نیویارک میں لاہور جیسے مندر میں محراب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیس سے کوسوں دور پردیس میں بیٹھ کے ماضی کی گلیوں میں کھو کے یادوں کو کریدنا آسان نہیں ہوا کرتا۔ یادوں کی شدت کبھی دل کے بخیے ادھیڑتی ہے، اور کبھی روح کے تار بجنے لگتے ہیں آپ ہی آپ!

لاہور کی یادیں قلمبند ہو چکی تھیں، اداسی بھری چپ تھی، دوپہر کی زرد دھوپ ڈھل رہی تھی، ہوا کی سرسراہٹ تھی اور کبھی کبھی کسی کھڑکی کا پٹ بج اٹھتا تھا۔

ہماری بیٹی بھانپ چکی تھی کہ ناسٹلجیا حملہ آور ہو چکا ہے،

” اماں! آپ کو لارنس گارڈن جانا پسند تھا”

“ بہت”

“ تو آپ ایسا کیوں نہیں کرتیں کہ آج بروکلین گارڈن گھوم آئیں، اور ساتھ میں ہی بروکلین لائبریری ہے وہ بھی دیکھ لیجیے گا”

تجویز ایسی تھی کہ چپ ٹوٹ گئی، اداسی کسی کونے کھدرے میں چھپ گئی۔ باغ، درخت اور کتابیں، بھلا اور کیا چاہیے زندگی سے!

تھوڑی ہی دیر میں جاگرز پہنے اور گوگل میپ کھولے ہم فٹ پاتھ پہ کھڑے تھے۔ ۔ ۔ نیویارک کی ایک موسم بدلتی ٹھنڈی دوپہر !

اجنبی شہروں کے انجان رستوں پہ اکیلے گھومنا، دوبارہ کبھی نہ ملنے والے اجنبی چہروں کو دیکھنا اور سوچنا کون کیا ہے؟ کیوں تیز تیز قدم اٹھائے بھاگ رہا ہے؟کیا کسی سے ملاقات کی فکر ہے یا غم روزگار بھگائے چلے جاتا ہے؟ اپنی ان سوچوں کے جواب میں ہمارا آپ ہی آپ مسکرانا اور اپنی دھن میں چلتے جانا، اور کیا چاہیے زندگی سے!

گوگل میپ میں کچھ گڑبڑ ہو چکی تھی اور ہم کھو چکے تھے۔ اندر اور باہر کا موسم اچھا ہو تو کھو جانا بھی جی کو برا نہیں لگتا۔ چلتے جائیے، کہیں تو پہنچ ہی جائیں گے اور نہیں بھی پہنچے تو کیا غم۔

کئی سڑکیں مڑے، کئی چوک پار کئے اور ایک دم ٹھٹک گئے۔ ایک بلند و بالاعمارت سامنے تھی اور سنہرے حروف میں لکھا تھا “ بروکلین پبلک لائیبریری”.

چلیے کہیں تو پہنچے، پرفضا گارڈن نہ سہی، روح کی تسکین کے لئے لائیبریری ہی سہی۔

اندر داخل ہوئے، استقبالیہ پہ بیٹھی خاتون سے پوچھا کہ ہم اردو کتابوں کا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ بی بی نے نہ ہماری شناخت دریافت کی، نہ یہ پوچھا کہ ہمارامقصد کیا ہے ؟ کسی تیوری اور ناک بھوں چڑھائے بغیر ہمیں رستہ دکھا دیا گیا۔ سامنے بہت بڑے ہال میں کافی کارنر کے ساتھ کرسیاں میزیں لگی تھیں جہاں کتاب دوست گرما گرم کافی کی چسکیوں کے ساتھ ان حروف کو معنی پہنانے کی غوروفکر میں تھے جو ابھی ابھی ان پہ کسی اور دنیا سے نازل ہوے تھے۔

دایئں طرف ایک بڑے دروازے پہ لینگویج اور لٹریچر کا بورڈ لکھا ہوا نظر آیا۔ ادھر مڑے اور ایک جہان حیرت کدہ ہمارا منتظر تھا۔ ہر زبان کی کتابیں الماریوں میں موجود تھیں اور الماریاں گننے میں نہیں آتی تھیں۔ ہم مختلف قطاروں میں گھوم کے اس زبان کی کتابوں کے متلاشی تھےجس کے ہم والہ وشیدا تھے اور جس کو جاننے و سمجھنے کے سفر میں آگہی کے کچھ موتی چننے کو ملے تھے۔

پھر آنکھ کی تلاش تو ختم ہوئی لیکن دل کو ایک اداسی کی لہر نے لپیٹ لےلیا۔ دو شیلف کچھ کتابوں کے ساتھ ہمیں تکتے تھے اور شاید پوچھنا چاہتے تھے یہ کون آیا مرے من کے دوارے؟

دوسری زبانوں کی کتابوں کے مقابلے میں بہت مختصر ذخیرہ کچھ خانوں میں چپ چاپ پڑا تھا۔ منٹو اور ابن صفی کی کچھ کتابیں، بانو قدسیہ کی راجہ گدھ اور بہت سی انجان کتابیں نظر آئیں۔

دل میں یونہی آئی کہ لائبریرین سے ملا جائے کچھ پوچھا جائے کہ اردو کا اتنا براحال کیوں؟

ہال کے درمیان میں کچھ الماریوں سے گھرا ایک ریسپشن ڈیسک نظر آیا جہاں ایک معنک شخصیت کمپیوٹر پہ کام کرتی نظر آئی۔ سلام دعا ہوئی، اور ہم نے اپنا تفصیلی تعارف کرائے بغیر پوچھا کہ ہم لائبریری یاترا پہ نکلے ہیں، کیا کچھ سوال پوچھ سکتے ہیں؟

جیف شوارٹز نے بہت مسکرا کے کہا

” بصد شوق”

” آپ کتنے عرصے سے ہیں یہاں “

” پچیس برس گزر گئے “

“لائبریری میں کل کتنی کتابیں ہیں “

اور جواب سن کے ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں،

” چالیس لاکھ “

بڑی مشکل سے ہم نے اپنے آپ کو یقین دلایا کہ ہماری سماعت بالکل ٹھیک ہے۔ آپ کو یہ سن کے حیرت ہو گی کہ بروکلین کی آبادی تئیس لاکھ ہے۔ لائبریری میں ایک سال میں سالانہ وزیٹر 87 لاکھ ہیں۔ جبکہ کارڈ رکھنے والے باقاعدہ قاری سات لاکھ ہیں۔ لائبریری کا سالانہ بجٹ 119 ملین ڈالر ہے۔ لائبریری میں نوے زبانوں کی کتابیں رکھی گئی ہیں۔

ہم کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں تھے کہ اپنے دیس کی آبادی اور لائبریریاں یاد آ چکی تھیں۔ کتاب پڑھنے کا شوق کس قدر استہزائیہ نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ نظر کمزور ہونے اور عینکو بن جانے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ علم کی اشتہا صرف کورس کی کتابوں تک محدود رکھی جاتی ہے۔ اس دین کا داعی ہونے اور دین کاجھنڈا ساری دنیا پہ لہرانے کے بلند و بالا کھوکھلے دعوے کرتے ہوئے سوشل میڈیا پہ طوفان برپا کیا جاتا ہے جس دین کا پہلا پیغام” اقرا ” تھا۔

لیکن کیوں غور وفکر کریں ہم، بہت سے کام زیادہ اہم ہیں، مثلاً راتوں رات امیر کیسے بنا جائے اور عورت کو ایک اچھی مسلمان عورت کیسے بنایا جائے۔

ہم نے جیف سے پوچھا کہ چالیس لاکھ کتابوں میں اردو کا حصہ بمشکل سو یا دو سو کتابیں کیوں ؟

جیف مسکرائے ” ان سو دوسو کو پڑھنے ہی کوئی نہیں آتا تو اور منگوا کے کیا کریں؟ یہ تو مانگ کا مسئلہ ہے۔ پرچیز کمیٹی کتاب پڑھنے والوں کی تعداد کےمطابق کتاب خریدتی ہے۔ کتابیں شیلف پہ سجا کے کیا کریں؟ “

محمد نعیم نومی

باتوں باتوں میں ہم نے جیف کو بتا دیا کہ ہم پاکستانی ہوا کرتے ہیں۔ جیف اپنی کرسی سے اچھل پڑے، کہنے لگے

 ” ارے واقعی ، میں آپ کو کسی سے ملوانا چاہوں گا”

فون اٹھایا ” نومی! پلیز میرے ڈیسک پہ آئیے”

ہم جیف سے باتیں ہی کر رہے تھے کہ ہمیں آواز آئی ” ہیلو “

جیف بولے” نومی سے ملیے، ہمارے کولیگ لائبریرین، اور آپ کے ہم وطن”

ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارے کان بجے ہیں، امریکہ کی ساتویں بڑی لائبریری اور کتاب سے بہت دور کھڑی قوم کا ایک فرد امریکہ میں لائبریرین!

نومی بھی بہت حیران تھے کہ نیویارک میں ایک پاکستانی خاتون شاپنگ کی بجائےلائبریری میں کھڑی اردو کتابوں کے غم میں دبلی ہو رہی ہیں۔

“آپ یہاں کیسے؟ ” یہ سوال دونوں طرف تھا سو سوال و جواب کے لئے کافی شاپ بہترین جگہ تھی۔

محمد نعیم عرف نومی کا تعلق لاہور سے ہے سو گرائیں نکلنے کی خوشی تو حق ٹھہری۔ لاہور UET سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی لیکن پھر کتاب دوستی کے شوق میں لائبریری کو اپنا پیشہ بنا لیا۔

” کتابیں پڑھنے کا بچپن سے بہت شوق تھا۔ ہمارا گھر لبرٹی مارکیٹ کے پاس ہوا کرتا تھا سو لبرٹی میں کتابوں کی دوکان میرا دوسرا گھر تھی۔ روزگار کینیڈا لے آیا اور یہاں سے میں نے اپنا پیشہ بدل لیا۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے انفارمیشن سائنس میں ماسٹرز کیا اور نیویارک میں بروکلین پبلک لائبریری کو جوائن کر لیا۔ اب پچھلے انیس سال سے یہیں ہوں اور بہت مزے میں ہوں”

ہمیں بہت حیرت تھی گو کہ ہم خود خواب دیکھنے والوں میں سے ہیں لیکن خواب دیکھ کے تعبیر کی خواہش میں زندگی کا رخ دوسری طرف موڑ دینے کی ہمت سب میں نہیں ہوا کرتی۔ کتاب کے لئے انجینئرنگ کو خدا حافظ کہنا صرف شدید محبت اور دیوانگی میں ہی ممکن ہے۔

” مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ہم پاکستانیوں میں کتاب کی چاہت بالکل نہیں، ہماری ترجیحات میں کتاب کہیں نہیں۔ جب بڑوں کو کتاب پڑھنے کا شوق نہیں تو بچےکہاں سے سیکھیں گے۔ اور یہ قوم جو مختلف رنگ و نسل سے بنی ہے جس کی برائیاں زبان زد عام ہیں، کتاب سے محبت کرتے نہیں تھکتی۔ روزانہ تقریباً ساڑھے تین ہزار لوگ لائبریری آتے ہیں “

” میرا خواب ہے کہ یہ علم اور کتاب دوستی میں پاکستانی معاشرے میں دوبارہ رائج ہوتی دیکھ سکوں۔ کتاب سے محبت ہی ہر کسی کو بہتر انسان بنا سکتی ہے۔ علم طاقت ہے، وہ واحد طاقت جو قوموں کا نصیب متعین کرتی ہے “

” میں آپ کو لائبریری میں دیکھ کے بہت حیران ہوا ہوں، پاکستانی کہاں ایسی جگہوں پہ پائے جاتے ہیں “

ہم نعیم کو بتانا چاہتے تھے کہ دیوانگی کی ایک یہ شکل بھی ہوا کرتی ہے۔ ہم نےلاہور کو بہت شدت سے یاد کیا تھا اور اسی ناسٹیلجیا میں نیویارک کے رستوں پہچلتے چلتے ہمیں لاہور نظر آ گیا تھا۔

شام ہونے کو تھی، پرندے گھونسلوں کی طرف پلٹ رہے تھے۔ ہم کافی کےساتھ ساتھ کتابوں کی خوشبو من میں اتار چکے تھے۔ کتاب زندگی میں ایک اور یاد کا اضافہ ہو چکا تھا اور ہم دل ہی دل میں اپنی بیٹی کا شکریہ ادا کرتے گھر کو لوٹ رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •