نواز شریف کی صحت اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ اپنے علاج کے لئے آٹھ ہفتوں کی ضمانت پر رہا کر چکی ہے اور اگر انہیں علاج کے لئے مزید وقت کی ضرورت ہو تو اس کے لئے عدالت نے طے کردیا ہے کہ وہ پنجاب حکومت سے رابطہ کریں اس لئے کہ وہ ایک قیدی کی حیثیت سے پنجاب کی جیل کوٹ لکھپت میں قید اور پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اور معروف وکیل بابر اعوان کہتے ہیں کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 401کی شق 1کے مطابق اگر وہ اس سلسلے میں پنجاب حکومت سے رابطہ کرتے ہیں اور پنجاب حکومت اس پر کوئی فیصلہ نہیں کرپاتی تو ان کی ضمانت جاری رہے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی اِس آٹھ ہفتے کی ضمانت میں سپریم کورٹ کی اُس چھ ہفتے کی ضمانت کے برعکس ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ میاں نواز شریف اپنے علاج کے سلسلے میں ملک سے باہر نہیں جاسکتے۔ میاں نواز شریف کا اپنا تو کوئی بیان ظاہر ہے سامنے نہیں آیا لیکن ان کے بھائی میاں شہباز شریف اور صاحبزادی مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے رہنماو ¿ں کے بیانات سے ظاہر ہے کہ ان کے اہل خانہ انہیں علاج کے لئے ممکنہ طور پر امریکہ لے جانا چاہتے ہیں لیکن ایگزٹ کنٹرل لسٹ اس کی راہ میں حائل ہے اور گزشتہ ایک ہفتے سے نیب، حکومت، کابینہ اور ذیلی کمیٹی کے مابین پنگ پانگ کا کھیل جاری ہے۔

پنجاب کی وزیرصحت سے لے کر وزیراعظم عمران خان تک واضح الفاظ میں یہ تسلیم کر چکے ہیں میاں نواز شریف کی صحت تشویشناک ہے اور ان کی جان کوخطرات لاحق ہیں(راقم الحروف باوجود کوشش کے یہ بات سمجھ نہیں پایا کہ خون میںپلیٹ لیٹس کی تعداد چھ ہزاریا دوہزار ہونے کے بعد میاں نواز شریف کی جان کیسے بچائی گئی۔ اس سوال کا جواب پنجاب حکومت کے ڈاکٹرز اور وزیرصحت پنجاب یاسمین راشد پر قرض ہے۔ بہرحال خدا میاں نواز شریف کو صحت سے نوازے )لیکن اس کے باوجود ان کے بیرون ملک علاج میں بعض رکاوٹیں تاحال دور نہیں ہوسکیں۔ کہنے کو وزیراعظم اور کابینہ کی اکثریت میاں نواز شریف کو” انسانی بنیادوں “پر ملک سے باہر جانے کی اجازت دے چکے ہیں لیکن پرویز مشرف کے ڈسے وزیرقانون فروغ نسیم چاہتے ہیںکہ میاں نواز شریف سے واپسی کی ضمانت لئے بغیر انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ پرویز مشرف عدالتوں کے طلب کرنے کے باوجود واپس نہیں آئے جس سے ریاست پاکستان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ الگ بات ہے کہ اسحاق ڈار پر بنائے گئے مقدمات کو انٹرپول نے سیاسی مقدمات قرار دے کر گرفتاری کی درخواست ردی کی ٹوکری میں پھینک دی لیکن بعض دانشور اب بھی اس معاملے میں اچھل اچھل کر ان کی مثال دینے سے باز نہیں آتے۔ اسحاق ڈار کی جائیداد کی نیلامی کی باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن کوئی مردکابچہ ہے تو اشتہاری پرویزمشرف کے چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس کے باہر سے گزر کے ہی دکھادے تو میں مانوں کہ اس ملک میں قانون سب کے لئے برابر ہے۔

تادم تحریر صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے میاں نواز شریف کا نام نکلوانے کے لئے ضمانتی بانڈ جمع کروانے سے صاف انکار کردیا ہے اور اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع بھی کر لیا ہے۔ انسانی بنیادوں پر میاں نواز شریف کو بیرون ملک سفر کی اجازت دینے والی وفاقی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیارسماعت پر اعتراض اٹھا دیا تھا۔ معززعدالت نے یہ اعتراض مسترد کردیا جس کے بعد اس قضیے کی سماعت آج سولہ نومبر بروز ہفتہ کو ہونا ہے۔ ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک یا مزید ایک دو روز میں یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے لیکن ٹی وی چینلز پر بیٹھے بعض بے فیضے دانشور اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار رگیں پھلا پھلا کر اب بھی یہ خوف دلاتے ہیںکہ حکومت نے ضمانت نہ لی اورکل کو میاں نواز شریف پاکستان واپس نہ آئے تو عدالت وزیراعظم عمران خان کا گلا پکڑے گی۔ پندرہ نومبر کے روزنامہ دنیا میں تحریک انصاف کے رہنما اور معروف وکیل بابر اعوان نے پرویز مشرف کے ملک سے باہر جانے سے متعلق اس وقت کے وزیر داخلہ کے ایک بیان کا ذکر فرمایا ہے کہ ” پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی گئی تو یہ آئین سے غداری ہوگی “۔ لیکن محترم بابر اعوان شائد یہ بھول گئے کہ اس وقت پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کے لئے عدالت سے اجازت نامہ دلانے کی خاطر دلائل کا انبا ر لگانے والے فروغ نسیم اس وقت وزیر قانون کے منصب جلیلہ پر فائز ہیں۔ پرویز مشرف نے ملکی عدالتوں کو چکمہ دیا،بیرون ملک جا کر بیٹھ گئے اور بارہا طلب کئے جانے کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہوئے حتی کہ ویڈیو لنک پر بیان تک دینے پر راضی نہ ہوئے شائد اسی لئے فروغ نسیم مصرہیں کہ میاں نواز شریف ملک سے باہر جانے کے لئے ضمانت فراہم کریں تاکہ کل کلاں حکومت کو عدالت میں کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہو۔ محترم بابر اعوان صاحب نے اسی کالم میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے متعلقہ قاعدہ نمبر دو کی شق تین سی کا بھی ذکر فرمایا ہے، قارئین ملاحظہ فرمائیں۔

Name of any person placed on exit control list maintained by federal government in of ((1pursuance of an order made under subsection section 2 of the Ordinance and who: has been convicted by a competent court of law for any offence shall remain on such list so long as the said order is in force and till his concviction attains finality.

اس قاعدے کی روسے کسی بھی شخص کی سزا یا قید کے دوران اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر موجود رہے گا یعنی وہ ملک سے باہر نہیں جا سکے گا۔

اس قاعدے کی رو سے بابر اعوان صاحب یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نہیں نکالا جا سکتا اور ان حالات میں وزیراعظم عمران خان نے میاں نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر بہت بڑا رسک لیا ہے۔ خاکسار قانون کا ماہر تو کیا طالب علم بھی نہیں ہے لیکن اس قاعدے کو پڑھنے اور لاہور ہائیکورٹ میں میاں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالے جانے کی درخواست کی کارروائی کے دوران عزت مآب عدالت کے ریمارکس واضح ہیں کہ میاں نواز شریف کی سزا معطل ہو چکی لیکن جرمانہ معطل نہیں ہوا۔ فاضل عدالت کے مطابق اگر سزا معطل ہو چکی تو پھر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام باقی رہنے کا جواز چہ معنی دارد؟۔

دوسری طرف حکومت کے اتحادی چودھری برادران بھی اب کھلے عام یہ بیانات دے رہے ہیں کہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے خلاف مقدمات سیاسی ہیں اور ان مقدمات کو اب ”دفع“ کردینا چاہئے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ گجرات کے چودھری خاندان کا مقتدر حلقوں سے رشتہ نسلوں پرانا ہے۔یہ وہی چودھری برادران ہیں جو مشرف کو دس بار وردی میں صدر پاکستان منتخب کرانے کی بات کرتے تھے۔ اس وقت اگر وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کے خلاف مقدمات سیاسی ہیں اوران مقدمات کو ختم ہونا چاہئے اور میاں نواز شریف کے بیرون ملک علاج میں حائل رکاوٹوں کو بلاتاخیر ختم کیا جانا چاہئے تو وزیراعظم کو ان کی آواز پر کان دھرنے چاہئیں۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، چودھری پرویز الہی کی یہ بات صد فیصد درست ہے کہ خدانہ خواستہ کوئی حادثہ رونما ہوگیا توآج دلیلیں تراشنے والوں میں سے عمران خان کے آس پاس کوئی نظر نہیں آئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •