تنہا ہوتا ہوا عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کم از کم یہ بات تو اب پوری طرح واضح ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی شدید بیماری کو مذاق بنانے کے پیچھے صرف اور صرف عمران خان اور اس کی جماعت کے چند ارکان ہی ہیں (پوری جماعت برگز نہیں ) ۔ یہ جو ہم ہر سیاسی معا ملے کے عقب میں خفیہ ہاتھ تلاش کرنے کے عادی ہو گئے ہیں تو وہ خفیہ ہاتھ اس انتہائی غیر انسانی اور وحشت انگیز عمل سے کم از کم خود کو بہت فاصلے پر لے گیا ہے لیکن عمران خان کی اٹھان اور سیاسی تاریخ ہمیشہ سے ایسی ہی وحشت انگیزیوں کی بنیاد پر کھڑی نظر آرہی ہے خواہ وہ ایک سو چھبیس دن کے دھرنے کی گالم گلوچ ہو یا کینسر سے تڑ پتی کلثوم نواز کے بے جان ہوتی جسم اور پھر اس کی موت کا مذاق ہو مولانا فضل الرحمن کو بھرے جلسے میں ڈیزل ڈیزل کہہ کر پکارنا ہو یا محمود خان اچکزئی کی نقلیں اتارنا آصف علی زرداری کو سب سے بڑی بیماری کہنا ہو یا اسفند یار ولی سے پرویز الہی تک کو ڈاکو کے القابات دینا۔

سو ان سے یہ توقع رکھنا عبث ہی ہے کہ وہ آپنے سب سے بڑے سیاسی حریف نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت کے معاملے کو انسانی ہمدردی کے تناظر میں دیکھے گا بلکہ اپنی منتقم مزاج فطرت کے سبب اس سلسلے میں عدالتی فیصلے تک کو مذاق بنا کر رکھ دیا کیونکہ کبھی علاج کی اجازت دینے کے فیصلے پر کمیٹی بنانے لگا تو کبھی کابینہ کا اجلاس بلانے لگا حتی کہ خود ہی عدالت بن کر ضمانت مانگنے لگا اور سات ارب کا بانڈ جمع کرانے کا فیصلہ بھی سنا دیا لیکن صورتحال یہ ہے کہ ا پنی پارٹی بلکہ کابینہ کی سطح پر بھی اپنے مطالبے کی حمایت میں کوئی مضبوط تائید اٹھانے میں ناکام نظر آئے کیونکہ اگر ذلفی بخاری اور شیریں مزاری جیسے ہارڈ لائنرز عمران خان کی حمایت میں دکھائی دیے بھی تو انھیں کون سا عوام میں جا کے جلسوں سے خطاب کرنا اور الیکشن لڑنا ہے بلکہ یہ لوگ تو مخصوص سیاسی موسموں میں خلاوں سے اترتے اور پھر بگولوں میں غائب ہوتے وہ کردار ہیں جن کا سیاسی شجرہ نسب پراسرار رہداریوں اور بے نام بستیوں میں پروان چڑھتا ہے خلق خدا کے آس پاس نہیں۔

سو اب نواز شریف کی بیماری اور علاج کے معاملے میں تحریک انصاف کے اندر ہی وزیر اعظم عمران خان کی تنہائی اور حمایت سے محرومی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ پوری کابینہ میں پنجاب سے صرف ایک منتخب وزیر فواد چودھری ای سی ایل سے بغیر کسی ڈیمانڈ کے نام نہ نکالنے کے حامی نظر آئے جبکہ شفقت محمود سے غلام سرور خان اور طارق بشیر چیمہ سے خسرو بختیار تک تمام وزراء اس معاملے سے مکمل طور پر الگ تھلگ رہے۔ یہاں تک کے شاہ محمود قریشی نے تو کھلے عام ٹیلی وژن انٹرویو میں بھی کہا کہ وزیر اعظم کو آئینی اور قانونی حوالے سے قطعاً یہ اختیار حاصل نہیں کہ عدالتی فیصلے کے بعد بھی وہ (شوورٹی) بانڈ جمع کرانے کا کوئی مطالبہ کرے۔

جب اپنی پارٹی کے کابینہ ارکان یہی پوزیشن لے کر وزیراعظم سے ایک فاصلے پر بلکہ مخالفت کرتے نظر آئیں تو یہ اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں کہ حلیف جماعتوں کا موڈ کیا ہوگا اس لئے تو اسی دن جہاندیدہ اور محتاط سیاستدان اور ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین خلاف معمول اشتعال اور غصے میں یہاں تک کہہ گئے کہ اگر عمران خان کا یہی رویہ رہا تو تین یا چھ مہینے بعد پاکستان میں کوئی شخص وزیراعظم بننے کو تیار بھی نہیں ہو گا۔

چودھری شجاعت کا بیان بظاہر تو ایک عام سا اختلافی نقطہ نظر ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ معاملات کس نہج پر جا نکلے ہیں اور وزیراعظم عمران خان سیاسی حوالے سے کس خوفناک تنہائی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حلیف جماعت اور حکومت میں شامل ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے بھی ایک ٹاک شو میں کھلے عام اس نقطہ نظر کی شدید مخالفت کی جسے عمران خان کراچی سے تعلق رکھنے والے دو وزراء اور چند غیر منتخب مشیروں کے ساتھ اپنائے ہوئے ہیں۔

گویا صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کی بیماری اور عدالتی فیصلے کی مخالفت پر نہ صرف مقتدر قوتیں اور حلیف جماعتیں خود کو عمران خان سے ایک فاصلے پر لے گئی ہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر بھی ایک واضح دراڑ نمودار ہونے لگی ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود جس شخص کا نام عمران خان ہے کم از کم اس کے لئے کوئی دلیل اور منطق تو دور کی بات انسانی اور عدالتی حوالہ بھی اس وقت تک اہم نہیں ہو سکتے جب تک آپ اس سے اختلاف کرتے رہیں اور جس دن آپ اس کے ساتھی بن جائیں عین اسی دن آپ اس خوش کن اور دلفریب سیاست کا حصہ بن جاتے ہیں جسے تحریک انصاف کے نام سے پہچانا جاتا ہے جہاں جہانگیر ترین سے علیمہ خان اور بابر اعوان سے ذلفی بخاری تک سارے کے سارے کردار دھل کر نہ صرف صاف اور شفاف بن جاتے ہیں بلکہ ان کی اجلاھٹ کے سب سے بڑے علمبردار اور گواہ بھی عمران خان خود بن جاتے ہیں اور پھر اپنی بات سے پھرنا اور بے تکان بولنا تو کوئی ان سے سیکھے بشرطیکہ ایک مائیک تھما دیں۔

گویا خان صاحب کا سیا سی بیانیہ ان کے اسی فلسفے پر استوار ہے کہ یا تو میرا ساتھی بن جاؤ ورنہ۔ اور پھر اس ورنہ کے بعد ایک خوفناک تاریخ ہے جس میں کلثوم نواز کے کینسر سے تڑپتے ہوئے جسم کا مذاق بھی ہے، نواز شریف پر موت و حیات کے وقت ناجائز شرائط بھی، شاہد خاقان عباسی کی کال کوٹھڑی بھی، آصف علی زرداری کی علاج سے محرومی بھی، خورشید شاہ سے رانا ثناءاللہ تک اھل زنداں بھی، فضل الرحمن سے اچکزئی تک گالم گلوچ بھی اور ایماندار پولیس افسر عصمت اللہ جونیجو کے جسم سے کسی شاھراہ پر رستا ہوا خون بھی، لیکن سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ پھر بھی عمران خان کی مخالفت سے باز کیوں نہیں آتے ورنہ ڈاکو سے سپیکر بننا اور چپڑاسی سے وزیر بننا تو ایک عام سی یو ٹرن کی مار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •