جان سلطانہ: ایک بہادر پٹھان خاتون کی کہانی

یہ اس بہادرپختون خاتون کی کہانی ہے جوپینسٹھ ( 65 ) سالہ ہجروفراق کو سہ کر نہ صرف زندہ رہی بلکہ محنت، ہمت، غیرت اورخودداری کا استعارہ بن کے داد بھی پائی۔

یہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع اننت ناگ (اسلام آباد ) کے گاؤں بجہارہ کی ایک بہادر پٹھان خاتون ہے جوغریب الدیار ہے یعنی اپنے آبائی علاقے سے ہزاروں کلومیٹردور ہے اور ستم یہ کہ ان کی ذہن میں ایک دھندلی سی تصویر اپنے ملک کی تو موجود ہے مگر اپنے علاقے اورآبائی گاؤں کا اتہ پتہ اورنام تک معلوم نھی۔

یہ بیچاری خاتون سیل رواں پر بہتے ہوئے کائی کے تنکے کی طرح حالات کی موجوں کے تھپیڑوں کے رحم وکرم پہ رہیں اورجانے کب انجانی موج نے اسے اُٹھا کر یہاں لاپھینکا مگر بجائے اس کے کہ وہ حالات کے گرداب میں پھنس کے اپنا وجود کھو بیٹھتی اس دلیراور باہمت خاتون نے بقا اور سکون کاسفینہ بن کے عافیت کی منزل کی طرف رواں دواں رہی۔

جب انھیں کچھ قرار نصیب ہوا اور ان کی آنگن میں چھ پھول کھل اٹھے اوراب وقت آیا کہ وہ ارام اور سکون کے ساتھ ان پھولوں کی مہک اور خوشبوں سے اپنی غموں اور دکھوں کامدوا کرلے کہ ایک اور آزمائش نے اس پہ اپنے گھیرے ڈال دیے اوران کی ہمت کو چورچور کرنے کی ٹھان لی۔ ہوا یوں کہ اس کے سر کی چھاؤں پہ خزان نے حملہ کیا اور خدا کے بعد اس کے واحد مجازی خدا نے بھی اسے حالات کی بے رحم موجوں کی رحم وکرم پہ چھوڑ دیا۔

ان کی شوہر کو جان لیوا بیماری کینسرنے اپنی گرفت میں لے لیا اور اس بیچاری مگر دلیر خاتون کے آزمائشوں میں ایک اور کمرتوڑ آزمائش کا اضافہ کردیا۔

ایک جانب بچوں کی تعلیم وتربیت اوردوسری جانب شوہر کی خدمت اور تیماداری۔ ایک جانگسل جدوجھد سے دوچار رہی۔

ایک نرم ونازک لڑکی کو آزمائش کی بھٹیوں نے کندن بناکے رکھ دیا اور وہ حقیقتاً دگرگوں حالات کے سامنے کوہ گراں بن کے کھڑی رہی۔

اس خاتون نے کسی کے اگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے جنگل سے گھاس اورلکڑی لا لا کر بازار میں فروخت کرکے اپنے بچوں کو نہ صرف پالا پوسا بلکہ ان کی بہترین تعلیم وتربیت کا بھی خاص خیال رکھا۔

یہ باہمت خاتون خودی اورخوداری کی لازوال کردار بن کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لئے ہمت وجرات کا استعارہ بن کے رہی۔

جانی پٹھان!

اس بہادر اور پراسرار خاتون کو اپنے حال پہ چھوڑ کے ہم کچھ دیر کے لئے پاکستان چلتے ہیں۔

*پاکستان کا سوئزرلینڈ:

سطح سمندر سے ہزاروں میٹر بلندی پہ واقع ضلع دیربالا کا یہ خوبصورت علاقہ عشیری ہے جو سرسبز جنگلات، سبزے سے بھرے بلند وبالا پہاڑوں، ٹھنڈے، میٹھے پانی اورقدرتی حسن وخوبصورتی کی وجہ سے پاکستان کا سویزرلینڈ کہلاتا ہے۔

یہاں کے ایک دور درازعلاقے ”گورکوئی“ کے میاں خان کو اللہ تعالی نے پہلی اولاد ایک خوبصورت بچی کی صورت عطا کی۔ اولاد پہلی تھی اس لئے تمام گھروالوں کے محبتوں کی مرکز ٹھری۔

یہ ننھی، پیاری اورخوبصورت کلی جب کھلنے لگی اور جونہی جوانی کے دہلیز پہ قدم رکھ کے ایک خوبصورت پھول کی صورت نظر ایا چاہتی تھی کہ اسے کسی کی نظربدلگی اور کسی ظالم ہاتھوں نے اسے اچک لیا۔

ہوا یوں کہ سردیوں کے موسم میں یہ خاندان چارسدہ اتمانزئی جابسا جہاں بھی ان کا ایک گھر تھا۔ ایک دن اس خاندان پہ یہ خبر بجلی بن کے گری کہ ان کی خوبصورت اور معصوم بچی لاپتہ ہوچکی ہے۔ اس معصوم کلی کو اسمان نے اچک لیایا زمیں نے نگل لیا کوئی پتہ نہیں چلا۔ دن پہ دن اورمہینوں پہ مہینے بلکہ سالوں پہ سال گزرتے چلے گئے مگر اس پھول جیسی بچی کو دیکھنے کے لئے اہل خاندان کی نظریں ترسنے لگیں اورخاص کران کی ماں اپنی پہلی اولاد کی فراق کی اگ میں جھلستی رہیں۔ دروازے کی ہردستک اور قدم کی ہر اہٹ پہ ان کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب اورتیز ہوتی جارہی تھیں مگر یہ خواب کبھی حقیقت نہ بن سکا اور اس ترستی انکھوں نے پھر کبھی اپنی جگر گوشے کو نہ دیکھ پایا اور اسی ارزو، خواہش اورحسرت کو دل میں لئے اس گمشدہ بچی کے والدین اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔

اس کے اہل خانہ اور چھوٹے بھائیوں نے در در کی خاک چھان ماری مگر مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔

اس کا بھائی جو اس گمشدہ لڑکی سے پانچ سال چھوٹا ہے کے بقول اسے ہم تقریباً تیس پینتیس سال تک ملک کے چپے چپے پہ تلاش کرتے رہے مگر ایک سراب کے پیچھے کب تک بھاگا جاسکتا ہے اور اخرکار جب مایوسی کے اندھیرے گہرے ہوتے چلے گئے تو ہم نے ہمت ہاری اورتمام امیدیں بھی دم توڑ گئیں اور اسے پانے کی خواہش بھی گویا دل سے نکالنا پڑی۔

آج کچھ لوگ گھر نہیں آئے

کھو گئے ہیں کہاں تلاش کرو

دامن چاک کے ستاروں کو

کھا گیا آسماں تلاش کرو

ڈھونڈ کے لاؤ یوسفوں کے تیس

کارواں کارواں تلاش کرو

ناتواں زیست کے سہاروں کو

یہ جہاں وہ جہاں تلاش کرو

*دو درماندہ دلوں کا ملاپ

سانولے رنگ کایہ خوبصورت نوجوان غلام محمد منٹو ہے جوکٹے پتنگ کی طرح محض زندگی کو پانے کی غرض سے اپنے مستقبل سے بے خبرتیزہواؤں اورزندگی کی طوفانوں کے رحم وکرم پہ تھا۔

نہ ماں باپ، نہ خاندان، نہ گھراورنہ کوئی ٹھکانہ،

بس زندگی کے شب ورزو یونہی گزر رہے تھے مگر پیچھے ان کی یاد اورغم میں ان کے والدین اوراہل خانہ گھل رہے تھے اور تلاش بسیار کے باوجود انھیں اپنا یہ لاڈلا نھی مل رہا تھا۔

یہاں سے قدرت کا ایک اور کھیل شروع ہوا۔

دو کٹے پتنگ جو مخالف سمت سے حالات کی رحم وکرم پہ تھے اور زمانے کی تیز اندھیوں کی زد میں تھے قدرت نے انھیں لاہور میں لا کے اکٹھا کیا۔

ضلع دیربالا عشیری کی یہ خوبصورت بچی یہاں لاہور کیسے پہنچھی اس پہ تاریخ خاموش ہے اور اسے کریدنے کی بھی ضرورت نھی! گم شدہ لڑکا جس کا تعلق مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع اننتناگ کے بجہاڑہ گاؤں سے ہے اورلاپتہ لڑکی پاکستان کے صوبہ سرحد (خیبر پختونخواہ) کے ضلع دیر کے عشیری درہ سے تعلق رکھتی ہے مگر قدرت نے یہ سچ کر دکھایا کہ جوڑے زمین پہ نھی آسمانوں پہ بنتے ہیں۔

ان حالات کے ماروں، غریب الدیار، لاچار، بے بس اور بے اسرا مسافروں نے مسائیل اورمشکلات کے منجدھار سے ساتھ ہوکے ا کھٹے نکلنے کا فیصلہ کیا اور دونوں جیون ساتھی بن کے رہے۔

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو

میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں میرے خال و خد

مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو میرے سارے زنگ اتار دو

کسی اور کو میرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ

میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو، میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو

میری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عذاب نے

میرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا میری دھڑکنوں کو قرار دو

تمہیں صبح کیسی لگی کہو میری خواہشوں کے دیار کی

جو بھلے لگی تو یہیں رہو اسے چاہتوں سے نکھار دو

وہاں گھر میں کون ہے منتطر کہ ہو فکر دیر سویر کی

بڑی مختصر سی یہ رات ہے اسے چاندنی میں گزار دو

شادی کے بعد غلام محمد کو کچھ امید وحوصلہ ملا اور دل میں چھپی ہوئی والدین، رشتہ داروں اور اپنے وطن کی محبت نے انگڑائی لی اور احساسات وجذبات مچلنے لگے اوردل نے چاہا کہ انھیں پر لگ جائے تاکہ اڑکر اپنی شریک حیات کو لے کر اپنے گھر پہنچ پائے۔

بس اللہ نے کوئی سبیل نکال لی اور انھیں اپنے گاؤں اور والدین کا پتہ چلا اورتوکل کرکے گھرکی جانب رواں ہوا۔

اگرچہ ان کی والدین نے بالکل امید کا دامن تو نھی چھوڑا تھا لیکن پھربھی بچھڑے ہوئے بچے کو پالینا انھیں دور دورتک نظر بھی نھی آرہا تھا۔

ہم تصور ہی کرسکتے ہیں کہ ایک نوجوان بیٹا جو لاپتہ ہے اورانھیں اپنا اتہ پتہ تک معلوم نھی ہے مگر اچانک ایک خوبصورت بیوی کے ساتھ اپنے والدین کے سامنے موجود ہے۔ پورے اٹھارہ ( 18 ) سال بعد۔

پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑگئی کہ اتنا عرصہ بعد والدین کو بچھڑا ہوا لاپتہ نوجوان بیٹا ملا تھا۔

گھر والوں کی خوشی دوگنی تھی کہ بیٹے کے ساتھ انھیں ایک خوبصورت بیٹی بھی ملی تھی۔ گھر والوں اور پورے خاندان نے انھیں سر پہ بٹھایا اور اسے بے پناہ محبت دی مگر یہ لڑکی بھی کوئی عام سی لڑکی نھی تھی بلکہ ایک باکمال لڑکی تھی جس نے اپنے خاوند اور خاندان والوں کی محبت اور عزت کی لاج رکھ لی اورایک وفاشعار، خدمت گزار اورغیرت مند بیوی اوربہو ثابت ہوکے رہی۔

جی ہاں یہ وہی بہادر اورغیرت مند پٹھان خاتون ہے جن کا تذکرہ ہم ابتدا میں کرچکے ہیں اور یہ پوری کہانی ان ہی کی کہانی ہے۔

غلام محمد منٹو کو تواٹھارہ سال بعد ہی سہی اپنا خاندان تومل گیا اور ہجر کے درد جلد ہی کافور ہوتے گئے، نئی زندگی نے خوشیوں کی بہار سے مالامال کرایا مگر وہ پیاری، معصوم اور ننھی بچی اب ایک معمر خاتون ہے اور بڑھاپے نے واضح طور پہ انھیں ان لیا ہے اور تقریباً پورے پینسٹھ سال ( 65 ) ہوئے کہ وہ اپنی شناخت کی تلاش میں ہے۔

ضیاء الحق منٹو جو ان کاچھوٹا بیٹا ہے اور اب لگ بھگ تیس سال کا ہے اور ایک تعلیمی ادارے کا ایڈمنیسٹریٹر ہے، ان کی بقول اگر چہ میری ماں کو یہاں اپنا ایک خاندان ملا ہے اور وہ خوشی کی زندگی گزار رہی ہے مگر ایک چیز جو شدت سے ہم محسوس کر رہے تھے کہ ہماری ماں جی اکثر کھوئی کھوئی سی رہا کرتی تھی اور بعض اوقات تو خیالات اور سوچوں کے گہرے سمندر میں تیرتی نظر ارہی ہوتی۔

اپنی جگہ میں دل ہی دل میں کھڑکتا رہتا تھا کہ کس طرح میری ماں کا یہ احساس محرومی دور ہو اور میرے والد کی طرح اٹھارا سال نہ سہی اب ساٹھ، پینسٹھ سال بعد تو انھیں کچھ پتہ چلے اور اپنوں سے ملے۔

مسئلہ درپیش یہ تھا کہ انھیں صرف یہ پتہ تھا کہ وہ پاکستان سے ہے اور پٹھان ہے باقی کچھ یاد نھی رہا تھا۔

سفر منزل شب یاد نھی

لوگ رخصت ہوئے کب یاد نھی

اولین قرب کی سرشاری میں

کتنے ارماں تھے جو اب یاد نھی

دل میں ہروقت چھبن رہتی تھی

تھی مجھے کس کی طلب یاد نھی

وہ ستارہ تھی کہ شبنم کہ پھول

ایک صورت تھی عجب یاد نھی

کیسی ویراں ہے گزرگاہ خیال

جب سے وہ عارض ولب یاد نہیں

بھولتے جاتے ہیں مرضی کے دیار

یاد آئیں بھی تو سب یاد نھی

*ایک عجیب خواب جس نے گھتی سلجھا دی۔

یہ ایک یخ بستہ رات تھی اور خلاف معمول یہ خیالات اور خوابوں میں اپنی آشیانہ کا متلاشہ تھکا ماندہ مسافرکچھ جلدی ہی سوگیا۔

جب وہ نیند کی گہری وادی میں داخل ہوئی تو کیا دیکھتی ہے کہ ان کا والد ان کی تلاش میں سرگرداں ہے اور دیوانہ وار ادھر ادھر گھومتا پھرتا ہے۔ ادھر ہجر اور فراق کے تھپیڑوں کی ماری ہوئی جہان سلطانہ کو تو اپنے انکھوں پہ یقین ہی نھی آرہا کہ وہ کسے دیکھ رہی ہے اورکون ان کی سامنے کھڑا ہے؟

باپ بیٹی بغلگیر ہوتے ہیں اور دیوانہ وار ایک دوسرے کو چومتے ہیں۔

وہ وہی بارہ، تیرہ سال کی وہ چھوٹی اور پیاری بچی ہے۔ وہ باپ کے ساتھ کچھ شرارتیں کرکے ان کی گود میں سر رکھتی ہے اور سکون وطمنانیت کی وادیوں میں محو پرواز ہوتی ہے۔ پینسٹھ سال کی طویل مسافت کے بعد تھکاوٹ سے چور چور ایک درماندہ مسافر باپ کی شفقت بھرے سینے سے لگ کر محبتوں کی مہک سونگھ پائے تو گہری نیند نہ آئے تو اور کیا ہوگا؟

صبح ہوئی تو عجیب معاملہ رہا کہ ماں جی کو اپنے باپ، بھائیوں اور بہنوں و سہیلوں کے نام یاد آجاتے ہیں۔

ماں کی طبعیت، حالت، کیفیت او مزاج کچھ بدلا بدلاسا ہے۔ چہرے پہ طمانیت، سکون اورخوشی کے واضح اثرات ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ انھیں بہت بڑا قیمتی سرمایہ ملا ہے۔ روشنی کی ایک کرن کی تعاقب میں ہے اور لپک کر اسے پانے کی جلدی میں ہے۔

ضیاء کہتے ہے کہ میں کبھی کبھی گوگل پہ پختون علاقے سرچ کرکے ایک ایک نام ان کے سامنے رکھ لیتا مگر وہ ہمیشہ انکارمیں سرہلاتی۔

اس دن جونہی میں نے لیپ ٹاپ ان کیا اور گوگل کے ساتھ رہا تو ایک جگہ پہ اچانک میری نگاہیں ٹھری اور وہی پہ اٹک گئی۔ زوم کرکے آہستہ سے کہا ”دیر“۔

قریب بیٹھی ماں جی چونک گئی اور بے ساختہ بولی ”دیر“ یہی میرا علاقہ ہے، دیر، بالکل دیر،

بولتی رہی اور ساتھ آنکھیں بھی چھلک پڑی۔ خلاووں میں کچھ تلاش کر رہی تھی اور کچھ پانے کی جتن کررہی تھی۔

کچھ دیر بعد جلدی جلدی ایک نام اور بھی لیا gurkuia۔

*ہمدردی بھائی جان:

جب اللہ دیتا ہے تو وہاں سے دیتا ہے کہ انسان کے وہم وگمان میں بھی نھی ہوتا۔

ضیاء نے فوری فیس بک پہ ایک سٹیٹس کچھ یوں اپڈیٹ کیا

Asalamualikum

This is my mother (Jana Sultana)

Actually She is from gurkuia، Dir

She misses her parents and want to visit this area again۔

Now a days She is living in occupied Kashmir۔

Her fathers name is:Miya khan

Brothr s name:Jamaludin khan

2) Zalamudin khan

Sisters name:Saif Sultan، Umar hilal، Sabar hilal۔

ضیاء نے تو ٹھرے ہوئے پانی میں ایک پتھر پھینکا اورغیبی

امداد کا منتظر بیٹھا رہا مگر اللہ تعالی نے ایک ایسی سبیل نکالی تھی کہ جسے دیکھ کر انسان کا ایمان بالغیب اوربھی مضبوط ہواچاہتا ہے۔

اکرام ہمدرد نیلی انکھوں والا ایک خوبصورت، پیارا، بھولا بھالا، حساس اورفی الواقع ایک ہمدرد نوجوان ہے اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہے۔

اس کہانی کا اصل ہیرو یہی نوجوان ہے (بجرنگی بھائی جان یعنی ہمدردی بھائی جان) ۔

اکرام کہتے ہے کہ ایک دوست نے اس پوسٹ میں انھیں بھی ٹیگ کیا اورجونہی اس پوسٹ کو میں نے پڑھا تو فوری کمنٹس کر ڈالا کہ اس علاقے (گوڑگوئی) کو میں جانتا ہوں اورہم سے تین چار کلومیٹرکے فاصلے پہ ہے یعنی اپنا ہی علاقہ ہے۔

ضیاء اوران کے دوست ان لائن رہے اور رابطہ شروع ہوا اور مجھے ایک غیبی طاقت نے ہمت دلائی اور تلاش شروع کی۔

زوروں کی بارش تھی کہ میں گھر سے نکلا اور بہت ہی پرامید تھا

مگر میرا جوش اور جذبہ اس وقت سرد پڑا کہ جب میں نے گوڑگوئی میں گھرگھر پہ دستک دی مگر کسی نے بھی ایسا کوئی خاندان نھی جانا بلکہ کسی ایسے واقعے سے مکمل لاعلمی کا اظہارکیا۔

اگرچہ وقتی طور پہ کچھ مایوسی بھی ہوئی مگر میری جستجو برقرار رہی اورمسلسل اس فکر میں رہا کہ کیسے اس ماں جی کو اپنے خاندان والوں سے ملوا دو؟ ماں جی نے تقریباً ساٹھ، پینسٹھ سال کا طویل ترین اورصبر آزما سفر طے کیا تھا مگر شاید اب ان پہ ایک ایک لمحہ صدیوں برابر گزر رہا تھا اورادھر ہماری بے قراری بھی کچھ کم نہ تھی۔

ایک دوست نے بے چینی کا سبب پوچھا تو پورا واقعہ ان کے گوش گزارکیا۔ وہ کچھ وقت کے لئے سوچ میں پڑ گیا اور پھر اچانک بولا کہ بھائی، گوڑگوئی سے ملتا جلتا نام ایک اور بھی ہے ”گور کوئی“

بس کیا تھا ہمیں دوبارہ روشنی کی ایک کرن نظر ائی اور اس مدہم روشنی کے پیچھے پیچھے ہم نے اپنا سفرجاری رکھا۔

ہم عشیری درہ گئے اورگورکوئی کو تلاش کیا مگر وہاں بھی ابتدائی طور پہ ہر کسی نے ایسے کسی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

ایک دوست نے گھررابطہ کیا اوران کی دادی ماں نے جہان سلطانہ (جانی سلطانہ ) کے واقعے کی تصدیق کی۔

اسی رابطے اور ذریعے سے ان کے خاندان کے کسی فرد سے فون پہ بات ہوئی اور کچھ وقت بعد ظلم الدین ماما نے لاہور سے کال کرکے کچھ معلومات ہم سے لی اور کچھ ہمیں دی۔

ادھر ضیاء مسلسل رابطے میں رہے اور لمحے لمحے کا رپورٹ لیتے رہے اور ماں جی کے احساسات، جذبات اور دعائیں ہم تک پہنچاتے رہے۔

ظلم الدین ماما اوران کا بھائی راتوں رات لاہور سے نکلے اور صبح سویرے ہی تیمرگرہ پہنچ گئے۔

ان کی بے قراری، بے چینی اور بے سکونی کا ہمیں خوب اندازہ رہا اور وہاں ماں جی کی حالت اور کیفیت تو اگرچہ انکھوں سے اوجھل تھی مگر دل کو شدت کے ساتھ اس کا احساس ضرور تھا۔

ضیاء کے ساتھ ان کی بات کرائی اور انھوں نے ماں جی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

بس دل پہ ہاتھ رکھئے اوراس جذباتی منظرکو اپنی انکھوں سے خود دیکھ لیجیے۔

ہم نے Imo کے ذریعے بالمشافہ ملاقات کا اہتمام کیا وہاں ماں جی اور یہاں ماما۔

جب جان سلطانہ گھر سے غائب ہوئی تھی تو اس وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کے لگ بگ تھی جبکہ ان کا ایک بھائی کوئی پانچ چھ سال کا تھا جبکہ دوسرہ کوئی ایک سال کا۔

مگر جونہی کیمرہ ان ہوا اور ماں جی کی نظر بھائیوں پہ پڑی تو بے اختیاران کے نام لینے لگی۔

اور ادھر ان کے ایک بھائی نھی بھی لمحہ بھر توقف کے بغیر انھیں پہچانا اور نام سے پکارا

کیا منظر ہے پینسٹھ ( 65 ) سال بعد بہن بھاؤں کی ملاقات ہے۔ بس کچھ لمحے بعد ماں جی کے ساتھ انکھوں اور دماغ نے ساتھ دینا چھوڑ دیا اور پیاسی وتھکی معمرخاتون اسی بارہ سال کی بچی کی طرح بلک بلک کررونے لگی اور گویا کہ خوشی سے پاگل ہوئی اور بے ہوش ہی ہوگئی۔

ان کے بیٹے ضیاء نے فوری انھیں ہسپتال پہنچایا مگر ہوش آتے ہی وہاں ایک لمحے کے لئے بھی اسے قرارنھی آیا اور تقریباً ایک گھنٹہ بعد پھر کیمرے کے سامنے آ بیٹھی۔

باتیں کم اور رونا اورہچکیاں لینا زیادہ۔ ہم نے محسوس کیا کہ اس نے چاہا کہ اسے پرلگ جائے اور وہ اڑ کر یہاں پہنچ جائے۔

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ

حیرت ہے مجھے، آج کدھر بھُول پڑے وہ

بھُولا نہیں دل، ہجر کے لمحات کڑے وہ

راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!

الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات

خوشبو سی برسنے لگی، یوں پھُول جھڑے وہ

ہر شخص مجھے، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں

سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ

بچے کی طرح چاند کو چھُونے کی تمنا

دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ

طوفاں ہے تو کیا غم، مجھے آواز تو دیجے

کیا بھُول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ

٭ایک ضدی بچی۔

ماں جی کو تواپنا جہاں مل گیا مگر ساتھ ہی ان کی اندر کی پٹھانی بھی باہر آگئی اور وہ پلٹ کر گویا دوبارہ وہ بھولی بھالی سی بارہ سالہ بچی بن گئی مگر اس دفعہ کچھ زیادہ ہی ضدی بن کے رہی۔

جیسے مچھلی کو پانی کے بغیر قرار ہی کیا زندگی بھی نصیب نھی ہوتی عین اسی طرح اس ”بارہ“ سالہ بچی کو اپنے آشیانہ کا پتہ معلوم ہونے کے بعد ایک لمحہ بھی قرار نھی آیا اور جلد اور بہت جلد اپنے گھر والوں کے ساتھ ملنے کے لئے تڑپتی رہی اور بدستور ضد بھی کرتی رہی۔

ان کے بیٹوں نے بھی اسے مزید تڑپانا مناسب نھی سمجھا اور پیاسے کو پانی تک پہنچھانے کی ٹھان لی۔

ضیاء نے بتایا کہ ہماری بے قراری اوردیوانگی کا یہ عالم تھا کہ بس قایدحریت کشمیر، بزرگ راہنما سید علی گیلانی محترم سے پاکستانی سفارت خانے کے نام ایک عدد سفارشی خط لے کر ہم سفر کی مکمل تیاری کے ساتھ دہلی کے لئے روانہ ہوئے، ہمیں ہرگز اس کی پرواہ ہی نھی رہی کہ ہمیں پاکستانی ویزہ ملے گا بھی کہ نھی؟

مگر چونکہ قدرت ہم پہ مہربان ہوا تھا اوران کی رحمت جوبن پہ تھی اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کا فیصلہ کرہی لیا تھا اس لئے ہرمشکل آسان رہی اور بہت آسانی کے ساتھ ہمیں ویزہ ملا اور ہم نے واہگہ بارڈرکراس کیا مگر بالخصوص ماں پہ یہ تین دن کا سفر برسوں جیسا بھاری رہا۔

ہمدردی بھائی جان کا مشن فی الحال ادھورا تھا اور ابھی بچھڑے ہووں کو ملوانا تھا اس لئے وہ خود واہگہ بارڈر پہ موجود تھا جبکہ قدرت کی راز کو دیکھ لیجیے کہ ماں جی کے بھائی بوجوہ نہ پہنچ پائے اور شاید قدرت نے ایسا انتظام کرایا تھا کہ جس طرح پیاسے کو یک دم سارا پانی ایک ہی سانس میں انڈیل دینا نقصان پہنچھاتا ہے اسی طرح اچانک فوری ملاقات بھی شاید ناقابل برداشت ہو۔

ماں جی کی نظر جونہی اکرام ہمدرد پہ پڑی اسے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح گلے لگایا اورخوب پیارکیا اور تصورات کی دنیا سے نکل کرحقیقت کی دنیا میں اپنے اپ کو پالیا۔

کچھ ہی وقت بعد وہ بھائی جو پانچ، چھ سال اور دوسرہ ایک سال کے عمر کے پیچھے رہ گئے تھے اب سفید بال لئے اپنی بوڑھی بہن کے سامنے کھڑے تھے۔

بچوں کی طرح یہ بے قرار دل ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ گئے اور سکون وطمانیت پاگئے۔ آنکھیں چھلک پڑی اورتادیر کبھی ایک دوسرے کودیکھ لیتے اورکبھی بغل گیر۔

بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو

وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو

خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی

اُس کے چہرے پہ لکھا تھا، لوگو

اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں

رات بھر وہ بھی نہ سویا، لوگو

٭خوابوں کی نگری میں

وہ بارہ تیرہ سالہ بچی تقریباً چھ دہائیوں کے طویل ترین سفر کے بعد اپنے آنگن میں کھڑی تھی، پورے گاؤں میں ایک جشن کا سماں تھا اوردور دور سے ان کے رشتہ دار انھیں دیکھنے کے لئے پہلے ہی سے موجود تھے۔

گوکہ اس طویل سفر نے جہان سلطانہ کو جانی پٹھان بنا دیا تھا مگر اب واپس پلٹ کے اسی معصومیت کی دورمیں کھڑی ہوکے اپنے والدین، بہن بھائی اور دیگررشتہ داروں کو تلاش کررہی تھیں۔

مگر بہت کچھ پانے کے باوجود بھی وہ کچھ کھونے پہ دل گرفتہ تھی کہ ان کے والدین اب اس دنیا میں نھی رہے تھے اوردل میں بچی کے ساتھ ملاقات کی ارزو اورحسرتیں لے کر یہاں سے رخصت ہوچلے تھے۔

جہان سلطانہ صبح ہوتے ہی گھرسے باہرنکلی اور باہر کھڑے زیتون کے درخت کے ساتھ کھڑی رہی، سوچتی رہی، کھوئی رہی اور آنسووں کے دو موٹے موٹے قطروں کو پی کر کہنے لگیں ہمارا پرانا گھر ادھر ہی اسی درخت کے بالکل ساتھ تھا اور پھر پلٹ کر گھر میں چھت پہ نظریں گھاڑ کر شہتیر کی جانب اشارہ کرکے بولی یہ ہمارے پرانے گھرکا ہے۔

جی ہاں پینسٹھ سال پہلے اسی مقام پہ ان کا بچپن گزرا تھا مگر کسی نے ان سے اس کا بچپنا چھین کر اسے دربدر کرنے پہ مجبورکیا تھا اورطویل ترین ہجراور فراق سے دوچار کرایا تھا۔

مگر آفرین ہے اس خاتون پہ کہ اس نے یہاں سے ہزاروں میل دور بالکل اجنبی شھر میں اجنبی لوگوں کے درمیاں رہ کر ہجر کی زندگی تو گزاری مگرعزت، خودداری، غیرت، سنجیدگی اور وقار کے ساتھ اور پورے علاقے میں جلالی جانی پٹھان کا نام کمالیا

٭دوبارہ جدائی

وہ یہاں اپنے گاؤں ایک بیٹے، ایک بیٹی اور ایک نواسے کے ساتھ ائی تھی اورتقریباً ایک مہینہ گزار دیا

وہ دوبارہ یہاں سے واپس چلی گئی مگر دل کو تو یہاں چھوڑا۔

وہ گرفتہ دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ یہاں سے اس امید کے ساتھ واپس اپنے بچوں کے گھر چلی گئی کہ دوبارہ جتنی جلد ممکن ہوں واپس اسکے۔

اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

وہ شہر، وہ کوچہ، وہ مکاں، یاد رہے گا

وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی

وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا

ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں

وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words