استاد سلامت حسین بانسری نواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” میرے والد نظم و نسق میں سخت ضرور رہے لیکن پہلے بھی اور اب بھی بہت پیار کرنے والے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ بچپن میں اپنے کام اور مصروفیات کے ساتھ ہم سب گھر والوں کو پابندی سے وقت دیتے اور باہر گھمانے پھرانے لے جاتے۔ آج ہمارے والد صاحب کے پاس، اور پھر اُن کے طفیل ہمارے پاس جو بھی ہے وہ میری دادی کی دعاؤں کی بدولت ہے۔ میرے پاپا نے ہماری دادی اور دادا کی بہت خدمت کی۔جب آخر زمانے میں دادای بیمار ہوئیں تب پاپا لاہور میں تھے۔ کہا کرتیں کہ سلامت میاں آ جائیں تو ہم اطمینان سے ’چلیں‘۔ اور ہوا بھی ایسے ہی۔ اِدھر پاپا گھر میں آئے دعا سلام ہوئی اور اُدھر دادی دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ ہم نے پاپا کو ہمیشہ اپنے فرائض کو مقدور بھر پورا کرتے ہی دیکھا۔ جب بھی پاپا کو پذیرائی ملتی ہمیں خوشی ہوتی“۔ یہ باتیں سلامت بھائی کے سب سے بڑے بیٹے ذاکر حسین نے ایک ملاقات کے دوران میں بتائیں۔

اکتوبر 1980 میں راقِم کو پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے پروگرام ڈِپارٹ منٹ سے منسلک ہوئے چند روز ہوئے تھے کہ ایک دن صدر دروازے پر بین الاقوامی شہرت یافتہ موسیقار، بانسری نواز سلامت حسین پر نظر پڑی جو سر جھکائے جا رہے تھے۔ میں اُنہیں اچھی طرح پہچانتا تھا۔ کیوں کہ میں اُنہیں سننے بہت شوق سے پاک امریکن کلچرل سینٹر اور آرٹس کونسل وغیرہ جاتا تھا۔ آج وہ میرے سامنے تھے۔ میری دلی خواہش تھی کہ اِن کی بانسری پر کلاسیکی راگوں پر مبنی پروگرام پیش کروں۔ جلد ہی ایسے کئی ایک مواقع آئے۔ اور میں نے پروڈیوسر مرغوب احمد صدیقی صاحب کے ساتھ کلاسیکی موسیقی کے پروگرام ”راگ رنگ“ کیے۔ پچھلے دنوں سلامت بھائی سے ایک نشست رہی۔ اُس میں کی گئی گفتگو اور سوال جواب پڑھنے والوں کی دل چسپی کے لئے پیش کیے جا رہے ہیں:
” میں 1937 میں ریاست رام پور میں پیدا ہوا۔ میرے خالو ریاست کے سرکاری بینڈ میں تھے۔ وہ مشتاق حسین خان اور اِشتیاق حسین خان سے کلاسیکل موسیقی کا درس لیا کرتے تھے۔ یہیں موسیقار نوشاد علی بھی سیکھنے آتے تھے۔ میں کم عمری سے ہی خالو کے ساتھ جاتا اور غور سے ان کے اسباق سنتا۔ میرے خالو جب بینڈ میں مشق کرتے میں تب بھی وہاں موجود ہوتا تھا۔ پھر خالو نے ایک سرکس میں شمولیت کر لی۔ میں تب بھی ان کے ساتھ ساتھ تھا۔ اِس کے بعد بِہار کے علاقے میں خالو نے بینڈ کی دُکان کھول لی۔ میں اب بھی خالو کے ساتھ تھا۔ میرے سامنے ہی گاندھی جی کو گولی لگی جِس کے فوراََ بعد کشیدگی ہو گئی جس کے باعث ہم لوگ واپس رام پور آ گئے۔ اُن دِنوں ریاست میں ہیضہ کی وبا پھوٹ پڑی اور آدھا رام پور خالی ہو گیا۔ والدین نے فیصلہ کیا کہ اب پاکستان ہجرت کر جائیں۔ ہم لوگ چچا کے ہاں سکھر آ گئے۔ وہاں بات نہ بنی۔ اس کے بعد ہم کراچی میں جوبلی سینما کے قریب اپنے چچا زاد کے ہاں نقلِ مکانی کر گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد جیکب لائن میں واقع مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی کی مسجد کے پاس اپنا گھر لے لیا ۔یہاں میرا اُٹھنا بیٹھنا ’گواَن‘ Goan نوجوانوں میں ہونے لگا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں نے بانسری پر مشق کرنا شروع کر دی تھی۔ میں اپنے دوست احباب کی فرمائش پر
”جائیں تو جائیں کہاں“ اور ”تو نے ہائے میرے زخمِ جگر کو چھو لیا“ وغیرہ بجایا کرتا تھا۔ کسی نے میری والدہ سے شکایت کر دی کہ تمہارا بیٹا گواَن لڑکیوں میں بیٹھا بانسری پر فِلمی گانوں کی دھنیں بجا تا ہے جِس پر والدہ نے میری پِٹائی کر دی اور بانسری بجانے پر پابندی لگا دی“۔

اپنے گھر میں

”اِس کا میں نے یہ حل نکالا کہ کمبل لپیٹ کر اب تک جو راگ راگنیاں، بندشیں، ترانہ، بول کے بناؤ وغیرہ سنے تھے اُس کی خوب خوب مشق کرتا۔ یہ سلسلہ دو مہینے چلا۔ پھر ایک دِن خیال آیا کہ اب شاید میں تھوڑا بہت بانسری بجانے کے قابِل ہو گیا ہوں لہٰذا میں نے بندر روڈ پر ریڈیو پاکستان کے سامنے کھڑا ہونا شروع کر دیا۔میرے جیسے اور بھی بہت لوگ یہاں کام حاصل کرنے موجود ہوتے۔ وہاں موسیقار نذیر شیلے سے ملاقات ہوئی۔ وہ بہت اچھے ہارمونیم نواز تھے اور فلمی گانوں کی صدا بندی میں حصہ لیتے تھے۔ میں بھی اُن کے ساتھ مختلف گھریلو تقریبات میں جانے لگا۔ یہ ایک دِن مجھ کو ریڈیو پاکستان کی عمارت کے اندرلے گئے اور زیڈ اے بخاری صاحب سے ملاقات کروائی۔ وہاں دہلی گھرانے کے امراؤ بندو خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حیدر آباد میں نیا ریڈیو اسٹیشن قائم ہو رہا ہے میں وہاں چلا جاؤں۔ لہٰذا میں 150/ روپے ماہانہ تنخواہ پر حیدرآباد آ گیا۔یہاں میرا قیام چند مہینے ہی رہا۔ اُس وقت میرے ساتھ بانسری نواز محمد جمّن بھی تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ گلوکاری کرنے لگا۔ مجھ سے بھی کہتا کہ گلوکار ہو جاؤں۔ میں نے سوچا کہ گانے والے تو کئی ہیں، کئی اور بھی ہو جائیں گے لیکن بانسری میں ایسا نام اور کام کرو کہ بانسری بجانے میں ’سلامت‘ ایک ہی ہو۔ ہم لوگ رات کو رانی باغ میں جاتے جہاں ریڈیو کے اناؤنسر حمایتؔ علی شاعر اور ابراہیم جلیس بھی بیٹھتے۔ وہاں مجھے علم ہوا کہ ریڈیو پاکستان کراچی میں اسٹاف آرٹسٹوں کے آڈیشن ہو رہے ہیں۔ لہٰذامیں بھی چلا گیا۔ میرا اور احمد رُشدی کا ایک ہی ساتھ آڈیشن ہوا۔ یہ 1952 کا ذکر ہے“۔

”کراچی میں فلمی گیتوں کی رِکارڈنگ میں بانسری نوازلال محمد نے اچھا کام کیا تھا۔ اب میری کراچی واپسی پر موسیقار جوڑی غلام نبی اور عبد اللطیف اور دوسر ے موسیقاروں نے فلمی رِکارڈنگ میں مجھ سے کام لینا شروع کر دیا۔ بھارت سے نامور گلوکارہ مبارک بیگم جب پاکستان آئیں تو اُنہوں نے کراچی میں فلم ”بڑا آدمی“ (1957) میں موسیقار غلام نبی عبد الطیف کی موسیقی میں احمد رشدی کے سا تھ میں ایک دو گانا رِکارڈ کروایا: ’ کاہے کو جلانا دل کو……‘ ۔اس گیت میں،میں نے بانسری بجائی“۔

استاد سلامت ایوارڈوں کے ساتھ

”1958 میں لاہور سے موسیقار اے حمید کراچی میں اقبال یوسف کی فلم ”رات کے راہی“ کے گانے رِکارڈ کرنے آئے۔ اُنہوں نے بھی مجھے بلوا کر زبیدہ خانم کی آواز میں فیاضؔ ہاشمی کا یہ سپر ہٹ گیت رِکارڈ کرایا:
کیا ہو ا دِل پہ سِتم تم نہ سمجھو گے بلم
بے وفا نہیں ہیں ہم، اِس محبت کی قسم
”1959میں فلم ’سویرا‘  میں ماسٹر منظور شاہ عالمی والے کی موسیقی میں ایس بی جون کی آواز میں فیاضؔ ہاشمی کے اِس گیت میں، میں نے بانسری بجائی:
تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے‘‘۔

انتہائی ضروری تصحیح: واضح ہو کہ انٹر نیٹ پر تمام جگہوں پر مذکور گیت کے موسیقار ماسٹر منظور اشرف کا نام لکھا ہے جب کی اس گیت کے گلوکار جَون بھائی المعروف ایس بی جون صاحب نے خود مجھ سے کہا کہ گیت کے موسیقار ماسٹر منظور شاہ عالمی والے ہیں، ماسٹر منطور نہیں۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے سلامت بھائی نے کہا: ”کراچی کی پہلی سندھی فلم ”عمر ماروِی “ کے ہیرو اور فلم ساز حسن شیخ تھے۔ یہ مجھے چچا کہا کرتے تھے۔ اس فلم کے گیتوں میں میری بجائی ہوئی بانسری ہے۔ فلم کی موسیقی غلام نبی اورعبد اللطیف صاحبان کی تھی۔ اِن کے علاوہ میں نے اور بہت سے موسیقاروں کی سندھی فلمیں کی ہیں۔ابھی پچھلے دِنوں میں نے آرکسٹرا کے ساتھ بانسری میں اپنی سندھی فِلموں کے گیتوں کی 45 منٹ کی رِکاڈنگ کی ہے۔ اتنے ہی دورانیہ کا میرا انٹرویو بھی شامِل ہے۔ اِس پراجیکٹ کے روحِ رواں غلام محمد سولنگی ہیں“۔
یہ سن کر مجھ کو سندھی فلم ”گھونگھٹ لاہے کنوار“ یاد آ گئی۔ جِس کا ایک گیت ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں بہت مقبول ہوا تھا: ’اے ہوا آؤں چھو نہ نچاں مکھے پیار ملیو……‘ جب میں نے اِس گیت میں بجنے والی بانسری کا پوچھا تو سلامت بھائی نے مسکرا کر جواب دیا: ”امداد کی موسیقی میں یہ گیت بھی میرا بجایا ہوا ہے“۔
میں نے موسیقار فیروز گُل (بعد از مرگ تمغہء امتیاز 2011) کے بارے میں پوچھا تو جواب میں کہا: ”اِن کے ساتھ میں نے بہت کام کیا“۔

دائیں سے بائیں مظفر وارثی، منیر نیازی، کلیم عثمانی، احمد راہی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، تنویر نقوی، حبیب جالب اور طفیل ہوشیار پوری

ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا: ”پچھلے دنوں جام شورو میں موسیقی کا ایک بڑافیسٹیول ہوا۔ اس میں مہتاب راشدی، مصطفےٰ قریشی اور دیگر نامور شخصیات شریک ہوئیں۔ مجھے بھی خاص طور پر وہاں بلوایا گیا کیوں کہ میں نے سندھی فلموں کے تقریباََ سبھی موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ہے“۔

جمعہ 5 اپریل 1963 کو فلم ساز اور ہدایت کار حسن طارق کی فلم ’’شکوہ‘‘ نمایش کے لئے پیش ہوئی۔ فلم کے مصنف ریاض شاہد تھے جب کہ مکالمے علی سفیان آفاقی کے لکھے ہوئے تھے۔ حسن لطیف مذکورہ فلم کے موسیقار تھے۔ موصوف نے فلموں میں کم موسیقی دی مگر جو کام کیا بہت خوب کیا۔ اِس فلم میں نور جہاں کی آواز اور تنویر ؔنقوی کا یہ گیت بہت مقبول ہوا جس میں سلامت بھائی نے پہلی مرتبہ حسن لطیف کے لئے کام کیا:
’ آج محفل سجانے کو آئی……‘

سلامت بھائی کچھ عرصہ بعد لاہور منتقل ہو گئے۔ اِس کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا: ”میری ریڈیو پاکستان کراچی سے خلیل کے ساتھ اچھی سلام دعا تھی۔ اُنہیں کے کہنے پر پھر میں لاہور آ گیا۔ فلم ’خاموش رہو‘ (1964) کے موسیقار خلیل احمد تھے۔ اِس فلم میں گلوکارہ مالا کی آواز میں رِکارڈ ہونے والا یہ گیت:
میں نے تو پریت نبھائی
سانوریا رے نکلا تو ہرجائی
لاہور میں میرا پہلا فلمی گیت ہے“۔

موسیقار خلیل احمد

نخشبؔ جارچوی کی فلم ’’میخانہ‘ ( 1964) میں سلیم رضا کی آواز اور موسیقار ناشاد کی موسیقی میں خود نخشب صاحب کے لکھے اِس گیت میں سلامت صاحب نے بانسری بجا ئی:
جان کہہ کر جو بلایا تو برا مان گئے
آ ئینہ اُن کو دکھایا تو برا مان گئے
12 نومبر 1964 کو نمایش کے لئے پیش ہونے والی فلم ”ہیرا اور پتھر“ بطور فلم ساز وحید مراد اور ہدایت کار پرویز ملک کی یہ پہلی فلم تھی۔ اِس فلم کی ایک خاص بات فلم ایڈیٹر عقیل تھے جنہوں نے اپنی پہلی ہی فلم میں بہترین ایڈیٹر کا نگار ایوارڈ (1964) حاصل کیا۔ اِس فلم میں موسیقار سہیل رعنا کی موسیقی میں ایک گیت سلیم شہزاد اور طلعت صدیقی کی آواز میں رِکارڈ ہوا۔ یہ بہت مقبول ہوا: ’مجھے اک لڑکی سے پیار ہو گیا……‘۔ اس گیت میں سلامت حسین صاحب نے بانسری بجائی۔

19 دسمبر 1965 کو ہدایت کار شریف نیّر کی لاہور میں بننے والی مغربی پاکستان کی پہلی رنگین فلم ’’نائلہ“ نمایش کے لئے پیش ہوئی۔ ماسٹر عنایت حسین اِس فلم کے موسیقار تھے۔ اِس فلم کے سارے گانے سلامت صاحب کے بجائے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے ماسٹر عنایت حسین کے ساتھ اور بہت سی فلمیں بھی کیں۔ پاکستان فلم ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان کی پہلی رنگین فلم ”سنگم“ ہے جو 23 اپریل 1964 بروز جمعرات نمایش کے لئے پیش ہوئی۔ مشرقی پاکستان میں بنائی گئی مذکورہ فلم نے کراچی میں سلور جوبلی کی۔ اس فلم کا مرکزی سنیما رینو تھا۔

موسیقار ماسٹر عنایت حسین

2 ستمبر 1966 کو نمایش کے لئے پیش کی جانے ولی فلم ”بد نام“ نے کراچی میں سلور جوبلی کی۔ مرکزی سنیما ’کوہِ نور‘ تھا۔ اِس فلم کی دو خاص باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ سعادت حسن منٹو کے افسانے ”جھمکے“ سے متاثر ہو کر یہ فلم بنائی گئی۔ دوسرے گلوکارہ ثریا ملتانیکر نے اس فلم میں اپنی پہچان بنانے والا پہلا فلمی گیت (در اصل یہ غزل ہے) رِکارڈ کرایا۔ اسے مسرورؔ بھائی المعروف مسرورؔ انور نے لکھا اور دیبو بھٹہ چاریہ نے موسیقی ترتیب دی:
بڑے بے مرّوّت ہیں یہ حسن والے
کہیں دِل لگانے کی کوشش نہ کرنا

اس غزل میں دیبو بھٹہ چاریہ نے مسرورؔ بھائی کی غزل کے بولوں کی مناسبت اور فلم کے منظر نامے کی مطابقت سے غزل کی دھن پھر انٹرو اور انٹرول میوزک کمپوز کرتے ہوئے اور پھر اِس کی ارینجمنٹ میں کمال کر دکھایا۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اِس گانے نے فلم ”بد نام“ کو مقبول کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ موسیقار دیبو خود بہتریں بانسری نواز تھے لیکن اِس غزل میں انہوں نے سلامت بھائی سے کیا خوبصورت بانسری بجوائی۔

1966 میں نمایش کے لئے پیش ہونے والی، علی سفیان آفاقیؔ کی کہانی پر مبنی فلم ”سوال“ میں نور جہاں کی آواز میں فیاضؔ ہاشمی کا لکھا اور رشید عطرے کی موسیقی میں یہ لازوال گیت بھی سلامت صاحب کا ہی بجایا ہوا ہے:
ارے او بے مروت ارے او بے وفا
بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ

خواجہ خورشید انور

ایک سوال کے جواب میں سلامت بھائی نے مجھے ایک دِل چسپ واقعہ سنایا: ”ایک روز ایک وجیہہ قد کاٹھ اور گورے چٹے شخص نے میرا نام لے کر کہا: ارے او سلامت! کیا تو نے خلیل احمد کے پیسے دینے ہیں جو صرف اُسی کا کام کرتا ہے؟ اور ساتھ ہی اپنا تعارف کروایا۔ یہ مشہور موسیقار خواجہ خورشید انور تھے۔ پھر اُس دِن کے بعد وہ مجھی سے فلمی گیتوں میں بانسری بجواتے۔ میں نے اُن کے لئے جو پہلا گیت رِکارڈ کروایا وہ 1966 میں بننے والی فلم ”سرحد“ میں نور جہاں کی آواز میں تنویرؔ نقوی کا لکھا ہوا یہ گیت تھا:
چاند تو جب بھی مسکراتا ہے
دل میرا ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے

خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں فلم ”ہیر رانجھا“ 19 جون 1970 کو نمایش کے لئے پیش ہوئی۔ فلم ’’انتظار“ اور ”کوئل“ کے ہدایت کار مسعود پرویز نے اِس فلم پر بہت محنت کی تھی۔ فلم کے مکالمے، اسکرین پلے اور تمام گیت احمد راہیؔ نے لکھے اور سلامت بھائی نے بانسری بجائی۔ مذکورہ فلم کے گیت مشہورِ زمانہ نگار ایوارڈ یافتہ ساؤنڈ رِکارڈسٹ سی منڈوڈی C. Mandodi او ر واجد علی شاہ نے رِکارڈ کیے۔ اس کم تر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُس نے کئی ایک مرتبہ منڈوڈی صاحب سے ملاقات کی۔ اِس فلم کے گیتوں نے ملک سے نکل کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی مثلاََ:
ونجلی والڑیا وے توں تاں موہ لئی او مٹیار
کَدے نہ مَنّی سِی جِنّے ہار، تینوں کر بیٹھی اوں پیار
اِس فلم کی ایک اور بات قابلِ ذکر ہے کہ عام طور پر موسیقار خواجہ خورشید انور پنجابی فلموں کی موسیقی ترتیب نہیں دیتے تھے لیکن اِس فلم کو چیلینج سمجھ کر کام کیا۔ ویسے بھی فلم کے ہدایت کار سے ان کی ذہنی ہم آہنگی تھی۔

موسیقار جوڑی بخشی وزیر

باتوں باتوں میں موسیقار جوڑی بخشی وزیر کا ذکر آیا تو کہنے لگے: ”میں نے اِن کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔ لاہور میں دیگر بانسری نواز فلمی گیتوں کی ریہرسل اور رِکارڈنگ میں بانسریوں سے بھرے بڑے بڑے بکسے لے کر آتے جب کہ میں اخبار میں لپٹی دو تین بانسریاں ہی لاتا تھا جِس پر بخشی وزیر کہا کرتے کہ جِس دن سلامت بکسا لایا، ہم دونوں سب کو مٹھائی کھلائیں گے۔ میں نے روبن گھوش سمیت لاہور میں بہت سے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ موسیقار نثار بزمی میرے علاوہ کسی اور بانسری نواز کے ساتھ کام نہیں کرتے تھے“۔

سلامت حسین صاحب نے عیدین پر لاہور سے کراچی آنے کا تذکرہ مزے لے لے کر کیا: ” کچھ زمانہ سستا تھا کچھ روپے کی قوتِ خرید بھی بہتر تھی۔ میں، مسعود رانا اور مہدی حسن باقاعدگی سے عیدیں منانے لاہور سے کراچی پی آئی اے کی نائٹ کوچ پر آیا جایا کرتے تھے“۔

”عجب اتفاق ہے کہ لاہور میں میرا پہلا فلمی گیت موسیقار خلیل احمد کے لئے تھا اور آخری بھی اُنھی کی فلم ”خاندان“ (1980) کے لئے تسلیمؔ فاضلی کا لکھا گیت تھا جسے نور جہاں نے گایا:
آئے ہو ابھی بیٹھو تو سہی جانے کی باتیں جانے دو
جی بھر کے تمہیں میں دیکھ تو لوں اِن باہوں میں آ جانے دو

پاکستان ٹیلی وژن لاہور مرکز میں اپنی مصروفیات کے بارے میں کہا: ”میں نے لاہور میں اپنے قیام کے دوران فِلموں کے ساتھ ساتھ ٹیلی وژن کا بھی کافی کام کیا“۔
میں نے جب اِن سے پوچھا کہ آپ کو کب اور کیا ایوارڈ ملے؟ تو نہایت انکساری سے بتایا:
”4 عدد پی ٹی وی ایوارڈ ملے مگر کب کب مِلے اب کوئی خاص یاد نہیں“۔
اِس پر میں نے سلامت بھائی سے کہا: ”جناب! میرے حساب سے تو آپ کو صدارتی ایوارڈ بھی حاصل ہے!“ تو انکساری سے کہنے لگے کہ: ”جی ہاں! مجھے 14 اگست 1989 کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا تھا“۔یہ ہیں ایک فقیر منش انسان کی باتیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہا: ”پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کی رفعت ہمایوں نے بہت خوبصورت کلاسیکل پروگرام کیے۔ اب اس روایت کے امین امجد شاہ ہیں۔ کراچی میں ٹی وی جب جھونپڑے میں ہوا کرتا تھا، میرا تب سے اُس کا ساتھ ہے۔ ہمیں روزانہ ریہرسل کے آٹھ آنے ملتے تھے“۔

تنویر نقوی

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا:
”میں نے وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی، صدرایوب، وزیرِ اعظم بھٹو، وزیرِ اعظم محمد خان جو نیجو اور صدر ضیا الحق کے ساتھ سفر کیے۔ غیر ممالک میں وہاں کے سربراہانِ مملکت کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ایسا ہی مظاہرہ اُن غیر ملکی سربراہانِ مملکت کے سامنے بھی کیا جو پاکستان آئے“۔

پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا: ”ضیا محی الدین کا زمانہ نتائج کے لحاظ سے بہترین دور تھا۔ 80 افراد کا گروپ ہوتا جِس میں 22 میوزیشن تھے۔ اب ناپا NAPA میں بھی وہ بہتر کام کر رہے ہیں۔ کلچرل ڈپارٹمنٹ کے حمید اخوند کے ساتھ بھی میں نے کافی کام کیا۔ کئی ممالک میں دیگر فن کاروں کے ساتھ بانسری بجائی۔ ابھی پچھلے دنوں جب چین کے صدر پاکستان آئے تو مجھے بانسری پر اپنی اور چینی دھنیں بجانے کے لئے بلوایا گیا۔ مجھ سے ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں بلکہ چار مرتبہ چینیوں نے فرمایش کی اور میں نے ہر ایک مرتبہ مختلف چینی دھن بجائی“۔

ایک دل چسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا: ”صدر ایوب کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا جب مراکش کے شاہ حسن ثانی پاکستان آئے۔ میں نے اِن کے سامنے مراکشی دھن بجائی تو اُنہوں نے خوش ہو کر مجھے 500 روپے دیے جو اُس دور میں ایک خاصی بڑی رقم تھی۔ جب یہ پیسے میں نے والد صاحب کو دیے تو اُنہوں نے گھبرا کر پوچھا: ”سچ سچ بتاؤ یہ پیسے کہاں سے آئے“۔ جب میں نے بتایا کہ مراکش کے بادشاہ نے انعام میں دیے تب 110/ روپے کی خوب موٹی تازی گائے خرید لائے اور پورے محلے میں پکوا کرتقسیم کی۔ اِسی طرح تین مختلف مواقع پر صدر ضیا الحق نے مجھ سے خود آ کر پوچھا: ’’سلامت! تمہیں کچھ چاہیے؟‘‘۔ ہر اک دفعہ میرا ایک ہی جواب رہا:
”اللہ کا بڑا کرم ہے!“۔ میرے اس جواب سے وہ بہت خوش ہو تے تھے۔ میں نے شاہ ایران کے سامنے بھی بانسری بجائی۔ آج کل الائینس ڈی فرانس (فرانس کا ثقافتی مرکز) کے پاکستان کے تمام مراکز میں میری تصاویر لگی ہوئی ہیں“۔

اپنے بچوں کے بارے میں کہتے ہیں: ”مجھے تو وقت نہیں ملتا تھا۔ میرے بچوں کی تربیت میری بیوی نے کی۔ ماشا اللہ میری ایک بیٹی سمیرا سلامت، آغا خان میڈیکل یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ ہے اور آج کل ریاست ہائے متحدہ امریکا کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں سرجن ہے۔ دو بیٹے شاہد حسین اور طاہر علی کینیڈا میں ہیں۔ ایک بیٹا ڈاکٹر ذکی حسین فوج میں کرنل ہے۔ یہ سی ایم ایچ راولپنڈی میں ہوتا تھا آج کل اس کی پوسٹنگ کوہاٹ میں ہے۔ دو بیٹے زاہد حسین اور راشد حسین جدہ ایئر پورٹ پر ہوتے ہیں۔ ایک بیٹا جعفر حسین پاکستان کسٹمز میں ہے۔ سب سے بڑا بیٹا ذاکرحسین پاکستان اسٹیل ملز سے انجینئر رِٹائر ہوا“۔

ایک بیٹے، شہید شاکر حسین کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: ”جِس روز حکیم محمد سعید کو کراچی میں صدر دوا خانے کے قریب شہید کیا گیا اُسی شام میرے بیٹے شاکر حسین کو بھی شہید کر دیا گیا۔ یہ پولیس میں تھا۔ اُس نے وکالت کر رکھی تھی اور مزید پڑھ رہا تھا“۔
میں نے اِن سے سوال کیا: ”آپ نے تفصیلاََ اپنی اولاد کا بتایا۔ کیا اِن میں سے کسی کو بانسری کا شوق نہیں ہوا؟“
جواب میں کہنے لگے: ”ایک بیٹے شاہد کو شوق تھا۔ جب میں کہیں بانسری بجا تا وہ اکثر میرے پیچھے بیٹھتا۔ ایک روز میری بیگم نے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ شاہد خاصی بہتر بانسری بجا لیتا ہے۔ میں نے اُس کو بلوا یا۔ اُس کے پاس ایک معمولی سی بانسری تھی جس پر اُس نے ”جیوے پاکستان“ سنایا۔ وہ ابھی بچہ ہی تھا لہٰذا میں اسے سہیل رعنا کے پاس ٹی وی لے گیا۔ سہیل بھی سن کر خوش ہوا اور انعام دیا اور اپنے پروگرام میں اس سے یہ آئٹم بجوایا۔پھر کچھ دِن بعد میں نے محسوس کیا کہ شاہد گھر میں نظر نہیں آ رہا۔ بیگم سے پوچھا تو اُس نے کہا کہ وہ توبانسری چھوڑ چکا، میں بہت حیران ہوا۔ پوچھنے پر خوش گوار جواب ملا کہ اُسے کلامِ پاک حفظ کرنے کا شوق ہو گیا ہے۔ اب وہ زیادہ تر مسجد میں بیٹھتا ہے۔ اب ماشا اللہ شاہد حافظ قرآن ہے اور کینیڈا میں اُس کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی بھی حفّاظ ہیں۔ شاہد وہاں جمعہ پڑھاتا ہے“۔

سلامت بھائی خوش گوار موڈ میں

سلامت بھائی کے بڑے بیٹے ذاکر حسین کا بیٹا بھی حافظِ قرآن ہے اور رمضان میں اپنے گھر میں تراویح میں قرآن ساتا ہے۔ ماشا اللہ!

اُستاد سلامت حسین کے کچھ اور مشہور کام:
ناصرؔ کاظمی کی لکھی ہوئی، گلوکار سید آصف علی کی آواز میں رِکارڈ ہونے والی پہلی غزل:
دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے
1962 میں فضل احمد کریم فضلی کی فلم ”چراغ جلتا رہا“ کے تمام گیت موسیقار نہال عبد اللہ کی مو سیقی میں اُن کے بجائے ہوئے ہیں۔ اس فلم میں بھارت سے آئے ہوئے گلوکار طلعت محمود کی آواز میں 3 گیت تھے۔

نسیم بیگم کی آواز میں کراچی میں رِکارڈ ہونے والا پہلا گیت،فلم ”اپنا پرایا“ ( 1959) موسیقار سیف چغتائی اور شاعر منیر جیلانی:
نیناں روئے چھم چھم کیسے میں چھپاؤں غم
سہا نہیں جائے پیا دکھ تیرے پیار کا
انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے پروڈیوسر ہارون رِند کے ڈراما سیریل ”جنگل“ میں بھی بانسری بجائی۔
موسیقار کریم شہاب الدین کے ذکر پر سلامت بھائی نے کہا: ”پاکستان ٹیلی وژن میں کریم شہاب الدین کی کمپوزیشن میں گلوکار جمال اکبر کا مشہور گیت:
وہیں زندگی کے حسین خواب ٹوٹے
میرے ہم سفر تم جہاں ہم سے چھوٹے
میں، میں نے بانسری بجائی“۔
واقعی کریم بھائی نے اس گیت کی نوک پلک بالکل ایسے سجائی ہے جیسے کہ یہ کسی فلم کا گانا ہو۔واہ وا! گیت کے شروع میں درباری کا ماحول کیا خوبصورت بنایا ہے۔ دوسرے انترے کے انٹرول میوزک میں بانسری کا پیس پہلے اور تیسرے انتروں کے انٹرول میوزک سے مختلف ہے۔ یہ اُس دور میں، اُس سے پہلے کے دور میں موسیقار استعمال کرتے رہے۔ اور اب بھی کرتے ہیں۔ اِس گیت کے دوسرے انترے میں بانسری نے باروں کو خوبصورتی سے پر کیا ہے۔ اِس کے گیت نگار شاعرؔ صدیقی ہیں (پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے رِکارڈ میں شاعر کا نام صہباؔ اختر ہے)۔ اس گیت میں سلامت بھائی کی بانسری یقیناََ سننے کے قابل ہے۔ یہ گیت آج بھی مقبول ہے۔

1956 میں بننے والی فلم ”انوکھی“ میں فیاضؔ ہاشمی کے اِس گیت میں بھی انھی کی بجائی ہوئی بانسری ہے:
گاڑی کو چلانا بابو
زر ا ہلکے ہلکے ہلکے
کہیں دل کا جام نہ چھلکے
1961 میں پیش ہونے والی فلم ”بارہ بجے“ میرے اولین اساتذہ، موسیقار جوڑ ی لال محمد اور بلند اِقبال کی بحیثیت موسیقار پہلی فِلم ہے۔ شبیؔ فاروقی کے لکھے گیت کو بھارت سے آئی ہوئی نِشی کماری، اصل نام ریشماں (یونس ہمدمؔ صاحب نے روزنامہ ایکسپریس نیوز میں اپنے کالم ”شبی فاروقی“ میں یہ بات لکھی) کی آواز میں یہ گیت رِکارڈ ہوا۔
ہار گئی ہار گئی تجھ سے دل لگا کے
نینوں میں بسایا تو ہے کجرا بنا کے
لال محمد جو خود بھی اچھے بانسری نواز تھے، اُنہوں نے اپنے اس مذکورہ گیت میں سلامت بھائی سے بانسری بجوائی۔ موسیقار لال محمد اقبال نے اپنے فلمی گیتوں میں سلامت بھائی کے علاوہ شاید ہی کسی اور سے کبھی بانسری بجوائی ہو۔ لال محمد اقبال کے ذکر پر انہوں نے کہا: ”ان کی پہلی پشتو فلم ”یوسف خان شیر بانو“ کے تمام گانوں میں میری بجائی ہوئی بانسری ہے“۔

ثریا ملتانیکر

گفتگو کے دوران میں سلامت بھائی نے ایک بہت افسوسناک بات بتائی: ”ابھی تین ماہ پہلے ہیڈ آفس اسلام آباد سے ریڈیو پاکستان (کراچی) کے تمام میوزشنوں کی نوکری ختم کر کے موسیقی کا شعبہ/سیکشن ہی بند کر دیا گیا ہے۔اِن میوزشنوں کے ساتھ سیکشن کی خاتون انچارج بھی گھر بھیج دی گئیں“۔
مجھے یہ بات سُن کر بے حد قلق ہوا۔ یہ وہ عظیم درس گاہ تھی جہاں اپنے دور کی نامور شخصیتوں نے کام کیا جیسے اُستاد اللہ دتہ، اُستاد کبیر خان، اُستاد اُمراؤ بندو خان، اُستاد حامد حسین، استاد نتھو خان، اُستاد ظہور ی خان، مہدی ظہیر، پنڈت غلام قادر، نہال عبداللہ، اُستاد بلند اقبال، لال محمد، اُستاد نذر حسین، شرافت علی، ایس بی جون، کلارنیٹ نواز جبار صاحب، سنتور نواز کامل صاحب، نگہت سیما، تاج ملتانی، ریحانہ یاسمین، عشرت جہاں، نسیمہ شاہین، اقبال علی، احمد رشدی اور بہت سے دوسرے۔ خود اِس خاکسار نے بھی موسیقی کی کچھ ابجد یہیں سے حاصل کی۔

پاکستان ٹیلی وژن بھلا ریڈیو پاکستان سے کیوں پیچھے رہتا۔ سلامت بھائی نے کہا: ”یہاں تو 2 سال سے موسیقی کا کوئی کلاسیکل پروگرام نہیں ہوا۔ جیسے ماضی میں ”راگ رَنگ“ ہوتا تھا۔ بلکہ دیکھا جائے تو کچھ بھی نیا کام نہیں ہوا۔ ایسے پروگراموں سے جہاں کلاسیکل فن کاروں کو کچھ روزگار مل جاتا تھا وہیں دیکھنے اور سننے والوں کو بھی کلاسیکی موسیقی نظر آتی تھی“۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بہت ہی رنجیدہ ہو کر جواب دیا: ”اب تو وہاں ایسے لوگ (افسران) آ گئے ہیں جنہیں موسیقی کا کچھ علم نہیں۔ پھر بھی اِن میں مصطفےٰ سولنگی اور امجد شاہ امید کی کرن ہیں۔ اور جب انہیں موقع دیا جاتا ہے اچھا کام کرتے ہیں“۔
میں نے بات کا رُخ نامور موسیقاروں کی جانب موڑا۔ سب سے پہلے موسیقار ناشاد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دلچسپ بات بتائی: ”جب فلم ”جلے نہ کیوں پروانہ“ (1970) میں اداکار ندیم کی آواز میں یہ گیت رِکارڈ ہوا:
محبتوں کے قدرداں نہ شہر میں نہ گاؤں میں
حقیقتوں کے پاسباں نہ شہر میں نہ گاؤں میں
تو رِکارڈنگ کے بعد ناشاد صاحب نے خوش ہو کر مجھے 100 روپے انعام دیا۔ ساتھ ہی تمام میوزشنوں کو بلا کر کہا کہ غلط تو نہیں دے رہا ہوں۔ اِس گیت میں بانسری کے بہت سارے پیس تھے“۔
میں نے یہ گیت انٹر نیٹ پر بغور سنا۔ واقعی ناشاد صاحب نے یہ انعام بالکل صحیح دیا۔ گیت کا آغاز راگ ایمن کے ماحول میں بانسری سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد وائلن وغیرہ کا پیس۔ پھر استھائی کے بولوں سے بالکل پہلے پر اثر بانسری کا ایک التجائی پیس آتا ہے۔ استھائی اور انتروں میں بہت سی جگہوں میں بانسری کے استعمال سے ’عرصے‘ کو پورا کیا گیا ہے۔ دوسرے انترے کے انٹرول میوزک میں بانسری کو ناشاد صاحب نے خالص اپنے انگ میں استعمال کرایا ہے۔

موسیقار ناشاد کا ایک پوز

موسیقار دیبو بھٹہ چاریہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”دیبو، بہادر آباد سے آگے پہاڑیوں کے قریب رہتے تھے۔ وہ ا پنے گھر میں ریہرسلیں کرواتے تھے۔ اُس زمانے میں 74 نمبر بس یہاں آتی تھی۔ ہم ریہرسل کے بعد ہوٹل میں 2 پیسے کی چائے پیتے تھے۔ اُن کی فلم ”بنجارن“ (1962 ) کے تمام گانوں میں، میں نے بانسری بجائی۔ دیبو بھٹہ چاریہ کمال کے بانسری نواز تھے۔ میں نے اُن سے بانسری بھی سیکھی۔ اُن کے پاس ایک چمڑے کا بکس تھا جس میں کئی طرح کی بانسریاں ہوتی تھیں۔ میں نے اُن کی فلم ”سمندر“ (1968 ) کے گانے بجائے۔ جیسے ’تیرا میرا ساتھی ہے لہراتا سمندر……‘ “۔

سلامت بھائی نے موسیقار جوڑی نذر صابر، موسیقار جوڑی جاوید سرور (جاوید میر اور آغا سرور) کے ساتھ بھی کام کیا۔ موسیقار وزیر افضل کے لئے فلم ”زمین“ (1965) کے خوبصورت گیت: ’ رُت ساوَن کی رے مَن بھاوَن کی……‘ میں بھی اِن ہی کی بجائی ہوئی بانسری ہے۔اس گیت کو آئرین پروین اور ساتھیوں نے رِکارڈ کروایا“۔

سلامت بھائی نے موسیقی سے ہٹ کر ایک اور حیرت انگیز بات بتلائی: ”ایک روز میں بیٹھا 2 پیسے کی چائے پی رہا تھا کہ ایک صاحب آئے اور پیش کش کی کہ کل اپنے والد کو ساتھ لانا۔ یہ میری زمین ہے اور میں اس کو 8 آنے گز بیچ رہا ہوں۔ اُس وقت وہ علاقہ بیابان اورپہاڑیوں والا تھا۔ لیکن ہم نے پروا ہی نہ کی۔ اب تو وہاں پلازوں کا جنگل اُگ آیا ہے“۔

فلم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی یافتہ بانسری اُستاد سلامت حسین صاحب نے پاکستانی فلمی دنیا کے نامور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ میں نے ماسٹر عنایت حسین کے بارے میں پوچھا۔ سلامت بھائی نے سب سے پہلے تو اُن کے بارے میں ایک بڑی غلط فہمی دور کی: ”یہ قطعی غلط ہے کہ وہ کسی طور پر مطمئن ہی نہیں ہوتے تھے۔ اور یہ کہ ایک اچھی رِکارڈنگ کے بعد بھی کئی ایک مرتبہ اُسی گیت کو رِکارڈ کروایا کرتے تھے“۔

سلامت بھائی نے بتلایا: اُن کی مشہور فلم ”نائلہ“ (1965 ) کے تمام گیتوں اور فلم کی پس منظر موسیقی میں میری بجائی ہوئی بانسری ہے۔ ماسٹر عنایت حسین اپنے (حقیقی) چھوٹے بھائی ماسٹر عبد اللہ کے برعکس زبان کے بہت میٹھے اور میوزشنوں سے پیار کرنے والے تھے“۔
فلم ’’جانِ آرزو“ (1968) میں (غالباََ) قتیلؔ شفائی کی اِس غزل:
اے جانِ آرزو تجھے کیسے بتائیں ہم
آ جا کے دے رہے ہیں ابھی تک صدائیں ہم
کے بارے میں سلامت بھائی نے بتایا: ”ایک روز میں ایور نیو اسٹوڈیو لاہور میں گیا تو پروڈکشن آفس میں ماسٹر عنایت حسین ہارمونیم لئے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہا کہ بیٹھو اور سنو۔ مجھے گیت سنایا۔ گانے کی دھن سیچو ایشن کے لحاظ سے سادہ لیکن بہت خوبصورت تھی۔ پلے بیک سنگر مجیب عالم تھے۔ گلوکار کے سانس لینے کے دوران ماسٹر صاحب نے وہ خالی جگہیں بہت عمدگی سے میری بانسری سے پر کرائیں۔ تینوں انتروں میں ستار کے ساتھ بانسری بجوائی۔ انتروں میں بھی بانسری کی باریں تھیں۔دوسرے انترے کا انٹرول میوزک اور خود انترے کی طرز پہلے اور تیسرے انترے سے مختلف تھی“۔
سلامت بھائی نے اِس فلمی غزل کے بارے میں میرا اشتیاق بڑھا دیا۔ انٹر نیٹ پر یہ گیت سن کر بہت سرور ملا اور یہ خیال یقین میں ڈھل گیا کہ مجیب عالم واقعی قدر تی پلے بیک سنگر تھے۔آپ بھی اِس لِنک پر مذکورہ گیت سن سکتے ہیں:
http://songspkm.org/album/best-of-mujeeb-alam-mujeeb-alam/ae-jan-e-arzoo

موسیقار وں کا ذکر چل نکلا تو میں نے موسیقار اے حمید کے پیانو بجانے سے متعلق پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا: ”بیشک یہ بہترین پیانِسٹ تھے۔ موسیقار خواجہ خورشید انور کے مشہور طربیہ گیت ’مہکی فضائیں گاتی ہوائیں، مہکے نظارے، سارے کے سارے تیرے لئے ہیں‘ میں اِنھی کا بجایا ہوا پیانو ہے“۔ یہ گیت سُپر ہِٹ فلم ”کوئل“ (1959) کا ہے جسے تنویرؔ نقوی نے لکھا اور نور جہاں نے رِکارڈ کروایا۔ یہ بعد میں بہت سے کی بورڈ پلیئروں نے لایؤ یا بعد کے آنے والے گلوکاروں کی آوازوں میں ری رِکارڈ کروایا۔ جیسے ارشاد علی، روبن جون، اظہر حسین، نزار لالانی، روح الدین خان المعروف رَونی وغیرہ۔ میرے مطابق اصل گیت میں موسیقار اے حمید کا بجایاہوا پیانو ہر زمانے کے سیکھنے والوں کے لئے سدا بہار سبق ہے۔ گیت کے ماحول اور بولوں کے امتزاج سے خواجہ خورشید انور نے پیانو کے جو پیس، فلیش، باریں اور انٹرول میوزک بنایا اُس کو خواجہ صاحب کی سوچ کے قریب ترین رہ کر بجانا اے حمید ہی کا خاصا تھا۔ واہ صاحب واہ وا!

موسیقار اے حمید کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سلامت بھائی نے کہا: ”یہ جلد گھُلنے ملنے والے نہیں تھے لیکن خوش اخلاق اور خوش مزاج تھے۔ِمیں اور دوسرے میوزیشن اکثر ریہرسل اور ریکارڈنگ کے بعد موسیقار اے حمید سے کہتے کہ اب آپ یہ پورا گیت پیانو پر بجائیے۔ وہ مسکرا کر جب بجاتے تو کیا میوزیشن اور کیا دیگر اسٹوڈیو ہنرمند سب ہی محظوظ ہوتے۔ ماشاء اللہ کیا انگلیاں تھیں! واقعی کسی پیانِسٹ والی انگلیاں!“۔

موسیقار اے حمید

گئے زمانے کے معاوضوں پر بات کرتے ہوئے سلامت بھائی کہتے ہیں: ”ہمیں اُس دور میں ای ایم آئی سے فی رِکارڈنگ 5 روپے ملتے تھے۔ اور اسٹوڈیو رِکارڈنگ کے 25 روپے۔ دیبو کی موسیقی میں ثریا ملتانیکر کی آواز میں فلم ” بدنام “ میں مسرورؔ انورکی غزل: ’بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا‘ ای ایم آئی کے ساتھ ساتھ اسٹوڈیو میں بھی رِکارڈ ہوئی۔ مجھ سمیت میوزشنوں کو دونوں جگہوں سے ادائگیاں ہوئیں۔
ایک عظیم بانسری نواز کے متعلق لکھ کر میرا دِل باغ باغ ہو گیا۔ اِن تمام معلومات میں سے کچھ استاد صاحب نے خود بتائیں اور باقی راقم نے تلاش کر کے لکھیں۔ اپنی نشست کے اختتام پر میں نے سلامت بھائی سے پوچھا:
”آپ خود بانسری کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“
اِس کے جواب میں اُنہوں نے مولانا رومی کا فارسی بند سنایا جِس کا مطلب ہے: ”یہ (بانسری) جہاں سے توڑی گئی اور اس کو کاٹ کر اِس کے جِگر میں سوراخ کیے گئے تو یہ اپنی اُسی جگہ کو یاد کر کے روتی ہے۔ اے پروردِگار! تو میرے جِگر میں ایسے ہی سوراخ کر دے تا کہ میں تیری ثنا کرتا رہوں“۔
اللہ سے دعا ہے کہ میرے محترم،بین الاقوامی شہر ت یافتہ اُستاد سلامت حسین صاحب عافیت اور صحت والی زندگی پائیں اور سیکھنے والوں کی راہ نمائی کرتے رہیں۔ اُستاد سلامت حسین کا پیغام قارئین کے نام:
”اے اللہ! ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھ!“۔ آمین!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •