عوام کہ ٹھہرے اجنبی اتنی قلابازیوں کے بعد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگست 2019 ء کی 5 تاریخ کو گزرے تین ماہ سے زائد ہوچکے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب بھارت نے بھارتی مقبوضہ کشمیر پر اپنے پنجوں کی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے کشمیری وادی کی خودمختار حیثیت ختم کرکے اُسے یونائیٹڈ انڈیا کا حصہ بنا لیا۔ وہاں بسنے والے کشمیریوں کے لیے جہاں یہ آکسیجن بند کردینے کے مترادف تھا وہیں تکمیل پاکستان کے لیے بھی بھارت کا یہ قدم ایک براہِ راست چیلنج تھا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے کے اس اعلان سے پہلے اس متوقع بھارتی حملے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھیں لیکن پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان علامات کو ڈی کوڈ کرکے ریڈ کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی یا دنیا کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔

تاہم بھارتی مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے اس نئے جارحانہ حملے کے بعد پاکستان نے سفارتی اور انٹرنیشنل میڈیا کے میدانوں میں بھارت کے خلاف حتی الامکان محنت شروع کی۔ اس کے علاوہ اس ایشو پر پاکستان نے لوکل آڈینس یعنی اپنے شہریوں کے غیض و غضب کو مینیج کرنے کے لیے شاید سائیکولوجیکل وارفیئر کا کوئی گُر استعمال کیا جس میں شہریوں کے رویئے کو بھانپتے ہوئے انہی کی بات کو ان سے زیادہ زوروشور کے ساتھ دہرانا شامل ہوتا ہے۔

مطلب یہ کہ پاکستان کے سب شہری کشمیر کو اپنی جان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ بھارت کے اس ظالمانہ فیصلے پر کیسے آرام سے بیٹھ سکتے تھے؟ اس حوالے سے پاکستانی عوام کا اپنے حکمرانوں پر بہت زیادہ پریشر آنا لازمی تھا۔ اس پریشر کو مینیج کرنے کے لیے جنگ کے علاوہ یہی راستہ رہ جاتا تھا کہ پاکستانی حکومت اپنے عوام کے سامنے بھارتی اقدام کے خلاف عوامی جذبات کی ہاں میں ہاں ملاکر ان سے زیادہ بلند آواز میں غم و غصے کا اظہار کرے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوری ابھرنے والے جذبات ٹھہراؤ کی طرف جاتے محسوس ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے بھارت کی کشمیریوں کے خلاف یہ جارحانہ کارروائی بھی بھارتی ظلم کی داستانوں کی فائل میں ایک اور صفحے کا اضافہ کروا کے اقوام متحدہ کی بند الماریوں میں رکھ دی جائے گی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کو یونائیٹڈ انڈیا میں شامل کرنے کے بھارتی فیصلے کے تین ماہ گزر جانے کے بعد جمع تفریق کی جائے تو لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی سرتوڑ سفارتی اور میڈیائی کوششوں کے باوجود بھارتی فیصلہ جوں کا توں ہے اور اس کے خلاف تھوڑی بہت اٹھنے والی انٹرنیشنل آوازیں بھی اب خاموش ہوتی جارہی ہیں۔

اگر ایسا ہے توپھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ایشو پر پاکستان کی بھرپور سفارت کاری اور منصوبہ بندی کا کیا نتیجہ نکلا؟ عوام کے جذبات کو کیا ریلیف ملا؟ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف گزشتہ سوا برس کے دوران بہت سی چھوٹی بڑی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں لیکن ان سب میں اب تک کی طاقتور آواز آزادی مارچ کی ہے۔ جب مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کی بات شروع کی تو اس وقت کئی سیاست دان اسے ازراہِ مذاق زیربحث لاتے لیکن رفتہ رفتہ چنگاری زیادہ دہکنے لگی اور جب مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کا پہیہ گھمانا شروع کیا تو نہ صرف اپوزیشن والے ان کی سواری بننے کو تیار ہوگئے بلکہ پی ٹی آئی کے تخت میں بھی لرزہ محسوس ہونے لگا۔

جیسے جیسے آزادی مارچ اسلام آباد کے قریب ہوتا گیا حکمرانوں کو اقتدار دور ہوتا نظر آنے لگا۔ جو پاکستانی لوگ نئے پاکستان میں پرانے پاکستان سے بھی ابتر حالات کے باعث پی ٹی آئی کی حکومت سے تنگ آئے ہوئے تھے انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو نجات دہندہ سمجھا۔ ان پاکستانی عوام کو آس لگ گئی کہ حکمران اب ضرور چلے جائیں گے۔ بیشک آزادی مارچ کا اسلام آباد میں افتتاحی جلسہ اتنا بھرپور تھا کہ اس سے ایسی امیدیں وابستہ کرنا غلط نہ تھا لیکن آزادی مارچ کے آغاز سے اب تک 17 دن بیت جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ آزادی مارچ کا غبارہ اپنے زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ تک پہنچ کر سکڑنا شروع ہو گیا ہے۔

بالکل ایسے ہی جیسے سائیکولوجیکل وارفیئر پراپیگنڈہ کی تھیوری میں بتایا جاتا ہے کہ افواہ پہلے پہل بڑی تیزی سے پھیلتی ہے پھر افواہ کا پھیلاؤ جتنا بڑا ہوتا جائے گا اس کی طاقت کم ہوتی جائے گی۔ یوں افواہ کا زیادہ پھیلاؤ ہی اس کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے جمع تفریق کی جائے تو حکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے اور مولانا فضل الرحمان روزانہ تقریر فرما رہے ہیں لیکن اس سب میں عوام کو کیا ریلیف ملا؟

پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں سرکاری کرپشن کی داستانوں کے مرکزی کردار نواز شریف اور آصف علی زرداری ہیں۔ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے الگ ہونا پڑا۔ انہیں اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ جیل بھیج دیا گیا۔ انہی اندھیرے قید خانوں میں ان کی صحت اندھیروں میں جانے لگی۔ یہاں تک کہ ان کی جان کے لالے پڑگئے۔ وہ اب بھی تشویش ناک حالت میں بستر پر پڑے ہیں۔ نواز شریف کے وزارت عظمیٰ چھوڑنے سے لے کر اب تک کی جمع تفریق کی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف کو سزا دینے سے پاکستان کے قومی خزانے کو کتنا فائدہ ہوا؟

نواز شریف کو سزا دینے سے پاکستان کی انٹرنیشنل برادری میں کتنی پذیرائی ہوئی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کرپٹ نواز شریف کو حکومت سے نکال کر جیل بھیجنے اور انتہائی بیمار کردینے سے عوام کو کیا ریلیف ملا؟ آصف علی زرداری کو 1988 ء سے ہی کرپٹ گردانا جاتا ہے۔ اس فارمولے کی پاداش میں انہیں 11 برس جیل میں بھی رکھا گیا۔ اب وہ دوبارہ اندھیرے قید خانے میں ہیں۔ ان کی صحت بھی بے حد خراب ہے۔ آصف علی زرداری کی گزشتہ 31 برس کی سیاسی زندگی کو جمع تفریق کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پر اتنے لمبے عرصے سے کرپشن کے الزامات لگانے سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو کتنے بلین ڈالر کا فائدہ ہوا جس سے عوام کو کیا ریلیف ملا؟

پاکستانی چینلز کے پرائم ٹائم نیوز بلیٹن میں آٹے سبزیوں اور اناج کے روزبروز بڑھتے ریٹ اہم خبر بن چکے ہیں۔ گیس بجلی اور پٹرول وغیرہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ افراط زر بلند ترین حد کو چھو رہی ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے رکھا ہے۔ مہنگائی کے خلاف وزیراعظم کے اس جرات مندانہ نوٹس کی جمع تفریق کی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے عوام کو کیا ریلیف ملا؟ مختصر یہ کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا مسئلہ ہو، آزادی مارچ کا شور شرابہ ہو، نواز شریف اور آصف علی زرداری کی کرپشن اور بیماری کا معاملہ ہو، مہنگائی اور افراط زر کا نوٹس ہو، اس سب میں حکمرانوں، اپوزیشن اور میڈیا کی ایک دوسرے کے خلاف پنجہ آزمائی نظر آتی ہے۔ سب الٹی قلابازیاں لگا لگا کر ایک دوسرے سے زیادہ مخلص ہونے کا دعویٰ کرتے سنائی دیتے ہیں لیکن حکمرانوں، اپوزیشن اور میڈیا کی جان توڑ محنت کے باوجود بھی عوام کو کیا کوئی ریلیف ملا ہے؟ عوام تو اب بھی اجنبی ہی ٹھہرے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •