نواز شریف سے فروغ نسیم شورٹی بانڈ کس وجہ سے مانگ رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے لوگ حیران ہیں کہ وزیراعظم اور پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی تصدیق کے باوجود کہ نواز شریف کی صحت خراب ہے اور یہ سیاست کا نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے، کیا وجہ ہے کہ وزیر قانون جناب فروغ نسیم اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے غیر مشروط طور پر نکالا جائے بلکہ وہ نواز شریف سے سات ارب روپے کا شورٹی بانڈ بھروانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کا یہ مطالبہ بلاجواز ہے یا پھر اس کے پیچھے ٹھوس وجوہات موجود ہیں؟

فروغ نسیم کا تعلق ایم کیو ایم سے رہا ہے۔ الطاف حسین کی انہوں نے طویل عرصے وکالت کی ہے۔ ایم کیو ایم کے ہر کارکن کی طرح وہ الطاف بھائی کی محبت میں سرتاپا اندھا دھند غرق ہوا کرتے تھے۔ الطاف بھائی دن کو رات کہتے تو فروغ نسیم تصدیق کرتے کہ بلاشبہ اماوس کی رات ہے۔ اہلِ دل جانتے ہیں کہ پہلا عشق ساری زندگی کی کسک دیتا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ الطاف بھائی ایک دن پوری شان و شوکت سے واپس وطن آئیں گے۔ وہ نہ آئے۔ فروغ نسیم کا دل کیسا ٹوٹا ہو گا سب عشق پیشہ لوگ جانتے ہی ہیں۔ محبوب جب نہ آئے تو عاشق کے دل پر قیامت گزر جاتی ہے۔

پھر الطاف بھائی نے ایک ایسی تقریر کر ڈالی کہ راندہ درگاہ ہوئے اور ایم کیو ایم پاکستان نے انہیں بھائی کے مرتبے سے عاق کر ڈالا۔ ان کا باب ختم ہوا۔ لگتا ہے کہ بیرسٹر فروغ نسیم ہماری طرح قبلہ شفیق الرحمان کو مرشد مانتے ہیں۔ شفیق الرحمان نے اپنے ایک مضمون میں ایک کائناتی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے ناکام اور نامراد عاشق مقصود گھوڑے کو ولایت پلٹ خالد کی زبانی ایک نصیحت کی تھی کہ ایک ناکام عشق کا علاج ایک اور عشق ہے۔ فروغ نسیم نے اس مرتبہ جنرل پرویز مشرف کی مورت کو اپنے من مندر میں سجا ڈالا اور ان کے وکالت نامے پر دستخط کر دیے۔

جنرل پرویز مشرف نے سنہ 2014 میں درخواست دائر کی کہ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ ایک تو ان کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہے جس کا پاکستان میں علاج ممکن نہیں ہے، دوجے انہوں نے بیرون ملک اپنی والدہ محترمہ کی قدم بوسی بھی کرنا ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف پر بینظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی کیس، لال مسجد اور آرٹیکل 6 کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، وہ ان مقدمات میں عدالتوں کے روبرو پیشی سے استثنیٰ چاہتے ہیں اور جنرل پرویز مشرف کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، اگر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا گیا تو وہ پھر وطن واپس نہیں آئیں گے۔

محبوب کی ہر بات پر چاہنے والے کو اندھا اعتبار ہوتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی بیرسٹر فروغ نسیم کو بتایا ہو گا کہ وہ واپس آئیں گے، سو انہوں نے عدالت کو جی جان سے یقین دلایا کہ طلب کرنے پر وہ لازماً واپس آئیں گے۔ عدالت نے اجازت دے دی کہ جاؤ، ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوا دیتے ہیں۔ پرویز مشرف چلے گئے اور واپس نہ آئے۔ فروغ نسیم کے دل پر دوسری بار کیسا چرکا لگا ہو گا؟

دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، سانپ کا کاٹا رسی سے بھی ڈرتا ہے۔ الطاف بھائی اور جنرل پرویز مشرف تو فروغ نسیم کے اپنے تھے، جب باہر جا کر انہوں نے پلٹ کر نہ دیکھا تو فروغ نسیم اب پرائے نواز شریف پر کیسے اعتبار کر لیں کہ وہ واپس آ جائیں گے۔ الیکشن سے پہلے بستر مرگ پر پڑی بیگم کلثوم نواز کو چھوڑ کر یقینی گرفتاری اور مصائب کا سامنا کرنے کے لئے نواز شریف کی واپسی سے بھی فروغ نسیم کے دل کو تسلی نہ ہوئی ہو گی۔ نہ ہی جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں زبردستی سعودی عرب سے پاکستان آنے اور شہزادے مقرن بن سعود کے ہاتھوں گرفتار کر کے واپس بھیجے جانے سے انہیں یقین ہوا ہو گا کہ نواز شریف کا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔

بس یہ اپنوں کے دیے ہوئے دھوکے ہیں جن کے بعد فروغ نسیم کا انسانوں پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب الطاف حسین اور جنرل پرویز مشرف جیسے واپس نہ آئے تو نواز شریف کیوں واپس آئیں گے۔ اپنے تئیں تو فروغ نسیم شورٹی بانڈ مانگ کر درست کر رہے ہیں۔ ہمیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرسٹر فروغ نسیم کے کیس کا جائزہ لینا چاہیے اور ان کے بارے میں بدگمانی دل میں نہیں پالنی چاہیے۔ شاید مرشدی شفیق الرحمان کے قول کے مطابق تیسرا عشق کامیاب ہو جائے اور ان کا انسانیت پر اعتبار دوبارہ بحال ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar