کیا ہوسکتی ہے؟ اگر میاں نواز شریف بیرون ملک جا کر اپنے سمدھی اسحاق ڈار یا پھر اپنے بچوں کے نقش قدم پر چل پڑے تو پھر مسلم لیگ (ن) ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور محترمہ مریم نواز کے لئے یہ سیاسی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

چونکہ وزیراعظم عمران خان نے آغاز ”مہربانی“ میں کہا تھا کہ میاں نواز شریف کو انسانی ہمدردی کے تحت بیرون ملک علاج کے لئے بھیجا جارہا ہے اس لئے چند گھنٹوں بعد وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا اس ”مہربانی“ اور ”انسانی ہمدردی“ سے دستبردار ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ البتہ اگر حکومت پہلے دن سے ہی یہ موقف اختیار کرتی کہ ایک ایسے شخص کو بیرون ملک کیسے بھیجا جائے جس کے دو بیٹے پہلے ہی مفرور ہیں اور اس کے سگے بھائی کے بیٹے بھی مفرور ہو چکے ہیں جبکہ سمدھی اور بھائی کا داماد بھی اسی چکر میں ”رفوچکر“ ہوچکا ہے اور یہ کہ میاں نواز شریف وہ شخص ہے جس نے پہلے پارلیمنٹ کے فلور پر جھوٹ بولا اور پھر سپریم کورٹ نے اسے جھوٹا قرار دیا اس لئے ایسے ”بے اعتبارے“ شخص کو کیونکر باہر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟

لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی 22 سالہ سیاسی جدوجہد میں بے شمار سمجھوتے کیے ہیں اگر شیخ رشید کو بھی کابینہ میں لے سکتے ہیں تو میاں نواز شریف کو باہر بھجوانا اتنا بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چوہدری برادران کے بارے میں بھی ان کے خیالات اچھے نہیں تھے لیکن اب چوہدری برادران وفاقی حکومت کی شہ رگ ہیں۔ اس لئے میاں نواز شریف کو بیرون ملک کی اجازت دینے میں کئی حرج نہیں ہے۔ البتہ میاں نواز شریف کو اجازت نہ دے کر حکومت کو ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے عوام نے اپنے دکھ درد بھول کر حکومت اور اپوزیشن کا میچ بہت خوشدلی سے دیکھ رہے ہیں۔

روزی روٹی سے تنگ عوام سارا دن اسی سوچ میں گزار دیتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو علاج کے لئے باہر بھیجا جائے گا یا نہیں؟ انہی سوچوں میں شاید عوام کو بیسیوں بیماریاں لگ جائیں۔ مولانا کی رخصتی میں مولا نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے تیز بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے مولانا کے لشکر کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ اب میاں نواز شریف کی رخصتی کا معاملہ ہے حکومت چاہتی ہے کہ یہ کام بھی اب مولا ہی کرے اور حکومت کے موقف پر آنچ نہ آئے۔

”ایمانداروں“ کی اس حکومت کو سارے کام مولا پر نہیں چھوڑے دینے چاہئیں کچھ فیصلے خود بھی کرنا چاہئیں۔ ایسا نہ ہوکہ اس بار مولا بارش کی بجائے ”فرشتہ“ بھیج دے اور پھر بقول چوہدری شجاعت حسین کے حکومت اس کا ازالہ نہ کرسکے اس لئے حکومت اِک اور ”گناہ“ کرنے میں دیر نہ کرے اور میاں نواز شریف کو علاج کے لئے تمام سہولت فراہم کردی جائیں۔ ماضی میں ایسے بے شمار گناہ حکومتوں سے ہوئے ہیں اس لئے حکومت کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 59 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat